گلگت بلتستان: احسان علی کی رہائی پر تمام انقلابیوں کو مبارکباد! جدوجہد جاری ہے!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل|

پُر تشدد قید میں تین مہینے گزارنے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان (AAC-GB) کے چیئرمین اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی (RCP) کے مرکزی رہنما احسان علی آزاد ہو گئے ہیں! یہ عالمی یکجہتی کے لیے ایک دیوہیکل فتح ہے جو پوری دنیا میں محنت کشوں، لیبر قائدین اور ریڈیکل نوجوانوں کی پُر جوش اور شاندار حمایت کے بغیر کبھی ممکن نہیں تھا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

10مارچ کو احسان علی کو ایک افطاری سے گرفتار کر کے دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگایا گیا جس میں پُر امن احتجاج کی منصوبہ بندی کا الزام بھی شامل تھا۔ احسان علی نے ان تین مہینوں میں ہولناک قید کی تکلیف دہ سختیاں اولوالعزمی سے برداشت کی ہیں۔ پچھلے سال گرفتاری کی طرح اس مرتبہ بھی ریاست نے ان پر شدید دباؤ ڈالا کہ ہر قسم کا غلیظ اور گھٹیا الزام قبول کر لیں جبکہ ان کے رشتہ داروں اور کامریڈز کو بے تحاشہ دھمکیاں دی گئیں کہ وہ ان کے خلاف ہر جرم کے گواہ بن جائیں۔

انہیں صحت کی جائز اور لازمی سہولیات سے محروم رکھا گیا اور گلگت بلتستان میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اعتراف کیا ‘‘اوپر سے’’ احکامات ہیں کہ ‘‘اسے مرنے دیا جائے’’۔ لیکن اپنے جیلروں کی مرضی کے برخلاف انہوں نے ہمت و حوصلہ سے ہر تکلیف برداشت کرتے ہوئے جھکنے سے انکار کر دیا۔ آج وہ جیل سے زندہ اور ٹھیک رہا ہو چکے ہیں۔ آج وہ پھر خطے کے غرباء اور استحصال زدہ عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے کمر بستہ ہیں۔

گلگت بلتستان میں جھوٹے اور فریبی انتخابات منعقد کرنے کے چند دن بعد ان کو آزاد کیا گیا ہے۔ ان کی قید کا وقت کوئی حادثہ نہیں ہے۔ انتظامیہ کا منصوبہ تھا کہ نام نہاد انتخابات کے دوران AAC کے سب سے اہم، بااثر اور مرکزی قائد کو قید رکھا جائے تاکہ اسلام آباد کے زرخرید غلاموں کو گلگت کی اسمبلی میں منتخب کروا کر عوام پر مسلط کر دیا جائے۔ وہ قدرتی وسائل اور زرخیزی سے مالا مال اس سرزمین کی لوٹ کھسوٹ میں اپنے آقاؤں کی معاونت کرتے رہیں گے۔

عالمی یکجہتی کی طاقت

پاکستان اور اس کے زیر تسلط علاقوں میں عام طور پر سیاسی قیدی بغیر نام و نشان غائب کر دیے جاتے ہیں اور ان کے خاندان ان کے مقدر سے بے خبر رہتے ہیں۔ لیکن یہ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے کامریڈز کی پانچ براعظموں پر منظم کردہ شاندار یکجہتی تحریک ہے جس نے پاکستانی ریاست کے جرائم کو دنیا کے سامنے مسلسل ننگا کیے رکھا ہے۔

ریاستی انتظامیہ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود، احسان علی کی رہائی کے لیے ہنزہ سمیت گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں احتجاج ہوئے۔ پاکستان میں بھی کئی شہروں میں RCP کے ممبران، محنت کشوں اور نوجوانوں نے پورے ملک کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس یوم مئی پر خاص طور پر ایک ہی دن پورے ملک میں احسان علی اور عوامی ایکشن کمیٹی، گلگت بلتستان کے دیگر قائدین کی رہائی کے لیے احتجاج منظم کیے گئے۔

عالمی طور پر ہزاروں افراد نے احسان علی کی رہائی کے حوالے سے ہماری پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔ کامریڈز اور ہمدردوں نے مانٹریال سے میلبورن، لندن سے لسبن اور شکاگو سے کوپن ہیگن تک پوری دنیا میں پاکستانی سفات خانوں اور سفارتی عمارات کے سامنے احتجاج کیے! انہوں نے درجنوں ‘‘مراسلات برائے تشویش’’ جمع کروائے اگرچہ اکثر دروازے ان کے منہ پر بند کر دیے گئے، پولیس نے مداخلت کی، حتیٰ کہ پاکستانی سفارتی سٹاف نے دھمکیاں بھی دیں۔ وہ اتنے پریشان کس لیے ہیں، یہ واضح ہے۔ خوفناک جبر جاری ہے اور ہم نے پوری دنیا میں اسے ننگا کر دیا ہے!

ہماری مہم میں اہم آوازوں نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور جینوسائڈ واچ دونوں نے اعلامیے جاری کیے جن میں احسان علی کی گرفتاری اور عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف تادیبی کاروائیوں کی مذمت کی گئی۔ ہمیں تقریباً 400 مشہور شخصیات کی حمایت حاصل ہوئی جن میں لیفٹ وِنگ سیاست دان (جیسے لیبر پارٹی کا سابق سربراہ جیرمی کوربن)، ٹریڈ یونین قائدین جو لاکھوں محنت کشوں کی نمائندگی کر رہے ہیں (جیسے اونٹاریو فیڈریشن آف لیبر کی صدر لارا والٹن)، ترقی پسند سرگرم کارکنان اور فنکار شامل ہیں۔ امریکی موسیقار ڈیفڈ رووکس نے احسان علی کے لیے ایک نیا مزاحمتی گیت بھی قلم بند کیا!

ہمارے ایک کلیدی حامی جان میکڈونلڈ (مشہور لیفٹ وِنگ ممبر پارلیمنٹ اور سابق برطانوی شیڈو چانسلر) نے ہمارے ایک لندن احتجاج میں شرکت کی اور پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ کے دستخط کے لیے ایک تحریک جمع کرائی تاکہ حمایت حاصل ہو۔ ہم برطانیہ میں موجود اپنے قائرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس تحریک پر اپنا دستخط کریں کیونکہ ہم اس فتح کا جشن تو منا رہے ہیں لیکن ہماری جدوجہد ابھی جاری ہے۔

جنگ ابھی جاری ہے!

احسان علی ابھی تک بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں ہیں یعنی ان کی حرکات و سکنات کی پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی پر جاری جبر کا مطلب ہے کہ اس کے کئی سرگرم کارکنان کو گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپنا پڑ رہا ہے۔ ہم نے اس وقت تک دباؤ جاری رکھنا ہے جب تک عوامی ایکشن کمیٹی، گلگت بلتستان کے ممبران کے خلاف تمام الزامات کا خاتمہ اور احسان علی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج نہیں ہو جاتا۔

پاکستان پر مسلط بدمعاش اور جرنیل ایران پر امریکی اسرائیلی جنگی جارحیت کے نتیجے میں پھٹنے والے معاشی اور سیاسی بحران کا جواب جبر میں شدید اضافہ کے ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کی جھلک پاکستان زیر تسلط کشمیر میں موجود عوامی ایکشن کمیٹی، گلگت بلتستان کے مساوی تنظیم پر ظلم و جبر کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے جو اس وقت ایک عوامی احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہی ہے۔

جب تک سرمایہ داری اور سامراجیت قائم ہیں اس وقت تک خطے کی عوام کے خون کی ہولی، چوری چکاری اور ظلم و جبر جاری رہیں گے۔ آج کروڑ ہا افراد کی زندگیاں تباہ و برباد ہیں۔ حتمی طور پر اس جبر مسلسل کا خاتمہ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ وہ مقصد ہے جس کے لیے کامریڈ احسان علی سمیت انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈز نے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے جو پورے پاکستان اور زیر تسلط علاقوں میں انتہائی مشکل حالات میں جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

احسان علی کے لیے آزادی جیتنا عالمی یکجہتی کی قوت کا ایک حقیقی اظہار ہے جو جابر ترین اور بے رحم ریاست کا سر نگوں کر سکتی ہے۔

ہم ان تمام افراد کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری حمایت کی اور اس فتح کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل، زندہ باد!
عوامی ایکشن کمیٹی، زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!