ایران جنگ کے بنگلہ دیش پر تباہ کن اثرات، سوشلسٹ انقلاب ہی راہِ نجات ہے!

| تحریر: نجار مہروز نیرجھور، ترجمہ: تسبیح خان|

امریکہ کی ایران کے خلاف سامراجی جارحیت نے عالمی معیشت میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ، جو ”تاریخ کا بدترین توانائی بحران“ پیدا کر رہی ہے، دور دراز بنگلہ دیش، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ریاستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

یہ آرٹیکل 22 اپریل 2026ء کو ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پہ شائع کیا گیا تھا۔ انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، توانائی کی قلت اور صنعتی بندش، اس دیوالیہ اور معاشی طور پر جمود کے شکار ملک کے غریبوں کے لیے ایک خوفناک منظرنامہ تیار کر رہا ہے۔ یہ صورتحال نو منتخب بی این پی حکومت کے لیے نہایت سنگین خبر ہے، جس نے بنگلہ دیش کے لیے بعد از انقلابی تحریک کے اصلاحات اور خوشحالی کا وعدہ کیا تھا۔

سامراجی جنگ کی قیمت غریب عوام ادا کرتے ہیں

بنگلہ دیش اپنی مجموعی توانائی کی ضروریات کا 60 سے 65 فیصد (بالخصوص ایل این جی) خلیجی ریاستوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس بحران نے ملکی معیشت پر فوری اور سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔

ایران نے بنگلہ دیشی جہازوں کو محفوظ گزر گاہ دینے پر اتفاق کیا، کیونکہ یہ ایک ’دوست ملک‘ ہے۔ لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، بنگلہ دیش کے پاس اپنا مناسب بحری بیڑا نہیں ہے اور ایندھن کی باقاعدہ ترسیل کے لیے وہ بیرونی انفراسٹرکچر اور جہازوں پر انحصار کرتا ہے۔ پہلے ہی، توانائی کی درآمدات بنگلہ دیش کو سالانہ 12 ارب ڈالر پر پڑ رہی تھیں۔ اب، توانائی اور بحری ترسیل کی بڑھتی ہوئی لاگت حکومت کو اسپاٹ مارکیٹ (اسپاٹ مارکیٹ سے مراد وہ منڈی ہے جہاں مالیاتی آلات، جیسے شئیرز، کرنسیاں یا اجناس کی خرید و فروخت فوری ترسیل کے لیے کی جاتی ہے، نہ کہ مستقبل میں کسی طے شدہ تاریخ پر۔ مترجم) میں دوگنی قیمت پر تیل کے ٹینکر خریدنے پر مجبور کر رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ جنگ اس کے درآمدی بل میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کر سکتی ہے۔

حکومتی انتظامیہ کے پاس اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے بہت کم ذرائع ہیں۔ وہ متبادل سپلائی تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے اور ملک بھر کے لیے ایندھن کے ذخائر میں صرف 30-40 دن کا ایندھن پڑا ہوا ہے، جبکہ کوئی مناسب اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ بدترین اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی حکومت توانائی سبسڈی کی ادائیگی کے لیے 2 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چونکہ ملک پہلے ہی اپنے سالانہ بجٹ کا تقریباً نصف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے، اس سے صورتحال مزید نازک اور شدید ہو جائے گی۔

قیمتوں میں اضافے اور سپلائی میں کمی کے ساتھ حکومت نے بجلی بچانے اور ایندھن کو برقی نظام، بالخصوص گارمنٹ انڈسٹری کے لیے ترجیح دینے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ دکانوں کو شام 7 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سرکاری تعطیلات میں توسیع کی گئی ہے اور سکولوں کو ہفتہ وار کلاسز کا نصف حصہ آن لائن منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس ترجیحی پالیسی کے نتیجے میں پمپوں پر ایندھن ختم ہو رہا ہے۔ پچھلے ایک ماہ سے، ملک کے ہر فعال پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جہاں لوگ اپنی گاڑیوں میں ایندھن بھرنے کے لیے 15 گھنٹے سے زیادہ انتظار کر رہے ہیں!

غیر قانونی گروہوں نے رات کے وقت پمپوں سے ایندھن چوری کرنا شروع کر دیا ہے اور غصے میں آ کر پمپ کے کارکنوں پر حملے معمول بن گئے ہیں۔ بنگلہ دیشی شہر نارائل (Narail) میں ایک گیس اسٹیشن کے ملازم کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب ایک ٹرک ڈرائیور کو آٹھ گھنٹے انتظار کے بعد ایندھن دینے سے انکار کیا گیا۔ مینیجرز کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ ان کے اسٹیشن جلا دیے جائیں گے۔ اس کے جواب میں، حکومت نے ایندھن کے ذخائر کی حفاظت کے لیے نیم فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور ایندھن ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے لیے موبائل عدالتیں بھیجی ہیں۔

لمبی قطاروں کی وجہ سے لوگوں کے کام کے اوقات متاثر ہو رہے ہیں اور رکشہ و رائیڈ شیئر ڈرائیوروں کی معمولی آمدنی دباؤ کا شکار ہے، اس لیے سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہی ہو رہا ہے۔

لیکن یہ بحران کا صرف ایک پہلو ہے۔

ایل این جی یوریا کھاد کی پیداوار کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ اس اہم مادے کی عالمی فراہمی کا 35 فیصد منقطع ہو چکا ہے اور بجلی بچانے کے لیے حکومت نے بنگلہ دیش کے پانچ سرکاری کھاد کارخانوں میں سے چار کو بند کر دیا ہے۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے جب بنگلہ دیش کے لیے بورو (Boro)چاول، جو ملک کی سب سے اہم فصل ہے، کے لیے کھاد ڈالنے کا اہم وقت صرف چند ہفتے دور ہے۔ اس اہم عرصے کے دوران کھاد یا آبپاشی کی کمی فصل کی پیداوار میں شدید کمی کا باعث بنے گی جو زیادہ تر ڈیزل سے چلنے والے پمپوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بہترین صورت میں، بنگلہ دیش کو چاول بہت زیادہ قیمت پر درآمد کرنا پڑے گا کیونکہ شپنگ کے اخراجات بڑھ رہے ہیں: چاول کی قیمت پہلے ہی گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد بڑھ چکی ہے۔ بدترین صورت میں، یہ قحط کا سبب بن سکتا ہے۔

لیکن صرف چاول ہی متاثر نہیں ہو رہا۔ مشرق وسطیٰ اور ایران بنگلہ دیش کے لیے سویا بین تیل، مصالحہ جات، پھلوں اور گودے (Pulp) کے اہم ذرائع ہیں، جن کی ترسیل اب تقریباً بند ہو چکی ہے۔ اسی دوران، بڑھتی ہوئی شپنگ اور توانائی کی قیمتوں نے چینی، مرغیوں کے چارے، گندم اور خوراک کی فراہمی کے دیگر اہم اجزاء کی سپلائی کو محدود کر دیا ہے۔

ان تمام عوامل نے بازار میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں، سویا بین تیل کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے، چچِنڈا (snake gourd) 45 فیصد؛ ٹماٹر اور کدو 15 فیصد؛ مرغی کی اہم اقسام 52 فیصد اور انڈوں کی قیمت صرف چند دنوں میں 10-15 ٹکا بڑھ گئی ہے۔ یہ سب زیادہ تر نچلے طبقے کو متاثر کر رہے ہیں، جو اب پروٹین جیسے اہم غذائی اجزاء کے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

بنگلہ دیش کے محنت کشوں کے لیے یہ تمام عوامل مل کر ایک خوفناک صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ مزدور، جو پہلے ہی گزر بسر کرنے میں مشکلات کا شکار تھے، اب اس بات پر مجبور ہیں کہ خوراک، کرائے یا صحت کی دیکھ بھال اور اپنے بچوں کی تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ حیرت کی بات نہیں کہ جن مزدوروں سے ہم نے بات کی ہے، ان میں سے بہت سے اب اپنے بچوں کو سکول سے نکالنے کا فیصلہ کر رہے ہیں کیونکہ تعلیم کے اخراجات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔

معیشت کے بنیادی ستون کمزور ہو گئے

یہ جنگ مجموعی طور پر بنگلہ دیشی معیشت کی مالی پائیداری پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

تجزیہ کار خبردار کر رہے تھے کہ 2026ء کے آخر تک نصف ٹیکسٹائل کارخانے ختم ہو سکتے ہیں۔

بیرونِ ملک روزگار بنگلہ دیشی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ ایک طرف، ملک کے اندر روزگار کے محدود مواقع کے باعث یہ نوجوانوں کے لیے کام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دوسری طرف، تقریباً 30 ارب ڈالر کی ترسیلات زر ہر سال بیرونِ ملک مقیم افراد کی جانب سے بنگلہ دیش آتی ہیں۔ زیادہ تر یہ انحصار مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے سات ملین سے زائد بنگلہ دیشی مزدوروں پر ہے، صرف سعودیہ عرب ہی بنگلہ دیش کے لیے 7 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کا ذریعہ ہے۔ اس سے پہلے، تجزیہ کار اور سرکاری اہلکار دونوں ہی بڑھتے ہوئے ترسیلات زر کو بحران زدہ معیشت کے لیے امید کی ایک کرن قرار دیتے تھے۔ اب، جنگ نے اس اہم سہارے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

خلیجی ممالک پر حملوں نے وہاں کی سیاحت کی صنعتوں کو تباہ کر دیا ہے اور بہت سے کاروبار، خدمات اور تعمیراتی کمپنیوں کو روک دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ جو کام جاری ہے وہ جنگی حالات میں خطرناک انداز میں ہو رہا ہے، اب تک کم از کم پانچ بنگلہ دیشی مزدور میزائل اور ڈرون حملوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ملک سے باہر جانے کے خواہشمند مزدور خود کو پھنسا ہوا پا رہے ہیں کیونکہ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

ملک کے اندر، بنگلہ دیش کا نہایت اہم گارمنٹ سیکٹر، جو اس کی برآمدی آمدنی کا 85 فیصد فراہم کرتا ہے اور 40 ملین سے زائد مزدوروں کو روزگار دیتا ہے، پہلے ہی ویتنام، بھارت اور چین کے مدمقابل آنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ جنگ سے پہلے ہی، ملک کو شدید گیس کی قلت کا سامنا تھا، جس کے باعث ٹیکسٹائل پیداوار کی صلاحیت میں 30 فیصد کمی آ چکی تھی۔ تجزیہ کار خبردار کر رہے تھے کہ 2026ء کے آخر تک نصف ٹیکسٹائل کارخانے ختم ہو سکتے ہیں۔

اب یہ صنعت تقریباً ایک ناقابلِ عبور چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ بجلی بچانے کے لیے، کارخانے اب مدھم روشنی میں اور ائیر کنڈیشننگ بند کر کے چلائے جا رہے ہیں، جس سے مزدوروں کو گرمی میں کام کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ شپنگ کے اخراجات میں اضافے اور ایران و مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش کے باعث آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے اور پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے ہی یہ صنعت 6 سے 9 فیصد کے نہایت کم منافع پر کام کر رہی تھی۔ جنگ کے نتائج انہیں آرڈرز پورے کرنے سے قاصر بنا سکتے ہیں یا دنیا کی پسندیدہ ٹیکسٹائل سویٹ شاپ (sweatshop) (ایسے کارخانے یا ورکشاپس جہاں مزدوروں سے بہت کم اجرت پر، طویل اوقاتِ کار میں سخت اور غیر انسانی حالات میں کام کروایا جاتا ہے۔ مترجم) کے طور پر ان کا منافع بخش کردار ختم ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مغربی برانڈز اس صورتحال کو نوٹ کر رہے ہیں اور اب مراکش جیسے شمالی افریقی ممالک سے خریداری پر غور کر رہے ہیں، جو یورپ کے زیادہ قریب ہیں اور جنگ سے نسبتاً محفوظ بھی ہیں۔

سرمایہ دارانہ بحران یا سوشلسٹ انقلاب

بنگلہ دیش میں پہلے ہی صورتحال نازک تھی۔ اب ہزاروں میل دور ہونے والی ایک سامراجی جنگ، جس پر بنگلہ دیش کا بالکل کوئی کنٹرول نہیں، ملکی معیشت کو زلزلے کی طرح جھٹکے دے رہی ہے۔

خوراک کی قلت، صنعتی زوال اور بے روزگاری، بے قابو مہنگائی، یہ وہ تمام حالات تھے جنہوں نے 2024ء کے جولائی انقلاب کو جنم دیا تھا، اب شدت کے ساتھ مزید بگڑ رہے ہیں۔ رحمان حکومت کی جانب سے ملک میں خوشحالی اور استحکام لانے کی کوئی بھی امید اب ختم ہو چکی ہے۔ جب غریب عوام کی حالت انتہائی مایوس کن ہو رہی ہو تو نئی دھماکہ خیز تحریکیں ناگزیر ہیں۔

لیکن بنگلہ دیش اس طوفان میں پھنسے ہوئے بہت سے غریب ممالک میں سے صرف ایک ہے۔ ایشیا اور افریقہ بھر میں یہی شدید استحصال کا شکار لوگ، دنیا کے سویٹ شاپ مزدور، امریکہ کے سامراجی عزائم اور عالمی سرمایہ دارانہ بحران کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

بنگلہ دیش کے جولائی انقلاب میں، دیگر تمام جین زی انقلابات کی طرح، لاکھوں لوگ بدعنوانی، بے روزگاری اور عدم مساوات کے خلاف نکلے اور اپنی حکومت کو گرا دیا۔ لیکن اس جنگ کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ محض سیاسی تبدیلی کافی نہیں تھی۔ سرمایہ داری ان تمام مسائل کی جڑ ہے اور جب تک بنگلہ دیش اور اس کے ہمسایہ ممالک اس نظام کا حصہ رہیں گے، انہیں مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

موجودہ بحران اس حقیقت کو لاکھوں لوگوں پر آشکار کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے دیہاتی، جو چند ماہ پہلے تک صرف مقامی واقعات پر بات کرتے تھے، اب ایران کی جنگ پر گفتگو کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے سامراج کی کھلی کاروائیاں مزدوروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کریں گی، وہ موجودہ نظام کے متبادل کے لیے بے چین ہوں گے اور ہر قسم کے بے قابو اور شدید ردعمل سامنے آ سکتے ہیں۔ صرف ایک عالمی سوشلسٹ انقلاب ہی متبادل راستہ فراہم کرتا ہے جو اس استحصال اور سامراجی جبر سے نجات دِلا سکے!