امریکی معیشت کا بڑھتا بحران: سرکاری قرضوں کے حصول کے لیے شرح سود میں اضافہ

|تحریر: نکلس البن سوینسن، ترجمہ: ولید خان|

امریکی حکومت زیادہ سے زیادہ شرح سود پر قرضہ لینے پر مجبور ہے۔ 2007ء کے بعد پہلی مرتبہ دس سالہ قرضہ جات پر شرح سود 5 فیصد ہو چکی ہے۔ بانڈ منڈی (ملکی خزانہ یا مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ قرضہ جات کی منڈی۔ ترجم) کا موجودہ بحران، آبنائے ہرمز کے بحران، تحفظاتی پالیسیوں اور پرانتشار آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا اظہار ہے۔ یہ قابل ذکر ہے کہ عالمی معیشت میں موجود تمام تضادات اس وقت ایک نئے بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اگست میں امریکی سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا کہ وہ چھ ارب ڈالر مالیت کے دس سالہ اور بیس سالہ بانڈز واپس خرید لے گا تاکہ شرح سود (اسے ییلڈ (yield) کہا جاتا ہے) کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ پھر اس نے کہا کہ خرید کی رقم دگنی کر دی جائے گی۔ اس وقت شرح سود 4.85 فیصد تھی لیکن اب اس میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ یعنی اس کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ یہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ امریکی حکومت ہر مہینے مختلف قرضہ جات کی مد میں 2.7 ٹریلین ڈالر کے قرضہ جات جاری کرتی ہے۔

بیسنٹ کی مداخلت سے پہلے امریکی خزانہ نے جاپانی کرنسی کی خرید کے لیے بھی منڈی میں مداخلت کی تھی۔ انہوں نے جاپانی ین (Yen) کرنسی کی قدر میں اضافہ کرنے کے لیے مدد اس لیے کی کیونکہ فروری سے اس کی قدر میں کمی ہو رہی تھی۔ پچھلے مہینے ایک تقریر میں بیسنٹ نے سرمایہ داروں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کے خلاف پوزیشن نہیں لینی چاہیے کیونکہ اسے ایسے معاملات کا پتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہیں۔ یہ ایک ننگی دھمکی تھی کہ جلد جاپانی مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر دے گا۔

بانڈ منڈی میں مسائل

جاپان کی معاشی صورتحال میں تبدیلی کی بنیاد ایران جنگ ہے جس پر بیسنٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ دہائیوں بعد جاپان کے افراط زر میں اضافہ ہوا اور یہ 1.9 فیصد کی شرح تک پہنچ گیا۔ مرکزی بینک کی سود پالیسی بھی ایک فیصد پر کھڑی ہے جس پر سرمایہ کار اپنا پیسہ باہر نکال رہے ہیں۔ اس سے کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی ہے جس کا مطلب مزید افراط زر ہے۔

جاپانی مرکزی بینک نے کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے منڈی میں مداخلت کی لیکن ایسا کرنے کے لیے اسے پیسہ چاہیے تھا۔ اس لیے اس نے امریکی حکومتی بانڈز (قرضہ جات) بیچ دیے۔ امریکی خزانے کی بھرپور مدد کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جاپانی حکومت نے ین (Yen) کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے 90 ارب ڈالر تک کے امریکی حکومتی قرضہ جات بیچ ڈالے ہیں۔ اب اس کا موازنہ ان حقیر چھ ارب ڈالر سے کریں جو بیسنٹ اپنی مداخلت کے لیے خرچ رہا ہے۔

اس بات پر کم توجہ رہی کہ بیسنٹ نے عرب امارات کے ساتھ ایک ڈیل کر لی ہے جو خود ایران جنگ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس نے امارات کو ایک ’سویپ لائن‘ دی یعنی وہ اپنی کرنسی کے عوض امریکہ سے ڈالر اٹھا سکے ہیں۔ اس طرح امارات اپنی کرنسی کی قدر کو امریکی خزانہ کے قرضہ جات بیچے بغیر مستحکم رکھ سکتا ہے۔

یعنی بیسنٹ اس وقت کئی حکومتوں کے ساتھ معاہدے کر رہا ہے کہ امریکی حکومتی بانڈ نہیں بیچنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی حکومت کے پیسوں سے ہی اپنا جاری کردہ قرضہ واپس خرید رہا ہے!

اگر آپ کو لگے کہ یہ کچھ پریشان کن صورتحال ہے تو اس کی بھی وجہ ہے۔ بیسنٹ کوشش کر رہا ہے کہ امریکی حکومت کے لیے قرضوں کا حصول سستا ہو۔ اس کے ساتھ وہ خاص طور پر وسط مدتی انتخابات (mid-term elections) سے پہلے امریکی مارٹگیج ریٹ (گھروں کی خریدای/ لیز کی شرح سود) کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ عام طور پر دس سالہ امریکی بانڈز کی پیروی کرتے ہیں (اس میں بینکوں کا منافع اضافی ہوتا ہے)۔

بیسنٹ کو شاید اندازہ ہے کہ وہ ہوا میں تلوار چلا رہا ہے۔ معاشی قوتیں اس کا راستہ روک رہی ہیں۔ امریکی معاشی شرح نمو بمشکل 1.5 فیصد پر ہلکان کھڑی ہے اور افراط زر کی شرح 3.4 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شرح سود پانچ فیصد تک ہونی چاہیے۔ اور اس وقت دس سالہ بانڈ کی یہی قدر ہے۔

دس سالہ قرضہ جات کے لیے پانچ فیصد شرح سود کی مانگ کا مطلب ہے کہ منڈی اب توقع کر رہی ہے کہ اگلی ایک دہائی افراط زر تین فیصد رہے گا یا پھر اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فیڈرل ریزرو افراط زر کو دبانے کے لیے شرح سود بڑھانے پر مجبور ہو جائے گا۔ یہ خیال غلط ہے کہ مرکزی بینک معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ٹیڈ گرانٹ نے عرصہ دراز پہلے نشاندہی کی تھی کہ یہ معیشت ہے جو مرکزی بینکوں کو چلاتی ہے۔

ستم ظریفی دیکھیں کہ طویل مدت شرح سود (مارٹگیج، دس سالہ بانڈز وغیرہ) کو کم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فیڈرل ریزرو فوری شرح سود کو بڑھا دے تاکہ یہ تاثر پیدا کیا جا سکے کہ یہ افراط زر کا مقابلہ کرنے کے لیے ’سنجیدہ‘ ہے۔ اگر فیڈرل ریزرو شرح سود بڑھاتا ہے تو شرح نمو پر منفی اثر پڑے گا اور افراط زر کے حوالے سے توقعات میں بھی کمی واقع ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ کساد بازاری کا دور ہی افراط زر کو کم کر کے متعین ہدف (دو فیصد شرح سود) کو پورا کر سکتا ہے۔ جب سے یہ اعلان (اپنے بانڈز کی واپس خریداری) ہوا ہے اس کے بعد سے ریٹ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور مستقبل قریب میں فیڈرل ریزرو کو شرح سود مزید بڑھانی پڑے گی۔

افراط زر جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتی!

اگر شرح سود میں اتار چڑھاؤ کی ذمہ دار افراط زر ہے تو پھر افراط زر میں اتار چڑھاؤ کے لیے کون ذمہ دار ہے؟

اس کا ایک سادہ جواب ایران جنگ ہے۔ تیل، گیس اور تمام دیگر اشیاء جن کی پیداوار اور ترسیل پر پہلے کسی کی توجہ نہیں تھی، آبنائے ہرمز سے ان کی ترسیل جاری رہتی تھی۔ اب یہ راستہ بند ہو چکا ہے، کچھ اشیاء کی پیداوار کو دیوہیکل نقصان ہوا ہے اور دیگر کی سپلائی چینز کی از سر نو تشکیل نے اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے۔ ابھی ہمیں ان سب معاملات کا پورا اثر دیکھنا ہے۔

ڈیزل کی قیمتیں اس وقت معیشت کے ہر حصے پر شدید منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی ریفائنریوں تک رسائی ناممکن ہو چکی ہے۔ باقی ریفائنریز اپنی پوری پیداواری قوت پر چل رہی ہیں اور ان کی مانگ فلک شگاف ہو چکی ہے۔ پہلے ایک ریفائنری میں ایک بیرل تیل کی صفائی کے لیے 20-40 ڈالر لاگت آتی تھی جو اب 100 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ کئی وجوہات میں ایک یہ وجہ بھی ہے جس نے توانائی کی کمپنیوں کے منافعوں میں ہوشربا اضافہ کیا ہے۔

ستمبر میں ایک مرتبہ پھر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ بحیرہ احمر کے ذریعے سعودی تیل ترسیل کی بندش کے بعد ہوا ہے جہاں سے جنگ کے پہلے پانچ مہینوں میں 40-50 لاکھ بیرل تیل یومیہ ترسیل کیا جاتا تھا۔

یہ ہونے سے پہلے پیداواری پرائس انڈیکس، یہ نامکمل اشیاء اور سروسز کی لاگت کا پیمانہ ہے، پچھلے سال کے مقابلے میں 5.4 فیصد بڑھ چکا تھا۔ صرف اگست میں اشیاء کے حوالے سے اس میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یعنی افراط زر میں کمی کا کوئی فوری امکان نہیں ہے۔

روس پر پابندیوں کا بھی ایک کردار ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے ہر قسم کے روسی خام مال سے محروم ہو چکے ہیں۔ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ اور بھی زیادہ بڑھا دیا ہے۔

لیکن یہ صرف روایتی جنگ نہیں ہے جس نے افراط زر کو بے قابو کر رکھا ہے۔ تجارتی جنگیں کمپنیوں کو زیادہ مہنگے خام مال کے ذرائع اور اجزاء پر انحصار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں چاہے یہ ’امریکی اشیا خریدو‘، اضافی محصولات یا کم فائدہ جگہوں پر پیداوار کی منتقلی؛ کسی بھی شکل میں ہو۔

پھر AI کا بلبلہ ہے جو اجزاء کی قیمتوں میں دیوہیکل اضافہ کر رہا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ کمپیوٹر میموری چپس کی قیمتوں میں ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس سال ان کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہو گا۔ بجلی کا انفراسٹرکچر، اس کے ساتھ خود بجلی، زیادہ سے زیادہ مہنگے ہو رہے ہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ ڈیٹا سینٹرز بنانے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔

پھر فوجی اخراجات ہیں جو انفراسٹرکچر اخراجات اور دیگر سرمایہ کاری سے نبرد آزما ہیں۔ سکریپ لوہے کی پیداوار ہمیشہ سے افراط زر کا ذریعہ رہی ہے کیونکہ یہ معیشت کے پیداواری حصوں سے وسائل نکال کر ہڑپ کر لیتی ہے۔ یہ اثر اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے جب اسے پورے ممالک جیسے مشرق وسطیٰ، یوکرین یا روس وغیرہ کی معیشت کو برباد کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بورژوازی کے لیے ایک امید کی کرن ہے کہ کم از کم اجرتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ جب بھی افراط زر کی کوئی رپورٹ آتی ہے تو وہ خوشی سے ہاتھ ملتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں کہ اجرتوں میں افراط زر کے متوازی اضافہ نہیں ہو رہا۔ دیگر الفاظ میں وہ خوش ہیں کہ انہوں نے افراط زر کا سارا بوجھ قیمتوں میں اضافے اور منجمد اجرتوں کی شکل میں محنت کش طبقے کے سر ڈال دیا ہے۔

لیکن بنیادی طور پر افراط زر بڑھانے والا کوئی ایک عنصر قابل حل نہیں ہے۔ شاید ٹرمپ ایران میں شکست تسلیم کر لے یا یورپی اور زیلنسکی یوکرین میں ہار مان لیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں کہیں اور ایک نئے تصادم کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

افراط زر میں اگر کوئی چیز کمی کر سکتی ہے تو وہ ایک شدید کساد بازاری ہے جس پر اب سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔

نیا معمول

کساد بازاری کے سوال سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ شرح سود میں اضافے کا کیا مطلب ہے۔

فنانس تجزیہ کاروں نے بہت اعتماد کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ’بس پرانا معمول بحال ہو جائے گا‘۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مسئلے کی بجائے ایک صحت مند معیشت کی نشانی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت کو پیسوں کے لیے معیشت میں حقیقی سرمایہ کاری کرنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ سرمایہ کار فیصلہ کرتے ہیں کہ پیسے کس کو دینے ہیں جیسے امریکہ میں AI کی سرمایہ کاری میں قرضوں کا حصہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

کوئی شک نہیں کہ 2008-2022ء کا دورانیہ کم تر شرح سود کا تاریخی دور تھا۔ لیکن یہ اس وقت موجود دیوہیکل بحران کا ایک اظہار تھا۔ پچھلے چند سالوں میں بڑھے ہوئے افراط زر کی ایک وجہ AI کا بلبلہ ہے جسے معیشت میں سرمایہ کاری گردانا جاتا ہے۔

AIسرمایہ کاری میں مستقل مزاجی کے سوال کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو یہاں آج اور 2007ء کے درمیان ایک بنیادی فرق کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے؛ یعنی ریاستی قرضہ۔

2007ء میں امریکی فیڈرل قرضے اور GDP (کل مجموعی پیداوار) کے درمیان تناسب 63 فیصد تھا۔ اب یہ 122 فیصد ہو چکا ہے۔ یعنی امریکی معیشت کے مقابلے میں یہ تقریباً دگنا ہو چکا ہے۔ یا یہ 40 ٹریلین ڈالر ہو چکا ہے۔ 2007ء میں بجٹ خسارہ GDP کا ایک فیصد تھا۔ آج یہ 6 فیصد ہے۔

پھر کم شرح سود کے ماحول سے بلند شرح سود کی صورتحال کا مطلب ہے کہ جب پرانے بانڈز کی تجدید کا وقت آئے گا تو وہ آج کے ریٹ ایک یا دو فیصد پر بحال نہیں ہوں گے بلکہ ان کا نیا ریٹ پانچ فیصد ہو گا۔

اس وقت حکومت کا عمومی ریٹ 3.4 فیصد ہے اور ہر مہینے ہم پانچ فیصد کے اضافے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بجٹ خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے چاہے اس میں کوئی نیا عسکری اخراجات پیکج شامل نہیں ہے۔ اس وقت امریکی حکومتی بجٹ میں سود کی ادائیگی دوسرا بڑا خرچہ بن چکا ہے۔

اب سرمایہ کار اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ’شاید، شاید اب امریکی قرضوں میں سرمایہ کاری ماضی کی طرح محفوظ نہیں رہی۔ یہاں کوئی مسئلہ ہے جو سمجھ نہیں آ رہا۔ حکومت مسلسل اخراجات جاری نہیں رکھ سکتی۔ ایک وقت آنے پر امریکی حکومت بھی یہ کام جاری نہیں رکھ سکتی‘۔

جاپان کی حالت تو بہت ہی پتلی ہے کیونکہ اس کا قرضوں اور GDP کا تناسب 230 فیصد سے زیادہ ہے! اگر اس کو بہت زیادہ قرضہ واپس بھی ہونا ہے (جیسے امریکی ریاست جاپانی ریاست کی 1 ٹریلین ڈالر کی مقروض ہے)، پھر بھی شرح سود میں اضافہ حکومت کے لیے ایک شدید دردِ سر بن رہا ہے۔

یورپ میں صورتحال ابھی بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ برطانیہ میں نئے وزیراعظم اینڈی برنہام کو ایک دیوہیکل قرضہ اور بڑا خسارہ اپنے پیش رووں سے ورثے میں ملا ہے۔ اس کے ساتھ برطانوی معیشت 2008ء کے بعد سے اب تک تقریباً جمود کا شکار ہے۔ سرمایہ کاروں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت بجٹ خسارے کا کیا کرے گی۔

لز ٹرس (Liz Truss) کی مختصر حکومت کے دوران سرمایہ کاروں نے ہڑتال کرتے ہوئے حکومتی قرضوں پر زیادہ شرح سود کا مطالبہ کیا۔ بالآخر انہوں نے ٹرس کو کابینہ سمیت استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ لیبر حکومت اس صورتحال سے بچنا چاہتی ہے لیکن اس وقت وہ پل صراط پر گامزن ہے۔

فرانس کی بھی یہی صورتحال ہے۔ میکرون مشکل سے اپنی حکومت سنبھال رہا ہے یا بجٹ پاس کروا رہا ہے۔ یقینا وہ دیوہیکل کٹوتیوں والا کوئی بھی بجٹ پاس کروانے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن یہی منڈیوں کی مانگ ہے اور یہی سرمایہ دارانہ نظام کا تقاضاہے۔

ہم جیسے لوگ جن کے پاس حکومت کو قرضہ دینے کے لیے ایک دو ملین ڈالر فالتو نہیں پڑا ہوا، ان پر بانڈ منڈی سے باہر تباہ کن اثر پڑنا ہے۔ یہ ایک غیر مستحکم صورتحال ہے۔ یہ ایک مالیاتی بحران ہے اور درکار خوفناک کٹوتیاں معیشت کو برباد کر دیں گی۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف اور یورپی یونین (EU) کی یونان پر مسلط کردہ جبری کٹوتیوں کے نتیجے میں یونانی معیشت کا 25 فیصد ہوا میں تحلیل ہو گیا تھا۔

یونانی بحران کا یورپی معیشت پر اثر پڑ رہا تھا لیکن یونان ایک چھوٹی معیشت ہے۔ فرانس یا برطانیہ میں ایسا کوئی بحران ایک بالکل مختلف صورتحال ہو گی۔

ان تمام ممالک میں عوام کی فلاح و بہبود مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پارلیمانی نشست کا خاتمہ ہے۔ آپ فرانس میں سوشلسٹ پارٹی، برطانیہ میں ٹوری پارٹی یا یونان میں PASOK کو دیکھ لیں کہ کیسے طویل روایات والی ایک پارٹی حکمران طبقے کی خواہشات کی تعمیل کے دوران ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا طبقاتی جدوجہد پر کیا اثر ہو گا؛ سڑکوں پر کروڑوں افراد، عام ہڑتالیں وغیرہ۔

پیسہ چھاپو جان چھڑاؤ؟

اب لیفٹ پر کچھ چالاک لوگ بیٹھے پٹی پڑھا رہے ہیں کہ ریاست تو دیوالیہ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ وہ اپنی کرنسی خود کنٹرول کرتی ہے۔ اور کچھ بورژوا معیشت دان بھی ایک یا دوسرے طریقے سے یہی بات کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومتیں خسارہ پورا کرنے کے لیے پیسے چھاپ سکتی ہیں۔

یہ محض کوئی تھیوری نہیں ہے۔ یہ کام کرونا وبا کے دوران کیا گیا تھا۔ امریکہ میں فیڈرل ریزرو نے تقریباً پانچ ٹریلین ڈالر چھاپ کر فیڈرل حکومت کو دیا تھا۔ ٹرمپ اور بائیڈن پاگلوں کی طرح پیسہ چھاپ رہے تھے۔ لیکن اس کا اثر یہ ہوا کہ افراط زر کی شرح 1980ء کی دہائی کے بعد سب سے بلند تر سطح پر پہنچ گئی۔

بانڈ مارکیٹ اس حوالے سے بھی سوچ بچار کر رہی ہے۔ اگر یہ خسارے بے قابو ہو جاتے ہیں تو حکومت دیوالیہ نہیں ہو گی بلکہ وہ پیسہ چھاپنا شروع کر دے گی اور افراط زر بڑھ جائے گا جو دونوں میں سے کم تر نقصان ہے۔ لیکن اس کا مطلب بے قابو افراط زر ہو گا۔

ڈالر نے امریکہ کو پوری دنیا پر دیوہیکل سبقت دے رکھی ہے۔ لیکن انہوں نے دہائیوں میں مجتمع کردہ سیاسی اور معاشی خزانہ خرچنا شروع کر دیا ہے۔

مرکزی بینک اور ریاستیں بے تحاشہ امریکی بانڈ خریدتی تھیں۔ اس طرح عالمی تجارت کو فروغ ملتا تھا اور ان ریاستوں کی اپنی کرنسی ڈالر کے مقابلہ میں مضبوط نہیں ہوتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہے۔

اس رجحان کا اظہار شروع ہو چکا ہے۔ ابھی ہالینڈ نے اپنا ذخیرہ کردہ سونا امریکہ سے واپس لے لیا ہے۔ کوئی بھی سوچنے پر درست ہو گا کہ انہیں کیوں لگتا ہے لندن زیادہ محفوظ ہے لیکن واضح طور پر انہیں اپنے سونے کے حوالے سے امریکی ریاست پر مزید اعتبار نہیں رہا ہے۔ کسی بحران یا جنگ میں کیا امریکہ ہالینڈ کا سونا ضبط کر کے خود استعمال کرے گا؟ یہی کام روس، ایران اور وینزویلا کے ساتھ ہوا ہے۔ پھر یہی معاملہ ہالینڈ کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتا؟

اسی لیے BRICS ممالک بھی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں کہ ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے ڈالر پر انحصار کم سے کم ہوتا جائے۔ تاحال ان کے پاس کوئی موافق متبادل نہیں ہے لیکن وہ مسلسل نئے طریقے دریافت کر رہے ہیں کہ انحصار کم سے کم ہوتا جائے۔

یہ تمام اقدامات اور صورتحال ایک طاقتور ڈالر کو استعمال کرتے ہوئے ناقابل برداشت ریاستی اخراجات کا مسئلہ سلجھانے کی امریکی کوششوں کو مسلسل کمزور کرر ہے ہیں۔

شرح سود میں اضافہ محنت کش طبقے پر دیوہیکل اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مارٹگیج، ان کے گاڑی کے قرضے، تعلیمی قرضے اور وہ تمام قرضے جن کے بوجھ تلے ہم دب جاتے ہیں؛ سب کچھ بڑھ جاتا ہے۔

یہاں ایک نکتہ اہم ہے کہ کچھ تجزیہ کار پریشان ہیں کہ فیڈرل جب شرح سود میں اضافہ کرے گا تو نتیجہ کیا ہو گا۔ ان کا استدلال ہے کہ شرح سود میں اضافہ صارفین پر اثر انداز تو ہو گا لیکن AI میں سرمایہ کاری پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اس کا تیل کی قیمتوں پر بھی کوئی خاص اثر نہیں ہو گا۔ لیکن یہ تیل کی قیمت (اسے جنگ پڑھا جائے) اور AI میں سرمایہ کاری ہی ہے جو مسلسل افراط زر میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ، ان کے مطابق ’صارف‘، یعنی محنت کشوں کو بہت بڑی تعداد میں اپنی بچت کو خرچنا پڑے گا تاکہ بڑھتی قیمتوں میں اپنے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ سادہ الفاظ میں شرح سود میں اضافہ ان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔

’مایوس کن‘ خوشحالی

پوری دنیا میں موجود محنت کش موجودہ صورتحال پر سوچ بچار کرتے ہوں گے۔ جب وہ سٹاک منڈی کا عروج، اس میں تاریخی منافع خوری اور پھر اپنے حالات دیکھتے ہیں تو کچھ گڑبڑ محسوس ہوتی ہے۔

ان میں سے سٹاک منڈی کا ایک گُرو ایڈ یاردینی (Ed Yardeni) نئے جملے کسنے کا بہت شوقین ہے۔ اس نے اعلان کر دیا ہے کہ سٹاک منڈی میں یہ خوف نہیں ہے کہ کہیں موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے (یعنی سٹاک منڈی غیرمنطقی نہیں ہے) بلکہ اصل خوف ’شاندار منافع خوری‘ ہے۔

اس کا ایک مقالہ ہے جسے اس نے ’ہنگامہ خیز بیس کی دہائی‘ نام دے رکھا ہے۔ یہ 1920ء کی دہائی کا حوالہ ہے جب امریکی معیشت حیران کن طور پر پھیل رہی تھی اور اس کے متوازی منافع خوری عروج پر تھی۔ یہ دور جوش اور سٹہ بازی کے پاگل پن کا عروج تھا۔ اس دور کی شہرت یہ ہے کہ اس کا اختتام 1929ء کے انہدام میں ہوا، جس کا ایڈ کوئی حوالہ نہیں دیتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اگلے تین سے چار سالوں میں جو بھی ہو، ابھی تو پیسے کمانے کے دن ہیں!

سٹاک منڈی اس وقت سرشاری سے مرے جا رہی ہے کیونکہ پچھلے ایک یا دو سالوں میں دیوہیکل تاریخی منافع خوری ہوئی ہے۔ ڈیل (Dell) اور براڈکام (Broadcom) کمپنیوں نے اپنے منافعوں میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔ عمومی طور پر توانائی کمپنیوں (تیل، بجلی) کے منافعوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے جبکہ مواصلاتی سیکٹر (انٹرنیٹ، ٹیلی کام، میڈیا) اور کنزیومر ڈسکریشنری (گاڑیاں، کپڑے، فاسٹ فوڈ) کے منافعوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ یقینا کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کے لیے یہ ’شاندار منافع خوری‘ ہے۔

ہم اپنے آپ سے سوال کر سکتے ہیں کہ یہ منافع خوری اتنی شاندار کیوں ہے جبکہ میرے بینک اکاؤنٹ میں ہر مہینے پیسے مسلسل کم ہو رہے ہیں؟

منافعوں میں دیوہیکل اضافے کی تصویر کے دو رخ ہیں، ایک یہ کہ AI میں سرمایہ کاری نے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور کمپنیاں عام دنوں کے مقابلے میں منہ مانگی قیمتیں وصول کر رہی ہیں (الیکٹرانک چپس کمپنیاں، توانائی کی کمپنیاں وغیرہ)۔ لیکن اس سے یہ حقیقت واضح نہیں ہوتی کہ ان منافعوں میں اضافے کا آغاز چند سال پہلے شروع ہو گیا تھا اور اب یہ AI کے علاوہ کمپنیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

درحقیقت بورژوازی دہائیوں سے منافعوں کو دانستہ طور پر اس طریقہ کار سے بڑھا رہی ہے جو اس کا خاصہ ہے یعنی محنت کش طبقے کا خون چوس کر۔ محنت کشوں کو طویل اوقات کار، حقیقی اجرتوں میں کمی (کیونکہ اجرتیں افراط زر سے متوازی نہیں ہیں) اور کام کی شدت میں اضافے کا سامنا ہے۔ ان سب نے محنت کش طبقے کے استحصال کو بے تحاشہ بڑھا دیا ہے اور اس کے متوازی سرمایہ داروں کے منافعے بھی بڑھے ہیں۔ ریاست بھی کمپنیوں اور امراء پر ٹیکس چھوٹ مراعات اور ہر قسم کی سبسڈیوں میں اضافہ نچھاور کر رہی ہے۔

یہ کوئی حادثہ نہیں کہ AI بلبلے سے پہلے ہی منافعے فلک شگاف ہو چکے تھے۔ یہ سب سرمائے کے ارتکاز کی ایک دانستہ پالیسی تھی کہ امیروں کو مزید امیر بنایا جائے تاکہ وہ اس دولت کا کچھ حصہ واپس معیشت میں سرمایہ کریں۔

معیشت دانوں کے مطابق ان سارے اقدامات کے نتیجے میں ایک ’K شکل کی معیشت‘ وجود میں آ چکی ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جس میں سماج کا 10 فیصد عیاشی کی زندگی یا بہت اچھی زندگی گزار رہا ہے اور 90 فیصد اپنے اخراجات پورے کرنے کی تگ و دو میں خرچ ہو رہے ہیں۔ لیکن بالآخر ایک حد ہی ہے کہ سماج کا 10 فیصد کتنی کھپت جذب کر سکتا ہے۔

یہ جوش معیشت کی حقیقت پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ درحقیقت معیشت کی بنیادیں لرز رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ محنت کشوں کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہیں کہ وہ اپنی پیدا کردہ اشیاء خرید سکے۔

کیا AI ہمیں بچا لے گا؟

AIمیں تیزی نے حکمران طبقے کی ایک پرت میں بہت زیادہ امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ وہ سرمایہ کاری کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خوشحالی کا آغاز ہے۔ اگر پچھلے دور سے موازنہ کیا جائے تو آج سب اچھا ہے۔

چین کے مقابلے میں امریکہ نے دہائیوں منجمد سرمائے (مشینری، فیکٹریاں، انفراسٹرکچر وغیرہ) میں بہت قلیل یا نہ ہونے کے برابر سرمایہ کاری کی ہے۔ اب نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے ساتھ یہ سرمایہ بڑھ رہا ہے اور بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اس وقت امریکی معیشت کا تقریباً سارا انحصار ان سرمایہ کاریوں پر ہے۔ پہلے ہی پچھلے ایک سال میں منجمد سرمائے میں ان سرمایہ کاریوں کا حصہ 10 فیصد (GDP کا دو فیصد) رہا ہے لیکن اس میں سالانہ 30 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک ایسا ملک جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ سرمایہ کاری اور سٹاک ایکسچینج پر سٹے بازی میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، وہاں یہ صورتحال بالکل ایک نئی پرامید کیفیت کو جنم دیتی ہے۔ اس نے دیوہیکل مسائل میں گھری معیشت کے تمام عیبوں کو فی الحال چھپا لیا ہے۔

لیکن سرمایہ کاری زائد پیداوار کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی، خاص طور پر جب اس کے ساتھ حقیقی اجرتوں پر بھی تابڑ توڑ حملے جاری ہوں۔ اگر AI نے پیداوار میں بہتری کے وعدے کو پورا کرنا ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ اس کے قوی امکانات ہیں، اس کا مطلب ہو گا کہ کم سے کم محنت کش اور بھی زیادہ اشیاء (یا سروسز) پیدا کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بیروزگاری کم نہیں بلکہ زیادہ ہو گی جس کے نتیجے میں جبری برطرفیوں کا ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔

لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ دیوہیکل سرمایہ کاری جاری رہ سکتی ہے۔ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (مرکزی بینکوں کا مرکزی بینک) نے AI میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے۔ وہ درست طور پر قائل نہیں ہیں کہ AI میں کھربوں ڈالر کی اس سرمایہ کاری کا کوئی اچھا نتیجہ نکلے گا۔

اس وقت کئی مراحل پر خطرات کا سامنا ہے۔ اینتھروپک اور OpenAI جیسی AI ماڈل بنانے والی کمپنیاں منافع حاصل نہیں کر پا رہیں۔ پھر ڈیٹا سینٹر مالکان ہیں جو اپنی ’کمپیوٹ‘ (کمپیوٹر کیلکولیشن پاور) بیچ کر بے تحاشہ منافع بٹور رہے ہیں جن میں زیادہ تر اینتھروپک اور OpenAI کو ہی بیچا جا رہا ہے۔ صورتحال اور بھی گھمبیر ہے کیونکہ یہی ڈیٹا سینٹر مالکان ان دونوں کمپنیوں میں سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں۔ یعنی یہ دونوں کمپنیاں کوئی منافع کمائے بغیر بھی اپنے تمام دیوہیکل اخراجات پورے کر رہی ہیں۔

پھر ہارڈویئر بنانے والی کمپنیاں ہیں جیسے NVIDIA، براڈکام، SK Hynix، سام سنگ وغیرہ۔ اس وقت یہ حیران کن تاریخی منافعوں کی لوٹ کھسوٹ کر رہی ہیں، وہ اپنی اشیاء کی منہ بولی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ پھر یہ اپنے صارفین اور صارفین کے صارفین میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہو رہا ہے کہ یہ پورا قلعہ ہی مٹی کی ایک ڈھیری پر تعمیر ہے جو کسی بھی وقت دھڑام سے گر سکتا ہے۔

یہ قلعہ جھٹکوں کو بالکل برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ چند ایک کمپنیاں ہیں جن کا منافع کمانے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور وہ اپنے سپلائرز کے ساتھ اپنی کمائی سے کئی گنا زیادہ مالیت کی کھپت کے معاہدے کر چکی ہیں۔ جب یہ ساری گنجلک گتھی سلجھے گی تو پورا امریکہ اور مشرقی ایشیا دہل جائے گا۔

بحران پک کر تیار ہو رہا ہے

معیشت ایک اندھی کھائی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ عالمی معیشت کو تین جان لیوا خطرات لاحق ہیں۔

افراط زر، جس کی کئی وجوہات ہیں لیکن خاص طور پر سامراجی جنگیں اس کو بہت زیادہ ہوا دے رہی ہیں اور ان جنگوں میں مزید اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔

ریاستی قرضہ اور خسارے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گھمبیر ہو رہے ہیں۔ عالمی معیشت مکمل طور پر ریاستی قرضوں کے ذریعے مالی اعانت کی نشئی ہو چکی ہے۔ خاص طور پر امریکہ میں جبری کٹوتیوں کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔ لیکن شرح سود میں اضافہ کے ساتھ ان کے پاس کوئی اور معقول راستہ نہیں بچے گا۔

AIبلبلہ، جس نے عالمی معیشت کے ایک بڑے حصے کو سہارا دے رکھا ہے لیکن یہ کئی حوالوں سے ٹک ٹک کرتا ایک ٹائم بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

معیشت کب منہدم ہو گی؟ ایسی پیش گوئی کرنے کے لیے آپ کو جوتشی بننا پڑے گا! ہم پہلے سے یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ وہ کیا چنگاری ہو گی جو اس بارود کی ڈھیری کو آگ لگائے گی۔ بے تحاشہ مواد پہلے ہی پھٹنے کو تیار پڑا ہے۔

ایک مایوس کن بڑھوتری سے، جس سے محنت کشوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا، اب سرمایہ داری ایک انہدام کی جانب بھرپور رفتار سے گامزن ہے۔ یقینا اس کا عالمی معیشت اور محنت کش طبقے پر تباہ کن اثر پڑے گا۔ اس کا آغاز کہیں سے بھی ہو، یہ پرانے عالمی نظام کی دھجیاں اڑانے کے عمل کو تیز تر کر دے گا۔

ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہڑتالوں، جبری برطرفیوں، جنگوں اور لڑائیوں کی موجودگی میں مستقبل ایک ناگزیر طبقاتی جنگ ہے۔