|تحریر: آدم پال|

امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی اور امن معاہدے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد بھی کوئی فیصلہ کن اعلان نہیں ہو سکا اور ابھی بھی پہلے جیسی کیفیت برقرار ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ایران کی جانب سے معاہدے کے لیے بھیجے گئے نکات کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ سیز فائر آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے بھی دھمکیوں میں تیزی آئی اور نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ایران میں موجود افزودہ یورنیم حاصل کرنے کے لیے کسی وقت بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آبنائے ہرموز میں بھی کشیدگی جاری ہے جس میں ایران کی جانب سے اب اس بحری رستے کو اپنے کنٹرول کے تحت بتدریج کھولنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ امریکہ اسے اپنی شرائط پر کھلوانا چاہتا ہے۔
اس کشمکش میں یہ دنیا کی اہم گزرگاہ تیسرے مہینے کے لیے بھی بند ہے اور جلد کھلنے کے امکانات بھی موجود نہیں، گو کہ محدود پیمانے پر آمد و رفت جاری ہے۔ایران اسی بحری گزر گاہ پر اپنی اجارہ داری مستقل طور پر قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر رہا ہے۔ امریکی سامراج کے لیے یہ صورتحال بہت بڑی شکست کی غمازی کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں شکست کھا چکے ہیں اور اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے کی بجائے اس خطے میں اپنی اجارہ داری کمزور کر بیٹھے ہیں۔
درحقیقت اس جنگ نے پورے خطے سمیت دنیا بھر میں طاقتوں کا توازن یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور عالمی سطح پر موجود سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کو تیز کر دیا ہے۔ ایک طرف اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی بحران ہے جس نے پوری دنیا کی معیشت میں زلزلے برپا کر دیے ہیں اور جنگ بندی کے باوجود زلزلے کے جھٹکے ابھی بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث افراطِ زر تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں عوام اس جنگ کا خمیازہ مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ کرونا وبا کے بعد عالمی سطح پر پیداوار کی شرح ترقی میں تین فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی جبکہ اس جنگ کے بعد اس سال ایک فیصد گراوٹ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اسی طرح اس سال عالمی سطح پر کساد بازاری اور معاشی انہدام کی پیش گوئی بھی کی جا رہی ہے۔ابھی سے بہت سی صنعتیں بند ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری بڑھی ہے۔
صرف تیل اور ڈیزل پر انحصار کرنے والی صنعتیں ہی نہیں بلکہ ایلمونیم سے لے کر آئی ٹی کی صنعت اور کاروں کی مینوفیکچرنگ تک ہر صنعت متاثر ہوئی ہے اور بہت سی صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ فرٹیلائزر کی فراہمی کی وجہ سے زراعت متاثر ہوئی ہے اور دنیا کے کئی خطوں میں قحط سالی کی پیش گوئی کی جارہی ہے جبکہ خوراک کی اشیا کی قیمتوں میں بہت بڑے اضافے کے امکانات ہیں۔ امریکی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے جہاں تیل کی قیمتوں کے علاوہ افراطِ زر میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت میں تیزی ترین کمی ہورہی ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا سے لے کر جاپان تک ہر ملک کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ انڈیا میں مودی نے اپنی تقریر کے دوران کہا ہے کہ ملکی کرنسی شدید دباؤ میں ہے اور ہمارے پاس غیر ملکی کرنسی کے ذخائر محدود ہیں جو دباؤ کا شکار ہیں اس لیے لوگ غیر ضروری سفر، سونے کی خریداری اور بیرون ملک دوروں سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ اس نے کھانے کے تیل میں بھی بچت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔انڈیا میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی قیمت میں چار گنا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث لاکھوں مزدور شہروں سے ہجرت کر کے اپنے دیہاتوں میں واپس چلے گئے ہیں کیونکہ ان کی موجودہ آمدن سے وہ شہر میں کھانا بھی افورڈ نہیں کر پا رہے تھے۔ ایسی ہی صورتحال بہت سے دوسرے ملکوں کی بھی ہے۔ بنگلہ دیش میں تیل کی شدید قلت ہے اور کئی دفعہ پٹرول پمپ پر 24 گھنٹے تک لائن میں لگنے کے بعد پٹرول ملتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ٹرمپ اس جنگ کو موجودہ صورت میں ختم نہیں کرنا چاہتا جبکہ ایران کو بھی کوئی معاہدہ کرنے کی جلدی نہیں۔ درحقیقت یہاں پرمسئلہ صرف ٹرمپ کی انا اور اس کے سیاسی مستقبل کا نہیں بلکہ امریکی سامراج کے مستقبل کا بھی بن چکا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کی اجارہ داری اور اس کے تحت موجودہ طاقت کا توازن اب یکسر تبدیل ہو چکا ہے اوردنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اس خطے میں پہلے جیسا اثر و رسوخ دوبارہ کبھی قائم نہیں کر سکے گا اور نہ ہی یہاں پر کسی کو مستقل بنیادوں پر سکیورٹی گارنٹی دے سکے گا۔ یہ بالکل ایک نئی صورتحال ہے جس کے خدوخال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے اور ہر طرف ایک خوف اور بے چینی کا عالم ہے۔ امریکی سامراج نے اپنی فوجی طاقت کا ایک بڑا حصہ اس جنگ میں جھونک دیا ہے اور اس کے بحری بیڑے کا ایک بڑا حصہ اس وقت اس خطے میں موجود ہے۔
اسی طرح امریکہ کا گماشتہ اسرائیل بھی ایران اور اس کے اتحادیوں پر مسلسل پوری طاقت سے حملے کر رہا ہے۔ اسی طرح معاشی اور تجارتی پابندیوں سمیت ہر حربہ استعمال کیا جا چکا ہے لیکن اس جنگ میں فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کی جا سکی اور ایران کو امریکہ کی مرضی کا معاہدہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکا۔ عسکری حملوں کے ساتھ پاکستان کے ذریعے سفارتکاری کا جھانسہ دے کر بھی ایران پر براجمان ملا اشرافیہ کو امریکہ کی شرائط پر آمادہ کرانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ اس ناکامی کا ملبہ بھی پاکستان کے گماشتہ حکمرانوں پر ڈالا جا رہا ہے اور امریکہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے۔ اس کا اندازہ ایک امریکی اخبار کی اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق پاکستان نے جنگ کے دوران ایران کی فضائیہ کے جہازوں کو تحفظ دیا اور انہیں راولپنڈی میں نور خان ائر بیس میں پناہ دی تاکہ وہ امریکی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔
ایران پر زمینی حملہ
اس صورتحال میں امریکہ کے پاس واحد آپشن ایران پرایک زمینی حملے کا رہ جاتا ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت بڑے پیمانے پر تیاری کی ضرورت ہو گی جس کا امریکی سامراج اس وقت متحمل نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت امریکہ کا مالیاتی بحران پہلے ہی بہت گہرا ہے اور اس وجہ سے ہی اس کے سامراجی عزائم اب دو دہائی قبل جیسے نہیں رہے جب وہ عراق اور افغانستان پر ایک ہی وقت میں لاکھوں فوجیوں کے ذریعے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ٹرمپ نے دفاعی بجٹ میں دو تہائی اضافے کی تجویز دی ہے اور اسے نو سو ارب ڈالر سالانہ سے پندرہ سو ارب ڈالر سالانہ تک لیجانے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ ایران پر بڑا زمینی حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا گوکہ محدود حملے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
مالیاتی مسائل کے علاوہ امریکی عوام میں پہلے ہی اس جنگ کی حمایت موجود نہیں اور بہت بڑی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے۔ اگر ایران پر زمینی حملہ کیا جاتا ہے تو امریکہ میں اس جنگ کی مخالفت اور بھی بڑھے گی جس سے جہاں ٹرمپ کا اقتدار مزید مشکلات کا شکار ہوگا وہاں اس زمینی حملے کو آگے بڑھانے میں بھی مشکلات پیش آئیں گی۔ اسی طرح زمینی حملہ کرنے کے لیے امریکی سامراج کے اتحادیوں کی حمایت بھی اس وقت موجود نہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے بھی امریکہ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ ٹرمپ اپنی پالیسیوں کے ذریعے یورپ اور دیگر ممالک میں موجود اتحادیوں کو تجارتی جنگ، یوکرائن جنگ اور دیگر معاملات پر ناراض کر چکا ہے اور انہوں نے ایران جنگ میں بھی امریکہ اور اسرائیل کی ماضی کی طرح کی حمایت نہیں کی۔ اس کے علاوہ یورپ اور دیگر مغربی ممالک مالیاتی اور عسکری صلاحیت کے حوالے سے بھی بہت کمزور ہوئے ہیں۔ خاص طور پر یوکرائن کی جنگ نے ان کی کمزوریاں عیاں کر دی ہیں اور اب و ہ روس کے رحم و کرم پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں وہ ایران پر حملے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اس کے علاوہ چین اور روس اس وقت عالمی سطح پر بڑی سامراجی طاقت کے طور پر ابھر چکے ہیں اور امریکی سامراج کے مخالف ایک کیمپ کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ایران جنگ میں بھی انہوں نے درپردہ ایران کی حمایت کی ہے۔ چین نے معاشی حوالوں سے ایران کی مدد کی ہے جبکہ روس نے دفاعی معاملات میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ایران پر امریکہ کے زمینی حملے کی صورت میں چین اور روس زیادہ بڑے پیمانے پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو شکست دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پیوٹن نے ٹرمپ کو خود فون کر کے بھی اس حوالے سے خبردار کیا ہے اور اسے اس مہم جوئی سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔
خلیجی ممالک اور عدم استحکام
امریکہ کی یہ کمزوری پوری اب دنیا پر عیاں ہوچکی ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نئی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ خاص طور پرامریکی سامراج کے خطے میں موجود اتحادیوں کے لیے مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ طاقتوں کے اس نئے توازن کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے حکمرانوں کے لیے ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں اور وہ خطے میں اپنی پہلے جیسی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے امکانات اب ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ موجود دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنایا ہے اور پاکستان کے جنگی جہاز اور تیرہ ہزار فوجی اپنے ملک میں تعینات کروائے ہیں۔ اسی طرح جہاں امریکہ اور اسرائیل ایران پر بمباری اور فضائی حملے کر رہے تھے تو وہیں متحدہ عرب امارات نے بھی براہ راست طور پر ان میں حصہ لیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے تھے۔
اس جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی معیشتوں کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور وہاں موجود تمام تر کاروبار اس سے تباہ ہو رہے ہیں اور ان کی دوبارہ پہلے والی سطح پر بحالی کے امکانات کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ان ممالک کی سکیورٹی گارنٹی بھی اب خطرے میں ہے۔ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ اگر جنگ دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے جس کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں تو ان ممالک کا مستقبل کیا ہوگا اور وہ کیسے اپنا دفاع کر پائیں گے۔ اس خدشے نے ان ممالک کے حکمران میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے اور وہ مسلسل ہیجان کا شکار ہیں۔
دراصل اس وقت عمومی طور پر ایک غیر یقینی اور بے چینی کی کیفیت ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ جنگ اب ختم ہونے جا رہی ہے اور جلد ہی صورتحال دوبارہ پہلے جیسے معمول پر آ جائے گی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور اب واضح ہوتا جا رہا ہے کہ غیر یقینی اور عدم استحکام کی صورتحال اب ایک طویل عرصے کے لیے مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ امریکی سامراج کے زوال کا دور کئی سالوں پر محیط ہو گا اور امریکی حکمران طبقہ کبھی بھی اس کو رضاکارانہ طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور پہلے جیسی اجارہ داری اور طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا لیکن اس کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گوکہ اس میں وقتی کامیابیاں مل سکتی ہیں لیکن عمومی سفر شکست خوردگی کا ہی ہو گا۔ دوسری طرف امریکی سامراج کی عالمی سطح پر جگہ لینے کے لیے بھی کوئی دوسری طاقت موجود نہیں اس لیے ہر خطے میں مختلف ممالک کے تضادات ابھرتے رہیں گے اور شدت بھی اختیار کریں گے جو بہت سی نئی جنگوں خانہ جنگیوں کو بھی جنم دیں گے۔ چین اور روس عالمی سطح پر کبھی بھی ایک پائیدار کیمپ نہیں بنا سکیں گے اور سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے باعث یہ سامراجی طاقتیں بھی زوال پذیر معیشت کے باعث کمزور ہی رہیں گی۔
عالمی سرمایہ داری کی موجودہ کیفیت میں یہ طے ہے کہ اس جنگ سے پہلے والا معمول کبھی واپس نہیں آئے گا اور نہ ہی کبھی پائیدار امن حاصل ہو سکے گا۔ ایک نئی جنگ کے خطرات اس خطے پر منڈلاتے رہیں گے اور تمام ممالک کے حکمران ان نئی جنگوں کی تیاری کے لیے اسلحے کی دوڑ اور جنگی جنون میں کئی گنا تیزی لائیں گے۔ اسرائیل پہلے ہی اس دوڑ میں سب سے آگے ہے اور اب اپنی حدود کی جانب بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے جہاں اس کے اپنے اندر ٹوٹ پھوٹ اور لڑائی میں شدت آ رہی ہے اور جنگ کیخلاف آوازیں بڑھ رہی ہیں۔ ان جنگوں اور معاشی بحرانوں کی کوکھ سے دنیا کے ہر ملک میں انقلابی تحریکیں ابھریں گی اور ہر ملک کے عوام حکمران طبقے کے ان جرائم کیخلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آئیں گے اور اس نظام کو اکھاڑنے کی کوشش کریں گے۔ درحقیقت آنے والا عرصہ اس پورے خطے سمیت دنیا بھر میں بہت بڑی سماجی اتھل پتھل کا ہے جس میں پرانی تمام تر سیاست اور ریاستیں ختم ہونے کی طرف جائیں گی اور ان کی جگہ لینے کے لیے تازہ دم سیاست اور نظریات افق پر ابھریں گے۔
اس جنگ نے اس خام خیالی کا بھی خاتمہ کر دیا ہے کہ امریکی سامراج ناقابل شکست ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے ہرا نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ سرمایہ دارانہ نظام کی حدود بھی سب پر واضح ہو چکی ہیں اور ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ یہ نظام دنیا میں بھوک، بیماری اور جنگیں ہی پھیلا سکتا ہے اور دنیا کو ترقی اور خوشحالی سے محروم رکھتا ہے۔ آغاز میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ وقتی صورتحال ہے اور امریکہ بہت جلد اس پر قابو پا لے گا اور پہلے والا معمول واپس آ جائے گا۔ خلیجی ملکوں کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں دوبارہ سے آباد ہو جائیں گی، تیل اور ڈیزل کی آمد و رفت پہلے جیسے معمول پر آ جائے گی اور مہنگائی میں ہونے والا اضافہ وقتی ثابت ہوگا لیکن بتدریج یہ احساس جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ یہ سب مستقل بنیادوں پر ہی جاری رہے گا۔ کرونا وبا کے خاتمے کے بعد دنیا کو معمول میں آنے پر کچھ وقت لگا تھا اور پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا تھا لیکن اس کے کچھ سال بعد ہی اب اس جنگ نے دوبارہ ایمرجنسی جیسی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اس کیفیت سے کچھ عرصے کے لیے ریلیف ضرور مل سکتا ہے اور کچھ وقت کے لیے یہ ایمرجنسی کیفیت ختم بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کے بعد بھی پہلے جیسا معمول کبھی واپس نہیں آئے گا اور اس سے اگلی بھیانک ایمرجنسی کے آنے میں بھی پہلے سے کم وقت لگے گا۔
درحقیقت اس تمام تر بیماری کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس کی بنیاد میں سرمایہ دارطبقے کے منافعوں کی ہوس ہے۔ اس وقت دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور بہت سی امریکی کمپنیاں ایک ہزار ارب ڈالر کی مالیت سے زیادہ کا حجم حاصل کر چکی ہیں۔ اس جنگ کے دوران بھی تیل کی مختلف کمپنیوں نے ہوشربا منافع کمائے ہیں۔ اسی طرح اسلحہ ساز کمپنیوں سے لے کر بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کی منافع خوری بھی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں بھی بینکنگ کا شعبہ پوری معیشت پر حاوی ہو چکا ہے اور ہزاروں ارب روپے کے منافع نچوڑ رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرح کرۂ ارض پر رہنے والے کروڑوں لوگ بدترین زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک طرف وہ حکمران طبقات کے لیے تاریخ کی سب سے زیادہ دولت پیدا کرتے ہیں جبکہ ان کے حصے میں اتنی ہی زیادہ محرومی اور ذلت آتی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر طبقاتی خلیج ماضی میں کبھی بھی نہیں رہی۔

اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنا ہوگا جس کا واحد ذریعہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔ اس انقلاب کا آغاز ایران سمیت دنیا کے کسی بھی ملک سے ہو سکتا ہے جس میں مزدور طبقہ ذرائع پیداوار پر اجتماعی کنٹرول حاصل کرے اور سرمایہ دار طبقے کی حاکمیت اور اس کی پروردہ ریاست کا مکمل خاتمہ کرے اور ایک نئی مزدور ریاست تشکیل دے۔ یہ مزدور ریاست جہاں طبقاتی نظام کا خاتمہ کرے گی وہاں دنیا بھر کی سامراجی طاقتوں کیخلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کا بھی آغاز کرے گی جس میں اسے دنیا بھر کے محنت کشوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ اس جنگ کا مقصد پوری دنیا سے سرمایہ دارانہ نظام ختم کرتے ہوئے عالمی سوشلسٹ انقلاب کو کامیاب کرنا ہے تاکہ اس دنیا سے جنگوں، بھوک اور محرومی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے اور یہاں پیدا ہونے والے تمام وسائل انسانوں کی ترقی اور خوشحالی پر صرف کیے جائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی سرگرم عمل ہے۔ اگر آپ بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو فوراً ہم سے رابطہ کریں۔