گلگت بلتستان: ریاستی جبر تلے عام انتخابات کا ناٹک؛ عوامی نمائندے دو ماہ سے قید

گلگت بلتستان میں 7 جون کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے اور بظاہر عوام کے نمائندے منتخب کرنے کے عمل کا آغاز کیا گیا ہے لیکن عوام جانتے ہیں کہ اس عمل کی حقیقت کیا ہے۔ اس وقت چئیر مین احسان علی ایڈووکیٹ سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کی دیگر منتخب قیادت کو دہشت گردی کے ایک جھوٹے مقدمے میں پابند سلاسل کیا گیا ہے اور ان پر حراست کے دوران بدترین مظالم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر قیادت کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ پورے گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا پر بھی تنقید ممنوع قرار دے دی گئی ہے اور جو بھی اس بدترین ریاستی جبر پر تنقید کرتا ہے وہ خود اس جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس دوران گلگت بلتستان کے عوام پر بد ترین معاشی جبر بھی مسلط کیا گیا ہے۔ ایک طرف افراطِ زر اور تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے دوسرے گلگت بلتستان کے عوام پر نئے ٹیکسوں کا جبر بھی مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ چھوٹے کاروبار سے لے کر بڑے تاجروں تک ہر شخص پریشان ہے اور اس کی آمدن مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے اور دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل ہو چکا ہے جبکہ حکمران عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس صورتحال میں گلگت بلتستان کا قومی جبر بھی نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور یہ پورا خطہ ایک فوجی چھاؤنی بن چکا ہے جس میں اپنے حقوق کی بات کرنا بھی سخت ترین جرم بن چکا ہے۔ لینڈ ریفارمز بل کے ذریعے زمینوں اور معدنی وسائل پر قبضے سمیت دیگر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کے بنیادی حقوق ان سے چھین لیے گئے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ان امور پر اپنا واضح مؤقف پیش نہیں کر رہی اور تمام پارٹیاں حکمران طبقے کی آلہ کار بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ان پارٹیوں کو رد کر چکے ہیں اور آئندہ بھی انہیں ان پارٹیوں سے کوئی امید نہیں۔ اسی لیے گزشتہ سالوں میں عوام کی بھاری اکثریت نے عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی اور لاکھوں کی تعداد میں متحرک ہو کر اپنے لیے آٹے کی سبسڈی بحال کروائی تھی اور دیگر بہت سے حقوق بھی حاصل کیے تھے۔ اس سے واضح ہو گیا تھا کہ عوام اپنے حقوق پارلیمنٹ کے ذریعے اور ان پارٹیوں کی قیادت میں نہیں بلکہ سڑک پر احتجاج کے ذریعے اور عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔

اگلے دن علی الصبح پولیس نے دھرنے پر دھاوا بولا اور تین مظاہرین جن کا تعلق انقلابی کمیونسٹ پارٹی سے تھا، ان کو گرفتار کر لیا جبکہ کیمپ کو زبردستی اکھاڑ دیا گیا۔ اس کے علاوہ مظاہرین پر دہشت گردی کا مقدمہ بھی قائم کر دیا گیا۔ گرفتار مظاہرین پر دوران حراست بد ترین جبر کیا گیا گوکہ عوامی دباؤ کے تحت انہیں چند دن بعد رہا کرنا پڑا۔ لیکن یہ تمام صورتحال اس خطے میں موجود جبر کو واضح کرتی ہے جس میں انتخابات کا ناٹک رچایا جا رہا ہے۔ ان انتخابات کا مقصد صرف عوام کو یہ دھوکہ دینا ہے کہ ان کے اپنے نمائندے ان پر حکمرانی کرتے ہیں جبکہ واضح ہے کہ حقیقی عوامی نمائندوں کو سیاست تو کیا ایک معمولی سا احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرنے پرلوگوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ایسے میں عوام کے پاس ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ وہ متحد ہو کر اس جبر کیخلاف آواز بلند کریں اور احتجاجی تحریک کو منظم کرتے ہوئے اپنے حقیقی قائدین کو رہا کروائیں اور عوامی حقوق کی جدوجہد کو تیز کرتے ہوئے روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم کی سہولیات کی مفت فراہمی کو یقینی بنائیں اور اس خطے سے قومی جبر اور وسائل کی لوٹ مار کا خاتمہ کریں۔

گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں پر بد ترین ریاستی جبرکیخلاف پاکستان سمیت پوری دنیا میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے تحت احتجاجی تحریک جاری ہے اور 4 جون کو ایک دفعہ پھر انٹرنیشنل ڈے آف ایکشن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پہلے بھی دنیا کے درجنوں ممالک کے سینکڑوں شہروں میں پاکستانی سفارتخانوں کے باہرکئی دفعہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے جبکہ مختلف ممالک کے مزدور لیڈروں اور بائیں بازو کے سیاستدانوں کی جانب سے اظہار یکجہتی کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور pakistansolidarity.orgکے نام سے ویب سائٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے معروف سوشلسٹ راہنما جیرمی کاربن سمیت متعدد سیاستدان اظہار یکجہتی کر چکے ہیں جس کی فہرست اس ویب سائٹ پر موجود ہے۔ 

اس کے علاوہ یوم مئی پر پاکستان کے بیس سے زیادہ شہروں میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے جہاں مزدوروں کے حقوق کی آواز بلند کی گئی وہاں احسان علی ایڈووکیٹ اور دیگر راہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور اس حوالے سے خصوصی بینر آویزاں کیے گئے اور تقاریر بھی کی گئیں۔

کراچی کے لانڈھی انڈسٹریل ایریا سے لے کر پشاور کی کارخانو مارکیٹ تک بہت سے شہروں میں مظاہرین نے اس ریاستی جبر کی مذمت کی۔ اس کے علاوہ ”آزاد“ کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔

یہ کمیٹی 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کر رہی ہے اور اس کی تیاری کے لیے مختلف شہروں میں جلسے جلوس منظم کیے جا رہے ہیں۔ راولاکوٹ میں 9مئی کو یوم تاسیس کے ایک اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر سردار عمر نذیر نے احسان علی ایڈووکیٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا اور ریاستی جبر کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر ان قائدین کی رہائی کے لیے قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

ہم اپنے قارئین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ریاستی جبر کیخلاف اپنے علاقے میں احتجاج منظم کریں اور عوامی قائدین کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ قائدین کی رہائی تک یہ احتجاجی کمپین جاری رہے گی۔