پلوامہ حملہ اور کشمیر کی بغاوت

|تحریر: یاسر ارشاد| 14 فروری کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جموں سرینگر ہائی وے پر سنٹرل ریزرو پولیس فورس(CRPF) کے ایک قافلے پرجیش محمد نامی دہشت گرد تنظیم کے ایک کارکن عادل احمد ڈار کے خودکش حملے میں چالیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی افواج پر ہونے والا […]

خیسور کی چیخ

|تحریر: پارس جان| خطے کی صورتحال میں ایک بار پھر شدید ابال امڈتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کی خبروں کے بعد سے علاقائی سامراجی طاقتوں کے افغانستان کے ساتھ اور آپسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ پھر تیز ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ادھر امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات […]

ارمان لونی کا قتل: ریاستی جبر اور عوامی مزاحمت!

|تحریر: زلمی پاسون| بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے ایسا کوئی دن نہیں گزرا ہے جس میں ریاستی جبر کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی واقعہ رونما نہ ہوا ہو۔ مگر یہ واقعات کسی بھی طریقے سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت نہیں بنتے کیونکہ ان میں ریاست اور ان کے ادارے ملوث ہوتے […]

پاکستان: مظلوم قومیتوں کی تحریکیں۔۔۔نظریے اور تنظیم کی اہمیت

|تحریر: زلمی پاسون| 2008ء کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد دنیا بھر میں اْٹھنے والی تحریکوں نے سوویت انہدام کے بعد سے چھائے جمود کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس میں 2011 ء کی ’عرب بہار‘ ایک شاندار مثال ہے جس نے عرب ممالک میں کئی سالوں پر محیط بادشاہتوں کا خاتمہ کیا، لیکن یہ […]

بلوچستان کے مخدوش حالات اور جدوجہد کا راستہ

|تحریر: زلمی پاسون| روس کے اندر مظلوم قومیتوں کے حوالے سے لینن کا ایک مشہور قول ہے کہ’’روس مظلوم قومیتوں کا جیل خانہ ہے‘‘۔ آج کے اس دور میں لینن کا یہ قول پاکستان پر سوفیصد درست لاگو ہوتا ہے۔گو کہ ہم ہر جگہ پر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک قوم نہیں بن سکی ہے […]

کُجا ’’گلگت بلتستان‘‘ کُجا آئین و دستور!

|تحریر: راشد خالد| نون لیگ کی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں گلگت بلتستان کے معاملات کو چلانے کے لئے سابقہ گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009ء کے متبادل گلگت بلتستان آرڈر2018ء نافذ کیا ہے۔ یہ اکلوتا ’’انقلابی فریضہ‘‘ ہی نون لیگ کی حکومت نے سرانجام نہیں دیا بلکہ اپنے جاتے دنوں میں […]

سندھ کی بیداری!

|تحریر: خالد جمالی| گزشتہ کچھ ہفتوں سے سندھ میں ایک طویل عرصے کے سیاسی سکتے کے بعد بڑی ہلچل دیکھنے میں آرہی ہے۔ خاص طور پر وائس آف مسنگ پر سنز کی طرف سے کراچی پریس کلب پر لگائے گئے تین روزہ احتجاجی کیمپ پر پولیس، رینجرز اور سول کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد […]

علی وزیر پر حملہ: ملک دشمن اور غدار کون؟

|تحریر: ورکر نامہ| تین جون کی شام وانا، جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے گھر عوام کے اکٹھ پر مسلح افراد کا حملہ قابل مذمت ہے جو واضح کرتا ہے کہ طالبان ابھی بھی ان علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے خاتمے کا واویلا صرف جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی […]

فاٹا کا انضمام اور تاریخی زخم!

|تحریر: اسفندیار شنواری| 24 مئی 2018ء کو فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ موجودہ امکانات میں سب سے زیادہ قابل عمل قدم ہے، تاہم اس عمل میں مجرمانہ تاخیر سے کوئی انکار نہیں۔ 7 ایجنسیوں اور 6 فرنٹیر ریجنز پر مشتمل یہ علاقے ’’آزادی‘‘ کے نام پر 1901ء سے انگریز سامراج کے […]

پاکستان: بحرانوں کی دلدل

|تحریر: پارس جان| پاکستان کا سماج ایک ایسا پریشر کُکر بنتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ یہاں کے دانشوروں کا سالہا سال تک سب سے مرغوب جملہ یہی رہا کہ ’یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘۔ اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے […]