عالمی مارکسی یونیورسٹی 2020: نظریات کی طاقت
|عالمی مارکسی رجحان| مارکسی یونیورسٹی کا اختتام بھی اس کے آغاز کی طرح ناقابلِ یقین رجائیت کے ساتھ ہوا! مارکسی یونیورسٹی کے انعقاد سے لے کر اختتام تک 115 ممالک سے تقریباً 6500 افراد نے خود کو رجسٹر کرایا۔ شروعاتی سیشن کو تقریباً دس ہزار لوگوں نے دیکھا اور تقریب کے دوران تقریباً دو لاکھ […]
5 ہزار سے ذائد افراد کا عالمی مارکسی یونیورسٹی کے لیے داخلہ! انقلابی تحریک کا ایک اہم سنگ میل!
ٹنڈو محمد خان: سندھ آبادگار شوگر ملز سے برطرف محنت کش سراپا احتجاج!
ٹنڈومحمدخان کے سندھ آبادگارشگرملز سے جبری طور پر برطرف ملازمین انصاف کے حصول کے لیے گذشتہ سات دن سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں
کوئٹہ: بلوچستان کی مختلف لیبر یونینز اور ایسوسی ایشنز کا مشترکہ اجلاس
ریڈ ورکرز فرنٹ بلوچستان بھر کی مزدور تنظیموں کے ایک پیج پر آنے کو خوش آئند قرار دیتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ سامراجی عالمی مالیاتی ادارے کی منظورِ نظر تبدیلی سرکار کی جانب سے ملک بھر کے محنت کش طبقے پر ہونے والے معاشی حملوں کا جواب بلوچستان سے لیکر ملک بھر کے محنت کش طبقے کے طبقاتی بنیادوں پر اتحاد اور اتفاق کے ذریعے ہی ممکن ہے
کوئٹہ: نیشنل بینک آف پاکستان جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام نیشنل بینک کی مجوزہ نجکاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ!
مٹھی، تھرپارکر: بااثر شخصیات کے محنت کشوں کی بستی پر قبضے کیخلاف زبردست احتجاج
چند روز قبل مٹھی شہر، ضلع تھرپارکر میں بھیل برادری نے دو دن زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں دو ہزار سے زائد لوگ شریک ہوئے جن میں اکثریت محنت کش خواتین کی تھی
ایپکا کی کال پر ملک بھر میں آئی ایم ایف بجٹ کے خلاف احتجاج و ہڑتال
چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے محنت کشوں نے بھی اس احتجاج اور قلم چھوڑ ہڑتال میں شرکت کی۔پنجاب کے 36 اضلاع میں احتجاج و ہڑتال ہوئی۔لاہور شہر کے تقریباًً تمام سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی گئی
پی ٹی ڈی سی ہوٹلز کی نجکاری نامنظور!
ایک طرف تبدیلی سرکار ملک میں سیاحت کے فروغ اور سیاحت سے زرمبادلہ کمانے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اور وزیر اعظم یہ بتاتا نہیں تھکتا کہ پاکستان میں سیاحت سے کتنا پیسہ کمایا جاسکتا ہے مگر دوسری جانب پی ٹی ڈی سی موٹلز کی نجکاری کا اقدام اس سب کی نفی اور حکومتی عزائم کا پردہ چاک کرتا ہے۔
لاہور: ریل مزدوروں کا ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں شاندار احتجاجی جلسہ!
ریل مزدوروں کے بنیادی مطالبات میں تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ، نجکاری اور جبری چھانٹیوں کا خاتمہ، ٹیکنیکل الاؤنس کا حصول، سکیل اپ گریڈیشن اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی شامل ہیں۔ جلسے کے آخر میں اعلان کیا گیا کہ اگر 5 اگست تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پورے ملک میں ریل کا پہیہ جام کر دیا جائے گا۔
کوئٹہ: ریلوے گرینڈ مزدور محاذ کے زیرِاہتمام احتجاجی ریلی اور جلسہ
ریلوے میں اس وقت 76ہزار کے قریب محنت کش اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ اب بھی 28 ہزار کے قریب خالی آسامیاں موجود ہیں جن کو پر نہ کرنے کی وجہ سے ایک مزدور چار سے پانچ آدمیوں کا کام کرتا ہے