اداریہ: ”کاکروچ“ تحریک سے برصغیر کے حکمران خوفزدہ

انڈیا میں ”کاکروچ“ تحریک کی کامیابی نے عوامی بغاوت کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ مودی سرکار کا دیو ہیکل بت اور اس کا خوف پاش پاش ہو گیا ہے اور نوجوانوں کے حوصلے اور عزم پہلے سے بلند ہو چکے ہیں۔ اس تحریک کے آغاز پر مودی کو ناقابل تسخیر قرار دیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ کوئی بھی اس کی طاقت اور ہیبت کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ تحریک سے سے کچھ ہفتے قبل ہی اس نے مغربی بنگال کا قلعہ بھی فتح کر لیا تھا اور پہلی دفعہ وہاں پر اپنی پارٹی کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کے علاوہ عدلیہ، الیکشن کمیشن اور دیگر تمام ریاستی اداروں پر اس کی گرفت انتہائی مضبوط تھی اور تمام اپوزیشن پارٹیاں شکست خوردہ تھیں۔ لیکن اسی وقت مودی کے زوال کا آغاز بھی ہو گیا جب ”کاکروچ“ جنتا پارٹی نے مودی کے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ اس احتجاج کو کچلنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا اور پیلٹ گن سے لے کر بجلی کے جھٹکوں تک ریاستی جبر کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا۔

لیکن اس سب کے باوجود کم عمر نوجوانوں نے مودی کے اقتدار کے نیچے سے زمین سرکا دی اور آخر کار مودی کا وزیر تعلیم استعفیٰ دینے پر مجبور ہوا۔ اس احتجاج میں دہلی میں ایک لاکھ تک نوجوان شریک ہوئے جبکہ احتجاج کی یہ لہر پورے ملک میں پھیل گئی۔اس دوران سوشل میڈیا جو مودی اور اس کی پارٹی کا سب سے کارآمد ہتھیار تھا وہ مودی کے ہی خلاف استعمال ہوا اور جنریشن زی کے انقلابی نعرے پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔

اس تحریک کی قیادت تحریک کے رستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہوئے اسے محدود کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور عوام کے غم و غصے کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی ورنہ وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد ایسی صورتحال موجود تھی کہ مودی کے استعفے کے لیے تحریک شروع کی جا سکتی تھی اور اس کی کامیابی کے امکانات بھی روشن ہوتے جا رہے تھے۔ اس وقت انڈیا میں بیروزگاری اور مہنگائی میں تیز ترین اضافہ ہورہا ہے، کرنسی کی قدر تیزی سے گر رہی ہے اور لاکھوں لوگ شہر چھوڑ کر واپس دیہاتوں کا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ مودی کے گیا رہ سالہ اقتدار کے بعد عوام کی حالت پہلے سے بدتر ہے اور اسی وجہ سے حکمرانوں کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔اسی لیے یہ تحریک ا بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔

درحقیقت یہ تحریک گزشتہ سالوں میں ہونے والے جین زی انقلابات کا ہی تسلسل ہے جس میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں پہلے ہی عوامی بغاوتیں ابھر چکی ہیں اور حکمران طبقے کے مظالم کیخلاف عوام حکومتوں کے تختے الٹ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی خوفزدہ کر دیا ہے اور یہاں بھی ایسی ہی انقلابی تحریک کے لیے حالات پک رہے ہیں۔موجودہ حکومت بھی اپنی طاقت کے نشے میں ہر مخالف کو روندتی چلی جا رہی ہے اور عالمی صورتحال کے باعث اس کے تمام سامراجی طاقتوں سے تعلقات بھی تاریخ کی سب سے بلند ترین سطح پر ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ کی مکمل آشیر باد ہے جو ایران جنگ میں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد فرار کا کوئی رستہ ڈھونڈ رہا ہے جبکہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدہ طے پاچکا ہے۔ اسی طرح چینی سامراج کے بھی موجودہ حکمرانوں سے تعلقات خوشگوار ہیں، خاص طور پر گزشتہ سال کی انڈیا کے ساتھ جنگ کے بعد یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ اس دوران تمام سیاسی پارٹیاں بھی کاسہ لیسی اور گماشتگی میں آخری حدیں عبور کر چکی ہیں۔ بظاہر اس وقت حکومت کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہیں۔ لیکن دوسری طرف عوام مہنگائی، بیروزگاری اور ذلت کی چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں اور ان کے لیے زندگی بدترین جہنم بن چکی ہے۔ بجلی، پٹرول اور دوسری اجناس کی قیمتوں میں تیز ترین اضافہ ہورہا ہے جبکہ علاج اور تعلیم کی سہولتیں عوام کی بہت بڑی اکثریت سے دور ہو چکی ہیں۔

اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ حکمرانوں کے ان تمام تر مظالم کیخلاف آواز بلند کرنا بھی بد ترین جرم بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ یا کسی عوامی مقام پر ایک تقریر بھی قید و بند کی بد ترین صعوبتوں کو دعوت دیتی ہے۔کسی عوامی تحریک کو منظم کرنا یا حکمران طبقے کے مظالم کیخلاف احتجاج کرنا یہاں پر سب سے بڑا جرم بنا دیا گیا ہے۔لیکن اس تمام تر جبر کے باوجود انقلابی تحریک کا رستہ نہیں روکا جا سکتا اور وہ خود اپنا رستہ بنائے گی۔یہی صورتحال حکمرانوں پر لرزہ طاری کر رہی ہے اور آنے والی تحریک کے خوف سے کانپ رہے ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے جہاں جابرانہ قوانین مسلط کرتے جارہے ہیں وہاں عوام میں صوبائی اور لسانی تعصبات پھیلا کر انہیں آپس میں لڑوانے کے لیے بھی مختلف شوشے چھوڑ رہے ہیں۔ان تعصبات کو ہوا دینے کے لیے میڈیا اور سیاسی پارٹیوں میں موجود اپنے گماشتوں کے ذریعے ایسی فضا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں عوام میں طبقاتی جڑت اور یکجہتی پیدا نہ ہو سکے اور انہیں آپس میں تقسیم رکھا جاسکے۔ لیکن عوام یہ جان چکے ہیں کہ حکمران کسی طور بھی عوام کے خیر خواہ نہیں اور ان کا یہ نظام محض سرمایہ دار طبقے کے منافعوں کی ہوس اور سامراجی طاقتوں کی لوٹ مار کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی انتظامی یا آئینی تبدیلی یا ”اصلاح“ کسی طور بھی عوام کے فائدے کے لیے نہیں کی جائے گی۔

عوام کا مفاد اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب اس خون آشام سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکا جائے اور مزدور طبقہ اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے منصوبہ بند معیشت کے ذریعے تمام ذرائع پیداوار اپنے جمہوری کنٹرول میں لے۔ ہر شخص کو روٹی، کپڑا اور مکان دینا مزدور ریاست کی اولین ذمہ داری ہوگی اور ہر سطح پر مفت علاج اور تعلیم فراہم کیا جا سکے گا جبکہ ہر شخص کو روزگار کی ضمانت فراہم کی جائے گی۔پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام ہی مسلط ہے جسے برطانوی سامراج نے یہاں جبر کے ذریعے استوار کیا تھا۔ کسی ایک ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد سرحد کے دوسری جانب بھی ایسی ہی جدوجہد کو مہمیز دے گی اور پورے جنوبی ایشیا سے سرمایہ داری کے خاتمے کا نعرہ بلند ہوگا۔ گزشتہ چند سالوں کی عوامی تحریکوں نے واضح کر دیا ہے کہ محض حکومتوں کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

مزدور طبقے کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کے لیے نظام کو تبدیل کرنا پڑے گا جس کا واحد رستہ سوشلسٹ انقلاب ہی ہے۔ان تمام ممالک سے سرمایہ داری کا خاتمہ خطے کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن کی بنیاد بنے گا جس میں خطے کی تمام مظلوم قومیتوں کو حقیقی آزادی اور حق خود ارادیت ملے گا اور بھوک، بیماری اور لاعلاجی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ جنگوں اور اسلحے کی دوڑختم ہوگی اور برطانوی سامراج کے مسلط کردہ بٹوارے کا بھی خاتمہ ہوگا اوراس کے دیے گئے زخموں کو مرہم ملے گی۔ جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن پورے خطے میں امن اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی اسی منزل کے حصول کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اگر آپ ان نظریات سے متفق ہیں تو فوری طور پر رابطہ کر کے اس پارٹی کے ممبر بنیں۔

سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہوجاؤ!