منٹو کی 100ویں سالگرہ؛ منٹو کا مسخ شدہ وژن
تحریر: ابن حسن:- ریڈیکل ہونے کا مطلب ہے چیزوں کو جڑ سے پکڑنا؛ تاہم انسانیت کی جڑ خود انسان ہے (مارکس)
سرمایہ دارانہ نظامِ تعلیم؛ جو علم پڑھایا جاتا ہے، وہ کیا ہے فقط سرکاری ہے!
تحریر: علی بیگ:- پاکستان کا نظام تعلیم برطانوی راج کا بنایا ہوا ہے۔ جسکا مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے کلرکس اور غلام پیدا کرنا تھا۔
نومبر 1917: انقلاب کی فیصلہ کن رات
تحریر: لیون ٹراٹسکی:- انقلاب کا قطعی وقت آپہنچا تھا۔سمولنی (مجلس عاملہ کا دفتر) کو ایک قلعے میں تبدیل کیا جارہا تھا۔ اس کی چھتوں پر دو درجن مشین گن نصب کر دی گئی تھیں۔
کراچی: اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا؟
تحریر:پارس جان:- بھلے دنوں کی بات ہے کہ جب کراچی پر امن سماجی سرگرمی سے بھرپور، خوشگوار انسانی جذبوں سے آراستہ ،مختلف قومیتوں، زبانوں اور نسلوں کے ہم آہنگ امتزاج سے سرشار خوبصورت اور پروقار شہر ہوا کرتا تھا۔
مارکسزم اور ڈارونزم
’’جس قسم کی اقدارکی پاسداری مارکسٹ نظریہ کرتاہے وہ ان سے تقریباً بالکل الٹ ہیں جو ہمارے موجودہ سائنسی طرزفکر سے سامنے آتی ہیں۔‘‘
ایران: تکلیف دہ امن آنے والی طبقاتی لڑائی کا پیش خیمہ
تحریر: حمید علی زادہ:- ایرانی سماج میں بہت بڑے تضادات پنپ رہے ہیں۔عوام معاشی بحران کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔
پاکستان!جہنم ارضی سے سوشلسٹ انقلاب ہی چھٹکارا دلائے گا
تحریر: آدم پال:- 4اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی 33ویں برسی ایک ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب پاکستان میں ہر روز طلوع ہونے والا سورج اپنے ساتھ نئے عذاب لاتا ہے۔
طبقاتی نظام تعلیم
تحریر:عاطف جاوید:- علم ایک ایسی دولت ہے جسے جتنابھی تقسیم کرو وہ کم نہیں ہوتی! علم ایک ایسا خزانہ جسے چرایا نہیں جاسکتا! آج بیٹھے بٹھائے چھٹی کلاس میں لکھے جانے والے مضمون کی یاد آنے لگی ہے۔
انقلاب کا سالماتی عمل
(The Molecular Process of Revolution) کیمیائی ردعمل کے وقوع پذیر ہونے میں ایک ایسا فیصلہ کن مرحلہ آتا ہے جسے عبوری حالت کہتے ہیں۔
۔8 مارچ خواتین کا عالمی دن
تحریر: انعم پتافی:- عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنی ہی پیدا کردہ عالمگیریت کے ہاتھوں بھی آخر کار شکست کھا چکا ہے۔موجودہ مالیاتی بحران نے عالمی آقاامریکہ اورپھر یورپ کے بعداب دوسرے نمبر پر ممکنہ عالمی آقا بننے والے ملک چین کی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔