تھائی لینڈ: عام انتخابات کے حق میں احتجاج پر پولیس کریک ڈاؤن
یہ تحریک 2014ء کے فوجی کُو کی چوتھی سالگرہ پر ابھری ہے اور نومبر 2018ء میں انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے
امریکہ۔چین تجارتی تنازعہ: ٹرمپ کی حماقتیں‘ عدم استحکام میں اضافہ
سرمایہ دارانہ نظام کے سنجیدہ نمائندے اس خدشے کو لے کر سخت خوفزدہ ہیں ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری یہ تجارتی تنازعہ کہیں کھلی معاشی جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے
اسرائیل کے ستر سال مکمل؛ سامراجیوں کا خون آشام جشن
پیر کے دن ایک طرف یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کے افتتاح کا تماشا چل رہا تھا جبکہ اسی وقت دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی سنائپرز نے 59 فلسطینی مظاہرین کو قتل اور 2700 سے زائد کو زخمی کر دیا
ٹرمپ کا ایران نیوکلئیر ڈیل سے دستبرداری اور معاشی جنگ کا اعلان
منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اپنی جھوٹ، غلط بیانی اور منافقت سے بھرپور تقریر میں اس نے اعلان کیا کہ اس کی حکومت پھر سے ایران پر ’’بد ترین معاشی پابندیاں‘‘ لاگو کرے گی
عالمی تجارت: ٹرمپ کی نظریں چین پر
سولر پینلز، واشنگ مشینوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر بھاری محصولات لگانے کے بعد ٹرمپ اب چین سے جھگڑا مول لینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس کی نئی تجاویز کے نتیجے میں60 ارب ڈالر کی چینی برآمدات متاثر ہوں گی جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں
ہوشربا عدم مساوات: بیمار نظام کی علامت
اس سال عدم مساوات کی تصویر پہلے سے زیادہ واضح، درست اور چونکا دینے والی ہے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک گروہ، جو کہ ایک گالف بگھی میں پورا آ سکتا ہے، کے پاس نصف انسانیت سے زیادہ دولت ہے
عفرین میں کردوں کو کچلنے کے لئے ترکی اور ’’عالمی برادری‘‘ کا گٹھ جوڑ
|تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: اختر منیر| اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت […]
ٹرمپ کا تجارتی جنگ کا اعلان؛ کمزور عالمی معیشت کے لئے ایک اور دھچکا!
پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے
ایران بھر میں پھیلتے مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کے احتجاج
ریاست کو فوری بغاوت کا سامنا ہے بلکہ ایک عمومی زوال کا بھی اوروہ سماج کی تمام پرتوں کی نظروں میں اپنی حاکمیت کا جواز کھو چکی ہے۔ خاص کر ریاست نوجوانوں اور محنت کش طبقے سے خوفزدہ ہے
محمد بن سلمان کا دورۂ برطانیہ؛ حکمران طبقے کی منافقت کا پردہ چاک!
وہی لوگ جو جمہوریت کو فروغ دینے کی خاطر کسی بھی ملک پر جنگ مسلّط کرنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے، انہیں دنیا کی سب سے رجعتی حکومت سے گہرے مراسم رکھنے میں کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے