بلوچستان: سوررینج کوئلہ کان سانحہ میں 34 کان کن جابحق، قاتل مالکان، لیز ہولڈرز، ٹھیکیدار اور محکمہ مائنز کے ذمہ دار افسران کے خلاف قتل کے مقدمات درج کرتے ہوئے گرفتار کیا جائے!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

کوئٹہ کے علاقے سوررینج میں کوئلہ کان میں میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں 42 محنت کشوں میں سے 34 کان کنوں کی ہلاکت اور دیگر مزدوروں کے پھنس جانے کا المناک سانحہ سرمایہ دارانہ نظام اور ریاستی اداروں کی مجرمانہ بے حسی کا ایک اور بھیانک ثبوت ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی 34 محنت کشوں کے قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور تمام زخمی و پھنسے ہوئے کان کنوں کی فوری، محفوظ اور مکمل بازیابی کا مطالبہ کرتی ہے۔

یہ حادثہ نہیں، قتل ہے!

بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مسلسل ہونے والی اموات کسی قدرتی آفت یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ منافع کی ہوس، حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی، کان کنوں سے غیر انسانی حالات میں کام لینے اور ریاستی اداروں کی مجرمانہ غفلت کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ سرمایہ دار مالکان اور لیز ہولڈرز محنت کشوں کے خون پر منافع کماتے ہیں، جبکہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور متعلقہ سرکاری افسران ان قاتلانہ حالات کو روکنے کی بجائے سرمایہ داروں کے مفادات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ کول مائنز کے مالکان، لیز ہولڈرز، ٹھیکیدار اور محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ذمہ دار افسران و انسپکٹرز، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ اہلکاروں اور اس قتل عام کے تمام ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر قتل اور مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج کیے جائیں۔ انہیں گرفتار کیا جائے، ان کی جائیدادوں اور اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں اور ایک آزاد عوامی تحقیقات کی جائیں، جس میں بالخصوص کان کنوں کی شرکت یقینی بنائی جائے، تاکہ تمام ذمہ داران کو سخت سزا دی جا سکے۔

34محنت کشوں کی لاشیں اس نظام کے خلاف فردِ جرم ہیں!

ہر سانحے کے بعد حکمران طبقہ چند تعزیتی بیانات جاری کرتا ہے، کمیٹیاں بناتا ہے اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ نام نہاد ٹریڈ یونین قیادت بھی احتجاج کو رسمی بیانات اور نمائشی سرگرمیوں تک محدود رکھتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کان کن مرتے رہتے ہیں، مالکان منافع کماتے رہتے ہیں اور ریاستی ادارے اپنی مجرمانہ ذمہ داری سے بچتے رہتے ہیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی تمام کان کنوں، مزدور تنظیموں، طلبہ، نوجوانوں اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ اس قتل عام کے خلاف فوری طور پر سڑکوں پر نکلیں۔ احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی سرگرمیاں منظم کی جائیں اور قاتل مالکان و ذمہ دار سرکاری افسران کی گرفتاری تک جدوجہد جاری رکھی جائے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان کے تمام محنت کشوں، مزدور تنظیموں، طلبہ و نوجوانوں کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کے محنت کشوں، طلبہ، ترقی پسند اور مزدور تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ سوررینج کے 34 کان کنوں کے قتل کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور بلوچستان میں ہونے والے اس طرح کے مسلسل سانحوں کے خلاف احتجاج میں یکجہتی کے ساتھ ہمارا ساتھ دیں۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، اجلاسوں اور دیگر احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے کان کنوں کے مطالبات کی حمایت کی جائے اور قاتل مالکان، لیز ہولڈرز، ٹھیکیداروں اور ذمہ دار ریاستی افسران کے خلاف کاروائی کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔ بلوچستان کے کان کنوں کا خون صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں، یہ پورے پاکستان کے محنت کش طبقے کا مسئلہ ہے۔ ایک جگہ محنت کشوں پر ہونے والا ظلم درحقیقت پورے محنت کش طبقے پر حملہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کے کان کنوں کی جدوجہد کو پاکستان بھر کے محنت کشوں، طلبہ اور عوام کی جدوجہد سے جوڑا جائے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں:
1۔ تمام ذمہ دار مالکان، لیز ہولڈرز، ٹھیکیداروں اور سرکاری افسران کے خلاف قتل کے مقدمات درج کیے جائیں۔
2۔ ذمہ داران کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔
3۔ جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کو مکمل اور باعزت معاوضہ دیا جائے۔
4۔ زخمی مزدوروں کا مکمل اور مفت علاج ریاست کی ذمہ داری قرار دیا جائے۔
5۔ تمام کوئلہ کانوں میں فوری طور پر حفاظتی معائنہ اور بین الاقوامی معیار کے حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
6۔ خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور کرنے والے مالکان کے خلاف فوری کاروائی کی جائے۔
7۔ کان کنوں کو حقیقی جمہوری مزدور تنظیموں میں منظم کر کے کانوں کے حفاظتی نظام اور پیداوار پر مزدوروں کا جمہوری کنٹرول قائم کیا جائے۔

محنت کشوں کی زندگیاں سرمایہ داروں کے منافع سے زیادہ قیمتی ہیں۔ 34 کان کنوں کا خون خاموشی سے نہیں بہنے دیا جائے گا۔ اس قتل عام کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاج کو منظم کرتے ہوئے کان کنوں کی جدوجہد کو تمام محنت کشوں کی جدوجہد سے جوڑنا ہو گا۔

یہ صرف 34 کان کنوں کا قتل نہیں؛ یہ اس پورے استحصالی نظام کا جرم ہے جس میں منافع انسان سے زیادہ اہم ہے۔ اس نظام کے خاتمے اور ایک ایسے سوشلسٹ معاشرے کے قیام تک جدوجہد جاری رکھنا ہو گی، جہاں پیداوار کا مقصد سرمایہ داروں کا منافع نہیں بلکہ انسانی ضروریات کی تکمیل ہو۔