
”آزاد“ کشمیر کی عوامی تحریک نے اس خطے میں تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ اس علاقے کے رہنے والے لاکھوں لوگوں نے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہر مشکل اور ہر جبر سے ٹکر اکر دکھا دیا ہے کہ عوام اگر تحریک میں داخل ہوں تو پھر کسی بھی قسم کا ریاستی جبر ان کا رستہ نہیں روک سکتا۔ اس عوامی تحریک کوخون میں ڈبونے کے لیے ریاست کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن لاکھوں لوگوں نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ہر مرحلے پر جبر کا مقابلہ کیا۔ اس تحریک کی قیادت ابھی تک تذبذب کا شکار ہے اور دھرنوں کے ذریعے ہی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب حکمران طبقہ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور مصالحت سے مسلسل انکار کر رہا ہے اور بزور طاقت اس تحریک کو پوری قوت سے کچلنے کے عزائم ظاہر کر چکا ہے۔ایسے میں تحریک میں شامل لاکھوں عوام تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کی اجتماعی کوشش انہیں کامیابی سے بھی ہمکنار کر سکتی ہے لیکن ان کی قیادت کے پاس ابھی تک ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں جو تحریک کو اس جانب لے جا سکے۔
اس تحریک میں اس پورے علاقے کی خواتین کی بڑی تعداد نے اپنی جرات اور دلیری سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں خواتین ہر شہر اور ضلع میں سڑکوں پر آئی ہیں اور جلسوں میں بھرپور شرکت کر کے پوری تحریک کو ایک نیا حوصلہ اور عزم دیا ہے۔ ان خواتین کی تقریروں سے واضح ہے کہ وہ اس تحریک کی کامیابی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ درحقیقت ریاستی جبر کو فی الوقت کے لیے پسپا کرنے میں ان خواتین کی شرکت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان سمیت اس پورے خطے کی عام خواتین سماج کی سب سے مظلوم پرت ہیں۔ علاج اور تعلیم سمیت تمام بنیادی انسانی اشاریوں میں یہ دنیا کے سب سے آخری نمبروں پر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل سے لے کر دیگر انسانیت سوز جرائم کا شکار ان خواتین کو عام طور پر سیاست اور سماجی زندگی سے دور رکھا جاتا ہے۔ اس تمام عمل میں اس سماج پر مسلط جابرانہ قوانین اور ان کے تحت موجود ریاستی اداروں میں بھی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں کمتر حیثیت دی جاتی ہے۔سماج میں موجود عمومی غلیظ تعصبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خواتین عقل اور شعور سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔ لیکن یہی سماج کی سب سے مظلوم اور حقیر سمجھی جانے والی پرت جب انقلابی نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آتی ہے تو حکمرانوں کے دل دہل جاتے ہیں اور ان کے ایوان کانپنے لگتے ہیں۔”آزاد“ کشمیر میں جون کے مہینے میں یہی کچھ ہوا ہے اور ان خواتین نے سیاسی عمل میں براہِ راست شرکت کر کے اپنے انقلابی کردار اور بلند سیاسی شعورکا واضح ثبوت دیا ہے۔ دوسری طرف جابر حکمرانوں نے بھی ان خواتین کو خوفزدہ کرنے کے لئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جیسی عوامی سیاسی راہنماؤں کو عمر قید سمیت سخت سزائیں دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

”آزاد“ کشمیر میں جاری تحریک کے اثرات پاکستان کے تمام حصوں پر مرتب ہو رہے ہیں اور آنے والے عرصے میں ایسی ہی تحریکیں ملک کے طول و عرض میں نظر آئیں گی۔ درحقیقت حکمران طبقہ اسی منظر سے خوفزدہ ہے اور اسی لیے اس تحریک کو عبرت کا نشان بناناچاہتا ہے تاکہ اس ملک کے عوام حکمرانوں سے اپنا حق مانگنے کی جرات ہی نہ کر سکیں۔ ان تحریکوں کے ابھرنے سے خوفزدہ حکمران پیش بندی کرتے ہوئے انتہائی جابرانہ قوانین مسلط کرتے جا رہے ہیں اور ابھی تک انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والے ایک مجوزہ قانون کے تحت ضلعی انتظامیہ کسی بھی شخص کو بغیر کسی عدالتی کاروائی کے سماج دشمن قرار دے سکتی ہے اور اس کے بینک اکاؤنٹ منجمند کر سکتی ہے، پراپرٹی پر قبضہ کر سکتی ہے، فون چھین سکتی ہے اور اس کی الیکٹرانک نگرانی مقرر کر سکتی ہے۔ ایسے ہی قوانین برطانوی سامراج نے انقلاب روس 1917ء کی کامیابی کے بعد ہندوستان میں مسلط کیے تھے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ ایسا ہی انقلاب ہندستان میں بھی برپا ہو سکتا ہے۔ان قوانین کے باوجود اس وقت ایک بہت بڑی عوامی تحریک ابھری تھی اور 1919ء میں امرتسر میں جلیانوالہ باغ کے قتل عا م کے باوجود برطانوی سامراج اسے کچل نہیں سکا تھا۔ درحقیقت ان قوانین کے بغیر بھی موجودہ ریاست اپنے خلاف ہر قسم کی آواز کو بزور طاقت کچلنے کے لیے پہلے سے ہی سرگرم ہے لیکن اس کے باوجود نئے جابرانہ قوانین مسلط کرنے کی کوششیں واضح کرتی ہیں کہ حکمران طبقے کا خوف دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔
اس خوف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے موجود تمام سیاسی پارٹیاں مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہیں اور اس وقت عوام کے کسی بھی حصے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ”آزاد“ کشمیرمیں یہ عمل سطح پر واضح ہو چکا ہے جہاں کوئی بھی پارٹی ایک ہزار افراد کا جلسہ کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی لیکن اس کے باوجود نام نہاد انتخابات کے ذریعے انہی پارٹیوں پر مشتمل ”نئی“ اسمبلی دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے تمام حصوں میں بھی یہی کیفیت ہے اور الیکشن اور پارلیمنٹ سمیت کسی بھی ریاستی ادارے کا عوام سے تعلق مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور وہ صرف حکمران طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس صورتحال میں عوام کے لیے اپنے جمہوری حقوق کے اظہار کا رستہ عوامی تحریکیں، ہڑتالیں اور احتجاج ہی رہ جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے بہت سی حاصلات ملی بھی ہیں جن میں کشمیر میں بجلی کا تین روپے کا یونٹ اور دو ہزار روپے من آٹا شامل ہے، لیکن ابھی تک یہاں پر اس طریقہ کار سے حکومت کی تبدیلی یا سرمایہ دارانہ ریاست کے خاتمے کا مرحلہ عبور نہیں ہو سکا۔ جبکہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ عوامی تحریکوں نے نام نہاد منتخب حکومتوں کا تختہ بھی الٹا اور اپنی مرضی کی حکومتیں بھی لائے۔ گوکہ انقلابی قیادت کے فقدان کے باعث وہاں بھی سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑا نہیں جا سکا اور ابھی تک وہاں یہی فرسودہ نظام موجود ہے جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ہیں۔
خطے میں جاری ان تمام تحریکوں سے اہم اسباق اخذ کرنا اور پھر ان کی بنیاد پر آنے والی تحریکوں کی تیاری کرنا ہی اس وقت انقلابیوں کا سب سے اہم فریضہ ہے۔ ایک کامیاب سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے حکمران طبقے و ریاست کو مکمل طور پر اکھاڑ کر ہی عوام فیصلہ کن کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور اس میں ملک بھر کے مزدور طبقے کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔حکمران طبقے کے آمرانہ طرز حاکمیت اور جبر کا جواب ماضی میں بھی مزدور طبقے نے دیا تھا اور 1968-69ء کے انقلاب میں ایک ملک گیر عام ہڑتال کے ذریعے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا۔اس کے بعد ہی حکمران طبقہ عوام کو جمہوری حقوق دینے پر مجبور ہوا تھا۔ اس وقت اگر تحریک کی قیادت بالشویک پارٹی کی طرز پر ہوتی تو سرمایہ دارانہ نظام بھی ختم کیا جا سکتا تھا۔ لیکن نصف صدی بعد یہ ادھورا فریضہ مکمل کرنے کا وقت آ رہا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اسی تاریخی فریضے کے لیے خود کو تیار کر ہی ہے اور ملک بھر سے طلبہ، مزدور اور کسان اس میں شمولیت بھی اختیار کر رہے ہیں۔اگر آپ بھی یہاں سے سامراجی طاقتوں کا تسلط اور سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر اس پارٹی کے ممبر بنیں۔