امریکہ – ایران معاہدہ: امریکہ کی تاریخی شکست!

|تحریر: بین کری، ترجمہ: ولید خان|

ایران کے ساتھ جنگ بندی پر دستخط کرنے کے لیے ٹرمپ نے ورسائی محل کا خوب انتخاب کیا کیونکہ وہ اعترافِ شکست پر دستخط کر رہا تھا اس لیے یہ جگہ خاصی موضوع تھی۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

امریکہ اور ایران کے درمیان یہ چودہ نکاتی مفاہمتی یاداشت (MoU) ٹرمپ کے لیے شرمندگی، امریکی سامراج کے لیے شکست اور عالمی صورتحال میں ایک معیاری تبدیلی کا اعلان ہے۔ اسرائیلیوں کے لیے ممکنہ نتائج تو بہت ہی خطرناک ہیں، ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی اور وہ اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں اگرچہ وہ اس کے پابند ہیں۔

فارن پالیسی میگزین نے اعلان کیا کہ یہ ”ویتنام سے بڑی شکست ہے“۔ یقینا، ویتنام سے بہت قلیل اور کم ہولناک ہونے کے باوجود ایران جنگ کے نتائج تاریخی اور دور رس ہیں۔

آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ خطہ میں موجود تیل پیداکار ممالک اب ایرانیوں کے گڑگڑاتے باجگزار بن کر رہ گئے ہیں۔

روس اور چین کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ایران پر صرف ان کا اثر و رسوخ ہے۔ چین کا دوست پاکستان زیادہ تر مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ پوری دنیا میں طاقتوں کا توازن ایک نئی کروٹ لے رہا ہے کیونکہ اب امریکہ کے اتحادی اور دشمن دونوں امریکی ہاتھوں میں کمزور پتوں کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔

جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ خبر اس پر ایک ایٹم بم بن کر گری ہے۔ اگر یہ جنگ بندی جاری رہتی ہے تو یہ بنیامین نتن یاہو کی موت ہے۔ حتیٰ کہ امریکی اسرائیلی تعلقات کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے جان بچانے کے لیے نتن یاہو کے آستین میں کوئی نئی چال ہو جو خطے کے لیے نئی تباہی و بربادی کا سامان ہی ہو سکتی ہے۔

مایوس لوگ مایوس کن اقدامات کرتے ہیں۔ اس تحریر کے وقت نتن یاہو لبنان پر ننگی جارحیت کر رہا ہے تاکہ کسی بھی طرح یہ معاہدہ نیست و نابود ہو جائے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ میں ایسے قدامت پرست ضرور موجود ہیں جو اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوں گے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی بازو مروڑ کر اس سے مجبوراً حزب اللہ کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدے پر دستخط کروا لیے گئے ہیں۔ اگرچہ صورتحال متغیر ہے لیکن ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کو اس سے بہتر پیشکش نہیں مل سکتی! اگرچہ یہ ہتھیار ڈالنے کی شرائط ہیں لیکن امریکی سامراج کو اس سے بہتر کی امید نہیں ہونی چاہیے!

یاداشت میں کیا لکھا ہے

ان شرائط کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا نکتہ واضح کرتا ہے کہ فریقین ”تمام جنگی محاذوں، بشمول لبنان، پر عسکری آپریشنوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔“ اور مزید یہ کہ لبنان کی ”علاقائی سالمیت“ کی ضمانت دیتے ہیں۔

یعنی ایرانیوں نے امریکیوں سے جنگ بندی کروانے کے ساتھ اس معاہدے کے تحت اسرائیلیوں کو جنگ بندی بلکہ لبنان سے انخلاء کے لیے بھی باندھ دیا ہے۔

جارحیت کے خاتمہ کے ساتھ ایک 60 دن کا مذاکراتی دور شروع کر دیا گیا ہے جس کی ”اجتماعی رضامندی کے ساتھ توسیع“ کی جا سکتی ہے۔ اس عرصہ میں ایک معاہدہ تشکیل دیا جائے گا جو ایرانی جوہری افزودگی کا پیچیدہ مسئلہ حل کر دے گا۔ اگر ایسا ہوا تو ایرانیوں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضمانت دی جائے گی، تمام پابندیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا اور امریکی بحریہ کا مکمل طور پر انخلاء ہو جائے گا۔

اگرچہ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ یہ 300 ارب ڈالر امریکی ٹیکس دہندہ کی جیب سے نہیں جائے گا بلکہ علاقائی اور دیگر سرمایہ کاروں کی جانب سے یقینی بنایا جائے گا، لیکن واضح رہے کہ ایک شکست خوردہ امریکہ ایران کا جنگی نقصان پورا کر رہا ہے۔

جب تک یہ نیا مکمل معاہدہ نافذ العمل نہیں ہو جاتا تو یاداشت کے مطابق اس وقت تک فی الحال فوری طور پر ”ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر مشتقات اور تمام منسلک خدمات جن میں بینک ترسیل، انشورنس، ٹرانسپورٹ وغیرہ شامل ہیں، ان کو چھوٹ دی جاتی ہے۔“

یعنی، پہلے دن سے تمام پابندیوں پر ایران کو چھوٹ دے دی گئی ہے!

مستقبل میں مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، اس یاداشت کے تحت فوری طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت ختم ہو گی، تمام پابندیوں کا خاتمہ ہو گا، ایران کا آبنائے ہرمز پر حق کنٹرول تسلیم کیا جائے گا اور اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثہ جات کو جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی بہت اہم ہے کہ اس یاداشت میں کون سے نکات موجود نہیں ہیں۔

حکومت کی تبدیلی، ایرانی پراکسیوں، ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندری ٹریفک سے محصولات لینے کی اجازت نہیں، ایرانی بالسٹک میزائل؛ ان میں سے کسی ایک نکتہ کا اس یاداشت میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ٹرمپ نے بالسٹک میزائل سے متعلق کہا ہے کہ ”اگر دوسرے ملکوں کے پاس موجود ہے تو یہ زیادتی ہے کہ ان کے پاس بھیکچھ نہ ہوں“۔ بات تو درست ہے!

درحقیقت جنگ شروع ہونے اور اس کے دوران بھی ٹرمپ نے جو جنگی اہداف یا خواہشات مسلسل دہرائے، ان میں سے کئی کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

اس ساری مشق کے بدلے میں امریکہ کو کیا ملے گا؟

ایرانیوں کا وعدہ کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے، یہ وعدہ ایران ہمیشہ کرتا آیا ہے؛ پیار بھرے دو چار میٹھے بول اور ایک حقیقی مراعت، آبنائے ہرمرز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا جو جنگ سے پہلے بند نہیں تھی اور اب مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے۔

یہ سب امریکہ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے

چھ سال کا ایک بچہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ ہتھیار ڈال چکا ہے۔

چھ سال کا ایک بچہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ ہتھیار ڈال چکا ہے۔

اس کی وجہ واضح ہے۔ اپنے میزائل ذخیرے کو خطرناک حد تک خرچ کرنے کے باوجود وہ ایران کو عسکری یا معاشی طور پر شکست نہیں دے سکے ہیں۔ ایران نے چار مہینوں پہلے آبنائے ہرمز کو بند کیا تھا۔ اس وقت سے اب تک امریکہ تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے اپنے تزویراتی تیل کے ذخائر کو پانی کی مانند بہا چکا ہے۔ اب یہ ذخائر ختم ہو رہے ہیں اور ایک معاشی طوفان افق پر منڈلا رہا ہے۔

ٹرمپ نے واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ ”میں معاشی تباہی و بربادی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اگر یہ ایسے ہی چلتا رہتا تو یہ ہونا ممکن تھا“۔ آبناء کھلنے کے بعد تیل کی قیمت 80 ڈالر تک گر گئی اور اسٹاک منڈی میں تیزی آ گئی۔

اس یاداشت کے کئی ناقدین ہیں لیکن اسٹاک منڈی ان میں سے ایک نہیں ہے اور اس پر ٹرمپ بہت خوش ہے۔ ”اسٹاک منڈی کسی بھی فرد سے زیادہ ذہین ہے اور اس میں اس اسٹیج پر موجود افراد بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے میرے علاوہ!“ اس نے یہ بات بڑی خوشی سے بتائی اگرچہ ’اسٹیج پر موجود افراد‘ اور مارکو روبیو پریشانی میں نظریں گھماتے رہے۔

اب ٹرمپ کی چال میں ایک خوشی ہے۔ اسے سکھ کا سانس ملا ہے۔ لیکن اس جنگ کے نتائج کئی سالوں امریکہ پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔

سب سے پہلے فوری طور پر ریپبلیکن قدامت پرستوں کا غیظ و غضب نازل ہو گا۔ وہ غصے سے پاگل ہوئے پھر رہے ہیں۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ نفسیاتی طور پر یہ اعتراف کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی کہ وہ یعنی طاقتور ترین امریکی، مکمل طور پر شکست خوردہ ہو چکے ہیں۔

MAGAمیں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ اگر قدامت پرست فوری طور پر یہ امن معاہدہ ختم نہیں کر پاتے تو انہیں انتقام کی آگ چین سے بیٹھنے نہیں دے گی۔ ہو سکتا ہے یہ کام ازسر نو مسلح ہونے کے ایک معقول دور کے بعد سر انجام ہو۔

لیکن اس کے نتائج پورے امریکی سماج پر پڑیں گے۔ جب ٹرمپ اس ساری صورتحال کو گھما پھرا کر پیش کرنے کی کوشش کرے گا وہ تو اس معاہدے کو تہران کی جانب سے ”غیر مشروط ہتھیار ڈالنا“ کہہ رہا ہے، تو وہ امریکی ذلت و رسوائی میں مزید بھونڈا اضافہ کے علاوہ اور کیا کرے گا؟

یہ الامو (Alamo) کی طرح شجاعت بھری شکست نہیں ہے جس پر حب الوطنی سے سرشار امریکی چھاتیاں پھول جاتی ہیں۔ ٹرمپ کا بے ہودہ مسخرہ پن، جیسے وائٹ ہاؤس لان پر امریکی جمہوریہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر ایک UFC مقابلہ اور ڈرٹ بائک شو، ریاست کی رہی سہی ہیبت اور وقار کا جنازہ نکال رہا ہے۔ ٹرمپ کا مقصد اپنی عزت کا بچاؤ ہے لیکن نتیجہ نفرت اور حقارت ہیں۔

انحطاط پذیر سامراجی قوتوں کی تاریخ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، بیرون ملک شکست اندرون ملک طبقاتی جدوجہد کو جنم دیتی ہے۔ الجیریا میں فرانس کی شکست نے مئی 1968ء کی تحریک کو جنم دیا تھا۔ پرتگال کی افریقہ میں گراں قدر جنگ نے کارنیشن انقلاب 1974ء کو جنم دیا تھا۔ یہ واقعہ بھی امریکہ میں طبقاتی جدوجہد کی ایک نئی اٹھان کو جنم دے گا۔

علاقائی نتائج

لیکن ایران میں بھی اس معاہدے کے ناقدین موجود ہیں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ان ناقدین کو لگتا ہے کہ ایران نے آسانی سے سب کچھ مان لیا ہے اور وہ امریکہ پر مکمل شکست مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب مشرق وسطیٰ سے مکمل انخلاء اور ایران کا یورینیم افزودگی حق تسلیم کرنا ہے۔

اسلامی جمہوریہ کی قیادت زیادہ مراعات حاصل کرنے کے لیے بضد نہیں رہی اس دباؤ کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کا اسے سامنا ہے، خاص طور پر روس اور چین کی جانب سے کیونکہ اگر پوری دنیا ہی دیوہیکل معاشی بحران کا شکار ہو جاتی ہے تو یہ دونوں بھی شدید مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔

لیکن ایرانیوں کے لیے ضد پر اڑے رہنا ضروری نہیں تھا۔ ایک سرکاری انخلاء کی عدم موجودگی میں بھی اب امریکہ انتہائی کمزور پوزیشن کا شکار ہو چکا ہے۔

اس کے عسکری اڈے دھول اڑاتے کھنڈر بن چکے ہیں۔ پورے خطے میں سب نے امریکی خصی پن اور ایرانی قوت کا مزہ چکھ لیا ہے۔ مختلف خلیجی ممالک اب ایران کے ساتھ اپنے علیحدہ معاہدے کر رہے ہیں۔

جنگ کے پہلے مرحلے میں شدید ایرانی بمباری سے ناقابل تلافی نقصان اٹھانے کے بعد عرب امارات ایران کو 10-20 ارب ڈالر دینے پر راضی ہو چکا ہے جس میں سے 3 ارب ڈالر کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ قطریوں نے بھی کچھ اسی قسم کا معاہدہ کر لیا ہے۔ سعودی بھی جلد ایسا معاہدہ کر لیں گے۔ یہ ادائیگیاں درحقیقت خراج ہیں۔

پھر خطے میں امریکی اتحاد بھی ہیں جو جنگ سے پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار تھے۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے عرب امارات نے OPEC کی ممبرشپ چھوڑ دی ہے جس کے بعد یہ کارٹیل ناکارہ ہو چکا ہے اور سعودیوں اور اماراتیوں کے درمیان تقسیم کھل کر واضح ہو چکی ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان سرد مہری ایک نئے معیاری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پھر یہاں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی خود اسرائیل ہے۔ یہ ساری صورتحال اسرائیلی حکمران طبقے کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکی ہے۔

سب سے بڑا ناکام و نامراد؛ اسرائیل

اسرائیلی حکمران دہائیوں سے ایرانیوں کے ساتھ پنجہ لڑانے کو تڑپ رہے ہیں۔ ان کے لیے حکومت کی تبدیلی اور جوہری صلاحیت کا خاتمہ کافی نہیں ہے۔ ان کی دیرینہ خواہش ہے کہ ایران بطور قومی ریاست تباہ و برباد ہو جائے تاکہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے راستہ کھل جائے۔

جنگ کے آغاز میں ان کا خیال تھا کہ یہ نادر موقع ہے۔ ان کو یہاں تک خوش فہمی ہو گئی تھی کہ وہ اسرائیل کی سالمیت کا تحفظ کرتے ہوئے خطے میں موجود ہر قومی ریاست کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں تاکہ اس وسیع و عریض بربریت زدہ کھنڈر پر وہ واحد حکمران ہوں۔

جب مارچ کے وسط میں جنگ اپنے عروج پر تھی تو نفتالی بینیٹ نے مستقبل میں جھانکتے ہوئے پہلے ہی ترکی کو ”نیا ایران“ قرار دے دیا تھا۔ اب یہی نفتالی بینیٹ لبرلز کا محبوب امیدوار ہے جو آنے والے انتخابات میں نتن یاہو کو چیلنج کرے گا!

فروری اور مارچ میں اسرائیلی حکمران طبقہ ہواؤں میں اڑ رہا تھا اور اپنے ہی بنائے ہوئے آسمانی محلات میں فتح و شادمانی کے نشے میں چور بیٹھا تھا۔

لیکن اب وہ ان بلندیوں سے زمین پر منہ کے بل آ گرے ہیں۔

اس وقت ہر رنگ نسل کی صیہونی اشرافیہ اس ”تباہ کن شکست“ پر ماتم کر رہی ہے۔ وہ نتن یاہو پر شدید تنقید کر رہے ہیں کہ اس نے لبنان کا سوال ایران سے جوڑ کر ایک تزویراتی غلطی کر ڈالی ہے۔

فروری اور مارچ میں اسرائیلی حکمران طبقہ ہواؤں میں اڑ رہا تھا اور اپنے ہی بنائے ہوئے آسمانی محلات میں فتح و شادمانی کے نشے میں چور بیٹھا تھا۔

لیکن یہی جوڑ تو نتن یاہو کی ساری منصوبہ بندی تھی! ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے امریکی محسنوں کو ذلیل کرنے کی عادت پڑ چکی ہے اور ان کے پاس اسرائیل کی حمایت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

نتن یاہو نے ایرانی جنگ کے آغاز میں ہی لبنان پر فوج کشی کر دی تھی تاکہ یہ دونوں جنگیں ایک دوسرے سے مشروط ہو جائیں۔ اگر امریکی پسپائی کی کوشش کریں گے، ایران سے کوئی معاہدہ کریں گے تو وہ لبنان میں ایرانیوں کو اشتعال دلا کر ہر قیمت پر امریکیوں کو جنگ میں ملوث رکھے گا۔

اب یہاں ایک مسئلہ ہے کیونکہ نتن یاہو نے دونوں جنگوں کو مشروط کر دیا ہے اس لیے اگر ٹرمپ اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے تو اس کے پاس لبنان میں اسرائیلی مداخلت کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

اسرائیلی حکمران طبقہ اس وقت دہشت زدہ اور شدید پریشان ہے۔ نتن یاہو کے لیے یہ شکست کسی موت سے کم نہیں۔ اس جنگ میں شکست کا مطلب اس کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ، وزارت عظمیٰ سے بے دخلی اور شاید جیل کی کوئی کال کوٹھری مقدر ہے۔

کیا نتن یاہو یہ معاہدہ سبوتاژ کر سکتا ہے؟

نتن یاہو کے کچھ اتحادی بڑھک بازی کر رہے ہیں کہ وہ اکیلے اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔ بن گویر نے احتجاج کیا کہ ”ٹرمپ کے معاہدے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسرائیل امریکہ کے ماتحت نہیں ہے۔ ہم ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں۔“

کیا واقعی ایسا ہے؟

جے ڈی وینس نے اسے یاد دلایا کہ:

”سب سے پہلے اس وقت پوری دنیا میں صرف ڈونلڈ جے ٹرمپ ہے جو اسرائیلی قوم سے ہمدردی رکھتا ہے۔ اور وہ دنیا کی سپرپاور کا سربراہ بھی ہے۔ اگر میں اسرائیلی حکومتی کابینہ کا ممبر ہوتا تو میں پوری دنیا میں شاید اپنے واحد طاقتور حلیف پر حملے نہ کرتا۔ میں ایک ہی بات کہوں گا کہ پچھلے تین مہینوں میں جن دو تہائی دفاعی ہتھیاروں نے تمہارے ملک کا دفاع کیا ہے، انہیں امریکی ہاتھوں نے بنایا ہے اور امریکی ٹیکس ڈالر نے ان کی ادائیگی کی ہے۔“

یہ کافی حد تک ایک کھلی دھمکی ہے کہ ”بی بی! ہمارے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہ کرو! تمہیں پچھتانا پڑے گا!“۔ لیکن ماضی میں بھی نتن یاہو سخت حالات سے چکنی مچھلی کی مانند بچ نکلا ہے۔ ظاہر ہے وہ یہاں بھی صبح شام منصوبہ بندی کر رہا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس مرتبہ بھی کامیاب ہو جائے گا؟

اس وقت بہت کچھ نہیں معلوم اور کئی متلون مزاج کردار ملوث ہیں۔ لیکن فوری طور پر لگ رہا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک پہلے منہدم ہو جائے گا؛ عالمی معیشت، امریکی اسرائیلی تعلق، اسرائیلی سماج یا تینوں کا امتزاج۔

امکان نمبر 1: عالمی معیشت منہدم ہو جاتی ہے

اگر نتن یاہو اور قدامت پرست ٹرمپ سے دوبارہ یہ جنگ شروع کروا دیتے ہیں تو عسکری توازن یہی رہے گا۔ مہنگے اسلحے کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے ہیں۔ اس لیے اگر ایرانی اسرائیل پر دوبارہ بمباری شروع کر دیتے ہیں تو امریکیوں کے پاس خواہشات کے باوجود دفاع کے لیے درکار دفاعی میزائل ہی نہیں ہیں!

سب سے کم تر تباہی آبنائے ہرمرز کی فوری بندش اور عالمی معیشت کو دیوہیکل جھٹکا ہو گی۔ لیکن ایرانی اس کے ساتھ آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں اور اس طرح ان کی اتحادی حوثیوں کے ذریعے بحر احمر تک رسائی موجود ہے۔ اس کے بعد یورپ اور ایشیاء کا مرکزی تجارتی راستہ بند ہو جائے گا۔

اس وقت بھی عالمی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ تجارتی کمپنیاں آبنائے ہرمرز کی بندش کی وجہ سے رونما ہونے والے لاجسٹک اثرات کو حل کرتے ہوئے اتنے پراعتماد ہوں کہ دوبارہ سفری سرگرمیوں کا آغاز ہو، اس کے لیے ابھی بھی کئی ہفتے یا مہینے درکار ہیں۔

پورے خطے میں کئی تیل اور گیس کی تنصیبات کو صلاحیتوں اور عالمی منڈی میں سپلائی کی بحالی کے لیے کئی سال درکار ہیں۔ اس دوران تزویراتی ذخائر کی کمی پوری دنیا کو نئے جھٹکوں کے لیے اور زیادہ حساس کر رہی ہے۔ یہاں ایک اور مسئلہ ہے کہ ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے مانگ پہلے سے زیادہ ہی ہو گی۔

یہ ساری صورتحال ٹرمپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

امکان نمبر 2: امریکہ اسرائیل تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں

یہ صورتحال نتن یاہو کا راستہ نہیں روک سکتی۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا کہ معاملات کو آخری حد تک پہنچایا جائے۔ اس وقت بھی نتن یاہو لبنان میں اشتعال انگیزی کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ اس نے فی الحال ایک امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں لیکن وہ اسے توڑنے کے لیے مسلسل بہانوں کی تلاش میں ہے اور جس دن یاداشت پر دستخط ہوئے تھے اس نے لبنان میں قبضے کے لیے ایک ”بفر زون“ کا اعلان کر دیا جو معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

لیکن ان حرکتوں سے نتن یاہو خود امریکی اسرائیلی تعلقات سے کھیل رہا ہے۔

جہاں تک نتن یاہو کا تعلق ہے تو وہ امریکہ سے علیحدگی کی پالیسی کی منطق پر قائل ہے۔ اس نے کچھ حد تک اسرائیلی ریاست کو اس کے لیے تیار کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ پچھلے سال اس نے کہا تھا کہ اگلی ایک دہائی میں اسرائیلی ریاست کو امریکی امداد سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک قسم کا ”سپر سپارٹا“ بنانا ہے جو اپنی جنگیں خود لڑ سکتا ہے۔

شاید وہ یہ کوشش کرے۔ لیکن امریکہ سے تعلقات کے خاتمے کا مطلب اسرائیلی وجود کو خطرہ ہے جس کا انجام یقینی شکست ہے۔

امکان نمبر 3: اسرائیل ٹوٹ جاتا ہے

آخری امکان یہ ہے کہ نتن یاہو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لیکن پھر اسرائیلی سماج میں موجود تمام تضادات، جن کی ایک جھلک ہم نے 2023ء میں عدلیہ اصلاحات کے خلاف احتجاجوں کی شکل میں دیکھی تھی، جس کی جھلکیاں ہم وقتاً فوقتاً مغویوں کی بازیابی پر احتجاجی تحریکوں میں دیکھ چکے ہیں؛ ایک مرتبہ پھر پھٹ پڑیں گے۔

7اکتوبر 2023ء سے نتن یاہو کی ایک ہی کوشش رہی ہے کہ اسرائیلی سماج کے تضادات کا رخ باہر کی جانب رکھا جائے۔

7اکتوبر 2023ء سے نتن یاہو کی ایک ہی کوشش رہی ہے کہ اسرائیلی سماج کے تضادات کا رخ باہر کی جانب رکھا جائے۔ لیکن یہ تضادات اب ایک مرتبہ پھر اندرون ملک اپنا اظہار کریں گے۔

جنگ کے تین سالوں نے اسرائیلی سماج کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 2024ء سے اب تک نفسیاتی مسائل کے علاج میں 240 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوج میں نوجوان ہیں اور ٹیکنالوجی سرمایہ کار ملک چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔

فوج نے PTSD (پوسٹ ٹراما سٹریس ڈس آرڈر) کی وجہ سے برخاستگیوں کے اعداد و شمار ہی جاری کرنا چھوڑ دیے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ ہیں۔ ایک سابق فوجی اور ماہر نفسیاتی امراض نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو بتایا کہ ”سماج، حکومت اور اداروں پر لوگوں کو اعتماد ختم ہو چکا ہے۔“

کچھ اندازوں کے مطابق جب بھی سروس حاضری کی کال دی جاتی ہے تو نصف سے زیادہ ریزرو فوجی ڈیوٹی پر نہیں آتے۔

یہ سب کچھ ایک مرتبہ پھر پھٹنے کی طرف جا رہا ہے۔ اسرائیلی سماج میں مذہبی رجعتیوں پر تکیہ کرنے کے بعد اب نتن یاہو کو انتہاء پسند راسخ العقیدہ یہودیوں کی جانب سے دیوہیکل احتجاجوں کا سامنا ہے کیونکہ وہ IDF میں خدمات سرانجام دینے سے انکاری ہیں۔ دیوہیکل احتجاج ہوئے ہیں، سڑکیں بند کی گئی ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے گھروں کے باہر فساد ہوئے ہیں اور IDF کمانڈروں کے گھروں میں گھسنے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ شین بیت (اندرون ملک سیکورٹی ایجنسی۔ مترجم) نے انتہائی دائیں بازو یہودی دہشت گردی پر ایک انٹیلی جنس رپورٹ بھی بنانی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی سماج میں موجود ان گنت تضادات کسی بھی شکل میں اپنا اظہار کر سکتے ہیں۔

اس لیے نتن یاہو کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے کہ تمام توجہ بیرون ملک مبذول کی جائے۔ لیکن اگر لبنان نہیں تو پھر کہاں؟ ہم دیکھ رہے ہیں کہ IDF غزہ میں اپنے آپریشنز کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے۔ پچھلے ایک ہفتہ سے سموتریچ نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اشتعال انگیزی شروع کر رکھی ہے۔ کیا وہ مغربی کنارے پر قبضے کا منصوبہ تیز تر کریں گے؟

امیچی چکلی جیسے لیکود وزراء نے وعدہ کر رکھا ہے کہ اسرائیل جلد شام کے ساتھ جنگ شروع کرے گا۔ اس حوالے سے اسرائیلی حکمران طبقہ مسلسل ترکی کی قیادت میں ایک ”ریڈیکل سنی شر پسند ممالک کا اتحاد“ کی بات کر رہا ہے۔ امریکہ نے پابندی لگا دی ہے کہ ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا تو کیا اسرائیل خطے میں امریکہ کے اپنے اتحادیوں پر چڑھ دوڑے گا؟

نتائج

ستم ظریفی ہے کہ اس جنگ کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ امریکہ کے پورے خطے میں کمزور ہونے کے بعد اسرائیل پر بطور پراکسی انحصار اور زیادہ بڑھ گیا ہے! اسرائیل مسلسل بے قابو ہوتا جا رہا ہے اور اس طرح وہ خطے میں کہیں پر بھی نئی آگ بھڑکا سکتا ہے جو امریکہ کو جنگ میں مزید گھسیٹے گی۔

لیکن ایک قدم پیچھے ہٹ کر ہمیں سب سے اہم عمومی نکات کا احاطہ کرنا چاہیے۔

اس ساری صورتحال میں ایران مضبوط ہوا ہے؛ سیاسی، عسکری اور جب اربوں ڈالر کھلیں گے تو ممکنہ طور پر مستقبل قریب میں معاشی قوت بھی حاصل ہو گی۔

یہ ساری صورتحال امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے دیوہیکل تباہی و بربادی ہے۔ اس سے امریکہ، اسرائیل اور پورے مغرب میں پنپتے تضادات پھٹ پڑیں گے۔ خطے اور باقی دنیا میں امریکی اثر و رسوخ کا جنازہ نکل گیا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیاء، فلپائن، آسٹریلیا، ویتنام، کمبوڈیا، لاؤس، تھائی لینڈ، میانمار، بنگلہ دیش؛ ان سب ممالک نے اس جنگ کے دوران اپنے مندوبین چین بھیجے جنہوں نے کھاد، تیل اور دیگر اہم اشیاء کی بھیک مانگی۔ یہی کام یورپی کر رہے تھے! ٹرمپ نے بھی یہی کام کیا! کچھ عرصہ پہلے ہی وہ چین میں تھا اور یقیناً اس نے شی سے ایرانیوں پر دباؤ ڈالنے کی بھیک مانگی ہو گی۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے تو امریکیوں کو شدید غصہ چڑھا ہوا ہے کہ یورپیوں نے حمایت نہیں کی اور اس لیے انہوں نے براعظم پر اپنی عسکری موجودگی کو کم کیا ہے۔ یہ نام نہاد ”مشترکہ مغرب“ کے تابوت میں ایک اور کیل ہے۔

اس دوران عالمی معیشت شدید کمزور ہوئی ہے۔ ایرانیوں کو آبنائے ہرمز کا حاکم تسلیم کر لیا گیا ہے جبکہ یورپی بونے نام نہاد روسی ”شیڈو فلیٹ“ کے خلاف قذاقی میں مصروف ہیں۔ یہ عالمی تجارت پر ایک اور کاری ضرب ہے جو تحفظاتی پالیسیوں اور از سر نو مسلح ہونے کو ترغیب دے رہا ہے۔

دوسری طرف، یہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور سامراجی قوت پر کاری ضرب ہے۔ ابھی بھی امریکی سامراج، خاص طور پر مغربی دنیا میں، مسلسل بدمعاشی کر رہا ہے اور دھمکیاں دے رہا ہے۔ پہلے عوام یہ سب کچھ برداشت کر لیتی تھی۔ امریکی سامراج کی دیوہیکل قوت کو کون شکست فاش کر سکتا ہے؟ اب یہ کام ہو چکا ہے!

تاریخ میں اس شکست کو امریکی سامراج کے انحطاط میں ایک کلیدی لمحے کے طور پر دیکھا جائے گا۔