|تحریر: شعیب اختر|

کمیونسٹ مینی فیسٹو (1848ء) کو شائع ہوئے آج 178 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کے اہم ترین اصول جو اس وقت قلم بند کئے گئے تھے اس قدر زندہ و جاوید ہیں گویا وہ کل ہی لکھے گئے ہوں۔ وہ دنیا جس میں مارکس اور اینگلز نے یہ تاریخی دستاویز لکھی تھی، صنعتی سرمایہ داری اپنی نوجوانی کے مراحل میں تھی اور آج کی دنیا سرمایہ داری کے تاریخی زوال و متروکیت کے عہد سے گزر رہی ہے جہاں پر سامراجی جنگیں، معاشی بحرانات، غربت، مہنگائی، لاعلاجی محنت کش طبقے کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں ہمیں آج مینی فیسٹو کی سچائیاں کہیں زیادہ واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

طبقاتی جدوجہد: تاریخ کی محرک قوت
کمیونسٹ مینی فیسٹو کے پہلے باب کے الفاظ میں: ”اب تک کی تمام انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے“مینی فیسٹو کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تاریخ کی محرک قوت طبقاتی جدوجہد ہے۔ آج کے دور میں ہمیں یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ واضح نظر آتی ہے جہاں ہمیں دنیا بھر میں انقلابی تحریکیں ابھرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ سری لنکا، بنگلادیش اور نیپال سے لے کر سامراجی جنگوں کے خلاف انقلابی تحریکیں، انقلابی بغاوت و سرکشی کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ نوجوان نسل اور محنت کش طبقہ پوری دنیا میں سرمایہ داری سے بیزار ہو رہے ہیں اور اسٹیٹس کو اور تمام روایتی پارٹیوں سے نفرت کرتے ہیں۔

سامراج: سرمایہ داری کی حتمی منزل
مینی فیسٹو نے واضح کیا تھا کہ سرمایہ داری اپنی توسیع اور منافعے کے حصول کے لیے عالمی منڈیوں کی تلاش میں نکلتی ہے اور ان پر غلبے کے لئے جنگیں لڑتی ہے۔ آج یہی عمل سامراجی جنگوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ آج کی زیادہ تر جنگیں کسی نام نہاد”قومی دفاع“کی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ ریاستوں اور خاص کر سامراجی قوتوں کے درمیان منڈیوں، وسائل اور جغرافیائی کنٹرول کی جنگیں ہیں۔ سرمایہ داری کا بحران ریاستوں کو“خونی تصادم”کی طرف دھکیلتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مینی فیسٹو کا نعرہ”دنیا کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ“اپنی سب سے زیادہ عملی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ کیونکہ ان جنگوں میں کوئی بھی”قوم“ نہیں جیتتی، صرف سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات کا دفاع کرتا ہے، جبکہ مزدور طبقہ دونوں طرف مر رہا ہوتا ہے۔ اور ان سامراجی جنگوں کے خلاف بننے والی تحریکوں نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح عالمی طور پر محنت کش طبقہ اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف صف آرا ہوتا ہے اور عالمی پرولتاری طبقاتی شعور کا عملی اظہار کرتا ہے۔
سرمایہ داری کا بحران: مینی فیسٹو کی پیش گوئیوں کی تصدیق
مینی فیسٹو نے سرمایہ داری کو ایک ایسا نظام قرار دیا تھا جو اپنی اندرونی تضادات کی وجہ سے مسلسل بحران پیدا کرتا ہے۔ آج کا عالمی منظرنامہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جسے”جنگوں، معاشی بحران، انقلابوں اور ردِ انقلاب کا عہد“قرار دیا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ، یوکرین، غزہ، افریقہ اور دیگر خطوں میں جنگیں جاری ہیں۔عالمی معیشت سست روی، مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش شدت اختیار کر رہی ہے۔
یہ سب سرمایہ داری کے اس نامیاتی بحران کی علامات ہیں جو 2008 ء کے بعد سے ابھی تک جاری وساری ہے۔ بلکہ یہ مزید گہرا ہو چکا ہے اور پورا نظام ایک تنگ گلی میں پھنس چکا ہے۔ مینی فیسٹو نے جس مسلسل بحران اور سرمایہ کے ارتکاز کی بات کی تھی، وہ آج نہ صرف حقیقت بن چکے ہیں بلکہ اپنی انتہا کو پہنچ رہے ہیں۔ چند بڑی اجارہ دار کمپنیاں پوری دنیا کی معیشت پر قابض ہیں، جبکہ اربوں انسان غربت، بے روزگاری اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ریاست، جمہوریت اور فریب
”جدید ریاست کی حکومت محض بورژوازی کے مشترکہ مفادات کو چلانے والی انتظامی کمیٹی ہے۔“مینی فیسٹو نے ریاست کو سرمایہ دار طبقے کا آلہ قرار دیا تھا۔ آج یہ حقیقت مزید واضح ہو چکی ہے۔ آج کی نام نہاد’جمہوریت‘ بڑی کارپوریشنز کے مفادات کے تابع ہے۔ میڈیا اور ریاستی ادارے سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت کرتے ہیں۔ اصلاحات محض عارضی ریلیف فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اصلاح پسندی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ سرمایہ داری نظام کے اندر محنت کش طبقے کے حالات زندگی بہتر نہیں ہو سکتے اس کے لیے محنت کش طبقے کو سیاسی اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے کر مزدور ریاست قائم کرنی ہو گی۔ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ کرتے ہوئے اس کو محنت کش طبقے کی مشترکہ ملکیت اور جمہوری کنٹرول میں لے کر ہی ان وسائل کو انسانی بقاء اور فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انقلابی قیادت کا بحران
اگرچہ سرمایہ داری بحران کا شکار ہے، لیکن انقلاب خود بخود نہیں آتا۔جیسا کہ ٹراٹسکی نے کہا تھا: ”آج انسانیت کا بحران، درحقیقت انقلابی قیادت کے بحران میں سمٹ چکا ہے“۔آج بھی یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی سطح پر مزدور تحریک بکھری ہوئی ہے۔ نظریاتی ابہام موجود ہے۔ انقلابی قیادت کا فقدان ہے۔ اسی لیے مینی فیسٹو میں مارکس اور اینگلز نے بین الاقوامی سطح پر کمیونسٹ قیادت تعمیر کرنے کی بات کی تھی اور ساتھ ہی کمیونسٹوں کے فرائض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی تھی۔ یہ ہدایات آج بھی دنیا بھر کے کمیونسٹوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
مینی فیسٹو پڑھنا آج بھی کیوں ضروری ہے؟
سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر تاریخی متروکیت کا شکار ہے اور دنیا بھر میں انقلابی تحریکیں برپا ہو رہی ہیں۔ محنت کش اور نوجوان بہادری، حوصلہ و جرات کی مثال قائم کر رہے ہیں اور اس کرہ ارض کو جنت ارضی میں بدلنا چاہتے ہیں جو کہ نہایت حوصلہ آفزا ء اور خوش آئند بات ہے۔ لیکن محض جزباتی نعروں اور بہادری سے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ انقلابی نظریہ وہ ہتھیار ہے جو ہمارے عمل کی رہنمائی کرتا ہے اور کمیونسٹ مینی فیسٹو انسانی تاریخ، سرمایہ دارانہ نظام اور انقلابی جدوجہد کے سائنسی مطالعے کے ساتھ ہمیں وہ انقلابی جانکاری عطا کرتا ہے جو ہماری سمت کا درست تعین کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔