جبر و استحصال کے خلاف جدوجہد: مارکسی نظریات اورلبرل ازم

|تحریر: آصف لاشاری | محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے تمام بڑے شہروں میں عورت مارچ کا انعقاد کیا گیاجس میں عورتوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ گوکہ ان تمام مارچوں میں پیٹی بورژوا اور بورژوا خواتین کی اکثریت تھی مگر محنت کشوں کی مختلف پرتوں سے تعلق […]

سانحۂ ساہیوال: بدمعاش ریاست بمقابلہ مظلوم عوام!

|تحریر: آدم پال| سانحۂ ساہیوال پر شدید ترین عوامی غم و غصے کے باوجود قاتل ریاستی اہلکاروں کا ہر ممکن دفاع کیا جا رہا ہے اور انہیں رہائی دلوانے کے لیے تمام ریاستی ادارے پورا زور لگا رہے ہیں۔واقعہ کی ویڈیوز موجود ہیں اور عینی شاہدین کی ایک بہت بڑی تعداد گواہی دینے کے لیے […]

خیسور کی چیخ

|تحریر: پارس جان| خطے کی صورتحال میں ایک بار پھر شدید ابال امڈتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کی خبروں کے بعد سے علاقائی سامراجی طاقتوں کے افغانستان کے ساتھ اور آپسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ پھر تیز ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ادھر امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات […]

سانحہ ساہیوال: خونخوار ریاست اور عوام آمنے سامنے

|تحریر: آدم پال| 19جنوری کو ہونے والی ریاستی اہلکاروں کی ڈکیتی اور دہشت گردی کی واردات کا دفاع کرنے کے لیے تمام ریاستی ادارے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ جبکہ متاثرین اور اہل علاقہ انصاف لینے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ 23جنوری کو لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو کی عوام نے ایک دفعہ […]

کیا دانشوروں میں ’’درمیانے‘‘ ممکن ہیں؟

|تحریر: صبغت وائیں| کوئی وقت تھا جب سوشلسٹ ہونا ہی دانش مندی اور دانشوری مانا جاتا تھا۔ تب دانشور کہلوائے جانے کے شوقینوں نے جوق در جوق سوشلسٹ کہلوانا شروع کر دیا تھا۔ ان کی باقیات میں سے کچھ گلی سڑی شکل میں ابھی بھی باقی ہیں۔ جو کہ ٹی وی پر مختلف چینلوں میں، […]

بلوچستان کے مخدوش حالات اور جدوجہد کا راستہ

|تحریر: زلمی پاسون| روس کے اندر مظلوم قومیتوں کے حوالے سے لینن کا ایک مشہور قول ہے کہ’’روس مظلوم قومیتوں کا جیل خانہ ہے‘‘۔ آج کے اس دور میں لینن کا یہ قول پاکستان پر سوفیصد درست لاگو ہوتا ہے۔گو کہ ہم ہر جگہ پر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک قوم نہیں بن سکی ہے […]

محنت کشوں کی داستان غم!

|تحریر: مدیحہ| جس نظام میں ہم لوگ زندگی گزار رہے ہیں ایک بوسیدہ و درد ناک نظام ہے۔ اس نظام میں نچلے طبقے کے لوگوں کو اور ان کے بچوں کوایک بات ضرور پڑھائی، سکھائی، بتائی جاتی ہے کہ تم لوگ اس لیے غریب ہوکیونکہ تمہاری تقدیر میں یہ ہی لکھا گیا ہے۔ تمہارے حصے […]