گلگت بلتستان: محنت کشوں کے عالمی دن یومِ مئی کے جلسے میں منظور کی جانے والی قراردادیں

|رپورٹ: محنت کش یونین، گلگت بلتستان|

گلگت بلتستان میں محنت کشوں کا عالمی دن ہم ایسے وقت میں منایا گیا جب گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے محنت کش بدترین معاشی بدحالی اور غربت کا شکار ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی نے محنت کشوں کا جینا ہی دوبھر کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان میں محنت کشوں کے لیے روزگار کے کوئی ذرائع موجود نہیں ہیں۔ تعلیم کو مہنگا کر کے اسے محنت کشوں کے بچوں کے لیے ناممکن بنایا گیا ہے۔ علاج معالجہ کی سہولت بھی نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا علاج کا حسول بھی محنت کش طبقے کے لیے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان کے اکثر محنت کش اپنا روزگار خود حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن 20 سے 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے غریب محنت کشوں کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں محنت کش طبقے سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے یونین بنانے اور اپنے مطالبات کے لیے پُر امن احتجاج کرنے کا جمہوری حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ دوسری طرف حکمرانوں کی عیاشیاں اور ان کی دولت میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ گلگت شہر میں محنت کشوں کا یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ:

1۔ گلگت بلتستان میں لاکھوں بے روزگار محنت کشوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے تینوں ڈویژنوں میں فوری طور پر انڈسٹریل زون بنا کر صنعتیں اور کارخانے لگائے جائیں۔

2۔ ایل پی جی گیس کی بڑھتی قیمتوں نے غریب محنت کشوں کے گھروں کا چولہا ٹھنڈا کر دیا ہے اس لیے جی بی میں ایل پی جی گیس پر سبسیڈی دے کر 11 کلو سلنڈر کی قیمت 3 ہزار روپے مقرر کی جائے۔

3۔ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کر کے سب کے لیے مفت و معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔

4۔ گلگت بلتستان میں بجلی کے محکمے کی نجکاری کا خاتمہ کیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر دریاؤں پر چھوٹے ڈیم تعمیر کر کے 24 گھنٹے سستی بجلی فراہم کی جائے۔

5۔ محنت کشوں اور مختلف محکموں کے چھوٹے ملازمین کو اپنی یونین بنانے اور اپنے مطالبات کے حق می ہڑتال کرنے اور پُر امن احتجاج کرنے کا جمہوری حق دیا جائے۔

6۔ گلگت بلتستان میں ورک شاپوں اور دیگر ٹیکنیکل اداروں کے محنت کش گزشتہ چھ ماہ سے بجلی کی نایابی کی وجہ سے مکمل طور پر بے روز گار ہو چکے ہیں۔ ان کے گھروں کا چولہا ٹھنڈا ہو چکا ہے، لہٰذا حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہزاروں محنت کش گھرانوں کو فی کس پانچ پانچ لاکھ روپے فوری طور پر امداد دے۔

7۔ گلگت میں احسان علی ایڈووکیٹ جو کہ محنت کشوں کے رہنماء ہیں، سمیت تمام گرفتار سیاسی کارکنوں کو فوراً رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کو ختم کیا جائے۔

8۔ گلگت بلتستان میں سیاسی آزادیاں بحال کی جائیں۔

9۔ حکومت کی طرف سے کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے پر عمل درآمد کرایا جائے۔

10۔ گلگت بلتستان میں فوری لیبر کورٹ کا قیام عمل لایا جائے تاکہ سستی اور فوری انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

11۔ تمام کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے لیے ایکٹ پاس ہونے کے باوجود کئی سالوں سے انہیں مستقل نہیں کیا جا رہا ہے جو کہ محنت کشوں کا بدترین استحصال ہے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر مستقل کیا جائے۔