جبر و استحصال کے خلاف جدوجہد: مارکسی نظریات اورلبرل ازم

|تحریر: آصف لاشاری | محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے تمام بڑے شہروں میں عورت مارچ کا انعقاد کیا گیاجس میں عورتوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ گوکہ ان تمام مارچوں میں پیٹی بورژوا اور بورژوا خواتین کی اکثریت تھی مگر محنت کشوں کی مختلف پرتوں سے تعلق […]

کوئٹہ: قتلِ عام کے خلاف ہزارہ قوم کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، بلوچستان| کوئٹہ میں ہزار گنجی فروٹ مارکیٹ دھماکے میں قتل ہونے والے افراد کے لئے انصاف کے مطالبے پر مغربی بائی پاس پر ہزارہ قوم کا احتجاجی دھرنا شدید بارش کے باوجود آج تیسرے دن بھی جاری رہا۔ اس دھماکے میں 20 محنت کش ہلاک اور 48 زخمی ہوئے جن میں […]

ہزارہ نسل کشی کی نہ ختم ہونے والی داستان

|تحریر: زلمی پاسون| 11 اپریل کی صبح کوئٹہ شہر کے کاروباری مرکز ہزار گنجی میں ایک دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس دھماکے کا نشانہ مظلوم ہزارہ محنت کش عوام تھے جوکہ اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے ہزار گنجی فروٹ مارکیٹ کا رخ […]

پلوامہ حملہ اور کشمیر کی بغاوت

|تحریر: یاسر ارشاد| 14 فروری کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جموں سرینگر ہائی وے پر سنٹرل ریزرو پولیس فورس(CRPF) کے ایک قافلے پرجیش محمد نامی دہشت گرد تنظیم کے ایک کارکن عادل احمد ڈار کے خودکش حملے میں چالیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی افواج پر ہونے والا […]

خیسور کی چیخ

|تحریر: پارس جان| خطے کی صورتحال میں ایک بار پھر شدید ابال امڈتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کی خبروں کے بعد سے علاقائی سامراجی طاقتوں کے افغانستان کے ساتھ اور آپسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ پھر تیز ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ادھر امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات […]

ارمان لونی کا قتل: ریاستی جبر اور عوامی مزاحمت!

|تحریر: زلمی پاسون| بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے ایسا کوئی دن نہیں گزرا ہے جس میں ریاستی جبر کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی واقعہ رونما نہ ہوا ہو۔ مگر یہ واقعات کسی بھی طریقے سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت نہیں بنتے کیونکہ ان میں ریاست اور ان کے ادارے ملوث ہوتے […]

پاکستان: مظلوم قومیتوں کی تحریکیں۔۔۔نظریے اور تنظیم کی اہمیت

|تحریر: زلمی پاسون| 2008ء کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد دنیا بھر میں اْٹھنے والی تحریکوں نے سوویت انہدام کے بعد سے چھائے جمود کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس میں 2011 ء کی ’عرب بہار‘ ایک شاندار مثال ہے جس نے عرب ممالک میں کئی سالوں پر محیط بادشاہتوں کا خاتمہ کیا، لیکن یہ […]