|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

بلوچستان گرینڈ الائنس کے زیرِ اہتمام 10 جون کو ریلوے اسٹیشن کے قریب دربار گارڈن میں منعقد ہونے والا مزدور کنونشن حکومتی اور بیوروکریسی کے مزدور دشمن رویے کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ آج صبح جب بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت اور مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے محنت کش کارکن مقررہ مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر ہال کو سیل کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام کے خلاف بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہال کے سامنے مختصر تقاریر کیں اور حکومتی و انتظامی رویے کی شدید مذمت کی۔ بعد ازاں ریلوے اسٹیشن سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہو گئی۔ مظاہرے کے بعد کوئٹہ پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس نے اتحاد کی گزشتہ ڈیڑھ سال پر محیط جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے محنت کشوں اور سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل، حکومتی پالیسیوں اور بیوروکریسی کے مزدور دشمن اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی اور مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر بلوچستان گرینڈ الائنس نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 11 اور 12 جون کو پورے بلوچستان میں محنت کش اور سرکاری ملازمین تمام سرکاری دفاتر میں سیاہ جھنڈے لہرائیں گے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ محکمہ صحت کی ہنگامی خدمات کے علاوہ دیگر تمام سرکاری اداروں میں مکمل ہڑتال اور لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
مزید برآں، 15 جون سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان گرینڈ الائنس کا مرکزی احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا جو صوبائی بجٹ پیش ہونے تک جاری رہے گا۔ بجٹ اجلاس کے دوران پورے صوبے کے محنت کشوں اور ملازمین کو کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے میں شرکت کی کال بھی دی گئی ہے۔
اسی روز بلوچستان کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ یہ احتجاجی تحریک صوبائی بجٹ سے آگے بھی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان گرینڈ الائنس کی جاری جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور آغازِ تحریک سے ہی اس جدوجہد میں ایک فعال اور ہر اول دستے کے طور پر شریک رہی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ محنت کشوں، سرکاری ملازمین، طلبہ، کسانوں اور دیگر محکوم طبقات کے معاشی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے متحدہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی سمجھتی ہے کہ موجودہ حکمران طبقہ عالمی مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، کی مسلط کردہ معاشی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن کا تمام تر بوجھ محنت کش عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ مہنگائی، نجکاری، تنخواہوں اور پنشنوں پر حملے، عوامی خدمات میں کٹوتیاں اور روزگار کے مواقع میں کمی انہی پالیسیوں کے نتائج ہیں۔ دوسری جانب محنت کشوں اور عوام کی آواز کو دبانے کے لیے جمہوری اور سیاسی حقوق پر مسلسل قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں محنت کش عوام کو اپنے مشترکہ طبقاتی مفادات کی بنیاد پر متحد ہونا ہو گا۔ کشمیر سے کراچی، گلگت بلتستان سے گوادر تک محنت کشوں، کسانوں، طلبہ اور نوجوانوں کی یکجہتی ہی اس استحصالی نظام اور اس کے محافظ حکمران طبقے کا مؤثر جواب بن سکتی ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ محنت کش طبقے کے مسائل کا مستقل حل سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ممکن نہیں۔ پارٹی کے نزدیک طبقاتی جدوجہد، عوامی جمہوری حقوق کے دفاع اور ایک سوشلسٹ متبادل کی تعمیر ہی وہ راستہ ہے جو محنت کش عوام کو غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور استحصال سے نجات دلا سکتا ہے۔