بھکر: یوم مئی پروگرام، مزدور جدوجہد کو منظم کرنے کا نیا عزم!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بھکر|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے پاکستان میں بیس سے زائد شہروں میں یوم مئی 2026ء جوش و خروش سے منایا۔ ایک ایسے وقت میں جب تمام روایتی سیاسی پارٹیاں، مزدور تنظیمیں اور نام نہاد سماجی شخصیات مزدوروں کے عالمی دن پر زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کرتی ہیں، انقلابی کمیونسٹ پارٹی پورے ملک میں حقیقی مزدور انقلابی نظریات اور جدوجہد کا علم اٹھا کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سال پارٹی نے ”سامراج کا ایک علاج، مزدور راج!“ کے عنوان سے پورے ملک میں پروگرام، ریلیاں اور احتجاج منظم کیے۔ اس کے ساتھ گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور پارٹی کے مرکزی رہنماء احسان علی کی دو مہینوں سے زیادہ غیر قانونی اور جبری گرفتاری کے خلاف بھی احتجاج کیے گئے اور مذمتی قرار دادیں منظور ہوئیں۔ اس سلسلہ میں بھکر میں بھی ایک بھرپور پروگرام منعقد کیا گیا۔

بھکر کے پروگرام میں شعبہ صحت کے مختلف ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد، طلبہ، مزدوروں، اساتذہ اور خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام میں کامریڈ ولید خان نے یوم مئی کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی کہ کیسے مئی 1886ء میں شکاگو کے مزدوروں نے ولولہ انگیز جدوجہد کرتے ہوئے ”آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح، آٹھ گھنٹے آرام“ کی جدوجہد کو اپنے خون سے منور کیا جس کی آب و تاب آج بھی محنت کش کے اوقات کار کا تعین کر رہی ہے۔ لیکن آج کا مزدور ڈیڑھ سو سال پہلے والے حالات پر پہنچ چکا ہے جس کے لیے محنت کشوں کو درست انقلابی نظریات اور انقلابی قیادت کے تحت منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کے آج کی گلی سڑی سرمایہ داری کی تباہ کن صورتحال پر بحث کو آگے بڑھایا۔ لینن نے آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”سامراجیت، سرمایہ داری کی حتمی منزل“ میں واضح کیا تھا کہ سامراجیت کسی فرد واحد کی چالبازی یا نظام کی خرابی نہیں بلکہ سرمایہ داری کے ارتقائی عمل کا حتمی نتیجہ ہے۔ پھر لینن نے سامراجیت کے پانچ اصول وضع کیے تھے ان پر تفصیلی بات ہوئی۔ آخر میں سامراج کا مقابلہ کرنے اور محنت کش طبقے کے تباہ کن حالات کو تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے بحث کو سمیٹا گیا۔

ہمارے لیے پیرس کمیون 1871ء کا انقلاب اور اکتوبر 1917ء کا روسی انقلاب مشعل راہ ہیں جب محنت کش طبقے نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مزدور ریاست قائم کرنے کی جسارت کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ سماج کو بورژوا سیاست دانوں، سرمایہ داروں، ججوں، جرنیلوں، بینکوں، جاگیرداروں، ریاستی اشرافیہ اور غلیظ دانشوروں کے بغیر نہ صرف منظم کیا جا سکتا ہے بلکہ احسن انداز میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے چلایا بھی جا سکتا ہے۔ آج حکمران طبقہ فیصلہ کر چکا ہے کہ نظام کے نامیاتی بحران کی قیمت محنت کش طبقہ ادا کرے گا۔ اسی لیے ہمیں کمزور ہوتے امریکی سامراج اور تازہ دم چینی سامراج کے تسلط کے لیے عالمی لڑائی میں پوری دنیا میں مشرق وسطیٰ سے افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیاء تک جنگ و جدل، تجارتی جنگیں اور تباہی و بربادی نظر آ رہی ہے۔ جس نظام نے اپنے عکس میں ایک دنیا کو تعمیر کیا تھا آج اس کی ایک ایک اینٹ خود اکھاڑ رہا ہے۔

یہی سامراج دور افتادہ ممالک میں منڈیوں، خام مال اور سستی لیبر کے لیے مقامی عوام کو تخت و تاراج کرتا ہے تو اپنے ملک میں ٹیکسوں، سماجی کٹوتیوں، بیروزگاری اور رد اصلاحات کے ذریعے اپنی ہی عوام کا قاتل بنا ہوا ہے۔ اگر ہم نسل انسانیت اور کرہ ارض کی بقاء کے متمنی ہیں تو آج اس نظام اور اس کی پیدا کردہ سامراجیت کے خاتمے کے لیے جدوجہد منظم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اور اس جدوجہد کی پہلی منزل اپنے ممالک میں محنت کشوں کی اپنے حکمران طبقات کے خلاف جدوجہد ہے جس کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلا کر انسانیت کو ہمیشہ کے لیے اس ظلم و جبر سے آزادی دلائی جائے اور دنیا کو جنت بنایا جائے۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء دیر تک بیٹھے ملکی سیاست، معیشت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بحث مباحثہ کرتے رہے۔ بالآخر مزدور جدوجہد کو سوشلزم کے انقلابی نظریات پر منظم کرتے ہوئے پارٹی کے کام کو بڑھانے پر اتفاق ہوا اور نشست اختتام کو پہنچی۔