|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

ادریس بابر اردو زبان کے معروف اور مستند شاعر ہیں۔ انہوں نے اس بربریت پر شعر کہا ہے۔
آگ لگی ہے، کس کا گھر ہے، کس سے پوچھیں
راولہ کوٹ ہے؟ سری نگر ہے؟ کس سے پوچھیں
اس وقت ”آزاد“ کشمیر میں لاکھوں لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی ریاست ان نہتے عوام پر بد ترین جبر کی مثال قائم کر رہی ہے۔ 9 جون کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے اس خطے کے غیور عوام پر ظلم اور جبر کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی لیکن اس سب کے باوجود اس خطے نے قربانیوں اور جدوجہد کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے جس کے باعث حکمرانوں پر لرزہ طاری ہے اور ان کے ایوان کانپ رہے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری اس جدوجہد کو روکنے کے لیے پہلے عوام کے اس پلیٹ فارم کو دہشت گرد قرار دے کر پابندی لگائی گئی اور اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ اسی کے ساتھ ہی بکاؤ میڈیا پر ایک زہریلے پراپیگنڈے کا آغاز کر دیا گیا جس میں اس ملک کے تمام مشہور تجزیہ نگاروں میں زہر بھر کر عوام پر اگلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا جو ابھی بھی جاری ہے۔ اسی کے ساتھ ہی تمام عوام دشمن وزیر، مشیر اور سیاستدان ان چینلوں پر بیٹھ کر عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد پر بہتان لگانے کے نئے ریکارڈ قائم کرتے گئے۔ حکمران طبقے کے ان تمام گماشتوں کو سب سے زیادہ تکلیف یہ ہے کہ محنت کش لوگ اپنا حق مانگنے کے لیے باہر کیوں نکل آئے ہیں اور ان کی قیادت بھی کسی سرمایہ دار، جرنیل، جج یا حکمران طبقے کے دوسرے گماشتے کے پاس نہیں بلکہ ان محنت کشوں نے اپنے جیسے ہی لوگوں کو اپنا نمائندہ بنایا ہے اور ایک اجتماعی قیادت کو تشکیل دیا ہے جس میں کسی ایک شخص کو کوئی فیصلہ سازی کا اختیار نہیں۔

پاکستان کے حکمران اپنے ملک کے عوام پر بد ترین جبر کے پہاڑ توڑ چکے ہیں اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو تاریخ کی بلند ترین سطح تک لے جانے کے ساتھ مہنگائی اور بیروزگاری کا عذاب مسلط کیے جا رہے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ ”آزاد“ کشمیر کی تحریک پورے پاکستان میں ایک عوامی تحریک کو جنم دے سکتی ہے اور جن عوام کو یہاں کے حکمران کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں وہ اپنا حق مانگنے کے لیے باہر نکل سکتے ہیں اور اس ملک کی ہزاروں ارب ڈالر کی دولت پر اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں جسے یہاں کے حکمران نہ صرف خود لوٹتے ہیں بلکہ آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں کی بھی گماشتگی کرتے ہوئے انہیں پورا حصہ دیتے ہیں۔
اس عوامی تحریک کو روکنے کے لیے پہلے اس تحریک کے ایک اہم قائد سردار عمر نذیر پر راولاکوٹ کے قریب قاتلانہ حملہ کروایا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئے جبکہ ان کے ساتھی اور تحریک کے اہم کارکن شاہزیب حبیب شہید ہو گئے۔ اس کے بعد شاہزیب کے جنازے پر جمع ہونے والے ہزاروں لوگوں پر رینجرز اور پاکستان کے دیگر سکیورٹی اداروں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ابھی تک مصدقہ طور پر موصول نہیں ہوئی لیکن یہ خدشہ ہے کہ ایک سو سے زائد افراد اس قتل عام میں شہید ہوئے ہیں جن کی نعشیں بھی ورثاء کے حوالے نہیں کی جا رہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ اس قتل عام سے پہلے علاقے کی بجلی بند کر دی گئی اور اس جگہ پر موجود تمام عمارتوں کی چھتوں پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا جہاں سے انہوں نے نہتے عوام پر فائرنگ شروع کی جو صبح تک جاری رہی۔ اس دوران زخمیوں کی مدد کرنے والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ ہسپتال میں خون کا عطیہ دینے والوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح ہسپتال کے عملے کو زخمیوں کا علاج کرنے سے منع کر دیا گیا۔ ظلم کی یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی اور آج بھی لانگ مارچ کے لیے روانہ ہونے والے قافلوں پر فائرنگ کی جا رہی ہے جس میں سے ضلع کوٹلی سے شہادتوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
لیکن اس تمام تر ظلم کے باوجود لاکھوں افراد کے قافلے آج ”آزاد“ کشمیر کے تمام علاقوں سے روانہ ہو چکے ہیں اور راولاکوٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔ راولاکوٹ میں ابھی بھی ایمرجنسی نافذ ہے اور اس کے تمام راستوں کو پولیس نے بند کر رکھا ہے۔ لیکن لاکھوں لوگوں کے قافلے کے ساتھ کل 10 جون کو ایک پر امن ریلی کی تیاری کر رہے ہیں جس پر ریاستی اداروں کی جانب سے دوبارہ اندھا دھند فائرنگ کی جا سکتی ہے۔ لیکن لانگ مارچ کے شرکا کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ لانگ مارچ روکنے کے لیے مختلف شہروں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، پٹرول پمپ زبردستی بند کروائے گئے ہیں، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے اور بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں خالی کر دی گئی ہیں تاکہ لوگ زادِ راہ نہ حاصل کر سکیں۔ لیکن ابھی تک امریکی سامراج کے گماشتہ حکمران اپنے منصوبوں میں ناکام ہوئے ہیں۔ عوام کا یہ جم غفیر راولاکوٹ سے پھر مظفرآباد کی جانب روانہ ہو گا جہاں پارلیمنٹ کے سامنے پر امن احتجاج کیا جائے گا اور اپنے مطالبات کو تسلیم کروانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس تمام صورتحال میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحثیں چل رہی ہیں جس میں تحریک کے حوالے سے بہت سی ویڈیوز اور پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں اور تحریک کی حمایت اور مخالفت میں بحثیں بھی جاری ہیں۔ حکمرانوں کے گماشتے یہاں بھی عوام کی تاریخی تحریک کے خلاف زہر اگل رہے ہیں جبکہ انقلابی قوتیں تحریک کا بھرپور دفاع کر رہی ہیں اور پاکستان کے عوام کے ساتھ اس تحریک کی جڑت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس تحریک کی جرات، ہمت اور انقلابی جذبے کو پاکستان کے مزدوروں اور انقلابی نوجوانوں تک پہنچانا انتہائی اہم ہے اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس حوالے سے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ ذیل میں سوشل میڈیا کی کچھ پوسٹیں درج ہیں جن میں انقلابیوں نے تحریک کے دشمنوں کو واضح جواب دیے ہیں اور تحریک کی حمایت میں دلائل دیے ہیں۔ ان دلائل سے واضح ہو جاتا ہے کہ حکمران طبقے اور اس کے گماشتہ میڈیا کا تمام پراپیگنڈا جھوٹ کا پلندہ ہے جس میں رتی بھر بھی سچائی موجود نہیں اور یہ صرف حکمران طبقے کی مراعات اور عیاشیوں کو تحفظ دینے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اسی طرح حکمران طبقے کی تمام سیاسی پارٹیوں کا عوام دشمن کردار بھی واضح ہو چکا ہے اور عوام ان کے چنگل سے باہر نکل چکی ہے جس کی تکلیف ان پارٹیوں کے عوام دشمن لیڈروں کی عوامی تحریک کے خلاف زہریلی گفتگو سے واضح ہے اور وہ عوامی ایکشن کمیٹی سے خوفزدہ ہیں۔
پارس جان انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے اہم راہنما ہیں اور کراچی میں پارٹی کی تعمیر میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے فیس بک پر اپنی پوسٹوں میں لکھا:
”عملاً کشمیر میں ریاست کی رٹ نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی۔ مگر ان پاگل کے بچوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ اگر ان کو لگتا ہے کہ یہ خون کی ندیاں بہا کر کشمیر کی عوام کو رام کر لیں گے تو یاد رکھیں وہی خون ان کو بھی بہا لے جائے گا۔ صورتحال کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جایا جا رہا ہے۔ بلوچستان، کے پی کے اور گلگت میں عوامی تحریکوں کو قابو میں کر لینے کی خوش فہمی کے زعم میں مبتلا زمینی خدا طاقت کے نشے میں اتنے بدمست ہو چکے ہیں کہ انہیں ان مفلوک الحال کشمیری عوام کے ہاتھ اپنے گریبانوں تک پہنچتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایک یونانی کہاوت ہے کہ دیوتا جنہیں برباد کرنا چاہتے ہیں، پہلے انہیں پاگل کر دیتے ہیں۔ یہ حکمران طبقہ پاگلوں کا ٹولہ ہے اور شکست ان کی تقدیر میں لکھ دی گئی ہے۔
ہمارے کچھ پنجابی شاونسٹ گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل ”آزاد“ کشمیر کی عوامی تحریک کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ بہت سارے فیک یا پیڈ اکاؤنٹس خاص طور پر اسی کام پر لگا دیئے گئے ہیں کہ پاکستان کے عوام کے قومی جذبات کو مشتعل کر کے کشمیر میں ممکنہ قتلِ عام کی سماجی حمایت کا جواز فراہم کیا جائے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ گزشتہ دہائی ہی نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہی طاقت کے مراکز کا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہر پاپولر عوامی تحریک کو بدنام کر کے ان کے خلاف ریاستی جبر کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔
کشمیریوں کو پاکستان کے ٹکڑوں پر پلنے کے طعنے دیے جا رہے ہیں، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ساری قیادت کو را کی فنڈڈ کہا جا رہا ہے، بکاؤ میڈیا بے دریغ دروغ گوئی کے ریکارڈ قائم کیے جا رہا ہے، فالس فیلگ آپریشن کیے جا رہے ہیں جن میں اپنے ہی غنڈہ عناصر سے ہسپتال پر حملے کروائے جا رہے ہیں، ایک پر امن عوامی تحریک کے دفتر میں اسلحہ پلانٹ کر کے انہیں نقص امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
پنجابی انٹیلی جنشیہ ہمیشہ کی طرح اس سارے غلیظ عمل میں پیش پیش ہے اور پنجاب کے غریب عوام جو خود مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی چکی میں پِس کر ہلکان ہو چکے ہیں، انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی ایجنٹ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں اور ان نمک حراموں کو سبق سکھانے کے لیے کشمیر میں پاک فوج اور دیگر پیرا ملٹری فورسز کو طلب کیا گیا ہے، لہٰذا اس وقت پوری قوم کو اپنی افواج کی اخلاقی حمایت کرنی چاہیے۔ یہ ایک پرانا سامراجی پراپیگنڈے کا اصول بھی ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ وہ سچ لگنے لگے لیکن پھر تاریخ کا سب سے اہم سبق جس کو فراموش کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جلد یا بدیر سچ منکشف ہو کر ہی رہتا ہے۔ کشمیر کی سچائی کو بھی آخر کب تک چھپایا جا سکے گا۔
ہم بہت مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے جہاں کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کی اس فقید المثال سیاسی جدوجہد کی عملی حمایت کر رہے ہیں وہیں بہت تحمل اور بردباری سے اس سوشل میڈیا وارفیئر کے محاذ پر بھی سچائی کا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہم دلائل سے مسلسل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ’بیرونی سازش‘ کا شاخسانہ قرار دینے کی بکواسیات کو رد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف سے دلیل کے طور پر کچھ بھارتی چینلز کے ٹاک شوز یا کچھ لیڈروں کے انٹرویوز کے کلپس پیش کیے جاتے ہیں جس میں وہ لوگ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنی پراکسی قرار دے رہے ہوتے ہیں، تو سیاسیات کے طالب علم کے طور پر ہم خارجہ پالیسی کے ان پینتروں کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں اور ریاستی پراپیگنڈا مشینری اسی طرح کام کرتی ہے کہ ہر پیدا شدہ موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے دشمن کے دانت کھٹے کیے جائیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی اپنے ملک میں چلنے والی ہر تحریک کو فنڈڈ تحریک قرار دینے کے عادی ہو چکے ہیں جیسے ابھی حال ہی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو بھی ’پاکستانی سازش‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بھارتی ایجنٹ ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں اور ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایسا کوئی ایک پوائنٹ بھی نہیں ہے جس کو غیر آئینی، غیر جمہوری یا ملک دشمن قرار دیا جا سکے۔
جہاں تک مہاجرین کی 12 سیٹوں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تو پیپلز پارٹی بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے، حتیٰ کہ ”آزاد“ کشمیر کے موجودہ وزیراعظم خود دو روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان سیٹوں کو واقعی سیاسی انجینئرنگ کے اوزار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تو کیا فیصل راٹھور کو بھی را کا ایجنٹ قرار دے دیا جانا چاہیے یا پیپلز پارٹی کو بھی کالعدم قرار دے دیا جانا چاہیے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر حکومت یا ریاست جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو غلط یا ملک دشمن سمجھتی تھی تو گزشتہ برس معاہدے پر دستخط ہی کیوں کیے گئے؟ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے پر جو ملک دشمن تھا تو اگر اس معاہدے کے ایک فریق کو را کا ایجنٹ کہا جا رہا ہے تو اس سہ فریقی معاہدے کے دیگر دو فریقوں کے نمائندگان اور اکابرین کو جنہوں نے اس ملک دشمن معاہدے پر دستخط کیے ان کو بھی تو ملک دشمن ہی قرار دینا چاہیے۔ اب ہر اخلاقی زاویے سے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جھوٹا اور مکار سمجھنا چاہیے نہ کہ جو فریق معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے یا اس کا مطالبہ کر رہا ہے، اس کے خلاف بہتان تراشی اور بدترین جبر شروع کر دیا جائے۔ اس وقت پاکستان اور کشمیر کے حکمران طبقات اور غلیظ میڈیا کا کردار ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ کے مصداق نہیں تو اور کیا ہے۔ اس سارے عمل کو قومی سالمیت کے لیے لازمی قرار دینا کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کے مترادف ہے۔
ہم تو خیر اپنے کشمیری عوام کے تمام جائز مطالبات اور پُرامن جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن یہاں میں جان بوجھ کر یہ ویڈیو اپنے ان دوستوں کے لیے شیئر کر رہا ہوں جو ہماری ہر دلیل کو محض انقلابی سیاست کا روایتی پروپیگنڈا سمجھ کر رد کر رہے ہیں اور دانستہ یا غیر دانستہ ریاستی آقاؤں کے ماؤتھ پیس بنے ہوئے ہیں۔ یہ موصوف نہ تو کمیونسٹ ہیں، نہ ہی قوم پرست یا حریت پسند ہیں اور نہ ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، کشمیر کے خیرخواہ ہیں بلکہ یہ خود کشمیر کے حکمران طبقے اور پاکستان کی ریاستی مشینری کے نمائندہ ہیں، سابقہ آئی جی کشمیر ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کے اپنے مفادات بھی حکمران طبقے کے مفادات سے ہی منسلک ہیں مگر یہ اپنی مخصوص وجوہات کی بنا پر ہی سہی مگر بہت سے حقائق سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ ہم اس کے اپنے سیاسی مؤقف یا رائے سے متفق نہیں ہیں لیکن اپنے قارئین کے سامنے لانا چاہ رہے ہیں کہ حقائق ہیں کیا اور دراصل کشمیر میں ہو کیا رہا ہے۔
ہم خطے بھر کے محنت کشوں، طلبہ، کسانوں اور باشعور عوام سے بالعموم اور پنجاب کے محنت کش عوام سے بالخصوص یہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پر امن تحریک کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ وہ اب کسی صورت بھی لانگ مارچ کی کال سے پیچھے ہٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ آج کا دن بہت اہم ہے اور آج سے ٹھیک چھ گھنٹے بعد لانگ مارچ کا آغاز ہونے والا ہے۔ اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھانے اور گولیاں کھانے کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اپنے عوام کو پُرامن رہنے کی اپیل کر رہی ہے۔ لوگوں کو خاص طور پر تاکید کی گئی ہے کہ اپنی صفوں میں اگر کوئی نقاب پوش یا مسلح شخص نظر آئے تو فوراً اسے تحویل میں لے لیں۔ حقیقی شر پسند کشمیر اور پاکستان کے حکمران طبقات ہیں جو آج یقیناً گزشتہ شام راولاکوٹ میں ہونے والے افسوسناک واقعات کی طرز پر طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے خون کی ندیاں بہانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی ان وحشیانہ اقدامات کو محض تماشائیوں کی طرح خاموشی سے دیکھتے رہے یا اس کی حمایت کرتے رہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ایک کا زخم، سب کا زخم!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!“
سیما خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی ممبر ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا:
”پاکستان کی جرنیل و سول اشرافیہ آج کھل کر عوام کے خلاف اپنے مفادات کی نمائندگی کر رہی ہے کیونکہ یہ عوامی طاقت سے شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے ملک کے کسی نہ کسی حصے میں، کسی نہ کسی شکل میں، کوئی صوبہ، کوئی خطہ اور کوئی قومی/عوامی تحریک ایسی نہیں چھوڑی جسے انہوں نے ریاستی جبر، وحشیانہ تشدد اور طاقت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے دبانے کی کوشش نہ کی ہو۔
یہی آج کی جدید سرمایہ دارانہ ریاست کی ایک واضح شکل ہے۔ اپنے لیے عیاشیوں، وسائل کی لوٹ مار اور طاقت کے ارتکاز کے لیے ہر چیز موجود ہے، لیکن عوام کے لیے صرف گولیاں، تشدد، جبری گمشدگیاں، جیلیں اور خوف ہے۔ نسل پرستی، نفرت، عوامی اداروں کی نجکاری، ریاستی اثاثوں کی فروخت اور قانون و عدالت کو عوام کے خلاف استعمال کرنا اس نظام کی روزمرہ کی عملی شکلیں ہیں۔
یہ صرف کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے ریاستی و طبقاتی ڈھانچے کا تسلسل ہے، جس میں ہر آنے والی اور جانے والی حکومت اسی بنیادی نظام کے اندر کام کرتی ہے۔ سول اشرافیہ ایک طرف جرنیلوں کے ادارہ جاتی اور سیاسی غلبے کے آگے جھکی ہوئی ہے اور دوسری طرف عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں، کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے جب ان کے مفادات تقاضا کرتے ہیں تو وہ انہی طاقتوں کو امن کا داعی قرار دیتے ہیں، جبکہ وہ امن عوام کے امن سے بنیادی طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ان کا امن دراصل سرمایہ، ریاستی طاقت اور موجودہ نظام کے استحکام کا امن ہے، جس میں محنت کش خاموش رہیں اور وسائل اوپر منتقل ہوتے رہیں اور اس پورے نظام کی ایک اور اہم پرت یہ ہے کہ مقامی حکمران طبقات عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی طاقتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی ترجیحات عوام نہیں بلکہ سرمایہ، طاقت اور کنٹرول ہیں۔ اسی لیے امن اور استحکام جیسے الفاظ اکثر اسی نظام کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، نہ کہ محنت کش عوام کی آزادی اور خوشحالی کے لیے۔
جبکہ وہ امن جس کی بات مظلوم اقوام و محنت کش عوام کرتے ہیں، وہ مزدوروں، کسانوں، تمام قوموں، جنسوں اور طبقات کی آزادی، خوشحالی، ترقی اور حقِ خوداریت پر مبنی ہوتا ہے۔ اسی لیے جب محنت کش عوام اپنے حقوق، اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنی آزادی کی بات کرتے ہیں تو ان کی تحریکوں کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، ان پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور انہیں ریاستی جبر کے ذریعے دبایا جاتا ہے۔ اس پورے نظام کی اصل ترجیح عوامی ترقی یا اجتماعی خوشحالی نہیں بلکہ طاقت، دولت اور اختیار کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے بڑھانا ہے۔
قوموں کے درمیان تقسیم پیدا کرنا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جہاں مختلف علاقوں میں مختلف نمائندہ اور کٹھ پتلی قوم پرست سیاسی کرداروں (مشیران) کے ذریعے عوام کو آپس میں تقسیم رکھا جاتا ہے۔ یہ کوئی نیا طریقہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی پالیسی ہے جسے سمجھنا مشکل نہیں۔
کشمیر میں سینکڑوں نوجوانوں اور کمیٹی کے رہنماؤں کا قتل اور پھر لاشوں کو چھپانا، گھروں میں گھس کر تشدد کرنا اور زخمیوں کی مدد کے لیے آنے والوں پر سیدھی فائرنگ کرنا، یہ سب پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ یہی سب ہم نے وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں دہائیوں سے دیکھا ہے۔ بلوچستان میں بھی یہی صورتحال ہے اور سندھ میں بھی مختلف شکلوں میں یہی جبر جاری رہا ہے۔
ریاست اب کسی پردے کے پیچھے چھپنے کی کوشش بھی نہیں کر رہی بلکہ کھلے عام ننگا جبر کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ نسل، قوم اور زبان کی بنیاد پر مظلوم قوموں اور محنت کشوں کے درمیان نفرت پھیلائی جائے تاکہ وہ متحد نہ ہو سکیں۔ انٹرنیٹ کی بندش جیسے غیر آئینی اور ریاستی کنٹرول کے اقدامات بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں، جو بار بار استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود وہ حقیقت کو مکمل طور پر چھپا نہیں سکے۔ ریاستی جبر، تشدد اور طاقت کے استعمال کا یہ پیٹرن پورے ملک میں تمام قوموں، جنسوں، نسلوں اور مذہبی شناختوں سے بالاتر ہو کر جاری ہے۔“
ثناء اللہ جلبانی انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نوجوان راہنما ہیں اور لاہور میں پارٹی کی تعمیر میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا:
”عوامی ایکشن کمیٹی، کشمیر کے لاکھوں محنت کشوں، نوجوانوں اور محروم عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے اور اس کی تمام روایتی سیاسی جماعتوں (پیپلز پارٹی، ن لیگ، پی ٹی آئی وغیرہ) نے متحد ہو کر آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے اس عوامی تحریک کو جبر، تشدد اور ریاستی طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جسے نام نہاد ”ریاستی رٹ“ کا نام دیا جا رہا ہے۔ (عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اور تاحال درجنوں پر امن کشمیریوں کو حقوق مانگنے کی پاداش میں قتل کیا جا چکا ہے۔)
یہ قوتیں ایک بار پھر انہی فرسودہ اور عوام دشمن پارٹیوں کو کشمیری عوام پر مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ ہم اس سازش اور ریاستی جبر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
حکمرانوں نے دراصل ”آزاد“ کشمیر کے عوام کے لیے اسی مستقبل کی ٹھان رکھی ہے، جوپاکستان کے محنت کش عوام پہلے ہی بھگت رہے ہیں، یعنی مہنگائی، بے روزگاری، غربت، لاعلاجی، استحصال اور ریاستی جبر۔ اگر اس راستے پر مزید خون بہتا ہے اور مزید لاشیں گرتی ہیں تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاست پاکستان اور اس کے حکمرانوں پر عائد ہو گی۔
عوامی ایکشن کمیٹی زندہ باد!
ریاستی جبر مردہ باد!
ایک کا دکھ، سب کا دکھ!
کشمیر کے محنت کش عوام کی جدوجہد زندہ باد!“
تیمور خان کا تعلق پشاور سے ہے اور پشاور یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب بطور استاد پشاور شہر میں ہی فرائض نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا:
”یہ کشمیر کے عوام کی ڈیمانڈز ہیں جن کے لیے وہ عوامی ایکشن کمیٹی کی شکل میں منظم ہو کر سیاسی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ جس پر ریاست نے انہیں کالعدم قرار دے دیا اور اپنے حقوق کو مانگنا دہشتگردی قرار دے کر نہتے عوام کو گولیوں سے جواب دینا شروع کر دیا۔ اگر انہیں حقوق کے لیے لڑنا دہشتگردی ہے پھر تو ساری عوام دہشتگرد ہے کیونکہ یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں اور اسی بنیادی ضروریات کو فراہم کرنے سے ریاست انکاری ہے۔
آج رات حکومتی اداروں کی راولاکوٹ میں نہتے عوام پر فائرنگ کی سخت مذمت کرتے ہیں اور پاکستان کے تمام محنت کش طبقے سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ اپنے کشمیری بھائیوں کے حقوق کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیں۔“
راشد خالد کا تعلق ”آزاد“ کشمیر سے ہے اور یہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ممبر ہیں۔ انہوں نے افکار علوی کی ایک نظم شیئر کی ہے۔
جواب دو!
بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو!
ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو!
جواب دو! جو لاپتہ ہیں جیتے ہیں کہ مر گئے، کہاں کیے؟
بہت بڑی قطار ہے، پکار ہے، جواب دو جواب دو!
ہمارے دیس میں علوم دینے کے اصول کس نے طے کیے
کہ اِس طرف دو اسلحہ اور اُس طرف کتاب دو، جواب دو!
حریف دیس کا غلام کون ہے، نمک حرام کون ہے؟
ہمارا صبر ختم ہے، مزید مت سراب دو، جواب دو!
ہمیں بھی ٹَھن گئی تو پھر؟ ہماری چیخ، دھاڑ بن گئی تو پھر؟
سو بہتری اِسی میں ہے کہ تشنہ لب کو آب دو، جواب دو!
اُٹھو! یہ ظلم مت سہو، او بھولیو! خموش رہ کے مت مرو!
جو تم کو اضطراب دے، اسے بھی اضطراب دو، جواب دو!
لہو لہو تو ہو چکے ہو سُرخرو تو ہو مرو، سو لڑ پڑو
حریف کو بھلے جو تم بصورتِ حباب دو، جواب دو!
(افکار علوی)
شعیب کیانی اسلام آباد میں مقیم مشہور شاعر ہیں۔ انہوں نے لکھا:
”راوی اور چناب کے کناروں پر بیٹھے ”چند“ قوم پرست متعصب دانشوران متوجہ ہوں!
آپ سے جن شرائط پر ووٹ لیے جاتے ہیں وہ پوری نہ ہوں، آپ کا نمائندہ آپ کا استحصال کرے اور آپ کے پاس اسے واپس بلانے کا کوئی پارلیمانی طریقہ نہ ہو تو آپ کیا کریں گے؟ یقیناً احتجاج کا آئینی و جمہوری حق استعمال کریں گے۔ یہی کچھ کشمیر کے لوگ کر رہے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے آپ سے ووٹ لینے والے آپ کے سامنے پیش ہو کر آپ کی بات سنتے ہیں۔ پہاڑی لوگوں نے اپنی جانیں دے کر دو چار مطالبات منوائے ہیں۔ آپ کو کشمیریوں کا سستا آٹا اور بجلی کھٹک رہی ہے تو آپ بھی نکلیں ماریں کھائیں اور اپنے بنیادی حقوق حاصل کریں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آپ کے لیے ایک قابل تقلید تحریک ہے ان سے رابطہ کریں، ان سے طریقہ کار جاننے میں مدد لیں، انہیں ساتھ ملائیں اور پورے پاکستان کو جنت بنائیں۔ اپنا اگایا ہوا اناج مہنگا خرید کر دوسروں کو دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھنا ایک جان لیوا عمل ہے۔ باہر نکلیے اور اپنے نمائندوں کو اپنی خدمت میں پیش ہونے پر مجبور کیجیے۔“
عثمان قیوم مشہور شاعر ہیں جو دبئی میں مقیم ہیں لیکن ان کا آبائی علاقہ کشمیر ہے۔ انہوں نے ایک نظمم لکھی ہے۔
آگ لگا کر اپنے گھر میں جو اتراتے پھرتے ہیں
وقت کا پہیہ گھومے گا، یہ پاؤں میں آ کر بیٹھیں گے
رات جو کالی ہم پہ چھائی آخر اس نے ڈھلنا ہے
غوں غوں کرتے الو دن میں، کس ڈالی پر بیٹھیں گے؟
کون جیا ہے کون مرا ہے یہ چھوڑو سب تاریخ پر
دار پہ کتنے اور سر لے کے یہ اہلِ زر بیٹھیں گے
رات کو میرے جگنو سارے چن چن کر جن نے مارے ہیں
باغ مرے کو یہ ظالم، ویرانہ بنا کر بیٹھیں گے
رینجر، ایف سی، پی سی، ویگو ڈالے مل کر سب جبر کرو
جانے کتنے مار کے کافر یہ پاگل خر بیٹھیں گے
(عثمان قیوم)
علی عیسیٰ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نوجوان راہنما ہیں اور حیدرآباد میں پارٹی کے کام میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے لکھا:
”کشمیر کی جرات مند عوام کو لال سلام!
واضح رہے کہ یہ لڑائی صرف کشمیری عوام کی نہیں بلکہ پورے خطے کے محکوم عوام کی لڑائی ہے۔ کشمیری محنت کش عوام کی چھوٹی سے چھوٹی جیت بھی اس خطے کے حکمران طبقے کی شکست ہے، جو دہائیوں سے نہ صرف کشمیری عوام کی آزادی سلب کیے ہوئے ہے بلکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی، پنجاب اور سندھ میں کسانوں کی زمینوں پر قبضوں، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے وسائل کی لوٹ مار سمیت ہر عوام دشمن اقدام میں پیش پیش رہا ہے۔ آج بھی یہی حکمران طبقات کشمیری عوام کے خلاف متحد اور منظم ہیں۔ خواہ جرنیل شاہی ہو، پیپلز پارٹی ہو، ن لیگ ہو، مذہبی و قوم پرست جماعتیں ہوں یا عدلیہ اور میڈیا سب کے سب کشمیری عوام کی عظیم مزاحمت کے مقابل صف آرا ہیں۔ ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ حکمران طبقے کے اتحاد کے مقابل محنت کش عوام کے اتحاد کو مضبوط کریں۔ لہٰذا طلبہ، نوجوانوں، جمہوری و ترقی پسند کارکنان، کسانوں اور محنت کش طبقے سے اپیل ہے کہ وہ کشمیری عوام کی جاری تحریک کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں اور حکمران طبقے کے غلیظ پروپیگنڈے کے خلاف مؤثر مہم چلائیں۔“
عمران خالق ”آزاد“ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ممبر ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا:
”نام نہاد ”آزاد“ کشمیر کے حکمرانوں کے پاس نہ کوئی اخلاقی جواز باقی رہ گیا ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی ساکھ۔ جھوٹ فریب منافقت اور ریاستی جبر ان کی حکمرانی کا بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ اسی بوکھلاہٹ اور خوف کا اظہار ہے جو حکمران طبقے کو اپنے خلاف عوام کی بڑھتی ہوئی جدوجہد سے لاحق ہو چکا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن اور منظم جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس دوران حکمرانوں نے بار ہا مذاکرات کے نام پر دھوکہ دیا، وعدے کیے اور پھر ان سے انحراف کیا۔ یہ ان حکمرانوں کی سیاسی منافقت اور مکارانہ طرزِ حکومت ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی وفاقی اور ریاستی حکام مذاکرات کا ڈھونگ رچاتے رہے۔ ایک دن پہلے تک کشمیر کا وزیراعظم اور وفاقی وزرا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بات کر رہے تھے، لیکن اچانک اسی عوامی تحریک کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی ممبر عمر نذیر پر قاتلانہ حملہ اور تحریک کے دلیرانہ ساتھی شاہزیب کا فائرنگ سے قتل ریاستی دہشت گردی ہے جس کی ذمہ داری حکمرانوں، ریاستی اداروں اور ان کے سیاسی سہولت کاروں پر عائد ہوتی ہے۔
محنت کش عوام علاج، تعلیم، روزگار، بجلی، آٹا اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی فراہمی کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن اس نظام کے محافظ حکمران عوامی مطالبات کا جواب گولی، گرفتاری اور پابندیوں سے دے رہے ہیں۔ یہ اس ریاست کا اصل چہرہ ہے، جو منافع اور حکمران طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے عوام پر ہر قسم کا جبر مسلط کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔
ہم پاکستان اور پورے خطے کی ٹریڈ یونینوں، مزدور تنظیموں، طلبہ تنظیموں، کسان تحریکوں اور تمام ترقی پسند قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں۔“
اپنی ایک اور پوسٹ میں عمران نے لکھا:
”جنگیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک جنگ دو ریاستوں کے درمیان لڑی جاتی ہے، جیسا کہ حالیہ ایران اسرائیل یا بھارت پاکستان کی جنگیں۔ ایسی جنگوں میں ہر ریاست اپنے مخالف کے خلاف فوجی حکمتِ عملی مرتب کرتی ہے، جدید ہتھیار، ٹینک، ڈرون، توپخانہ اور ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے، حملے اور دفاع کے منصوبے بناتی ہے۔ تاہم ان جنگوں کے پیچھے حکمران طبقات کے اپنے سیاسی، معاشی اور جغرافیائی مفادات کار فرما ہوتے ہیں۔
دوسری جنگ طبقاتی جنگ ہوتی ہے، جس میں ایک ملک کے محنت کش، مظلوم اور محروم عوام اپنے ہی حکمران طبقے کے خلاف برسرِ پیکار ہوتے ہیں۔ یہ جنگ بسا اوقات دو ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگ سے بھی زیادہ شدید اور فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ کشمیر میں محنت کش عوام گزشتہ چار برسوں سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر اپنے بنیادی حقوق، حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ درحقیقت حکمران طبقے کے خلاف ایک مسلسل طبقاتی معرکہ ہے۔
اس جنگ میں حکمران طبقے کے پاس پوری ریاستی مشینری، انتظامیہ، پولیس، عدالتیں اور جبر کے دیگر تمام ذرائع موجود ہیں، جنہیں وہ اس تحریک کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب کشمیری محنت کش عوام کے پاس سب سے بڑی طاقت ان کا اتحاد، تنظیم اور اجتماعی شعور ہے۔ ایک منظم اور متحد عوامی قوت ہی عوامی ایکشن کمیٹی کی اصل طاقت اور دفاع ہے۔
موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تحریک سے وابستہ تمام کارکنان اور ہمدرد عوام تحریک کی آئندہ حکمتِ عملی پر سنجیدہ بحث و مباحثہ کریں۔ ہر وارڈ اور محلے کی سطح پر دفاعی کمیٹیوں کو منظم کیا جائے، خواتین کی فعال شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خواتین کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور تحریک کی تنظیمی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا جائے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی، مضبوط تنظیم اور عوامی اتحاد کو برقرار رکھا گیا تو یہ معرکہ کشمیر کے محنت کش عوام کے حق میں ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ منظم عوامی طاقت کے سامنے جبر کی کوئی بھی قوت زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتی۔
جیت کشمیری عوام کی ہو گی!
جب رات کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے“