کوئٹہ: مظلوم عوام اور دہشت گردی کا عفریت
سانحۂ ساہیوال: میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں!
ہزارہ نسل کشی کی نہ ختم ہونے والی داستان
|تحریر: زلمی پاسون| 11 اپریل کی صبح کوئٹہ شہر کے کاروباری مرکز ہزار گنجی میں ایک دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس دھماکے کا نشانہ مظلوم ہزارہ محنت کش عوام تھے جوکہ اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے ہزار گنجی فروٹ مارکیٹ کا رخ […]
خانوزئی: اسلحہ کلچر اور امن سبوتاژ کرنے کی سازشوں کیخلاف کامیاب عوامی مارچ کا انعقاد
|رپورٹ: امیر ایاز| خانوزئی کاریزات علاقائی نوجوانان کی کال پر 20فروری کو خانوزئی شہر اور مضافاتی دیہی علاقوں کے نوجوانوں نے اسلحہ کلچر اور علاقے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں کے خلاف کامیاب اور پرامن’’عوامی امن مارچ ‘‘کا انعقاد کیا۔ مارچ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی جس میں طلبہ اور نوجوانوں کی […]
سانحۂ ساہیوال: بدمعاش ریاست بمقابلہ مظلوم عوام!
|تحریر: آدم پال| سانحۂ ساہیوال پر شدید ترین عوامی غم و غصے کے باوجود قاتل ریاستی اہلکاروں کا ہر ممکن دفاع کیا جا رہا ہے اور انہیں رہائی دلوانے کے لیے تمام ریاستی ادارے پورا زور لگا رہے ہیں۔واقعہ کی ویڈیوز موجود ہیں اور عینی شاہدین کی ایک بہت بڑی تعداد گواہی دینے کے لیے […]
سانحہ ساہیوال: خونخوار ریاست اور عوام آمنے سامنے
|تحریر: آدم پال| 19جنوری کو ہونے والی ریاستی اہلکاروں کی ڈکیتی اور دہشت گردی کی واردات کا دفاع کرنے کے لیے تمام ریاستی ادارے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ جبکہ متاثرین اور اہل علاقہ انصاف لینے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ 23جنوری کو لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو کی عوام نے ایک دفعہ […]
مستونگ : دہشت گردی کا ناسور اور سرمایہ دارانہ استحصال!
|تحریر: زلمی پاسون| ابھی تک سانحۂ پشاور کے داغ دھلے نہیں تھے کہ 13 جولائی کو بنوں اور پھر مستونگ میں دل دہلا دینے والی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے۔ ان سب واقعات سے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ان واقعات میں جہاں اہم سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا […]
علی وزیر پر حملہ: ملک دشمن اور غدار کون؟
|تحریر: ورکر نامہ| تین جون کی شام وانا، جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے گھر عوام کے اکٹھ پر مسلح افراد کا حملہ قابل مذمت ہے جو واضح کرتا ہے کہ طالبان ابھی بھی ان علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے خاتمے کا واویلا صرف جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی […]
بلوچستان کے زخم!
پچھلے سال 8 اگست کو کوئٹہ میں دن دیہاڑے ایک خودکش حملے میں وکلا کی ایک بڑی پرت کو مارا گیا تھا۔ لیکن ریاستی اداروں کی طرف سے اس گھناؤنے حملے پر جو ردِعمل آیا اس نے بلوچستان کے لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اس بدبخت صوبے کے گھاؤ اور بھی گہرے کر دیئے
پنجاب حکومت کا پشتون محنت کشوں پر جبر!
لیکن المیہ یہ ہے کہ پشتون قوم پرستوں نے پچھلے 16 سالوں کے دوران عالمی طاقتوں کی جانب سے پشتونخواہ اور افغانستان کے متعلق دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کے حوالے سے جو سامراجی جنگی پالیسیاں مرتب کی ہیں اس پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اسکی خاموش حمایت بھی کرتے ہیں