عالمی تجارت: ٹرمپ کی نظریں چین پر

سولر پینلز، واشنگ مشینوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر بھاری محصولات لگانے کے بعد ٹرمپ اب چین سے جھگڑا مول لینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس کی نئی تجاویز کے نتیجے میں60 ارب ڈالر کی چینی برآمدات متاثر ہوں گی جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں

ہوشربا عدم مساوات: بیمار نظام کی علامت

اس سال عدم مساوات کی تصویر پہلے سے زیادہ واضح، درست اور چونکا دینے والی ہے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک گروہ، جو کہ ایک گالف بگھی میں پورا آ سکتا ہے، کے پاس نصف انسانیت سے زیادہ دولت ہے

عفرین میں کردوں کو کچلنے کے لئے ترکی اور ’’عالمی برادری‘‘ کا گٹھ جوڑ

|تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: اختر منیر| اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت […]

ٹرمپ کا تجارتی جنگ کا اعلان؛ کمزور عالمی معیشت کے لئے ایک اور دھچکا! 

پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے

شام: بربریت کا رقص اور سامراجی منافقت

|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: اختر منیر| اقوام متحدہ میں تمام تر ہنگامے، پر شور پروپیگنڈے اور چالبازیوں کے بعد شام میں ہونے والی جنگ بندی اچانک شرمناک اور ناقابلِ یقین انداز میں ختم ہو چکی ہے۔ درحقیقت اس کی مثال ایک ایسے بچے کی سی ہے جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی مردہ حالت میں […]

وینزویلا: ناکام مذاکرات، بیرونی خطرات اور بولیوارین انقلاب کو درپیش چیلنجز

|تحریر: ریکارڈو واز، ترجمہ: اختر منیر| (یہ مضمون، venezuelanalysis.com پر شائع ہوا تھا جس میں رکارڈو واز نے وینزویلا کی صورتحال کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ عالمی سامراجی یلغار سے بچنے کے لیے وینزویلا کی عوام کو یہ لڑائی اپنی قومی گماشتہ بورژوازی کے خلاف […]

مشرق وسطیٰ کا بحران؛ واحد حل۔۔۔سوشلسٹ انقلاب!

مشرقِ وسطیٰ اس وقت آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے جو واضح کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دنیا میں امن ممکن نہیں۔ یہ نظام پوری دنیا میں عوام کی وسیع اکثریت کو غربت، ذلت اور محرومی میں دھکیل رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے محنت کش عوام اس میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں