ڈیرہ غازی خان: پرائیویٹ سکول کی چھت گرنے سے چار طلبہ شہید اور متعدد زخمی

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ڈیرہ غازی خان|

کل ڈیرہ غازی خان میں لِٹل سکالرز نامی ایک پرائیویٹ سکول کی چھت گرنے سے ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق چار طلبہ شہید ہو گئے ہیں اور متعدد طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سکول میں تعمیراتی کام جاری تھا اور سکول کی چھت پر کئی ٹن ریت مٹی اور سینکڑوں اینٹیں موجود تھیں اور چھت پر مزدور کام کر رہے تھے جب عمارت سامان کے وزن کے بوجھ کی وجہ سے گر گئی اور چھت پر موجود ملبے سمیت چھت بچوں پر آن پڑی۔

سکول کی پہلے سے موجود عمارت بھی اس طرح بنائی گئی تھی کہ بازار کی دکانوں کی توڑ پھوڑ کر کے، دیواریں نکال کر مختلف کلاس رومز، ہال وغیرہ بنائے گئے تھے اور اب سکول کی عمارت کو پھیلانے کے لیے ساتھ والی بلڈنگ میں بغیر کسی منظوری کے اسی طرح کا غیر معیاری تعمیراتی کام جاری تھا۔ نیچے کلاس رومز میں بچے بیٹھے تھے اور بلڈنگ کی چھت پر کئی ٹن تعمیراتی سامان پڑا ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ سکول مالک کی اس مجرمانہ غفلت پر اس کی سرزنش کرنے والا کوئی اہلکار یا ادارہ موجود نہیں تھا اسی لیے وہ انتہائی دیدہ دلیری سے تعمیراتی کام شروع کیے ہوئے تھا۔ اس سے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایجوکیشن کے آفیسران کی ملی بھگت واضح ہو جاتی ہے کہ پرائیویٹ اداروں سے مفادات، منتھلیاں یا بعض اوقات صرف اچھے ہوٹلوں پر دعوتوں کے عوض افسران چپ سادھے رکھتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف اسی ایک سکول میں اس طرح کی مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا گیا بلکہ شہر میں موجود اکثریت پرائیویٹ سکول اسی طرح ناقص عمارتوں میں چلائے جا رہے ہیں۔ منافع خوری کے عادی سکول مالکان ادارہ چلانے کے لیے روپے پیسے خرچ کر کے ایک معیاری عمارت تعمیر کرنے کی زحمت اٹھانے کی بجائے چند دکانیں یا کسی پرانی عمارت کو کرائے پر لے کر ان کی توڑ پھوڑ کر کے اس ڈربے نما عمارت کو زبردستی سکول کی شکل دے کر ادارہ منظور کرا لیتے ہیں۔ شہر میں موجود اکثریت پرائیویٹ سکولوں، اکیڈمیوں میں کہیں کھلی مناسب عمارت، اسمبلی کی جگہ، کھیل کا میدان یا حتیٰ کہ کھلی فضا میں سانس لینے کی جگہ تک موجود نہیں۔

ظلم یہ ہے کہ وزیر تعلیم، سیکرٹری ایجوکیشن سے لے کر ایجوکیشن کے شعبے کے تمام تر افسران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنائے گئے سرکاری اداروں میں سرکاری ملازمت، سرکاری مراعات کا لطف اٹھاتے ہوئے سارا دن پرائیویٹ تعلیمی نظام کے گن گاتے پھرتے ہیں اور پرائیویٹ سکولوں کو سرکاری سکولوں سے بہتر ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان افسران سے کسی خیر کی توقع رکھنا سرار حماقت ہو گی۔

یہ واقعہ کوئی عام حادثہ نہیں بلکہ پرائیویٹ تعلیمی نظام، پرائیویٹ مالکان کی منافع خوری کی ہوس اور افسران کی رشوت خوری کا نتیجہ ہے۔ خستہ حال ڈربوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کا درجہ دے دینا اور ان چھوٹے چھوٹے ڈربوں میں سینکڑوں طالب علموں کو تعلیم کے نام پر قید رکھنا ایک ایسا گھناؤنا جرم ہے جس کے خلاف کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ان اداروں میں کسی قسم کی انسپکشن کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی اداروں کے سربراہان کا کسی قسم کا احتساب ہوتا ہے۔ ضلعی ایجوکیشنل انتظامیہ کی ساری توجہ سرکاری سکولوں کی نجکاری کی راہ ہموار کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ ایک طرف جہاں سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعداد بچوں کی تعداد کے حساب سے نہ ہونے کے برابر ہے تو وہیں پر ان موجود اساتذہ کو سارا دن کبھی ڈینگی سرگرمیاں کرانے، کبھی ڈینگی کے سروے کرانے، سکولوں کی نجکاری کے لیے آن لائن پرفارمے پُر کرانے، دودھ اور بسکٹس کا ریکارڈ رکھنے، اس کو روزانہ آگے بھیجنے جیسی فضول قسم کی سرگرمیوں میں الجھا کر رکھا جاتا ہے۔ ایسے میں پرائیویٹ سکول مالکان اپنی من مانیوں سے اداروں کو چلاتے ہیں۔ وہ ادارے میں اساتذہ اور دیگر عملے کے اوقات کار، ان کی تنخواہ سے لے کر سردی گرمیوں کی چھٹیاں طے کرنے تک ہر جگہ اپنی مرضی کرتے ہیں اور ضلعی افسران آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں۔

لِٹل سکالرز نامی پرائیویٹ سکول میں چھت گرنے کی وجہ سے زخمی اور شہید ہونے والے بچے

سونے پر سہاگا یہ کہ پنجاب کے بے حس حکمران پنجاب کے سرکاری سکولوں کو بھی اسی قماش کے پرائیویٹ مالکان کے حوالے کرنے جا رہے ہیں اور پنجاب میں رہے سہے سرکاری تعلیمی نظام کا بھی کباڑا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں کو مرحلہ وار انداز میں پرائیویٹ مالکان کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ پہلے پہل کم تعداد کا بہانہ بنا کر سکول پرائیویٹ کیے گئے، پھر کم اساتذہ کا بہانہ بنا کر سکول پرائیویٹ کیے گئے اور اب جو سکول انتہائی معیاری ہیں، ان کو نواز شریف سکول آف ایمی نینس کے حوالے کر کے بیچا کیا جا رہا ہے اور باقی سکولوں کو پیف پیما کے حوالے کر کے انہیں بیچا جا رہا ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ڈیرہ غازی خان اس افسوس ناک واقعہ کی نے حد مذمت کرتی ہے اور جاں بحق ہونے والے بچوں کے ساتھ والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ پیسے کھا کر آنکھیں بند کیے رکھنے والے مقامی ایجوکیشنل افسران اور ضلعی انتظامیہ میں موجود ذمہ داروں پر بچوں کے قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اسی طرح انقلابی کمیونسٹ پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ ماضی کے سینکڑوں واقعات کی طرح حکمران طبقہ اور مقامی افسران اس واقعے پر بھی عوام کا غصہ کم ہونے تک صرف دکھاوے کی حد تک کاروائی کریں گے اور کچھ عرصے بعد مجرمان پھر سے آزادی کے ساتھ اپنی لوٹ مار میں مصروف ہو جائیں گے۔ اس واقعے میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کے لیے ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ’ایک کا دکھ، سب کا دکھ‘ کے تحت متحد ہو کر نجی سکولوں کے مافیہ اور اپنے بے حس حکمرانوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں اور سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیویٹ منافع خور حکمرانوں کے حوالے ہونے سے بچانے کے لیے اساتذہ اور سرکاری اداروں کے ملازمین کو بھی طلبہ اور ان کے والدین کے ساتھ مل کر نجکاری مخالف تحریک چلانی ہو گی اور متحد ہو کر حکمرانوں کے نجکاری کے ایجنڈے کو روکنا ہو گا۔ آج سرکاری اداروں کے محنت کشوں اور عام عوام کے پاس سرکاری تعلیمی اداروں کو بچانے اور تعلیم کی پرائیویٹائزیشن کو روکنے کے لیے متحد ہو کر لڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔اس جدوجہد میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی ہر محاذ پر طلبہ، اساتذہ اور عام عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔