پشتون عوام کی ریاستی جبر کے خلاف تحریک؛ طبقاتی جڑت ہی آگے بڑھنے کا واحد رستہ ہے!

|تحریر: کریم پرہر| اسلام آباد کے اندر گزشتہ آٹھ روز سے فاٹا کے قبائلی اور دیگر پشتون عوام نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل کے واقعے کے بعد احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ نقیب شہید کو ریاستی مشینری کے غنڈے راؤ انوار نے کراچی میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا تھا، جو کہ […]

نقیب اللہ محسود کے ریاستی قتل اور پختون عوام پر جاری ریاستی جبر کیخلاف لانگ مارچ پر ’لال سلام‘ کا اعلامیہ

نقیب اللہ محسود کے ریاستی غنڈے ایس ایس پی راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کے خلاف اور انصاف کے حصول کے لئے پختونخوا اور فاٹاسے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کل سے اسلام آباد میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ ان میں بچے، بوڑھے اور جوان شامل ہیں جو طویل مسافت طے […]

بلوچستان کے سلگتے زخم

|تحریر: بلاول بلوچ| 17دسمبر 2017ء کا دن اس ملک میں ایک ’نئے‘ یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا جائے گا مگر مملکت خداداد کی تاریخ میں کوئی بھی دن یہاں کے عام عوام کے لیے خوشی کا دن نہیں رہا۔ تین سال پہلے 16دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ اور اس طرح […]

پختونخواہ اور فاٹاکے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے!

جہاں تک سماجی تحریک کا تعلق ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا ہ آج ایک انقلابی کیفیت میں ہے۔ لیکن ایسا بھی قطعاً نہیں ہے کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز، اساتذہ، نرسز، کسان، صنعتی مزدور اور طلبا کی بہت بڑی تعداد نہ صرف اس بوسیدہ نظام سے اکتا گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بھی بلند کر رہے ہیں

آزاد پاکستان یا مظلوم طبقات اور قومیتوں کا جیل خانہ

اصل میں ہم جس میں رہتے ہیں وہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔ ایک امیروں کا پاکستان اور دوسرا غریبوں کا پاکستان۔ ایک جاگیرداروں کا پاکستان اور دوسرا ہاریوں اور کسانوں کا پاکستان۔ ایک سرمایہ داروں کا پاکستان اور دوسرا محنت کشوں کا پاکستان۔ ایک بیوروکریٹوں، جرنیلوں، ججوں اور میڈیا مالکان کا پاکستان اور دوسرا نہتے، لاچاروں، بیماروں اور مسکینوں کا پاکستان۔

بلوچستان کے زخم!

پچھلے سال 8 اگست کو کوئٹہ میں دن دیہاڑے ایک خودکش حملے میں وکلا کی ایک بڑی پرت کو مارا گیا تھا۔ لیکن ریاستی اداروں کی طرف سے اس گھناؤنے حملے پر جو ردِعمل آیا اس نے بلوچستان کے لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اس بدبخت صوبے کے گھاؤ اور بھی گہرے کر دیئے

کشمیر: تحریک کا ایک سال

’’آزادی‘‘ کے نعروں کی گونج وادی سے ابھر کر ایک بار پھر پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے۔ تحریک تھمنے کی بجائے بار بار مزید شدت سے ابل پڑتی ہے۔ بہیمانہ بھارتی ریاستی جبر اپنی انتہاؤں کے باوجود تحریک کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا

کشمیر: تحریکِ آزادی تاریخ کے اہم موڑ پر!

یہ کشمیر کی نئی نسل کی ایک انقلابی بغاوت ہے جو تخت دہلی اور اسلام آباد کو لرزا رہی ہے۔ کشمیر کی طلبہ تحریک نے کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور تبدیلی کا یہ عمل نہ تو کشمیر تک محدود ہے اور نہ اسے وہاں تک محدود رکھا جا سکتا ہے