ٹراٹسکی ازم کا جنم

|تحریر: راب سیول؛ ترجمہ: ولید خان| ’’ شدید بحرانات کے عہد میں تنگ نظر اور کمزور دل مایوسی میں ڈوبے جا رہے ہیں لیکن عالمی بائیں حزب اختلاف کی تعمیر و ترویج ہو رہی ہے ۔ در حقیقت یہ بحرانات ناگزیر ہیں۔ مارکس اور اینگلز کی آپسی خط و کتابت یا بالشویک پارٹی کی تعمیر […]

فوکویاما کا تذبذب: ’’سوشلزم واپس آنا چاہیے‘‘

|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: اختر منیر| 26 سال پہلے سوویت یونین کے انہدام کے بعد سرمایہ داری کے حامی خوشی سے پاگل ہوئے جا رہے تھے۔ وہ سوشلزم اور کمیونزم کی موت کی بات کرتے تھے۔ ان کے مطابق لبرل ازم کی جیت ہوچکی تھی اور تاریخی ارتقا نے سرمایہ داری کی صورت میں اپنا […]

پاکستان: مظلوم قومیتوں کی تحریکیں۔۔۔نظریے اور تنظیم کی اہمیت

|تحریر: زلمی پاسون| 2008ء کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد دنیا بھر میں اْٹھنے والی تحریکوں نے سوویت انہدام کے بعد سے چھائے جمود کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس میں 2011 ء کی ’عرب بہار‘ ایک شاندار مثال ہے جس نے عرب ممالک میں کئی سالوں پر محیط بادشاہتوں کا خاتمہ کیا، لیکن یہ […]

فلسفے کا خاتمہ؟

|تحریر: صبغت وائیں| یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ ہمارے ’دوستوں‘ کو خاتمے، ناکامی یا محرومی اور بے مائیگی وغیرہ سے کچھ زیادہ ہی محبت رہی ہے۔ اکثر کو تو اس بات پر جھگڑتے بھی پایا گیا ہے کہ سوشلزم میں مزدور کی تنخواہ ایک ڈاکٹر، انجینئر یا پروفیسر کے برابر کیوں ہو […]

کیاسوشلزم کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے؟

|تحریر: مارکسسٹ سٹوڈنٹس فیڈریشن، برطانیہ| |ترجمہ: مشعل وائیں| آئن سٹائن نے کہا تھا ، ’’ایک ہی کام کو بار بار دہرائے جانا اور سمجھنا کہ اس سے نتائج مختلف نکلیں گے، احمقانہ پن ہوتا ہے۔‘‘ تو پھر مارکسسٹ آخر سوشلزم کی جدوجہدکو کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے […]

مزدوروں کا صنعتوں اور اداروں پر جمہوری کنٹرول کیسے قائم ہو گا؟

|تحریر: راب سیول؛ ترجمہ: اختر منیر| برطانیہ میں اداروں کو دوبارہ قومیائے جانے کی بحث کے ساتھ (ایک پالیسی جس کا جیرمی کاربن کی لیبر پارٹی نے وعدہ کیا ہے)، محنت کشوں کے کنٹرول اور مینجمنٹ کا خیال بھی دوبارہ سامنے آگیا ہے۔ یہاں تک کہ حزب اختلاف کے چانسلر (Shadow Chancellor) جان میکڈونل نے […]