انڈیا: ساؤتھ کی فلموں کے سپر سٹار سے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک؛ تامل سیاست میں زلزلہ

|تحریر: آدم پال|

انڈیا میں اپریل اور مئی میں ہونے والے پانچ ریاستوں کے انتخابات نے سیاسی زلزلوں کو جنم دیا ہے اور نصف صدی سے زیادہ عرصے سے چلے آنے والی سیاست مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ تامل ناڈو میں فلموں کے سپر سٹار اور ہیرو وجے کی صرف دو سال پہلے بننے والی پارٹی ”ٹی وی کے(TVK)“ نے سیاست میں زلزلہ برپا کر دیا ہے اور پچاس سال سے جاری دو پارٹیوں کی سیاست کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا ہے۔ اس کے علاوہ تامل ناڈو کے ہمسائے میں واقع کیرالا کی ریاست میں کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت میں موجود اتحاد کو شکست ہوئی ہے اور کانگریس نے حکومت بنائی ہے۔ جبکہ آسام، پڈوچری اور بنگال میں بی جے پی کو کامیابی ملی ہے۔

مغربی بنگال

سب سے اہم تبدیلی مغربی بنگال میں آئی ہے جو انڈیا کی اہم ترین ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس ریاست میں پہلی دفعہ مودی کی بی جے پی نے حکومت بنائی ہے اور پندرہ سال سے چلی آ رہی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی قیادت میں ترینمول کانگریس پارٹی کی حکومت کا بالآخر خاتمہ کر دیا ہے۔ ان انتخابات میں مودی کی پارٹی کی کامیابی کے امکانات کا پہلے ہی ذکر ہو رہا تھا لیکن جس بڑے پیمانے پر مودی نے ان انتخابات کو کلین سویپ کیا ہے وہ حیران کن ہے۔ ریاستی اسمبلی کی کُل 294 میں سے بی جے پی نے 207 سیٹیں جیت لی ہیں جبکہ سابقہ وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی پارٹی محض 80 نشستیں ہی جیت سکی۔ سب سے حیران کن نتائج کمیونسٹ پارٹیوں کے تھے جنہیں پوری ریاست میں صرف ایک سیٹ ہی مل سکی ہے۔ اس ریاست میں کمیونسٹ پارٹیوں نے 1977ء سے لے کر 2011ء تک 34 سال تک بغیر کسی وقفے کے حکومت کی ہے۔ لیکن یہ پارٹیاں کمیونزم کے حقیقی نظریات کو کب سے خیر باد کہہ چکی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کی غلاظت کو مکمل طورپر اپنے منہ پر مل چکی ہیں۔ اسی لیے انہیں 2011ء میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے بعد سے ان کا گراف مسلسل گرتا چلا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں گراوٹ کی انتہا نظر آئی جب اس پارٹی کے امیدوار ممتا بینر جی کی نفرت میں بی جے پی کی خاموش حمایت کرتے ہوئے نظر آئے اور یہاں تک بیان دیے کہ اگر ممتا ہارے گی تو بی جے پی خود ہی ہار جائے گی۔

ممتا بینرجی

دوسری طرف مودی اور اس کی پارٹی نے بھی ان انتخابات کو جیتنے کے لیے ہر قسم کا ہتھکنڈہ اور جبر استعمال کیا ہے۔ بی جے پی کو الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی اور ایسا لگتا تھا کہ یہ دونوں ادارے بی جے پی کی کمپین کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں الیکشن سے پہلے 27 لاکھ لوگوں کے ووٹ کینسل کر دیے جن کی بھاری اکثریت مسلمانوں کی تھی اور زیادہ تر ممتا بینرجی کے ووٹروں تھے۔ ممتا بینرجی کے مطابق ہر حلقے کے نتائج کو دیکھا جائے تو جیتنے والے امیدوار کا دوسرے نمبر والے سے کینسل کیے گئے ووٹوں جتنا ہی فرق ہے۔ گو کہ اس بیان میں کچھ مبالغہ آرائی ہے لیکن اس اقدام سے الیکشن کے نتائج پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے اور خاص طور پر ممتا بینرجی کے اپنے حلقے پر بھی اثرات مرتب ہوئے جہاں سے وہ الیکشن ہار گئی۔ بی جے پی نے اس کے علاوہ مذہبی منافرت پر مبنی ایک غلیظ ترین کمپین کی اور ساتھ ہی ہر قسم کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کو بھی استعمال کیا۔ دوسری جانب بینرجی نے بھی انتہائی غلیظ انداز میں بنگالی قومی تعصب کو ابھار اور ساتھ ریاستی مشینری اور پولیس کو استعمال کیا جس کے باعث الیکشنوں کے دوران شدید تناؤ کی کیفیت بنی رہی۔ ماضی میں یہ دونوں پارٹیاں کمیونسٹ پارٹیوں کے خلاف اتحادی رہی ہیں لیکن اب اقتدار کی رسہ کشی میں ایک دوسرے کی دشمن بن چکی ہیں جبکہ کمیونسٹ پارٹیاں اپنی نظریاتی غداریوں اور جرائم کے باعث تاریخ کی بدترین گراوٹ کو چھو رہی ہیں۔

کیرالا میں بھی کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت میں موجود اتحا د کو 140 کے ایوان میں صرف 35 نشستیں ہی مل سکیں اور انہیں دس سالہ اقتدار کے بعد بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں بھی کمیونسٹ پارٹیاں گزشتہ آٹھ دہائیوں میں کئی دفعہ اقتدار حاصل کر چکی ہیں لیکن اس دفعہ انہیں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی بنیاد ان کی کمیونزم کے نظریات سے غداری اور سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کو قبول کرنا ہے۔ یہاں 1957ء میں پہلی دفعہ کمیونسٹ پارٹی نے منتخب حکومت قائم کی تھی۔ لیکن اب انڈیا میں نصف صدی بعد ایسا موقع آیا ہے کہ کمیونسٹ کسی ایک بھی ریاست میں برسر اقتدار نہیں۔ تری پورہ میں 2023ء میں ہی بی جے پی نے ان کے دہائیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔

تامل ناڈو

گزشتہ پچاس سالوں سے اس ریاست کی سیاست دو پارٹیوں کے گرد گھوم رہی تھی جن کی بنیاد دراوڑی قومی سیاست میں تھی۔ ڈی ایم کے DMK اور اے ڈی ایم کے ADMK ہی وہ دو پارٹیاں تھیں جن میں سے کوئی ایک پارٹی اس ریاست میں حکومت بناتی تھی جبکہ لوک سبھا کے انتخابات میں اس ریاست کی 39 نشستوں پر بھی اکثر انہی دو پارٹیوں کے امیدوار کامیاب ہوتے تھے اور بی جے پی یا کانگریس کے ساتھ حکومت یا اپوزیشن میں ہوتے تھے۔ لیکن پچاس سالوں میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ایک نئی پارٹی نے ان کو شکست دیتے ہوئے حکومت بنائی ہے۔

فلم سٹار وجے کی پارٹی ”ٹی وی کے TVK“ 2024ء میں قائم ہوئی اور یہ اس پارٹی کا پہلا الیکشن تھا اور پہلی ہی دفعہ اس پارٹی نے ریاستی اسمبلی کی 234 میں سے 108 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہاں حکومت بنانے کے لیے 118 نشستیں درکار تھیں اس لیے اس پارٹی نے کانگریس کے پانچ، کمیونسٹ پارٹیوں کے چار اور دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے ساتھ اتحاد بنا کر حکومت بنا لی ہے۔

وجے تامل فلموں کا سب سے کامیاب اداکار ہے اور ایک فلم کا معاوضہ دو سو کروڑ روپے تک لیتا ہے لیکن اس نے سیاست کے لیے فلموں کو خیر باد کہا اور دراوڑی سیاست کے مقابلے میں اپنی پارٹی لانچ کی۔

وجے تامل فلموں کا سب سے کامیاب اداکار ہے اور ایک فلم کا معاوضہ دو سو کروڑ روپے تک لیتا ہے لیکن اس نے سیاست کے لیے فلموں کو خیر باد کہا اور دراوڑی سیاست کے مقابلے میں اپنی پارٹی لانچ کی۔ اس کی پارٹی بھی سرمایہ دارانہ نظریات کی حامل ہے اور وہ کسی بھی انقلابی تبدیلی کا دعویدار نہیں۔ لیکن اس کی کامیابی کی وجہ دراصل دیگر پارٹیوں کی زوال پذیری ہے اور ان کی کرپشن، لوٹ مار اور عوام دشمن اقدامات کی تاریخ ہے جس نے عوام کو مجبور کیا کہ وہ کسی ایسے نئے چہرے کو اقتدار میں آنے کا موقع دیں جس پر ابھی تک کرپشن اور لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں۔ درحقیقت یہ سیاسی رجحان اس وقت پوری دنیا میں موجود ہے جہاں ایک کے بعد دوسرے ملک میں عوام پرانی آزمودہ پارٹیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور کسی بھی طرح ان سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

نیپال میں انقلابی تحریک کے بعد اس سال مارچ میں ہونے والے انتخابات میں یہی عمل نظر آیا جہاں 36 سالہ بالین شاہ وزیراعظم منتخب ہوا ہے جو سیاست میں نوارد ہے اور اس نے 2025ء میں ہی اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس نے ان الیکشنوں کو کلین سویپ کرتے ہوئے 2026ء میں اقتدار حاصل کیا۔ اس سے پہلے ہم سری لنکا میں دیکھ چکے ہیں جہاں 2024ء کے عام انتخابات میں ایک ایسی پارٹی نے اقتدار حاصل کیا تھا جو پہلے کبھی اقتدار میں نہیں رہی۔ نیو یارک کے مئیر کے الیکشن میں ظہران ممدانی کی کامیابی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جبکہ یہ عمل ہمیں برطانیہ اور فرانس سے لے کر دنیا کے تقریباً ہر ملک میں جاری دکھائی دیتا ہے۔

دراوڑی سیاست کا زوال

دراوڑی سیاست کی بنیاد پیریار Periyar نے رکھی تھی جب اس نے 1944ء میں درواڑ کازغم یا دراوڑ تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ پیریار 1925ء میں ہی کانگریس کو استعفیٰ دے کر متبادل نظریا ت کی تلاش میں تھا اور اس وقت سوویت یونین اور بائیں بازو کے نظریات سے بھی متاثر ہوا۔

پیریار

اس نے دراوڑ قومی مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور ساتھ ہی نچلی ذات کے ہندوؤں کی نجات، خواتین کی آزادی، سماجی انصاف اور دیگر ایسے ہی ایشوز پر تحریک کا آغاز کیا لیکن وہ ان تمام مسائل کو سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہ کر ہی حل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے انگریزوں سے دراوڑ قوم کے لیے الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی کیا اور اپنی تنظیم کے ذریعے وہ علیحدگی کے حصول کی ہی کوشش کر رہا تھا۔ دراوڑ قوم سے اس کی مراد جنوبی ہندوستان میں رہنے والے وہ لوگ تھے جو دراوڑ خاندان سے تعلق رکھنے والی زبانیں بولتے ہیں۔ ان زبانوں میں تامل، ملیالم، کنڑ، تیلگو، تولو اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ یہ زبانیں بولنے والے اس وقت انڈیا کی جنوبی ریاستوں میں موجود ہیں جن میں کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹکا، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی ریاستیں شامل ہیں۔ دراوڑ خاندان کی صرف ایک ہی زبان اس خطے کے شمالی علاقوں میں بولی جاتی ہے اور وہ براہوی زبان ہے جو بلوچستان میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ زبان بولنے والے جنوبی علاقوں میں ہی رہتے ہیں۔ پیریار نے دراوڑ قومی محرومی کو بھی اجاگر کیا اور شمالی ہندوستان اور خاص طور پر ہندی زبان مسلط کرنے کی کوششوں کی پر زور مخالفت کی۔ اس کی ایک اہم جدوجہد نچلی ذات کے ہندوؤں کی نجات کے لیے تھی جس کے لیے اس نے برہمن واد کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ گو کہ اس نے واضح کیا کہ وہ برہمنوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کی اجارہ داری کا مخالف ہے۔ اس کے ان نظریات کو کافی مقبولیت ملی۔

1949ء میں اس کی تنظیم میں پھوٹ پڑ گئی اور آنندورائے کی قیادت میں دراوڑ ترقی پسند تنظیم یا (دراوڑ منیترا کازغم) DMK کے نام سے نئی پارٹی قائم ہوئی۔ اس پارٹی نے علیحدگی کے مطالبے کو ترک کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا اور 1967ء میں کانگریس کو ہرا کر تامل ناڈو میں اپنی حکومت بنائی۔ 1972ء میں اس پارٹی سے علیحدہ ہو کر فلمسٹار رام چندرن نے آل انڈیا ڈی ایم کے یا ADMK بنائی اور انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ بعدازاں مشہور فلمسٹار اور ہیروئین جے للیتا بھی اسی پارٹی سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئی تھی۔ 1967ء سے اب تک اس ریاست میں اقتدار انہی دو پارٹیوں کے درمیان جھولتا رہا۔ اس دوران ان پارٹیوں کی قیادتوں نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور عوام دشمن اقدامات کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے ذریعے اس ریاست میں محنت کش طبقے کا بد ترین استحصال کیا گیا۔

کروناندھی

یہ پارٹیاں کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے مرکزی حکومت کا بھی حصہ رہیں اور ان پارٹیوں کے لیڈر مرکز میں اہم وزارتوں پر بھی فائز رہے جہاں انہوں کرپشن کی گنگا میں خوب ڈبکیاں لگائیں۔ ان میں سب سے بدنام کروناندھی (Karunanidhi) ہے جسے اس ریاست میں کرپشن کا باپ بھی کہا جاتا ہے جو پانچ دفعہ یہاں DMK کی جانب سے وزیر اعلیٰ رہا۔ اس کی بیٹی کانی موزی اور اس کی پارٹی کے ممبر اور وفاقی وزیر برائے ٹیلی کام اے راجہ پر انڈیا میں موبائل کے 2 جی سپیکٹرم کو بیچنے میں اربوں روپے کرپشن کے الزامات لگے تھے۔

ایم۔کے۔ سٹالن

اسی کا بیٹا ایم کے سٹالن یہاں اسی پارٹی کا وزیراعلیٰ تھا جسے ہرا کر اب وجے نے اقتدار حاصل کیا ہے۔

مزدور تحریک

تامل ناڈو انڈیا میں ہریانہ کے بعد دوسری سب سے زیادہ صنعتی سرگرمی والی ریاست ہے جہاں سام سنگ اور ایپل سے لے کر دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فیکٹریاں موجود ہیں جہاں لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں۔ ان فیکٹریوں میں ٹریڈ یونین بنانے اور دیگر بنیادی حقوق پر شدید قدغنیں موجود ہیں اور مزدوروں کا بد ترین استحصال کیا جاتا ہے۔ یہاں بننے والا ایک موبائل فون لاکھوں روپے میں فروخت ہوتا ہے لیکن ایسے لاکھوں فون بنانے والے مزدور ایک سمارٹ فون کی قیمت سے بھی کم ماہانہ اجرت حاصل کرتے ہیں۔ اس استحصال اور جبر کے خلاف بہت سی ہڑتالیں اور احتجاج بھی ہوتے رہتے ہیں جن میں سام سنگ کے مزدوروں کی اکتوبر 2024ء میں ہونے والی ہڑتال اہمیت کی حامل تھی۔ 1500 مزدوروں کی یہ ہڑتال 37 دن تک جاری رہی اور مزدوروں نے فیکٹری کا کام مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ یہ مزدور اپنی نئی قائم کردہ یونین کو تسلیم کروانا چاہتے تھے اور ساتھ ہی اجرتوں میں اضافے اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس ہڑتال پر ریاستی اداروں کی جانب سے بھی بدترین جبر کیا گیا اور مرکزی اور مقامی حکومت نے سرمایہ داروں کا ساتھ دیا۔

1500 مزدوروں کی یہ ہڑتال 37 دن تک جاری رہی اور مزدوروں نے فیکٹری کا کام مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔

آنے والے عرصے میں مزدور طبقے کی ہڑتالیں انڈیا کی دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی جاری رہیں گی اور نئے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ کو سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ان عوامی تحریکوں کو کچلنے کے اقدامات کرنے پڑیں گے۔ اسی طرح کرپشن اور لوٹ مار کے نئے ریکارڈ بھی قائم کیے جائیں گے۔ پہلے ہی ADMK پارٹی کے 30 سے زیادہ ممبران اسمبلی اپنی پارٹی سے الگ ہو کر وجے کے ساتھ اتحاد میں شامل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح دیگر بہت سے ”تجربہ کار“ سیاستدان بھی اس حکو مت میں شامل ہیں۔

نیویارک کا مئیر ظہران ممدانی ہو یا نیپال کا وزیراعظم بالین شاہ ہر طرف ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ سیاسی نو وارد پرانی پارٹیوں کی کرپشن اور عوام دشمنی کے خلاف نعرے تو لگاتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں اور جب تک یہ نظام موجود رہے گا کرپشن اور لوٹ مار کے ساتھ مہنگائی، پولیس کے جبر، خواتین کے خلاف جرائم اور مزدوروں کے استحصال سمیت کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔ ان تمام بیماریوں کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس پر ہی یہ تمام تر پارلیمنٹ، عدلیہ اور دیگر ریاستی ادارے قائم ہیں۔ حقیقی سماجی انصاف اور دیگر سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنا ہو گا۔ المیہ یہ ہے کہ انڈیا کی کمیونسٹ پارٹیاں بھی اس نظام سے مصالحت کر چکی ہیں۔ درحقیقت ان کی بنیاد سٹالنزم کے غلط نظریات پر موجود تھی جن کے تحت انڈیا میں سوشلسٹ انقلاب ممکن ہی نہیں اس لیے انہیں سرمایہ دار طبقے کے ساتھ مفاہمت کی تلقین کی جاتی تھی۔ اس نظریاتی دیوالیہ پن کا انجام آج سب کے سامنے ہے۔ لیکن انہی پارٹیوں کی بربادی میں تعمیر کا عنصر بھی پنہاں ہے اور انقلابی کمیونزم کے حقیقی نظریات کے لیے زمین ہموار ہو چکی ہے۔ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل انہی درست نظریات پر یہاں اپنی قوتیں تعمیر کر رہی ہے تاکہ یہاں سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑپھینکا جائے اور پورے خطے کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن تعمیر کرتے ہوئے عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جانب پیش قدمی کی جائے۔