”آزاد“ کشمیر میں انقلاب: فیصلہ کن کامیابی کیسے ممکن ہے؟

”یہ جو آپ نے یہاں ایک تاریخ رقم کی ہے، آپ نے پاکستان، ہندوستان اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ آج جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے، کل وہ پاکستان میں بھی ہوگا اور ہندوستان میں بھی ہوگا۔“جی ہاں، ضرور ہوگا! یہ الفاظ راولاکوٹ (’آزاد‘ کشمیر) کے دھرنے میں کی گئی ایک تقریر کے ہیں۔ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت ایک انقلاب برپا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ’آزاد‘ کشمیر کے لاکھوں محنت کش عوام، نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے اپنے حقوق کے حصول کے لیے سروں پر کفن باندھ کر نکل پڑے ہیں۔روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے سہولت کاروں کی اقلیت کو چھوڑ کر، 90 فیصد سے زائد افتادگانِ خاک نے اس مزاحمت میں جی جان لگا کر جس عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ جرأت، یکجہتی اور ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔سماج پر حاوی حکمران طبقے کے فرسودہ نظریات اور اخلاقیات کو ریزہ ریزہ کر دیا گیا ہے۔ اس انقلاب نے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے تمام اداروں میڈیا، عدلیہ، پارلیمان، انتخابات، فوج، پولیس اور ریاست کا بدنما اور حقیقی چہرہ کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔

اس انقلاب اور مزاحمت کو کچلنے کے لیے ’آزاد‘ کشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں نے جبر کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ تقریباً 100 مزاحمت کاروں کو شہید کر دیا گیا ہے، سینکڑوں افراد کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا ہے اور ہزاروں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ راولاکوٹ شہر پر ’آزاد‘ کشمیر اور پاکستان کی فورسز نے قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیر کی جانب ادویات اور خوراک کی سپلائی بند کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ بند ہے اور عالمی و مقامی میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ مسلط کر دیا گیا ہے، بلکہ اس تحریک کے خلاف خوفناک زہر اگلا جا رہا ہے۔لاہور سے نامور شاعر ادریس بابر نے صورتِ حال کا احاطہ کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا: ”آگ لگی ہے، کس کا گھر ہے، کس سے پوچھیں؟۔۔۔راولاکوٹ ہے؟ سری نگر ہے؟ کس سے پوچھیں؟“

لیکن اس تمام تر جبر کے باوجود اس تحریک کو شکست نہیں دی جا سکی۔ شاید کئی دہائیوں کے بعد یہ عوام کی ایک قابلِ فخر کامیابی ہے کہ یہاں کے حکمران، بشمول سیاسی و عسکری قیادت، جو خود کو بزعمِ خود خدا سمجھ بیٹھے تھے، ان کے غرور کو پاش پاش کر دیا گیا ہے۔اس انقلاب نے بالخصوص پاکستانی ریاست کے کشمیر پر 79 سالہ مؤقف کی منافقت کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے ’آزاد‘ کشمیر میں ہڑتال جاری و ساری ہے۔ وقفے وقفے سے ایکشن کمیٹی کی کال پر لاکھوں سرفروش عوام جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ تاحال راولاکوٹ کے گرد احتجاجی دھرنے بھی بدستور جاری ہیں اور عوام کا جوش و خروش مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

اس شاندار کامیابی پر ’آزاد‘ کشمیر کے بہادر عوام خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ اس کامیابی نے پاکستان بھر کے محنت کشوں، طلبہ، نوجوانوں اور انقلابیوں کو ایک نیا ولولہ دیا ہے، جس کا اظہار ملک بھر میں ہونے والے احتجاجوں اور یکجہتی کے پیغامات سے ہو رہا ہے۔

مگر یاد رہے کہ یہ ابھی اختتام نہیں، آغاز کا بھی آغاز ہے۔ آنے والے دنوں میں یہاں کے محنت کشوں کی وسیع تر پرتوں کے درمیان عملی یکجہتی کے امکانات کو رد نہیں کیاجا سکتا۔ وہ وقت بعید نہیں کہ حکمرانوں کے تمام تر ہتھکنڈوں اور زہریلے پروپیگنڈے پر مبنی اندھیرے کی فصیلوں کو چیرتے ہوئے جب ریلوے، واپڈا، پوسٹ، ایئرلائنز، ٹیلی کمیونیکیشن اورفیکٹریوں کے محنت کش اپنے ہاتھ روک کرسماج کو جام کرتے ہوئے ایک ہی صدا میں یہ مطالبہ بلند کریں: ”کشمیر میں پاکستانی فورسز کا جبر بند کرو! انہیں فوری طور پر واپس بلاؤ! کشمیری عوام قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں!“

تا حال اس سطح کی عملی یکجہتی دیکھنے میں نہیں آئی، جس کی ایک بڑی وجہ یونین قیادتوں کی مصلحت پسندی، کمزوری اور مفاد پرستانہ خاموشی ہے۔ لیکن تاریخ کاگراں بار پہیہ ایسے بے ضمیر ’محتاطوں‘ کو کچل کر آگے بڑھتا ہے۔ جیسے جیسے کشمیر کی تحریک آگے بڑھے گی، ویسے ویسے اس کے ساتھ یکجہتی کی لہریں بھی وسیع ہوتی جائیں گی۔ آج جو آواز کشمیر کی گلیوں اور ہمالیہ کے سر بفلک پہاڑوں سے اٹھ رہی ہے، کل وہ پاکستان میں فیکٹریوں، ریلوے اسٹیشنوں، بجلی گھروں، بندرگاہوں اور تعلیمی اداروں تک پہنچ سکتی ہے۔وہ نعرہ ہے کہ ”جوانیاں لٹائیں گے، انقلاب لائیں گے!“زبان زد عام ہوگا۔

عالمی سطح پر بھی اس مزاحمت کے ساتھ محنت کشوں اور انقلابی قوتوں کی یکجہتی بڑھ رہی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ویتنام پر امریکی سامراج کی خونی یلغار کے خلاف خود امریکہ کے اندر محنت کشوں، طلبہ اور عوام نے جنگ مخالف تحریک کو جنم دیا۔ اس مزاحمت نے امریکی حکمران طبقے کے جنگی عزائم کو شدید دھچکا پہنچایا اور بالآخر اسے پسپائی پر مجبور ہونا پڑا۔دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان کے محنت کشوں، طلبہ، نوجوانوں اور انقلابیوں کا فرض ہے کہ کشمیر کی اس مزاحمت سے اسباق اخذ کریں، اپنے طبقاتی دشمنوں اور جبر کی ہر شکل کے خلاف میدانِ عمل میں اتریں اور کشمیری عوام کے ساتھ محض زبانی نہیں بلکہ عملی، طبقاتی اور بے مثال یکجہتی کا اظہار کریں۔

اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکمران آخر کس صورت میں عوام کے منظور شدہ مطالبات پر عمل درآمد کریں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ حکمران طبقہ کسی صورت ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، وہ روزانہ کی بنیاد پر نہتے اور پُرامن عوام کے خلاف خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔حکمرانوں کے ڈھونگ پر مبنی انتخابات بھی مرحلہ وار جاری ہیں، مگر ان انتخابات میں تاریخی طور پر کم ترین ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں اور ایک دوسرے پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔مزید برآں عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے اراکین کی خواہشات اور کوششوں کے برعکس، اب یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ حکمران فی الحال کسی سنجیدہ مذاکراتی عمل میں جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جون میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما یاسر ارشاد نے راولاکوٹ کے ایک دھرنے میں ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”ہمارا جو وزیرِ اعظم ہے، فیصل راٹھور، اس نے آپ کی اس طاقت کو دیکھ کر پہلی شکست تسلیم کرتے ہوئے یہ کہا کہ کشمیر میں دو اقتدار نہیں چل سکتے۔ کون سے دو اقتدار ہیں کشمیر میں؟ ایک ان سہولت کاروں کا اقتدار ہے اور ایک یہ عوام کا اقتدار ہے۔ اور وہ ٹھیک کہتا ہے کہ دو اقتدار نہیں چلیں گے۔ کوئی دو اقتدار نہیں چلیں گے۔ کشمیر میں صرف عوام کا اقتدار چلے گا۔ ایک اقتدار چلے گا!۔۔۔ اور اس حوالے سے ہمیں ہمارے بچوں میں، ہماری خواتین میں، ہمارے مزاحمت کاروں میں جو جوش و خروش ہے، جو ولولہ ہے، جو جرأت ہے، جو ہمت ہے، جو عزم ہے؛ جس نے ان کے اسلام آباد اور مظفرآباد کے ایوانوں کو، یہاں بیٹھے بیٹھے، وہاں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ آپ نے اس کو قائم رکھنا ہے، آپ نے اس کو مزید بڑھانا ہے۔۔۔مگر اس کے ساتھ ساتھ ہماری جو اصل لڑائی ہے، اس نظام کی تبدیلی کی لڑائی؛ جس نظام کے اندر ایک چھوٹی سی اقلیت ہمارے ٹیکسوں پر پلتی ہے، وہ عیاشی کرتی ہے اور ہم ہر سہولت سے محروم ہیں۔ ہم نے اپنا حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی ایک جدوجہد کے ذریعے، ایک منظم اور شعوری جدوجہد کے ذریعے، حاصل کرنا ہے۔۔۔ہمارے نوجوانوں، بچوں اور بچیوں کو وہ شعور بھی حاصل کرنا پڑے گا جو اس نظام کو تبدیل کرے گا؛ جو اس نظام کو تبدیل کر کے ایک ایسا نظام قائم کرے گا جو سارے لوگوں کا نظام ہوگا، جس میں تعلیم مفت ہوگی، جس میں علاج مفت ہوگا، جس میں ہر بچے کو روزگار دیا جائے گا، جس میں امیر اور غریب کی تفریق نہیں رہے گی۔ ہماری اصل لڑائی وہ ہے۔“(اس پوری تقریر کے دوران وقفے وقفے سے جملہ بہ جملہ شرکا کی تالیاں، داد اور اتفاق میں بلند ہونے والے نعروں سے یہ واضح تھا کہ مقرر کی باتیں محض سنی نہیں جا رہیں بلکہ مجمعے کے اندر گہری پذیرائی اور جوش پیدا کر رہی تھیں۔)

یہ صورتِ حال اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ تحریک محض فوری معاشی مطالبات یا مراعات کے حصول تک محدود نہیں رہی، بلکہ اپنے ارتقائی سفر میں ایک ایسے انقلابی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سوال صرف مطالبات منوانے کا نہیں، بلکہ اقتدار، ملکیت اور پورے سماجی و معاشی نظام کی نوعیت کو چیلنج کرنے کا بن چکا ہے۔

11 جولائی کو تھوراڑ میں نوجوان مزاحمت کار شاہزیب اختر نے ایک جلوس میں تقریر کی کہ:”۔۔۔15 تاریخ کو، لوگو! ہم زمین سے اُبل کر نکلیں گے اور مظفرآباد کی جانب بڑھیں گے۔ اور میں آپ سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ کل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کور ممبران نے اپنے اعلامیے میں ایک خوبصورت بات لکھی ہے۔ وہ خوبصورت بات یہ ہے کہ اب ہم اس چارٹر آف ڈیمانڈ پر آگے نہیں بڑھیں گے! نئے اعلان کے ساتھ، نئے اعلامیے کے ساتھ آگے بڑھیں گے! وہ نیا اعلان کیا ہوگا؟ یہ سارے لوگ جانتے ہیں کہ وہ نیا اعلان کیا ہوگا۔ وہ نیا اعلان وہی ہوگا جو آپ کے دلوں میں ہے، جو ہمارے دلوں میں ہے، جس پر ہم ایس او پیز کی وجہ سے نہیں بول سکے۔ 15 تاریخ کو ایس او پیز سے ہٹ کر بات ہوگی، عوامی راج کی بات ہوگی، آپ کی حکمرانی کی بات ہوگی۔۔۔ اور مظفرآباد کے اس تختِ طاؤس پر یہاں کے لوگ حکمران بیٹھیں گے! آپ حکمران بیٹھیں گے! ہم حکمران بیٹھیں گے! پیچھے نہیں ہٹیں گے لوگو! اس لیے نہیں ہٹیں گے کہ ہم دنیا بھر کے مظلوموں کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم جیتیں گے! غزہ کے مظلوم جیتیں گے، ہم جیتیں گے! ہندوستان کے مظلوم جیتیں گے، مودی کو تخت سے اتاریں گے، ہم جیتیں گے! پاکستان کے مظلوم جیتیں گے، ہم جیتیں گے! دنیا بھر کے مظلوم فتح یاب ہوں گے! اور جیتیں گے، ان شاء اللہ! پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک جان ہے، اسے ہتھیلی پر لے کر آگے چلیں گے۔۔۔“

اور پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔ 15 جولائی کو کشمیر بھر سے لاکھوں لوگ ریاست کی جانب سے کھڑی کی گئی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے راولاکوٹ تک پہنچے۔ یہ محض ایک احتجاجی اجتماع نہیں تھا، بلکہ عوامی طاقت کے اس ارتقائی عمل کا ایک فیصلہ کن اظہار تھا۔

حالیہ جون، جولائی اور اگست کے واقعات میں انہی جذبات کی عکاسی کرنے والے ہزاروں حوالے دیے جا سکتے ہیں۔ یہ سب ان بزدلوں کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہیں جو اب بھی یہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ کشمیر کے عوام ابھی انقلاب کے لیے تیار نہیں اور محض اپنے مطالبات پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکمرانوں سے اپیلیں کر رہے ہیں۔تحریک نے لوگوں پر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ اپنے مطالبات پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کروانے کے لیے اقتدارا پنے ہاتھوں میں لینا ہوگا۔ اب مسائل کے حل کے لیے موجودہ نظام میں اصلاحات کی گنجائش تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مسائل کا حقیقی اور دیرپا حل اس انقلابی عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مضمر ہے۔انقلاب کو مکمل کرنا ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ حکمران طبقے نے کبھی رضاکارانہ طور پر اپنے اقتدار اور مراعات سے دست برداری اختیار نہیں کی۔ یہ حقیقت کشمیر کے لاکھوں عوام پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی بھی اس سمت میں آگے بڑھنے کے حوالے سے سنجیدہ ہے؟ بدقسمتی سے، فی الحال اس کے شواہد نظر نہیں آتے۔ اب تاریخ کا وہ لمحہ آں پہنچا ہے کہ منظم طور پر دفاعی کمیٹیاں تشکیل دے کر واضح لائح عمل بناتے ہوئے، اپنا حقِ دفاع استعمال کیا جائے،کشمیر میں موجود تمام ریاستی فورسز اوردوسرے ملک سے منگوائے گئے پیشہ ور کرائے کے قاتلوں کو غیر مسلح کرتے ہوئے عوامی انقلابی اقتدار کی طرف بڑھنے کی سنجیدہ تیاری کی جائے۔

اس اثنا میں اکتوبر 1917ء کے روسی انقلاب کی ایک درخشاں تاریخی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہاں بالشویک پارٹی کے لائح عمل کے مطابق سوویتوں یا کمیٹیوں نے منظم اور بھرپور تیاری کے ذریعے انقلابی اقتدار کے قیام کی راہ ہموار کی۔ بالآخر محنت کش طبقے نے بزور طاقت پرانے اقتدار کا تختہ الٹ کر حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار محنت کشوں نے اپنے طبقے کے مفادات پر مبنی اقتدار کی تعمیر کا آغاز کیا، جس کا مقصد تعلیم، صحت، خوراک، رہائش اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات کو سماج کے ہر فرد تک پہنچانا تھا۔اس انقلاب کے قائدین؛ لینن اور ٹراٹسکی کو حکمرانوں کی جانب سے مسلط کیے گئے تشدد کے بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ یہی ہماری مشعل راہ ہے۔ اب پرامن، نہتے اور مظلوم بن کر جوانوں کی لاشوں کو کندھا دینے کا وقت ختم ہو چکا ہے،ہاں تحریک کے آغاز میں ضروری تھامگراب ’لوگ لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں‘،یہ بات واضح رہے کہ حکمرانوں نے خون کی ندیاں بہائی ہیں تاہم اپنے دفاع کے طور پر کیے جانے والے عوامی تشد د کے ذمہ دار وہ خونخوار حکمران ہیں، ایکشن کمیٹی یا عوام نہیں۔ لہٰذا’تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا‘یہ سفاک مسیحااس وقت کشمیر کی عوام اور پھر ایکشن کمیٹی کی قیادت کے فیصلوں کے مرہون منت ہے۔یہی فیصلہ لینا انقلاب کے اس مرحلے پر ’تاریخی لازمیت‘بن چکا ہے۔یہاں پر ’تاریخ میں فرد کاکردار‘ انتہائی اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔

انقلابی مفکر پلیخانوف نے لکھا تھا: ”ایک عظیم شخص اس لیے عظیم نہیں ہوتا کہ اس کی ذاتی خصوصیات بڑے تاریخی واقعات کو انفرادی شکل عطا کرتی ہیں، بلکہ اس لیے عظیم ہوتا ہے کہ اس میں ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو اسے اپنے عہد کی عظیم سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سب سے زیادہ موزوں بناتی ہیں؛ اور یہ ضروریات عمومی اور خصوصی اسباب کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔“اسی کتاب میں انقلابِ فرانس کے حوالے سے ”فرد کے کردار“ پر پلیخانوف کے دلائل اور پیش کردہ مثالیں بھی خاصی قابلِ غور اور سمجھنے لائق ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے اراکین”اپنے عہد کی عظیم سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سب سے زیادہ موزوں“ کردار ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ تاریخ کرے گی مگریہ بات واضح ہے کہ:جو بھی فرد، خواہ وہ موجودہ کور کمیٹی یا اس قیادت سے وابستہ ہو یا اس سے باہر،اپنے عہد کی ان تاریخی اور سماجی ضروریات کو سمجھتے ہوئے جرأت، بصیرت اور فیصلہ کن کردار کا مظاہرہ کرے گا، وہی تحریک کے اگلے مرحلے میں قیادت کے لیے ابھر سکتا ہے۔ اب وہی’ملت کے مقدر کا ستارہ‘ بن سکتا ہے۔ یعنی کہ اگر موجودہ قیادت اس طرف نہیں بڑھتی تو تحریک اس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

جب عوامی تحریکیں اپنے عروج پر پہنچتی ہیں تو سب سے واضح، جرات مند اور ریڈیکل مؤقف ہی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل کرتا ہے۔ موجودہ قیادت نے عوامی دباؤ اور اپنی جرات کے بل بوتے پر تحریک کو یہاں تک پہنچایا، اور اس کا کریڈٹ ضرور بنتا ہے۔ لیکن کیا موجودہ مرحلے پر یہی قیادت اپنے اصلاح پسندانہ نظریات کی وجہ سے تحریک کی اگلی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بنتی جا رہی ہے؟ اگر قیادت حالات کے مطابق اپنا لائحہ عمل تبدیل نہ کرے تو تاریخ کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ ایسی قیادتیں یا تو خود آگے بڑھتی ہیں یا پھر تحریک انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ قیادت کسی کے پاس مستقل امانت نہیں ہوتی؛ جو سب سے واضح پروگرام، درست حکمتِ عملی اور آگے بڑھنے کا راستہ دے گا، قیادت بھی بالآخر اسی کے ہاتھ میں جائے گی۔ یہی ہر انقلاب کا سبق ہے۔ نظریات اور مؤقف کی درستگی کا فیصلہ خواہشات سے نہیں بلکہ عملی جدوجہد کرتی ہے۔اس لمحے پر زیادہ ریڈیکل قیادت کے سامنے آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ کوئی بھی تحریک یا قیادت ابتدا سے مکمل یا آئیڈیل نہیں ہوتی۔

ہاں البتہ جب کوئی تحریک پسپائی کا شکار ہو تو معتدل، قدامت پسند یا پیچھے ہٹنے والے مؤقف عارضی طور پر زیادہ مقبول ہو سکتے ہیں۔ اس پسپائی کے عہد میں اگر کوئی ریڈیکل قیادت اپنی خواہش کی بنا پر تحریک کو آگے کھینچ لانے کی کوشش کرے تو وہ بیگانہ بن کر اکثر ناکام رہ جاتی ہے۔ لیکن ابھی تک صورتحال اس کے برعکس ہے۔ تحریک ارتقا کرتے ہوئے انقلابی شکل اختیار کر چکی ہے، عوامی شرکت اور جوش و خروش اپنی بلند ترین سطح پر ہے، اور اسی جذبے کے تحت عوام ریاست کے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔لہٰذا ابھی ایک موقع ہے کہ انقلاب کو آگے کی سمت اور درست لائحہ عمل سے لیس کیا جائے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت کور کمیٹی کے اراکین تحریک سے پیچھے کھڑے ہیں، جبکہ عوام مکمل انقلاب کی بات کر رہے ہیں۔ کیا اس خلیج کو طویل عرصے تک قائم رکھا جا سکتا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ تحریکوں میں ایسا ہوتا ہے کہ عوام کسی ادارے یا شخصیات کو اختیارِ کل عطا کرکے انہیں آسمان کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں اور ان سے بحران کے حل کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر وہ اشخاص یا قیادتیں عوامی امنگوں پر پورا نہ اتریں تو عوام اسی بلندی سے انہیں گریبان سے گھسیٹ کر نیچے لاتے ہیں اور زمین پر پٹاخ سے دے مارتے ہیں۔ عوام صبر سے ہر کسی کو آزماتے ہیں؛ ان کے فیصلے اور حوصلے لمحاتی نہیں ہوتے۔

اسی حکمران طبقے اور ریاست سے کسی اصلاحات کی توقع نہیں کی جا سکتی جس نے مفت تعلیم، علاج، روزگار، انفراسٹرکچر کی بہتری اور حکمرانوں کی مراعات کے خاتمے جیسے مطالبات کو جمہوری حق نہیں بلکہ جرم قرار دے دیا ہے، اور اس کی سزا گولی اور موت مقرر کر دی ہے۔جہاں تک مذاکرات کی بات ہے، تو اس پر بھی حکمران تبھی سنجیدگی دکھائیں گے جب انہیں پورا نظام اپنے ہاتھوں سے جاتا ہوا نظر آئے گا اور ایکشن کمیٹی بھرپور تیاری کے ساتھ اقتدار سنبھالنے کی طرف بڑھے گی۔رانا ثناء اللہ کے ان بیانات کہ اگر مظفرآباد کی طرف کسی ”مسلح دھاوے“ کی کوشش کی گئی تو ریاست آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی، یہ سب بیانات بھی بیک لخت بدلتے نظر آئیں گے۔ تب وہ عوامی طاقت کے آگے سرنگوں ہو کر کہیں گے:”آؤ، ہم بات کرتے ہیں! مذاکرات کرتے ہیں!“

تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ لیکن شاید یہ وہ وقت ہوگا کہ انقلاب روس کے قائد ٹراٹسکی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مذاکرات یا صلح کریں تو اس نے سویتوں کی گانگریس میں شاندار خطاب کیا تھا کہ ”ایک شورش برپا ہوئی ہے۔ یہ کوئی سازش نہیں ہے۔ عوام کی بیداری کی کوئی منطق نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا جواز تلاش کیا جاتا ہے۔ ہم محنت کشوں کی اور سپاہیوں کی انقلابی طاقت کو مضبوط کر رہے تھے۔ ایک عوامی شورش کے لیے ہم کھلم کھلا لوگوں کی رضا کو آگے لے جا رہے تھے۔ ہماری شورش جیت گئی ہے۔ اب ہم سے کہا جا رہا ہے کہ ہم اپنی فتح کو بھول جائیں، اتحاد کر لیں۔ مگر کس کے ساتھ؟ تم تو بکھرے اور ٹوٹے ہوئے لوگ ہو۔ تم دیوالیہ ہو چکے ہو۔ تمہارا کام ختم ہو چکا ہے۔ اب جہاں تمہاری جگہ ہے وہاں چلے جاؤ۔ تاریخ کے کوڑے دان میں۔“

بات کو ختم کرتے ہوئے یہ واضح ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی گنجائش تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا انقلاب کی تکمیل کے لیے اقتدار سنبھالنے کی طرف بڑھنا ہی اگلا قدم ہے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ یہی وہ سچ ہے جس سے آنکھیں ملانے سے قیادت کتراتی رہی ہے۔اگر اس سمت میں پیش قدمی نہ کی گئی تو کوئی نہ کوئی مصالحت یا سمجھوتا کر کے شہدا کے خون اور عوام کی قربانیوں کا حق ادا کیے بغیر معاملہ ختم کر دیا جائے گا، جب تک کہ انقلاب دوبارہ وہی جوبن نہ پکڑ لے۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اس انقلاب کے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں، اور پانے کو سارا جہاں!

جہاں ایک طرف حکمران اس انقلاب پر ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، تو دوسری جانب نام نہاد انقلابیوں کے بھیس میں اور مذاکرات کے حامیوں کی طرف سے ایک شور و غوغا برپا ہے کہ کشمیر ایک پسماندہ خطہ ہے، اقتدار پر عوامی قبضہ ایک خطرناک ثابت ہوگا۔ ایک طرف ہندوستان اور دوسری طرف پاکستان جیسی درندہ صفت ریاستیں واقع ہیں۔ وہ انقلاب کو چیر پھاڑ دیں گی اور پہلے سے بھی بدتر حالات جنم لیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ کوئی درمیانی ڈیل کر کے فیس سیونگ کر لی جائے اور پیداواری ذرائع کی ترقی نہ ہونے کے باعث مجبوری کے تحت سمجھوتہ کر لیا جائے۔

ایسے قنوطی اور فرقہ پرور دانشوروں کا تحریک سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے کہ کسی طرح خوف و ہراس کے سائے کو چھٹنے نہ دیں، انقلاب کی سوچ رکھنے والوں کو ہر ممکن حد تک اس سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر آمادہ کیا جائے۔ انہیں عوام کی انقلابی صلاحیت پر رتی برابر بھی یقین نہیں۔جلوس یا دھرنے میں جب پانی آتا ہے تو لوگ پہلے اپنے ساتھیوں کو پلاتے ہیں، اور جب گولی کا وار آتا ہے تو پہلے اپنا سینہ آگے کرتے ہیں۔ جرات مندی سے سرشار ان عظیم لوگوں کے جذبات کو بھلا یہ مکار اور بزدل، کوڑی کے دانشور کیا سمجھ سکتے ہیں کہ وہ سر جو منتظر تیغِ جفا ہیں، دست قاتل کو جھٹک بھی سکتے ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ امریکی سامراج کے گماشتوں اور اسرائیلی ریاست کے ہم نوا خونخوار حکمرانوں کو کشمیر کے عوام ایک عظیم الشان شکست دے چکے ہیں۔دوسرا یہ کہ بھلا ایسا کون سا انقلاب ہے جسے خطرات لاحق نہ ہوں؟ اس منطق کے مطابق تو روس، چین اور کیوبا کے انقلابات بھی وہاں کے محنت کش عوام کی تاریخی غلطیاں تھیں۔ بلکہ دنیا میں آج تک کوئی انقلاب واقع ہی نہ ہوتا۔ان دانشوروں سے جب یہ پوچھا جائے کہ کشمیر ایک پسماندہ خطہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں، مگر سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے یہ ترقی کیسے کر سکتا ہے؟ تو اس سوال کے جواب میں ان کے منہ میں چھالے پڑ جاتے ہیں۔

ان کے برعکس، تاریخ کے اسباق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ پسماندہ ممالک کے سرمایہ دار طبقے، یا پھر کمپیراڈور بورژوازی، میں یہ صلاحیت ہی ختم ہو چکی ہے کہ وہ سماج کو ترقی دے سکے۔ انقلاب کا جواز فی کس آمدنی یا صنعتی ترقی کا کوئی سر ٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ نظام لوگوں کے بنیادی سیاسی، قومی، معاشی اور جمہوری مطالبات پورے کر رہا ہے یا نہیں۔ایسے میں تاریخ کو آگے بڑھانے کا کام خود عوام اپنی جدوجہد کے ذریعے کریں، جیسا کہ کئی پسماندہ سرمایہ دارانہ ممالک کے انقلابات میں محنت کشوں نے کیا، یا پھر سماجی تبدیلی کو فی الحال مؤخر کر کے اس انتظار میں بیٹھ جائیں کہ سرمایہ داری ترقی کرے گی اور بعد میں دوبارہ تحریک یا انقلاب کے لیے جدوجہد کا میدان سجایا جائے گا۔ایسے دانشور سماجی ارتقا کی الف، ب سے بھی نابلد ہیں۔

اس کو سمجھنے کے لیے ”نظریہ انقلابِ مسلسل“ کی سمت جانا ضروری ہے۔ اس کے مطابق پسماندہ سماجوں میں سرمایہ داری اس قابل نہیں کہ وہ سماج کو مکمل طور پر ترقی دے سکے یا قومی مسئلہ حل کر سکے، لہٰذا یہ تاریخی فریضہ بھی محنت کش طبقے کی قیادت میں ہی سرانجام دیا جا سکتا ہے۔تاریخ کی حرکت بتاتی ہے کہ پسماندہ سماجوں کے محنت کش جب تحرک میں آتے ہیں تو وہ اقتدار کی کسی ایک محدود شکل پر سمجھوتا نہیں کرتے، جمہوری مرحلے پر رک نہیں جاتے، بلکہ سماجی و معاشی تبدیلی کے مزید گہرے مراحل کی طرف بڑھتے ہیں اور سوشلسٹ اقدامات اٹھانا لازمی بن جاتا ہے۔ یوں یہ عمل ایک بلا تعطل تبدیلی (Change Uninterrupted) یا تسلسل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مزدور طبقے کا اقتدار میں آنا انقلاب کو مکمل نہیں کرتا، بلکہ اسے صرف شروع کرتا ہے۔

(ضمناً، یہاں یہ بات درج کرنا ضروری ہے کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے اس موضوع پر ٹراٹسکی کی کتب ”انقلابِ مسلسلاورنتائج و امکانات“ پہلی بار اردو زبان میں شائع کی ہیں۔ یہ کتاب سب سے زیادہ کشمیر میں خریدی گئی ہے۔ حالیہ تحریک کے دوران ان موضوعات پر سنجیدہ سٹڈی سرکلز بھی جاری ہیں۔ غیر معمولی اور انقلابی واقعات کے دوران لوگ بہت تیزی سے سیکھتے ہیں اور نظریات کی پیاس کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔)

انقلاب کا آغاز کسی بھی ملک سے ہو سکتا ہے، مگر وہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک عالمی سطح پر پھیل نہ جائے اور پوری دنیا سے سرمایہ داری کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔ عالمی سطح پر سرمایہ داری نے اتنے وسائل پیدا کر دیے ہیں کہ قلت کا مکمل خاتمہ ممکن ہو گیا ہے۔ چلیں، پسماندہ ممالک کو تو فی الحال ایک طرف رکھتے ہیں، مگر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی کوئی ایک ملک اس قدر صلاحیت نہیں رکھتا کہ اکیلے قلت کا مکمل خاتمہ کر سکے۔ تاہم، کہیں بھی انقلاب برپا ہوتا ہے تو وہ مسلسل اس معنی میں نہیں ہوتا کہ فی الحال سرمایہ داری کی ایک سطح پر رک جائے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی انقلاب کو ایک ملک کی حدود کے اندر محدود نہیں رکھا جا سکتا؛ اسے عالمی سطح پر پھیلانا ہوگا۔

اسی روشنی میں کشمیر کے انقلاب کو دیکھا جائے تو یہ بات بالکل درست ہے کہ کشمیر ایک پسماندہ خطہ ہے، مگر اس کے باوجود وہاں کے عوام کو اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہیے، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام ان کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہا ہے اور ان پر قومی جبر ختم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔عوامی اقتدار کے ذریعے تمام پیداواری اور انتظامی امور ضلع، تحصیل اور محلے کی سطح پر عوامی ایکشن کمیٹیوں کے تحت چلائے جائیں۔ پوری معیشت کو منصوبہ بندی کے تحت منظم کیا جائے اور تعلیم، روزگار، علاج، رہائش اور انفراسٹرکچر کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا جائے۔بیرونی حملے سے نمٹنے کے لیے جمہوری بنیادوں پر ایک عوامی دفاعی کمیٹیوں کو تشکیل دیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ سب ایک وقتی اور عبوری انتظام ہوگا، جسے کچھ عرصے تک برقرار رکھا جا سکتا ہے، یعنی اس وقت تک جب تک پاکستان اور ہندوستان کے محنت کش بھی ان ممالک میں موجود نظام کا دھڑن تختہ کر دیں اور برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن کی جانب بڑھیں۔ لازمی طور پرانہیں کشمیر کے انقلاب سے بھی مہمیز ملے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کے انقلاب کو طویل عرصے تک دنیا سے تنہا نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوا تو دوبارہ سرمایہ داری وہاں اپنی جگہ بنا لے گی، جیسا کہ آج کیوبا اور وینزویلا کی معیشتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔

13 اگست کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور تحریک کے نامور انقلابی ’ہلّہ بول‘ نعرے باز، کامریڈ عمر ریاض نے راولاکوٹ کے متیالمیرہ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”ہمارے سامنے راستہ موجود ہے، ہمارے سامنے ایک منزل موجود ہے۔ پورا پورا دن اس پر گفتگو ہوتی ہے، وہ منزل پہلے سے کلیئر ہے۔ وہ منزل اس خطے کے مظلوم و محکوم لوگوں کا حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی ہے!ہم اس اسٹیج کی وساطت سے پہلے تو کمیٹی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں، جو ہماری نمائندہ کمیٹی ہے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے، کہ اگر یہ حکمران طبقہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو ہمیں ان سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے! ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ پچھلے 68 دنوں کے اندر اس ملک کا نظام کسی ٹرانسپورٹ منسٹر نے نہیں چلایا، کسی وزیرِ تعلیم نے نہیں چلایا، کسی وزیرِ صحت نے صحت کا نظام نہیں چلایا، کسی وزیرِ برقیات نے برقیات کا نظام نہیں چلایا، بلکہ 68 دنوں سے اس خطے کی محکوم اور مظلوم عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم اس نظام کو چلانے والے ہیں۔اور جوائنٹ کمیٹی پچھلے تین سال سے مسلسل لوگوں کو یہ بتاتی آئی ہے کہ ہماری لڑائی حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کی لڑائی ہے۔ تو پھر سوال یہ جنم لیتا ہے کہ وہ وقت کون سا ہوگا، وہ کیسی لڑائی ہوگی، جس میں ہمیں حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے لیے اپنی ایک نمائندہ عوامی حکومت کا اعلان کرنا پڑے گا؟میں سمجھتا ہوں کہ اس خطے کی 90 فیصد عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعے، اپنے عمل کے ذریعے بار بار یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ نہ صرف کھڑی ہے بلکہ لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہے۔ صرف نمائندہ قیادت کو یہ جرأت کرنی پڑے گی، آگے بڑھنا پڑے گا! اعلان کرنا پڑے گا کہ ہم آج سے اس خطے کی ایک نمائندہ عوامی حکومت کا اعلان کرتے ہیں! اور یہاں پر قابض جو فورسز ہیں، ان کو عوام کی طاقت کی بنیاد پر باہر پھینکیں گے!“ بالکل درست،انقلاب اسی اگلے قدم کا تقاضہ کر رہا ہے۔ یہی فیصلہ کن جیت کا راستہ ہے۔ یہی دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوموں کی جیت ہے۔ فتح کی سمت متحد بڑھے چلو!

کشمیر کے انقلاب کی یہ شاندار مثال خطے ہی نہیں، دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بالخصوص جنوبی ایشیا ایک ایسے خطے میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سماجی بے چینی، معاشی بحران اور عوامی غصہ مسلسل پک رہا ہے۔ پچھلے عرصے میں مہنگائی اور ٹیکسوں کے خاتمے کے مطالبات سے اٹھنے والی سری لنکا کی تحریک ایوانِ اقتدار تک جا پہنچی اور بالآخر حکمرانوں کے اقتدار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ اسی طرح روزگار اور معاشی مسائل سے ابھرنے والی بنگلہ دیش کی تحریک نے حسینہ واجد کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ نیپال اور انڈونیشیا میں بھی عوامی مزاحمت کے ایسے ہی مظاہر دیکھنے کو ملے۔ ہندوستان میں جین زی کی حالیہ تحریک نے بھی حکمرانوں کو دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا۔

پاکستان میں بھی تاریخ کے بلند ترین پیمانے پر عوامی بے چینی، سیاسی قیادتوں سے بیزاری اور جمود زدہ نظام سے نفرت کا اظہار ہو رہا ہے۔ ایسے میں کشمیر سے اٹھنے والی ایک فاتحانہ انقلابی لہر پورے خطے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔اگر کشمیر کے پہاڑوں سے اٹھنے والی یہ صدا فتح کے ساتھ دنیا تک پہنچتی ہے تو یہ محض ایک خطے کی خبر نہیں ہوگی؛ یہ پورے جنوبی ایشیا کے سماجی آتش فشاں کے دہانے پر گرنے والی ایک چنگاری ہوگی۔ یہ چنگاری بارود کے اس ڈھیر کو بھڑکا سکتی ہے جس کے نیچے برسوں سے عوامی غصہ، محرومی اور بغاوت سلگ رہی ہے۔

اور پھر یہ انقلاب کشمیر کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ ایک ایسی امید کی کرن بن کر ابھر سکتا ہے جو ایشیا سے افریقہ، یورپ سے امریکہ تک، دنیا کے تمام براعظموں کے محنت کشوں کو یہ یقین دلائے کہ عوام جب اپنی اجتماعی طاقت کو پہچان لیتے ہیں تو ناممکن دکھائی دینے والی دیواریں بھی لرزنے لگتی ہیں۔

جوانیاں لٹائیں گے، انقلاب لائیں گے!
عوامی انقلابی حکومت کی جانب بڑھو!
دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!