انڈیا: کاکروچ جنتا پارٹی کی ملک گیر تحریک سے مودی سرکار خوفزدہ

|تحریر: روی مستری، ترجمہ: آصف لاشاری|

کاکروچ جنتا پارٹی کا ’سنساد چلو‘ تحرک بہت وسیع پیمانے کا تھا۔ یہ جین زی کی طنزیہ تحریک کا ابھی تک کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ احتجاجوں کے حجم نے مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو انتہائی ششدر کر کے رکھ دیا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ دہلی پولیس کے انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کا تخمینہ تھا کہ سوموار کی صبح سات سے اٹھ ہزار لوگ باہر نکلیں گے۔ شہر کے باقی حصوں میں نکلنے والے لوگوں سمیت اصل تعداد 50 ہزار یا اس سے زیادہ تھی۔

مودی کاکروچ تحریک کو کچلنا چاہتا ہے

بی جے پی کی حکومت گھبرا گئی ہے اور اس نے پارلیمنٹ کے دروازوں کو واٹر کینن اور پیرا ملٹری فورسز کا استعمال کر کے بلاک کر دیا۔ احتجاج سے ایک رات پہلے اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے۔ لیکن اس طرح کا کوئی ہتھکنڈا باہر نکلنے والے لوگوں کی تعداد کو کم نہ کر سکا۔

ممبئی، پونے اور بنگلورو سمیت انڈیا بھر کے شہروں اور لندن، ڈبلن، ایمسٹرڈیم اور وینکوور سمیت بیرون ملک کے دوسرے شہروں میں بھی بھارتی طلبہ کی قیادت میں بڑے پیمانے کا تحرک ہوا ہے۔ ماحولیاتی ایکٹوسٹ سونم وانگچک جو بھوک ہڑتال پر تھے، کی دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر سے گرفتاری کے بعد تحرک بھڑک اٹھا جہاں ہزاروں احتجاجی ایک ماہ سے کیمپ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وانگچک نے اعلان کیا تھا کہ وہ تب تک بھوک ہڑتال پر رہیں گے جب تک غیر مقبول وزیر تعلیم استعفیٰ نہیں دے دیتا (NEET امتحان کے لیک ہونے پر بننے والی اس تحریک کا یہ بنیادی مطالبہ ہے)۔

نریندر مودی، امیت شاہ اور دہلی پولیس نے اس بہت بڑے تحرک کا جواب اسی زبان میں دیا جو انہیں آتی ہے۔ انہوں نے احتجاج کو روکنے اور احتجاج کی جگہ جنتر منتر کو خالی کرانے کے لیے بہت زیادہ جبر کا استعمال کیا۔

سوشل میڈیا پر موجود تصاویر اس جبر کو دکھانے کے لیے کافی ہیں۔ پرامن نوجوان احتجاجیوں پر دہلی پولیس کے بدمعاشوں کی جانب سے شدید لاٹھی چارج اور ٹئیر گیس کا استعمال کیا گیا۔ حتی کہ خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انہوں نے جنتر منتر پر لگے احتجاجی کیمپ اور اسٹیج کو اکھاڑ پھینکا۔ انہوں نے انٹرنیٹ بند کر دیا۔ یہ بھارتی حکومت کا حقیقی گھناؤنا چہرہ ہے جسے ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

حتی کہ حکومت نواز گودی میڈیا بھی جو عام طور پر روزمرہ میں ہونے والے ایسے احتجاجوں اور ریاستی جبر کے ایسے واقعات کو خاص اہمیت نہیں دیتا، طلبہ پر ہونے والے بے پناہ جبر کہ جس نے لاکھوں لوگ کو ششدر کر دیا، کو بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا۔

اس تمام تشدد کے دوران حکومت نے سمجھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے راہنماؤں کو وزیر صحت جے پی نڈا (JP Nadda) کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کی پیشکش صورتحال کو ٹھنڈا کر دے گی۔ لیکن سی جے پی کی تعریف کرنی چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔

آج جنتر منتر کا احتجاجی کیمپ دوبارہ آباد ہے اور سی جے پی کے راہنما ڈٹے ہوئے ہیں۔

احتجاج کرنے والے ہیں کون؟

اس احتجاج اور سی جے پی کے حامیوں کی غالب اکثریت پڑھے لکھے نوجوان اور پیشہ ور محنت کش نوجوان ہیں جو مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ بی بی سی نے لکھا:

”دہلی میں احتجاج کی غرض سے سفر کر کے آنے والوں میں ایک سمراٹ کھنا بھی ہے۔ جس کا کہنا تھا کہ اس نے احتجاج میں شرکت کے لیے اپنی فلائٹ ڈیوٹیاں بھی کسی کے ساتھ بدلی ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے لگا کہ مجھے یہاں ہونا چاہیے اور میں صرف دور بیٹھ کر تماشا نہیں دیکھ سکتا۔“

ڈی ڈبلیو (DW) نیوز نے ایک سول ملازم کا انٹرویو کیا جس کا کہنا تھا کہ اس نے پچھلے الیکشنز میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ اس دوران سی جے پی کے راہنما ابھیجیت دپکے اس وقت بوسٹن یونیورسٹی میں ابھی تک ماسٹر کے طالب علم تھے۔

یہ سماج کی سب سے پسماندہ اور غریب ترین پرتیں نہیں ہیں۔ یہ کوئی فیکٹری ورکرز نہیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہندو ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نوجوان ہیں اور نسبتاً اچھے گھرانوں میں پلے بڑھے ہیں لیکن جدید بھارت اور جس طرح کی زندگی کی امید دلائی گئی تھی، سے شدید نالاں ہیں۔

بولنے کی آزادی، سوچنے کی آزادی اور تخلیقی صلاحیتوں پر جکڑ بندی۔ ہندو مسلم کی زہریلی سیاست۔ اچھی نوکریوں کے گرد اقرباء پروری اور کرپشن کا جال۔ پڑھے لکھے گریجویٹس میں پاگل پن کی حد تک پہنچی ہوئی بے روزگاری جو کہ کم و بیش کروڑوں کی تعداد بنتی ہے۔ حکومت کی جانب سے مستقل قوم پرستانہ بکواس بازی اور چھوٹی سے چھوٹی تنقید کو بھی اینٹی نیشنل قرار دے دینا۔

احتجاج کرنے والوں کی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے صرف اس انڈیا کو ہی دیکھا ہے کہ جس پر ہندو نیشنلسٹ بی جے پی اور نریندرا مودی کی حکمرانی ہے۔

کیا یہ سب کچھ معمول سے ہٹ کر کچھ ایسا ہے؟ بالکل نہیں! جب آپ انڈیا کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یاد کیجیے کہ یہ سپاہیوں پر مبنی فوج جسے برطانویوں نے تخلیق کیا اور منظم کیا، جس نے برطانویوں کی خاطر بھارت کو فتح کیا اور جس نے پھر اپنے آقاؤں کے خلاف بغاوت کی اور انیسویں صدی کی سب سے بڑی نوآبادیات مخالف بغاوت کا آغاز کیا۔

کارل مارکس نے اس پر یوں تبصرہ کیا:

”فرانسیسی مطلق العنانیت کو پہلا دھچکا کسانوں کی جانب سے نہیں بلکہ اشرافیہ کی جانب سے پہنچا۔ انڈین بغاوت کا آغاز برطانویوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار، دھتکارے ہوئے اور ننگے کر کے تشدد کیے جانے والے دہقانوں کی جانب سے نہیں ہوا بلکہ برطانویوں کی جانب سے پالے پوسے اور موٹے تازے کیے جانے والے سپاہیوں کی جانب سے ہوا۔“ (کارل مارکس – انڈیا میں بغاوت)

بے شمار انگریزی میڈیم کے پڑھے لکھے وکلاء اور سول ملازمین کو بھی یاد کیجیے، جنہیں برطانوی راج نے مکمل انگریزی بابو اور سلطنت کے وفادار اور قابلِ بھروسہ نوکر بنانے پر محنت کی تھی۔ اپنی تمام تر غلطیوں کوتاہیوں کے باوجود انہوں نے استعماری حاکمیت کے خلاف آزادی کی جدوجہد کی راہنمائی کی۔

اب انڈیا کے ارب پتیوں کی حکمرانی کے تحت اپنے جنم سے ہندووتا پروپیگنڈے پر پالی پوسی گئی اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے پڑھی لکھی نوجوانوں کی ایک پرت جن پر بہت محنت کی گئی تھی کہ وہ بھارتی مڈل کلاس بن سکیں اور آج سے پہلے کے تمام ہندوستانیوں سے ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ اور پھر بھی یہ بالکل وہی پرت ہے جو اس نظام کے خلاف جدوجہد کی راہنمائی کر رہی ہے جس کا انہیں سب سے بڑا حمایتی بننا تھا۔

ان واقعات کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ مودی اتنا بھی طاقتور نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پارٹی بے جے پی نے آج تک کسی بھی جنرل الیکشن میں بھاری اکثریت حاصل نہیں کی۔ تمام زندہ جانداروں کی طرح مودی کی سیاسی زندگی کے خاتمے کا بھی ایک وقت آنا ہے۔ اور وہ وقت مودی کی سوچ کے برعکس بہت جلد ہی آنے والا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اس تحریک کے دفاع کے لیے باہر نکلنے کی اشد ضرورت ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے اہم راہنما ابھیجیت دپکے کو تھپڑے مارے گئے ہیں اور اس پر سیاہی بھی پھینکی گئی ہے۔ کل کاکروچ جنتا پارٹی کے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں حامیوں پر انتہائی وحشیانہ تشدد کیا گیا۔

احتجاجیوں کے خلاف جھوٹ پر مبنی گھناؤنی مہم چلائے جانے کا انتہائی شدید دباؤ ہے کہ وہ اپنے احتجاجوں کو انتہائی پرامن رکھیں اور تشدد کی طرف نہ مائل ہوں۔ لیکن بے جے پی اور مودی کبھی بھی لاٹھی چارج، واٹر کینن اور گولیوں سے زخمی ہونے یا قتل کیے جانے والے بھارتیوں کے لیے آنسو نہیں بہائیں گے اور جبر کا کوئی بھی ہتھکنڈا استعمال کرنے سے باز نہیں رہیں گے، چاہے یہ احتجاج کتنے بھی پرامن کیوں نہ ہوں۔

تحریک کو جمہوری طریقے سے منتخب کی جانے والی دفاعی کمیٹیوں کے ذریعے اپنا دفاع کرنا ہو گا اور بڑی طاقتور ٹریڈ یونینز کی حمایت حاصل کرنے کو بہت اہمیت دینی ہو گی۔ اگرچہ پڑھے لکھے طلبہ اور پروفیشنل ورکرز کی یہ پرت تحریک کی قیادت اچھی طرح سے کر سکتی ہے مگر یہ انڈیا کا طاقتور محنت کش طبقہ ہی ہے جس پر یہ تمام گلا سڑا نظام انحصار کرتا ہے اور جس کی اس تحریک میں شمولیت معیاری فرق پیدا کر سکتی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی ڈھاکا میں موجود اپنے بہن بھائیوں سے جدوجہد کے بہترین اسباق مستعار لے سکتی ہے۔ طلبہ کی قیادت میں برپا ہونے والی 2024ء کی جین زی تحریک کے دوران شیخ حسینہ واجد نے اس تحریک کا خاتمہ کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ کم از کم 450 لوگ قتل کیے گئے۔ لیکن جب طلبہ نے عام ہڑتال کی کال دی اور بنگلہ دیش کے محنت کش طبقے کو تحریک میں شامل کیا تو تحریک کو ختم کرنا نا ممکن ہو گیا۔ انہوں نے شیخ حسینہ اور اس کی قابلِ نفرت پارٹی عوامی لیگ کو اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا۔ انڈیا کا محنت کش طبقہ ابھی تک میدان میں نہیں اترا ہے۔

ابھی یہ تحریک صرف چند ماہ ہی شروع ہوئی اور آگے بڑھ رہی ہے۔ کاکروچز نے سماج میں پائے جانے والے شدید غصے کو تھوڑی سی ہوا دی ہے جو کہ سماج کے ہر رگ و ریشے میں موجود ہے۔ جین زی انقلابات کے اسباق کا مطالعہ کیا جانا چاہیے اور انہیں عمل میں لانا چاہیے۔

نریندرا مودی اور بے جے پی (BJP) کا خاتمہ جین زی انقلابات کی سب سے بڑی فتح ہو گی اور اس کے عالمگیر اثرات ہوں گے۔ یہ عمل دنیا بھر کے تمام مظلوم اور دھتکارے ہوئے عوام کی تحریکوں میں ایک نئی روح پھونکے گا۔ یہی اس تحریک کی تاریخی اہمیت ہے۔