G7 سربراہی اجلاس: زوال پذیر سامراجی طاقتوں کا انتشار
عالمی معیشت میں افراطِ زر اور عدم استحکام۔۔بڑھتے تضادات میں دھنستی سرمایہ داری
سٹاک ایکسچینج کے جوئے میں نئے کھیل اور سرمایہ داری کا پاگل پن
”عظیم ترتیبِ نو“؛ ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس اور انقلاب سے خوفزدہ حکمران طبقہ
کیا معاشی بحالی ممکن ہے؟
|تحریر: ایڈم بوتھ، ترجمہ: یار یوسفزئی| سرمایہ دار کورونا وباء کا بحران ختم ہونے کے لیے بیتاب نظر آ رہے ہیں جن میں سے کئی تیز معاشی بحالی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ مگر آنے والے عرصے میں بحران، افراتفری اور طبقاتی جدوجہد ہی معمول کی باتیں ہوں گی۔ ممکنہ ویکسین کی خبروں سے سب […]
عالمی معیشت کی بحالی کی امید۔۔۔حقیقت یا سراب؟
حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق عالمی معیشت کے زوال کی شرح میں کمی آئی ہے جس کو دیکھ کر سرمایہ داروں اور سٹاک مارکیٹوں نے سکھ کا سانس لیا۔ تاہم کوئی ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہوا اور لاک ڈاؤن میں نرمی سے آنے والی ناگزیر بہتری سے گہرے معاشی، سماجی اور سیاسی بحران کا منظر نامہ تبدیل نہیں ہوگا۔
عالمی مالیاتی بحران اور دہکتی دنیا
سرمایہ دارانہ نظام جانکنی کے عالم میں ہے۔ یہ کوئی معمولی بحران نہیں بلکہ ایک نامیاتی بحران ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ ایک نئی عالمی کساد بازاری کا آغاز ہوچکا ہے جوکہ 1930ء کی دہائی سے بھی بدتر ہے۔بدترین کٹوتیاں اور گرتا معیار زندگی ناگزیر ہیں۔
لاک ڈاؤن کے بعد سرمایہ داری کے لیے بحرانوں کے نئے طوفان
سرمایہ داری: اربوں مزدوروں کی تباہی کا نسخہ
سرمایہ داری کی تاریخ کے بدترین بحران کا آغاز
کروناوبا کے پوری دنیا میں پھیلاؤ نے ایک عالمی کساد بازاری کا آغاز کر دیا ہے۔ حکمران طبقہ معیشت پراس خطرناک دھچکے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔