بلوچستان: بلوچستان گرینڈ الائنس کا صوبے کے مختلف مقامات پر کامیاب ورکرز کنونشن کے انعقاد کے بعد 10 جون کو کوئٹہ میں عظیم الشان ورکرز کنونشن منعقد کرنے کا اعلان!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

بلوچستان گرینڈ الائنس دراصل بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کا ہی تسلسل ہے اور مؤخر الذکر الائنس 2021ء میں ملکی سطح پر محنت کشوں کے ملک گیر الائنس یعنی اگیگا (AGEGA) کے سلسلے میں قائم کیا گیا تھا۔ موجودہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی بنیاد جنوری 2025ء میں رکھی گئی تھی اور یہ اپنے قیام کے پہلے روز سے ہی مسلسل جدوجہد کے میدان میں ہے، جس کا بنیادی اور واحد مقصد بلوچستان کے محنت کشوں کی حالتِ زار کو یکسر بدلنا ہے۔

2025ء اور رواں سال کے اوائل میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے ساتھیوں کو اپنے جائز اور قانونی مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے پر بدترین ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید گرمی اور خون جماتی سردی کے موسموں میں سینکڑوں کارکنوں کو جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں قید کیا گیا، ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، مختلف اوچھے ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا گیا، تنخواہیں بند کی گئیں اور نوکریوں سے معطلی و برخاستگی جیسے سنگین حربے استعمال کر کے ذہنی و جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ مگر ان تمام تر مظالم کے باوجود بلوچستان گرینڈ الائنس کے محنت کش نہ صرف اپنے مطالبات کے لیے پُر عزم رہے، بلکہ اس جبر نے ان کی طبقاتی جدوجہد کو مزید منظم، پختہ اور بیدار کر دیا ہے۔

پشین

رواں مہینے کے آغاز سے بلوچستان گرینڈ الائنس نے صوبے کے مختلف اضلاع، جن میں جعفرآباد، سبی، پشین، لورالائی اور ژوب شامل ہیں، میں عظیم الشان ورکرز کنونشنز کا کامیاب انعقاد کیا۔ ان کنونشنز کے ذریعے الائنس کی قیادت نے آنے والے مالی سال کے بجٹ کے تناظر میں پورے صوبے کے محنت کشوں کو متحرک کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور درست حکمتِ عملی کا انتخاب کیا۔ شیڈول کے مطابق صوبے کے دیگر اہم مقامات جیسے خاران، دالبندین، خضدار، پنجگور اور حب میں بھی ورکرز کنونشنز منعقد ہونا تھے، لیکن مجموعی طور پر سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اضلاع میں کنونشنز کے انعقاد کو فی الوقت معطل کر دیا گیا ہے۔

جن مقامات پر ورکرز کنونشنز منعقد ہوئے، وہاں محنت کشوں کی تاریخی اور بھاری اکثریت نے شرکت کر کے نااہل صوبائی حکومت، کرپٹ بیوروکریسی اور حکمران طبقے کے ایوانوں پر لرزہ طاری کر دیا۔ ہر کنونشن کے دوران غیور محنت کشوں نے بلوچستان گرینڈ الائنس کی موجودہ قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہر قسم کی قربانی دینے کا اعادہ کیا اور محنت کشوں کا یہی انقلابی اتحاد الائنس کی قیادت کو حقیقی طاقت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔

ژوب

انقلابی کمیونسٹ پارٹی ان کنونشنز کے کامیاب انعقاد پر بلوچستان گرینڈ الائنس اور تمام ملازمین کو مبارکباد پیش کرتی ہے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس نے ان کنونشنز کے انعقاد کے دوران ہی 10 جون 2026ء کو ورکرز کنونشن منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ کنونشن کوئٹہ میں منعقد کیا جائے گا جس میں بلوچستان بھر سے ملازمین اس میں شرکت کریں گے۔ اس کنونشن میں بلوچستان گرینڈ الائنس اپنے مطالبات کے حصول پر زور دے گا جن میں گزشتہ سال ملازمین کو ڈی آر اے کا نہ ملنا جبکہ صوبائی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وفاقی طرز پر ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ڈی آر اے میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ گزشتہ سال صوبائی حکومت نے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا لیکن ڈی آر اے میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ ملازمین کے مطالبات میں گزشتہ ڈی آر اے اور اس سال کے بجٹ میں بھی ڈی آر اے میں اضافے کا مطالبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملازمین کی پروموشن، اپ گریڈیشن، کنٹریکٹ پر ہونے والی بھرتیوں کے خلاف، مہنگائی کے خاتمے اور نجکاری کے خاتمے اور دیگر مطالبات شامل ہیں۔

سبی

بطور انقلابی کمیونسٹ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان گرینڈ الائنس اس وقت اپنی تنظیمی طاقت اور کمزوریوں دونوں سے اچھی طرح آشنا ہو چکا ہے۔ اس وقت قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس اتحاد کو صوبے بھر کے تمام محروم محنت کشوں تک منظم طریقے سے پھیلانا اور اسے مزید مضبوط بنانا ہے۔ الائنس کو اب ایک سنجیدہ اور واضح سیاسی پروگرام دینے کی ضرورت ہے، جو موجودہ حالات میں محنت کشوں کے لیے حقیقی نجات کا راستہ ثابت ہو سکے۔ گو کہ الائنس کی قیادت بار ہا اپنی تقاریر میں یہ واضح کرتی آئی ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں، مگر ہمارا پختہ نظریہ ہے کہ طبقاتی جدوجہد ہی درحقیقت سماج کی بنیادیں تبدیل کرنے کا اصل سیاسی عمل ہے، اس لیے الائنس کی قیادت کو ببانگِ دہل اپنے مطالبات اور اس جدوجہد کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنا ہو گا۔

لورالائی

اگرچہ اس وقت سطح پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں محنت کشوں کی کوئی نمائندہ اور حقیقی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے، مگر دوسری جانب انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے اندر محنت کش طبقے کے لیے ایک انقلابی اوزار یعنی ان کی اپنی حقیقی طبقاتی سیاسی پارٹی کی تعمیر کے عمل میں دن رات مصروف ہے۔ ایسی صورتحال میں، جہاں ایک طرف محنت کشوں کی اپنی سیاسی قوت تعمیر ہو رہی ہو، وہاں ان الائنسز کو شعوری طریقے کے تحت غیر سیاسی کہنا درحقیقت زمینی حقائق سے روگردانی کرنے کے مترادف عمل ہے۔

جعفرآباد

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا یہ واضح مؤقف ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کو اگر مستقل کامیابی سے ہمکنار ہونا ہے، تو اسے سب سے پہلے اپنی صفوں کے اندر نظریاتی اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے ایک واضح سیاسی پروگرام سامنے لانا ہو گا، بصورتِ دیگر یہ الائنسز محض وقتی غصے کو زائل کرنے کا ایک عارضی اوزار بن کر رہ جائیں گے۔ اگلے مالی سال کا بجٹ پیش ہونے جا رہا ہے، جہاں ایک بار پھر حکمران طبقہ پورے ملک کے محنت کشوں کو قربانی کا بکرا بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس نازک موڑ پر بلوچستان گرینڈ الائنس سمیت تمام صوبوں اور پورے ملک کے محنت کشوں کو حکمران طبقے کے عوام دشمن عزائم کے برعکس ایک واضح پروگرام کے تحت خود کو منظم کرنا ہو گا۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری، غربت اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی عدم موجودگی ہے، تو دوسری طرف بڑھتا ہوا ریاستی جبر اور حکمرانوں کے مظالم ہیں۔ ان حالات میں محنت کشوں کی طبقاتی بنیادوں پر، ایک واضح طبقاتی لائن کے ساتھ منظم جدوجہد ہی راہِ نجات ثابت ہو سکتی ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت سے پُر زور اپیل کرتی ہے کہ:

1۔ صوبے بھر کے ان تمام محنت کشوں کو بھی فوری طور پر اپنے ساتھ شامل کر کے اس تحریک کا حصہ بنایا جائے جو اب تک کسی بھی وجہ سے اس الائنس کا حصہ نہیں بن سکے، تاکہ اس طبقاتی اتحاد کو صوبائی سطح پر مزید وسعت اور طاقت دی جا سکے۔

2۔ بلوچستان میں ان فارمل سیکٹر (غیر رسمی شعبے) سے منسلک لاکھوں محنت کشوں، بالخصوص بارڈر ٹریڈ (سرحدی تجارت) کے مظلوم و مجبور مزدوروں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے الائنس کی صفوں کے اندر فوری طور پر سنجیدہ اور منظم بحث کا آغاز کیا جائے، تاکہ ان کے معاشی حقوق اور تحفظ کو بھی اس عظیم طبقاتی جدوجہد کا لازمی حصہ بنایا جا سکے۔

نجکاری نامنظور!
مزدور اتحاد، زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!