|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان |

انقلابی کمیونسٹ پارٹی گوادر کی تحصیل جیوانی کے علاقے کنٹانی ہور میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی فائرنگ سے مزدوروں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کے واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں متعدد محنت کش ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں، جن میں دور دراز علاقوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے غریب محنت کش بھی شامل ہیں۔
کنٹانی ہور ایرانی سرحد کے قریب واقع ایک ساحلی علاقہ ہے جہاں برسوں سے ہزاروں خاندان ایرانی پٹرول، ڈیزل اور اشیائے خورد و نوش کے محدود سرحدی کاروبار سے اپنی زندگیاں چلا رہے ہیں۔
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بیروزگاری، صنعتوں کی عدم موجودگی اور ریاستی معاشی پالیسیوں نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو اس غیر رسمی معیشت پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزدور یہاں صرف دو وقت کی روٹی کمانے آتے ہیں، لیکن ریاست انہیں روزگار دینے کی بجائے گولیوں سے جواب دے رہی ہے۔
واقعے کے عینی شاہدین اور زخمی مزدوروں کے ساتھیوں کے مطابق کوسٹ گارڈز اہلکار روزانہ کی بنیاد پر مزدوروں کی جھونپڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذرِ آتش کرتے رہے ہیں۔ آج بھی مزدور گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے واپس اپنی جھونپڑیوں کی جانب آئے تو کوسٹ گارڈز نے دور سے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ یہ عمل نہ صرف ریاستی بربریت کی بدترین مثال ہے بلکہ محنت کش عوام کے خلاف کھلی دہشتگردی بھی ہے۔
ریاست ساحلی پٹی میں حالیہ عسکری واقعات اور سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور حالیہ حملوں کو جواز بنا کر نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ محنت کش عوام کو اجتماعی سزا دینا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر ریاست عوام کو باعزت روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو پھر اسے یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ بھوک اور بیروزگاری سے مجبور مزدوروں پر گولیاں برسائے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی سمجھتی ہے کہ بلوچستان کے محنت کشوں، ماہی گیروں، نوجوانوں اور بیروزگار عوام کو ریاستی جبر، چیک پوسٹوں کی تذلیل، سرحدی پابندیوں اور معاشی تباہی کا مسلسل سامنا ہے۔ دوسری طرف حکمران طبقہ ”ترقی“ اور ”خوشحالی“ کے کھوکھلے نعرے لگاتا ہے جبکہ حقیقت میں عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔
ہم پورے پاکستان کے محنت کشوں، طلبہ، ترقی پسند تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کنٹانی ہور کے مزدوروں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں اور اس ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کریں۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی درج ذیل مطالبات پیش کرتی ہے:
کنٹانی ہور فائرنگ واقعے میں ملوث تمام اہلکاروں کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے شفاف تحقیقات کی جائیں۔
جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کو مکمل معاوضہ اور زخمیوں کو فوری و مفت علاج فراہم کیا جائے۔
سرحدی علاقوں میں محنت کش عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، ہراسانی اور تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔
بارڈر ٹریڈ سے منسلک تمام محنت کشوں، ڈرائیوروں اور مزدوروں کی فوری رجسٹریشن کی جائے تاکہ انہیں قانونی تحفظ، روزگار کے حقوق اور ریاستی جبر سے تحفظ حاصل ہو۔ اگر ریاست بارڈر ٹریڈ کو مسئلہ قرار دیتی ہے تو پھر ان تمام محنت کش خاندانوں کے لیے متبادل، باعزت اور مستقل روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، تاکہ عوام کو بھوک، بیروزگاری اور جان لیوا حالات میں دھکیلا نہ جائے۔
بلوچستان سمیت پورے ملک کے بیروزگار نوجوانوں اور محنت کش عوام کو باعزت، مستقل اور محفوظ روزگار فراہم کیا جائے۔
عوام کے روزگار کے ذرائع بند کرنے کی بجائے تعلیم، صحت، صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہم ہر قسم کے ریاستی جبر، طبقاتی استحصال اور محنت کش دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کنٹانی ہور کے مزدور اکیلے نہیں ہیں، پورے ملک کا محنت کش طبقہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔