
حکمران طبقے نے عوام پر مسلط کردہ معاشی جنگ انتہا پر لے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور عوام کے معاشی قتل عام کے لیے تمام تیاری مکمل کر لی ہے۔ جس طرح امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر ایک عسکری جنگ مسلط کی یا اس سے پہلے اسرائیل نے غزہ کو ملیا میٹ کر دیا اور اب لبنان کے ساتھ وہی کچھ کر رہا ہے، بالکل اسی طرح اس ملک کے حکمران آئی ایم ایف کے ساتھ مل کرعوم پر ایک بد ترین معاشی جنگ مسلط کر چکے ہیں۔ اس جنگ میں حکمرانوں کے پاس اس وقت سب سے کار آمد ہتھیار کوئی کروز میزائیل یا ڈرون نہیں بلکہ پیٹرولیم لیوی ہے جس کے ذریعے عوام کی وسیع ترین پرتوں پر مسلسل معاشی بمباری کی جا رہی ہے۔
اس وقت ہر ایک لٹر پٹرول پر 117 روپے سے زائد صرف اس ٹیکس کی مد میں لیا جا رہا ہے۔ یعنی تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ایران جنگ یا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے باعث نہیں ہو رہا بلکہ حکمران طبقہ اپنے نظام کے خسارے پورے کرنے کے لیے ایران جنگ کا بہانہ بنا رہا ہے اور اس کی آڑ میں عوا م پر ٹیکسوں کی بمباری کی جا رہی ہے۔ اس وقت حکمران طبقہ اپنا اور آئی ایم ایف کا پیٹ پالنے کے لیے اس ہتھیار کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں اس مد سے آمدن میں اضافے کی شرح ایک ہزار فیصد ہے۔ 2015ء میں پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے ایک ارب ڈالر اکٹھے کیے تھے جبکہ 2025ء کے مالی سال میں یہ رقم 3.3 ارب ڈالر ہو گئی تھی۔ موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں یہ رقم 4.3 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔
اس دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی خاطر خواہ کمی ہو چکی ہے۔ آئندہ مالی سال میں اس مد کے ذریعے زیادہ بڑے ٹارگٹ لیے گئے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں حکومت سرمایہ داروں، بینکاروں اور تاجروں سے براہ راست ٹیکس اکٹھا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے یا پھر اگر حقیقت بیان کی جائے تو ان سے لینا ہی نہیں چاہتی بلکہ ان کو تحفظ دینا چاہتی ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عوام کا خون نچوڑنے کے لیے آخری حد تک جا چکی ہے۔ بجلی کے بلوں کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہے اور عوام سے بجلی کے بلوں میں ہوشربا ٹیکس وصول کر کے آئی پی پیز کو ہر سال ہزاروں ارب روپے دیے جاتے ہیں جن میں سے اکثر بجلی بنائے بغیر ہی یہ رقم وصول کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ملٹی نیشنل کمپنیاں، بینک، انشورنس کمپنیاں اور دیگر سرمایہ دار اپنے منافعوں اور دولت پر نہ ہونے کے برابر ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے قرضوں اور سود کی ادائیگی سے لے کر جرنیلوں، ججوں، سیاستدانوں کی لوٹ مار کے لیے تمام رقم عوام پر بالواسطہ ٹیکس لگا کر پوری کی جاتی ہے۔ عوام کے لیے صحت اور تعلیم یا دیگر ضروریات کے لیے درکار رقم کا حجم کم ہوتے ہوئے تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اب تمام تر رقم کا تین چوتھائی سے بھی زیادہ قرضوں، سود اور دفاعی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ نئے بجٹ میں مزید معاشی بمباری کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ افراطِ زر پہلے ہی 14 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
عوام اس معاشی جنگ کے تابڑ توڑ حملوں سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ خود کشیوں کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور آئے روز ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جس میں مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ والدین بچوں کو قتل کر کے خود کو بھی ختم کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ علاج اور مناسب غذا کی عدم فراہمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ شدید گرمی اور سردی کی لہر میں ان ہلاکتوں کی تعداد کہیں بڑھ جاتی ہے جبکہ سیلاب اور قدرتی آفات کے دوران ناقص منصوبہ بندی اور بڑے جاگیرداروں کو بچانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باعث بدترین جانی اور مالی نقصان بھی ایک روٹین بن چکا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں محنت کش عوام کو بھی اس طبقاتی جنگ میں منظم ہونا ہوگا اور جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے ہیں اسی طرح یہاں حکمران طبقے کا نظام جام کرنے کی منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔ درحقیقت اس نظام کو محنت کش طبقہ ہی چلاتا ہے اور مزدوروں اور کسانوں کی محنت سے ہی یہاں تمام تر دولت پیدا ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً چار سو ارب ڈالر پیدا ہوتے ہیں جبکہ بلیک اکانومی کو بھی شامل کیا جائے تو اس سے دو یا تین گنا زیادہ دولت یہاں پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ تمام تر دولت سرمایہ دار طبقے اور سامراجی طاقتوں کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور دولت پیدا کرنے والے بھوک، بیماری اور ذلت میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ اس ملک کا وزیر داخلہ خود کہہ چکا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں ایک سوا رب ڈالر اس ملک سے غیر قانونی طور پر باہر گیا ہے۔ یعنی عالمی مالیاتی اداروں کو دی جانے والی رقم اور دیگر قانونی ذرائع سے باہر جانے والے سرمائے کے علاوہ بھی ایسا بہت سا سرمایہ ہے جو تیزی سے ملک سے باہر جا رہا ہے۔ موجودہ بحران میں یہ رفتار کئی گنا تیز ہوئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس ملک کے حکمران محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت تیزی سے لوٹ کر باہر محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔
درحقیقت انہیں کوئی روک سکتا ہے تو وہ اس ملک کے مزدور اور کسان ہیں۔ اگر اس ملک میں ایک ملک گیر عام ہڑتال کے ذریعے ریلوے، بندرگاہوں، بجلی اور فون کا نظام جام کر دیا جائے تو پورا نظام رک جائے گا اور حکمران طبقہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یہ عام ہڑتال آبنائے ہرمز کی بندش سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گی اور اس کے بعد محنت کش طبقہ صرف معاشی مطالبات ہی منوانے کی حیثیت میں نہیں ہو گا بلکہ سیاسی اقتدار بھی اپنے نمائندوں کو منتقل کر سکے گا اور اس لوٹ مار پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل خاتمہ کر سکے گا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند ہی نہیں کیا بلکہ اب اس اہم تجارتی گزر گاہ کو اپنے مکمل کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ملک گیر عام ہڑتال کے بعد محنت کش طبقہ بھی اس ملک کی معیشت کے تمام کلیدی شعبوں کو اپنے کنٹرول میں لے گا اور ان کو سرمایہ دارانہ ملکیت سے نکال کر مزدور طبقے کے جمہوری کنٹرول میں دے گا۔ اسی طرح ملک میں موجودہ سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے تحت قائم پارلیمنٹ، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کا خاتمہ کرتے ہوئے مزدور ریاست کی بنیاد رکھے گا جس میں مزدوروں اور کسانوں کی منتخب کمیٹیاں جمہوری طور پر فیصلے کریں گی اور ہر شخص کو روٹی، کپڑا اور مکان ریاست کی جانب سے دیا جائے گا اور ہر ایک کو علاج اور تعلیم کی بہترین سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس ملک میں پیدا ہونے والی تمام دولت آئی ایم ایف اور مقامی سرمایہ داروں کی تجوریوں میں جانے کی بجائے مزدور ریاست کے پاس جائے گی جہاں سے اسے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ اس جنگ میں دنیا بھر کے مزدور بھی یہاں کے مزدور طبقے کی حمایت کریں گے اور سامراجی طاقتوں کے حملوں کا جواب دیں گے۔
لیکن یہ تمام اقدامات کرنے کے لیے محنت کش طبقے کو ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جس کی بنیاد انقلابی نظریات پر رکھی گئی ہو۔ اس طبقاتی جنگ میں کامیابی کے لیے درست نظریات فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہیں اور انہی نظریات کے تحت اس جنگ کا درست لائحہ عمل اور طریقہ کار بنایا جا سکتا ہے تاکہ مزدور طبقہ سرمایہ دار طبقے کو شکست دیتے ہوئے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرے۔ سرمایہ دار طبقے کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ میں مزدور طبقے کا سب سے کار آمد ہتھیار کمیونسٹ نظریات ہیں اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی انہیں نظریات کی ملک بھر میں ترویج کر رہی ہے اور اس کے گرد اپنی قوتیں منظم کر رہی ہے۔ اگر آپ بھی اس طبقاتی جنگ میں مزدور طبقے کی فوج کے نظریاتی سپاہی بننا چاہتے ہیں تو آج ہی ہم سے رابطہ کریں اور اس پارٹی کے ممبر بنیں۔
مزدور طبقہ زندہ باد! سرمایہ داری مردہ باد!