|تحریر: ثاقب اسماعیل|

پاکستان کا سرکاری اور نجی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا، ایک بار پھر حکمران طبقے کی ایما پر، کشمیر کے جرات مند محنت کش عوام کی اپنے بنیادی حقوق کے لیے جاری تحریک سے متعلق رات دن جھوٹ اور نفرت پھیلانے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے۔ غیر جانبداری کو صحافتی ذمہ داری قرار دینے کا بھاشن دینے والے ٹاک شوز اور مختلف پروگراموں میں بیٹھے دانشوروں نے حکمران طبقے کی طرف اپنے جانبداری یا صحیح الفاظ میں دلالی اور سہولت کاری کے شاید پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
’آزاد‘ کشمیر کی تاریخ میں شاید پہلی بار خواتین سمیت بچوں سے لے کر بزرگوں تک لاکھوں لوگ اس لیے احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں کہ وہ اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ چاہتے ہیں، مفت اور معیاری علاج چاہتے ہیں، مفت اور معیاری تعلیم چاہتے ہیں، سستی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے نام پر مختص گئی 12 سیٹیں جو مقتدر ہ کی جانب سے سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے حکومتیں بنانے اور گرانے میں استعمال ہوتی ہیں اس کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اسی طرح ان کے 38 مطالبات ہیں جو صرف اور صرف بنیادی و جائز مسائل کے حل کے لیے ہیں۔
حکومت پاکستان اور حکومت’آزاد‘ کشمیر نے پچھلے سال 4 اکتوبر 2025 ء کو یہ تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 3 ماہ کے اندر عملدرآمد کا معاہدہ کیا تھا، مگر اب حکومت ان تمام وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور اس نے نہ صرف کشمیر کے محنت کش عوام کو دھوکہ دیا ہے بلکہ پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں سیکیورٹی فورسز کو کشمیر میں لا کر ہولناک جبر مسلط کر دیا گیا جس میں درجنوں نہتے لوگوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے اور بچہ بچہ اس حقیقت سے آگاہ ہے، مگر نام نہاد’غیر جانبدار‘ میڈیا نے پاکستان اور ’آزاد‘ کشمیر کے حکمرانوں کی اس مذموم پراپیگنڈہ کیمپئین میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اے آر وائے نیوز، جیو نیوز، ایکسپریس نیوز، سما نیوز، دنیا میڈیا گروپ المختصر کاروباری شخصیات اور سرمایہ داروں کے نمائندہ تمام ٹی وی چینلز یہی غلیظ پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ کشمیر میں تحریک ناکام ہو گئی ہے، احتجاجی دھرنوں میں لوگوں کی شرکت نہیں ہے یا پہیہ جام و شٹر ڈاؤن سٹرائیک ناکام ہو گئی ہے وغیرہ وغیرہ، جبکہ نا صرف انٹرنیشنل میڈیا بلکہ سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے جن میں واضح ہے کہ نا صرف ان احتجاجی دھرنوں میں ہزاروں لوگ شامل ہیں بلکہ پورے ’آزاد‘ کشمیر میں دکانیں اور ٹرانسپورٹ بند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کشمیر کے محنت کش عوام ہر طرح کے جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
پاکستان کے محنت کش عوام جو بالکل انہی مسائل کا شکار ہیں اور وہ بھی ان مسائل کے خاتمے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، جو جدوجہد کشمیر کے محنت کش عوام کر رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا دراصل پاکستان خصوصاً پنجاب کے محنت کش عوام کو اس تحریک سے دور کرنا چاہتا ہے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ یہاں کے لوگ بھی عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کی طرح منظم ہو کر تحریک نا شروع کر دیں،جس سے حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں اور مراعات سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
پاکستانی میڈیا ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اس تحریک کے خلاف بیانیہ بنائے مگر ابھی تک ناکام ہے، کیونکہ میڈیا کا پروپیگنڈہ یہاں کے محنت کش عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا محنت کش طبقہ اسوقت تاریخی طور پر بدترین مہنگائی اور لوٹ مار کا شکار ہے اور اس سب کے خلاف عنقریب جدو جہد کے میدان میں آئے گا جس سے حکمران طبقے اور گماشتہ دانشوروں کو شدید خوف لاحق ہے۔
ہم کمیونسٹ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں کارپوریٹ میڈیا سرمایہ دار طبقے اور اس کی پروردہ ریاست کی نمائندگی کرتا ہے، یہ محنت کش طبقے کی نمائندگی نہیں کرتا جس کا کشمیر کی حالیہ تحریک میں کُھل کر اظہار بھی ہو رہا ہے۔