|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی صوبائی سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی ایک خاتون ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والے سفاکانہ تیزاب کے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ اس حملے میں خاتون ڈاکٹر شدید زخمی ہوئی جبکہ اسے بچانے کی کوشش کرنے والے ایک بہادر پیرامیڈک ورکر بھی شدید زخمی ہوا۔ ہم دونوں زخمیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی امید کرتے ہیں اور اس واقعے کو پورے صحت کے نظام اور محنت کش طبقے پر ایک براہِ راست حملہ سمجھتے ہیں۔
یہ واقعہ کسی انفرادی پاگل پن یا اچانک تشدد کا نتیجہ نہیں بلکہ اس گہرے سماجی اور ادارہ جاتی بحران کی پیداوار ہے جس نے پورے محکمہ صحت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سرکاری ہسپتال، جو عوامی علاج اور تحفظ کی جگہ ہونے چاہییں، آج بدانتظامی، وسائل کی کمی، کرپشن اور ریاستی غفلت کے باعث عدم تحفظ کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ اسی عمومی زوال کا سب سے زیادہ خمیازہ وہ محنت کش بھگت رہے ہیں جو انہی اداروں کو روزمرہ بنیادوں پر چلاتے ہیں۔
اس عدم تحفظ اور بحران کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین ہیلتھ ورکرز پر پڑتا ہے۔ خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی کارکن نہ صرف جسمانی حملوں بلکہ کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی، صنفی امتیاز، دھمکیوں اور مسلسل نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف کام کی جگہ تک محدود نہیں رہتا۔ جب خواتین ان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں تو ان کی آواز کو دبانے کے لیے مختلف سماجی اور ادارہ جاتی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ خصوصاً بلوچستان جیسے سماج میں فرسودہ قبائلی روایات کو ”غیرت“ اور ”روایت“ کے نام پر خواتین کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ بااثر عناصر کو مکمل تحفظ حاصل رہتا ہے۔ اکثر متاثرہ خواتین کو نہ صرف انصاف سے محروم رکھا جاتا ہے بلکہ ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں، تبادلے اور ادارہ جاتی دباؤ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال مزید پیچیدہ اس وقت ہو جاتی ہے جب ہم بلوچستان کے عمومی سماجی ڈھانچے کو دیکھتے ہیں، جہاں ایک طرف سرمایہ دارانہ استحصال موجود ہے اور دوسری طرف فرسودہ قبائلی اقدار بھی سماج پر مسلط ہیں۔ ایسے ماحول میں خواتین ڈاکٹرز اور دیگر ہیلتھ ورکرز کا کام کرنا بذاتِ خود ایک مسلسل جدوجہد بن جاتا ہے۔ اگر یہ خواتین اپنے حقوق، تحفظ اور انصاف کے لیے آواز اٹھائیں تو بعض اوقات ان کے اپنے خاندان بھی سماجی دباؤ، نام نہاد غیرت کے تصورات اور روایتی جبر کے تحت انہیں خاموش رہنے یا ملازمت چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح خواتین ایک ایسے جبر کا شکار ہوتی ہیں جو سماج، خاندان، ریاست اور اداروں ہر سطح پر ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیتا ہے۔
لیکن اگر اس مسئلے کو مزید گہرائی میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے محکمہ صحت کا موجودہ بحران محض سماجی رویوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ادارہ جاتی تباہی ہے۔ ہسپتالوں میں ٹھیکیداری (آؤٹ سورسنگ) کا نظام، وسیع پیمانے پر کرپشن، سیاسی بنیادوں پر ایڈہاک تعیناتیاں، مستقل عملے کی کمی، وسائل کی لوٹ مار اور بیوروکریسی کی مسلسل مداخلت نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان اداروں کو چلانے والے محنت کشوں، ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکس، کلریکل سٹاف اور دیگر عملہ کو ہر قسم کی فیصلہ سازی سے مکمل طور پر باہر رکھا جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا غیر جمہوری ڈھانچہ وجود میں آتا ہے جو نااہلی، بدانتظامی اور عدم تحفظ کو مسلسل پیدا کرتا رہتا ہے۔
ان ہی حالات کے تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ حالیہ واقعے کے بعد مبینہ حملہ آور کو صرف ایک گھنٹے کے اندر ہلاک کیوں کیا گیا؟ اگر اسے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا تو ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا اس سے واقعے کے محرکات، پس منظر اور ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے کا راستہ بند نہیں ہوا؟ اور کیا یہ اقدام کسی سچ کو چھپانے یا تحقیقات کو محدود کرنے کا ذریعہ تو نہیں بنا؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے باعث ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت مختلف حلقوں کے تحفظات نہ صرف جائز بلکہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ ایک زندہ ملزم اس واقعے کے تمام پہلو واضح کر سکتا تھا، جبکہ اس کی ہلاکت نے کئی سوالات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ان تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ خواتین پر تشدد، ہسپتالوں میں عدم تحفظ اور محکمہ صحت کا بحران کسی ایک واقعے یا فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ریاستی و سماجی ڈھانچے کا بحران ہے۔ جب صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی انسانی خدمات کو منافع، کرپشن اور بیوروکریٹک مفادات کے تابع کر دیا جائے تو ایسے سانحات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا حل بھی محض انتظامی اصلاحات یا پولیس اقدامات میں نہیں بلکہ بنیادی سماجی تبدیلی میں مضمر ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس مؤقف پر زور دیتی ہے کہ محکمہ صحت جیسے عوامی اداروں کو بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد کر کے ان میں کام کرنے والے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکس، کلریکل سٹاف، کلاس فور ملازمین اور دیگر ہیلتھ ورکرز اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہسپتالوں کے انتظام، وسائل کی تقسیم، بھرتیوں، پالیسی سازی اور سکیورٹی نظام میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ جو لوگ روزانہ ان اداروں کو چلاتے ہیں، وہی اپنے کے مسائل، ضروریات اور حل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور انہی کے جمہوری اختیار سے ہی یہ ادارے واقعی عوامی مفاد میں چل سکتے ہیں۔
اسی تسلسل میں ہسپتالوں میں سکیورٹی کا نظام بھی پولیس یا بیوروکریسی کی بجائے محکمہ صحت کے محنت کشوں کے منتخب نمائندوں کے کنٹرول میں ہونا چاہیے، تاکہ یہ نظام واقعی عملے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔ خصوصاً خواتین ہیلتھ ورکرز کے تحفظ، جنسی ہراسانی کی روک تھام اور فوری ایکشن کے لیے منتخب نمائندوں پر مشتمل آزاد حفاظتی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مطالبات
۔ صوبائی سنڈیمن ہسپتال میں ہونے والے تیزاب حملے کی فوری، مکمل، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
۔ زخمی خاتون ڈاکٹر ماہ نور اور پیرامیڈک ورکر کو بہترین علاج، مکمل بحالی اور تمام اخراجات ریاستی ذمہ داری پر فراہم کیے جائیں۔
۔ واقعے میں کسی بھی فرد، ادارے یا انتظامی غفلت کا کردار سامنے آنے پر بلاامتیاز کاروائی کی جائے اور تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
۔ ایک آزاد تحقیقاتی و نگرانی کمیٹی قائم کی جائے جس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پیرامیڈیکس، نرسز، کلریکل سٹاف، کلاس فور اور دیگر محکمہ صحت کے منتخب نمائندے شامل ہوں، تاکہ تحقیقات بیوروکریسی یا حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہوں۔
۔ ہسپتالوں میں جنسی ہراسانی، صنفی امتیاز اور خواتین کے خلاف ہر قسم کی انتقامی کاروائیوں کے خاتمے کے لیے محنت کشوں کے جمہوری طور پر منتخب نمائندوں پر مشتمل خودمختار شکایتی اور حفاظتی کمیٹیاں قائم کی جائیں۔
۔ ہسپتالوں کی سکیورٹی، داخلی و خارجی نگرانی اور ہنگامی انتظامات محکمہ صحت کے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیے جائیں۔
۔ محکمہ صحت میں ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے، تمام ایڈہاک تعیناتیاں مستقل کی جائیں اور تمام خالی آسامیوں پر فوری مستقل بھرتیاں کی جائیں۔
۔ محکمہ صحت کے تمام اداروں کے انتظامی اور مالی معاملات پر ان اداروں کے محنت کشوں کے جمہوری طور پر منتخب نمائندوں اور کمیٹیوں کا مکمل کنٹرول قائم کیا جائے اور بیوروکریسی و سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔
خواتین پر تشدد، محنت کشوں کا عدم تحفظ اور عوامی اداروں کی تباہی اس نظام کے ناگزیر نتائج ہیں۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ حقیقی تحفظ، حقیقی انصاف اور حقیقی سماجی ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب سماج کے فیصلے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوں جو اسے چلاتے ہیں، نہ کہ ان بیوروکریٹس اور حکمران طبقات کے ہاتھ میں جو اس پر حکمرانی کرتے ہیں۔