امریکہ: نیو یارک میں سوشلسٹ خاتون امیدوارکی فتح !

|تحریر: ٹام ٹراٹیئر، اینٹونیو بالمر؛ ترجمہ: اختر منیر| ایسا ہونا طے نہیں تھا۔ نیویارک کے موجودہ کانگریس کے ممبر جو کرولی، جو کوئینز کاؤنٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ بھی ہے اور ڈیموکریٹس کے دوبارہ اکثریت میں آنے کی صورت میں اس نے ایوان کے سپیکر کے طور پر نینسی پیلوسی کی جگہ بھی لینا […]

ورلڈ آرڈر کو تباہ کرتا ٹرمپ!

|تحریر: جیمز کلبی، ترجمہ: اختر منیر| امریکی ’’جمہوریت‘‘ ایک ایسی مشین ہے جسے صدیوں میں اس طرح سے کامل بنایا گیا ہے کہ چاہے جو بھی منتخب ہو بینکوں اور ارب پتیوں کے مفادات کی اچھے سے ترجمانی ہوتی رہے۔ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ، جو طاقت کے اصولوں کے مطابق کھیلنے سے انکار کرتا ہے، […]

ٹرمپ کا ایران نیوکلئیر ڈیل سے دستبرداری اور معاشی جنگ کا اعلان

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اپنی جھوٹ، غلط بیانی اور منافقت سے بھرپور تقریر میں اس نے اعلان کیا کہ اس کی حکومت پھر سے ایران پر ’’بد ترین معاشی پابندیاں‘‘ لاگو کرے گی

ٹرمپ کا تجارتی جنگ کا اعلان؛ کمزور عالمی معیشت کے لئے ایک اور دھچکا! 

پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے

امریکہ: سمندری طوفان کی تباہ کاریاں اور سرمایہ داری کا بحران

ہاروی نے یہ بھی بتلا دیا کہ حالات کتنی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں: کیسے ایک دیوہیکل جدید شہر تباہ وبرباد ہو جاتا ہے اور روزمرہ کی زندگی اور معاشی سرگرمیاں کیسے لمحہ بھر میں برباد ہو کر رہ جاتی ہیں، کیونکہ سمندری طوفان ہی وہ واحد تباہی نہیں جو انسانیت پر منڈلا رہی ہے

ٹرمپ، مرکل اورمغربی اتحاد کی موت!

حالیہ جی 7ممالک اور نیٹو کے طوفانی اجلاس عالمی تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ نام نہا د ’’فری ورلڈ‘‘ کے لیڈر ٹرمپ اور یورپی یونین کی لیڈر جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے درمیان تند و تیز اختلافات میں اس کا واضح اظہار ہوتا ہے

امریکی حکمران طبقے کا المیہ!

مخصوص حالات میں چیزیں اپنے الٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں نئے صدر کی آمد سے پہلے یہ عمارت امریکی سیاسی انتظام میں اعتماد اور استحکام کی علامت تھی۔ آج یہ عمارت دیوہیکل سیاسی انتشار کا منبع بن چکی ہے