|تحریر: کینی ویلیس، ترجمہ: تسبیح خان|

حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر امریکی سامراج کے بڑھتے ہوئے زوال اور اس کے غیر مستقل اور بے ربط رویے کا اظہار اس بات سے ہوا ہے کہ ایک طرف وہ جنگیں بھی ہار رہا ہے اور دوسری طرف اپنے اتحادی دوست بھی کھو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جنوب مشرقی ایشیا پر اس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑ رہی ہے اور امریکہ کے بہت سے روایتی اتحادی دوسرے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خطے کی دوسری بڑی طاقت، چین، محض امریکہ کی جگہ لے کر اس کا تاج پہن رہی ہے، بلکہ خطے میں کثیر قطبیت (Multipolarity) پروان چڑھ رہی ہے۔ تاہم، یہ کثیر قطبیت عالمی تعلقات میں نہ تو کوئی انصاف لانے والی ہے اور نہ ہی امن۔ اس کے برعکس، یہ عسکریت پسندی اور عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہے اور سرمایہ داری کے بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
ٹرمپ، تجارتی جنگ اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی
دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ نے ایشیا میں سرمایہ داری کے ضامن کا کردار ادا کیا ہے۔ 1949ء میں چین کے انقلاب کے بعد امریکہ نے بہت سی ایسی ریاستوں کو اپنے بل بوتے پر سہارا دیا تاکہ انقلابات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ حتیٰ کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی چین کے ایک سرمایہ دار حریف کے طور پر ابھرنے نے امریکی سامراج کو جنوب مشرقی ایشیا میں بڑے پیمانے پر وسائل جھونکنے پر مجبور کیا۔
معاشی محاذ پر، امریکی سرمایہ اب ASEAN (Association of Southeast Asian Nations) میں سب سے بڑا واحد سرمایہ کار ہے۔ 2023ء تک اس کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا مجموعی حجم تقریباً 480 ارب ڈالر تھا، جو چین، جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان میں اس کی مجموعی سرمایہ کاری سے تقریباً دوگنا ہے۔
فوجی محاذ پر، واشنگٹن نے اوباما انتظامیہ کی ”ایشیا کی جانب رخ“ (Pivot to Asia) کی پالیسی کے بعد کی دہائی چین کے سمندری اطراف میں اپنی فوجی قوت بڑھانے میں صرف کی اور امریکی بحریہ کی بڑی تعداد کو بحرالکاہل کی جانب منتقل کر دیا۔ اس تبدیلی کے لیے 2021ء سے مالی وسائل میں تیزی سے اضافہ ہوا اور امریکی کانگریس نے پیسیفک ڈیٹرنس انیشی ایٹو (Pacific Deterrence Initiative) قائم کیا، جس کے تحت پینٹاگون نے اب تک تقریباً 40 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس کا واضح مقصد خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔
اپریل 2024ء تک واشنگٹن نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے شمالی فلپائن میں ٹائیفون میزائل لانچرز تعینات کر دیے تھے۔ یہ لانچرز ایسے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو سمندر میں موجود بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے پر واقع زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں بحیرہ جنوبی چین میں موجود چینی فوجی اڈوں اور خود چینی سرزمین کے ساحلی علاقوں تک پار کرنے کی حد میں رکھا گیا۔
تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کے دوسری بار اقتدار میں آنے سے امریکی سامراج کے معمول کے طریقہ کار میں واضح تبدیلی سامنے آئی ہے۔
امریکہ کی جانب سے دنیا بھر پر عائد کیے گئے ”یومِ آزادی“ (Liberation Day) محصولات نے ایشیائی ممالک، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ان میں سے کئی ممالک، مثلاً انڈونیشیا اور ویتنام پر 30 فیصد سے بھی زیادہ کی شرح سے محصولات عائد کیے گئے، حالانکہ یہی وہ ممالک تھے جنہیں سابقہ امریکی انتظامیہ اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس صورتِ حال نے خطے کے تمام ممالک کو مجبور کر دیا کہ وہ ناگواری کے ساتھ امریکہ کے ساتھ ایسے دو طرفہ معاہدوں پر مذاکرات کریں جو ان کے لیے غیر اطمینان بخش تھے۔ اس عمل نے انہیں امریکہ سے مزید دور دھکیل دیا اور طاقت کا توازن چین کے حق میں جھکا دیا۔
ملائیشیا کے تجارت اور سرمایہ کاری کے نائب وزیر لیو چِن تونگ (Liew Chin-Tong) نے جون 2025ء میں اس صورتِ حال کا نہایت موزوں خلاصہ پیش کیا:
”ٹرمپ انتظامیہ اہداف مقرر کرے گی اور آخری لمحے میں انہیں تبدیل کر دے گی۔ ہمیں طویل مدت کے بارے میں سوچنا چاہیے اور تجارت کے بارے میں اپنے سوچنے کے انداز کو ازسرِنو ترتیب دینا چاہیے۔“
ایران جنگ
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا اچانک پھوٹ پڑنا اس رجحان کو مزید تیز کرنے کا باعث بنا، جس کے نتیجے میں مشرقی ایشیا امریکہ سے مزید دور ہوتا چلا گیا۔
معاشی طور پر، چین کے علاوہ ایشیا اس جنگ سے شدید متاثر ہوا، کیونکہ اس کا انحصار آبنائے ہرمز کے ذریعے آنے والے تیل پر ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق، اگر یہ خلل برقرار رہتا ہے تو جنگ کے نتیجے میں 2026ء میں پورے خطے کے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 0.7 فیصد پوائنٹس کم رہ سکتی ہے، جبکہ افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 5.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

بہت سے ممالک کو جنگ کے معاشی اثرات کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے مالیاتی اقدامات کرنا پڑے، جس سے ان کے قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ کھاد کی درآمد میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے کئی ممالک میں غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مثال کے طور پر فلپائن میں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ ایک سنگین مسئلہ ہے اور موجودہ صورتِ حال وہاں سماجی بے چینی کو مزید بھڑکا سکتی ہے۔
یہ تمام صورتِ حال جنوب مشرقی ایشیا کے حکمران طبقات کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آیا چین کے مقابلے میں امریکہ ان کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن چکا ہے، باوجود اس کے کہ بحیرہ جنوبی چین میں چین کے فلپائن، ویتنام، ملائیشیا اور برونائی کے ساتھ علاقائی تنازعات جاری ہیں۔
سنگاپور کے تھنک ٹینک ISEAS (The Institute of Southeast Asian Studies) کی جانب سے شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ، جس میں پورے جنوب مشرقی ایشیا کے سیاسی اور کاروباری اشرافیہ کی رائے کا جائزہ لیا جاتا ہے، کے مطابق امریکی عالمی قیادت اب ان کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی خدشہ بن چکی ہے۔ اس نے چین کے ”بحیرہ جنوبی چین میں جارحانہ رویے“ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو اب تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کیونکہ گزشتہ سال چین کے حوالے سے تشویش ہی سب سے بڑا خدشہ تھی۔
اسی سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ان سے لازماً کسی ایک فریق کے ساتھ صف بندی کرنے کا کہا جائے تو 52 فیصد جواب دہندگان چین کے ساتھ، جبکہ 48 فیصد امریکہ کے ساتھ صف بندی کا انتخاب کریں گے۔ یہ بھی اس ترجیح میں ایک اور الٹ پھیر ہے جسے خطے کا حکمران طبقہ پہلے ترجیح دیتا تھا۔
اس کی واضح وجہ چین کے روس کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات، توانائی کے متنوع ذرائع اور تزویراتی ذخائر کے وسیع ذخیرے ہیں، جس کے نتیجے میں چین آبنائے ہرمز کی بندش سے کہیں کم متاثر ہوا ہے۔ اس کے پاس اپنے توانائی کے ذخائر کے ساتھ ساتھ گرین توانائی کی مصنوعات بھی تقسیم کرنے کی بہتر پوزیشن تھی، جن کی پیداوار میں اب وہ دنیا میں سب سے آگے ہے۔
اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی جنوب مشرقی ایشیا کی کئی ریاستوں نے بیجنگ کا رخ کیا۔ ویتنام نے خاموشی سے چین کی مالی معاونت سے قائم کیے جانے والے ایل این جی (LNG) ٹرمینل پر مذاکرات شروع کر دیے اور حتیٰ کہ ان علاقائی توانائی کے اقدامات کی حمایت سے بھی گریز کیا جو ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے تھے۔
تھائی لینڈ نے چین سے درخواست کی کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے آٹھ تھائی بحری جہازوں کو آزاد کرنے پر آمادہ کرنے میں مدد کرے، جبکہ توانائی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے بھی مدد طلب کی۔
یہاں تک کہ فلپائن، جو بیجنگ کے ساتھ سمندری تنازعات میں الجھا ہوا ہے، نے بھی اپریل کے اوائل میں بحیرہ جنوبی چین میں مشترکہ تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی مجبوری کو محسوس کیا، اگرچہ یہ قربت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
اس خلل نے بعض ایشیائی ممالک کو روس کی طرف بھی رجوع کرنے پر مجبور کیا، جو امریکہ کا ایک اور مخالف ہے، تاکہ تیل، گیس، کھاد اور زرعی اشیا کی زیادہ مستحکم فراہمی حاصل کی جا سکے۔ ASEAN کے رکن ممالک پہلے ہی انفرادی طور پر روس سے رابطے کر رہے تھے، جس کا اختتام 18 جون کو پیوٹن کے ساتھ ASEAN کی میٹنگ میں ہوا، جہاں اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں سنگاپور بھی شریک تھا، جو اس سے قبل یوکرین میں جنگ شروع ہونے پر روس کے خلاف مغربی پابندیوں میں شامل ہو چکا تھا۔
اس صورتِ حال کی بنیادی حرکیات کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا اپنا طرزِ عمل جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو مزید دور دھکیل رہا ہے، جس کے باعث ان میں سے بعض کو ضرورت کے وقت امریکہ کے مخالفین کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیرِ خارجہ سیہاسک پھوانگ کیٹکیو (Sihasak Phuangketkeow) نے اس صورتِ حال کا نہایت جامع خلاصہ پیش کیا:
”اس ساری صورتِ حال کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ ہم جغرافیائی سیاسی مقابلے میں کسی ایک فریق کا ساتھ دے رہے ہیں۔ بلکہ بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کیا کر رہا ہے اور اس کا طرزِ عمل ہمیں بعض تعلقات کے بارے میں از سرِ نو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔“
جاپان اور کواڈ اتحاد کا بڑھتا ہوا مرکزی کردار
ٹرمپ کی حکمتِ عملی، اگر کہا جا سکے کہ اس کی کوئی واضح حکمتِ عملی ہے، تو وہ یہ ہے کہ امریکی سامراج کے زوال کا خمیازہ بھگتنے کے لیے امریکہ کے اتحادیوں کو مجبور کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے محصولات عائد کیے جائیں جو تجارتی توازن کو امریکہ کے حق میں جھکا دیں، جبکہ اتحادی ممالک کو اپنی فوجوں کے اخراجات خود اٹھانے پر بھی مجبور کیا جائے، تاکہ وہ خلا پُر کر سکیں جسے حد سے زیادہ پھیل چکا امریکہ اب مزید پورا کرنے کے قابل نہیں رہا۔
ایران کی جنگ کے باعث ٹرمپ نے اپنی کچھ فوجی طاقت واپس بلائی ہے اور کمزور مقامی اتحادیوں پر زیادہ انحصار کیا ہے۔ مثال کے طور پر، اس نے جاپان کے ریوکیو جزائر (Ryukyu Islands) سے 2500 میرینز واپس بلا لیے، جس کے نتیجے میں چین کو قابو میں رکھنے کا مزید بوجھ جاپان پر ڈال دیا گیا۔
جنوبی کوریا میں ٹرمپ نے مارچ میں جلد بازی میں تھاڈ (THAAD) میزائل نظام واپس بلا لیا، جس کا مقصد ملک کو شمالی کوریا سے دفاع فراہم کرنا تھا، لیکن جون میں اسے دوبارہ تعینات کر دیا گیا۔ پھر اگست کے وسط میں ٹرمپ نے اچانک جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں ”نمایاں کمی“ لانے کے اپنے ارادے کا اعلان کر دیا۔
ٹرمپ حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ ”فرسٹ آئی لینڈ چین“ (First Island Chain) میں شامل ممالک، یعنی جزائر کے وہ سلسلے جو مجموعی طور پر چین کے گرد موجود سمندروں اور بحرالکاہل کے درمیان ایک رکاوٹ بناتے ہیں اور جن میں جاپان، تائیوان اور فلپائن شامل ہیں، اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔

اس طرح ان ممالک اور ان کے ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ چین اور شمالی کوریا کے خلاف امریکی منصوبہ بندی کے مطابق فوجی صف بندیوں کے اخراجات برداشت کریں۔ خصوصاً جاپان اور تائیوان میں دفاعی بجٹ میں اضافے کی مقدار اور اس کی مالی اعانت اب ایک اہم سیاسی تنازع کا موضوع بن چکی ہے۔
اس کے باوجود، سانائے تاکاچی (Sanae Takaichi) کی قیادت میں جاپانی حکومت اب واضح طور پر دوبارہ مسلح ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ وہ جاپانی سامراج کی فوجی طاقت کو مضبوط کر رہی ہے اور خطے میں چین کے خلاف ایک اقتصادی اور فوجی بلاک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کی کابینہ نے اپریل سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے 58 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری دی۔ یہ گزشتہ سال کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں 9.4 فیصد اضافہ تھا، جس سے جاپان دنیا میں امریکہ اور چین کے بعد تیسرا سب سے بڑا دفاعی خرچ کرنے والا ملک بننے کی راہ پر گامزن ہو گیا۔
نومبر میں ایک نئی عسکریت پسندانہ پالیسی کا جواز پیش کرتے ہوئے تاکاچی نے کہا کہ تائیوان پر چینی حملہ ایک ایسی ”صورتحال“ پیدا کر سکتا ہے جو جاپان کی بقاء کے لیے خطرہ بن جائے اور ایسی صورت میں جاپان تائیوان کی حمایت کے لیے ”اپنے دفاع“ میں فوجی کاروائی کر سکتا ہے۔ اس دعوے پر چین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد اس کی حکومت نے اسی مؤقف کو جاپان کے فوجی اخراجات میں اضافے اور جاپان کے امن پسند آئین میں ترمیم کی مہم کے لیے استعمال کیا، تاکہ باضابطہ طور پر جاپان کو مزید عسکری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جا سکے۔
اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے علاوہ، جاپانی سامراج ایشیا میں چین مخالف علاقائی اتحاد کا حصہ بننے کا بھی خواہاں ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جاپان نے آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ دو طرفہ فوجی تعاون میں فعال طور پر اضافہ کیا ہے۔ کواڈ (Quad)، جس میں امریکہ، جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں، فجی (Fiji) میں ایک بندرگاہ کو بھی جدید بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ سولومون کے جزائر (Solomon Islands) اور جنوبی بحرالکاہل پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، یہ ممالک چین کے مقابلے کے لیے توانائی اور معدنیات کی سپلائی چین سے متعلق حکمتِ عملیوں میں بھی باہمی تعاون کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
مئی میں بحیرہ جنوبی چین میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور فلپائن کی مشترکہ فوجی مشق کے دوران جاپان نے ٹائپ 88 (Type 88) اینٹی شپ میزائل بھی فائر کیا، جو چین کے لیے ایک انتہائی واضح اور براہِ راست پیغام تھا۔ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکہ، جاپان اور فلپائن اس علاقے میں پہلے ہی ایسی پانچ اشتعال انگیز فوجی مشقیں کر چکے ہیں۔
اس دوران، حالیہ برسوں میں جاپانی اسلحہ سازی کی صنعت میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ جاپان کے پانچ بڑے اسلحہ ساز اداروں کی آمدنی میں حالیہ برسوں کے دوران دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024ء میں ان کی مشترکہ اسلحہ سازی سے حاصل ہونے والی آمدنی 13.3 ارب ڈالر تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سب سے بڑا ادارہ متسوبشی ہیوی انڈسٹریز (Mitsubishi Heavy Industries) تھا، جس کی اسلحہ سازی سے حاصل ہونے والی آمدنی اسی سال 37 فیصد بڑھ کر 5 ارب ڈالر ہو گئی۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ اسلحہ ساز ٹھیکیداروں کو اس شعبے سے دستبردار ہونے سے روکنے کے لیے جاپانی ریاست نے دفاعی معاہدوں پر ضمانت شدہ منافع کی شرح 8 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی ہے۔
21اپریل کو جاپانی حکومت نے ان قواعد کو ختم کر دیا جن کے تحت فوجی برآمدات کو غیر مہلک ہتھیاروں کی پانچ اقسام تک محدود رکھا گیا تھا۔ اب جاپان ان 17 ممالک کو مہلک ہتھیار، جن میں جنگی بحری جہاز، میزائل اور جنگی طیارے شامل ہیں، برآمد کر سکتا ہے جن کے ساتھ اس کے دفاعی ساز و سامان کی منتقلی کے معاہدے موجود ہیں۔
اس سے چند روز قبل آسٹریلوی حکومت نے 7 ارب ڈالر سے زائد کا ایک معاہدہ جاپانی کمپنی متسوبشی کے ساتھ کیا تھا، جس کے تحت تین جدید جنگی جہاز ”موگامی کلاس کثیرالمقاصد فریگیٹس“ تیار کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ گیارہ ایسے بحری جہازوں میں سے پہلا ہے اور اب تک جاپان کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ ہے۔
جاپان کے ”ہدف بنائے گئے صارفین“ میں سے ایک بڑا حصہ جنوب مشرقی ایشیا میں ہے۔ جاپان نے حال ہی میں انڈونیشیا کو تیز رفتار گشت کرنے والی کشتیاں فراہم کی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ مستقبل میں مزید جنگی بحری جہاز خریدے گا۔ فلپائن نے بھی حال ہی میں جاپان کے ساتھ ہتھیاروں کی برآمد کے معاہدے اور سمندری حدود کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جن کا واضح رخ چین کے خلاف ہے۔
جاپان اقتصادی مراعات کے ذریعے بھی جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، جاپان نے حال ہی میں ایشیائی ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے 10 ارب ڈالر مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے اور یہاں تک اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ اپنے تیل کے ذخائر میں سے کچھ حصہ بھی ان کے ساتھ بانٹنے پر غور کر سکتا ہے۔
تاہم، چین جو کچھ پیش کر سکتا ہے، اس کے مقابلے میں یہ بہت معمولی پیشکش ہے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود، زیادہ تر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو چین مخالف محاذ میں شامل کرنے کے جاپان کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے چین کے ساتھ گہرے تجارتی اور اقتصادی تعلقات ایسے ہیں کہ چین کے ساتھ تنازع، جس کا لازمی نتیجہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ایک بڑے ذریعے سے خود کو کاٹ لینا ہو گا، ان کے لیے ایک غیر موزوں اور نقصان دہ انتخاب ہو گا۔
چین کے برعکس، جاپان خطے میں ایک زوال پذیر سامراجی طاقت ہے، جو اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے بے حد کوشش کر رہی ہے۔
خطے میں جاپانی سامراج کے مفادات اور اثر و رسوخ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ درحقیقت، دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے جاپانی سامراج کو امریکہ نے مصنوعی طور پر سہارا دے رکھا ہے۔ اب امریکہ، جس کے مقابلے میں جاپانی سامراج ہمیشہ ثانوی حیثیت میں رہا، خود زوال کے ایک سنگین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ چنانچہ وہ جاپان کو اپنی دفاعی ضروریات کا بل خود ادا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
جاپانی عسکریت پسندی کا ابھار بھی، جو یورپ کی بہت سی دوسری سامراجی طاقتوں سے مختلف نہیں ہے، ایک تیسرے درجے کی طاقت کی اُس بے بسی کا اظہار ہے جو عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، لیکن جس کا پیچھے رہ جانا ناگزیر ہے۔ تاہم، اس تمام عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
ہر ملک اپنے مفادات کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے
اس کے باوجود، اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک منظم انداز میں چین اور روس، خصوصاً چین، کے ساتھ دوبارہ صف بندی کر رہے ہیں۔ اس کی بجائے، بہت سے ممالک دونوں طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے اور دونوں کیمپوں سے اپنی خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جیسا کہ خطے کے حکمران طبقے کے ارکان کے مذکورہ بالا ISEAS سروے سے ظاہر ہوتا ہے، تقریباً 80 فیصد چاہتے ہیں کہ ASEAN یا تو غیر وابستہ رہے (24 فیصد) یا متحد ہو کر اپنی طاقت میں اضافہ کرے تاکہ بڑی طاقتوں کے دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے (55 فیصد)۔ صرف 6 فیصد واشنگٹن یا بیجنگ میں سے کسی ایک کے ساتھ مکمل طور پر صف بندی کے حامی ہیں۔
ایک ایسی دنیا میں جو مسلسل زیادہ غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے، جہاں اس جگہ ایک خلا پیدا ہو رہا ہے جس پر پہلے امریکہ کا غلبہ تھا، اب ہر کوئی اپنے مفاد کے لیے ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں اس صورتِ حال کا اظہار تمام ممالک کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی صورت میں ہو رہا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کر سکیں۔
مثال کے طور پر، فلپائن اور ویتنام کے پاس بحیرہ جنوبی چین میں چین کی جانب سے لاحق خطرے کے خلاف خود کو مسلح کرنے کی اپنی وجوہات ہیں، کیونکہ ابھرتی ہوئی طاقت چین کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین کے شدید ترین علاقائی تنازعات میں یہ دونوں ممالک تاریخی طور پر الجھے رہے ہیں۔

فلپائن نے امریکہ اور جاپان کے ساتھ صف بندی کر لی ہے، اور اس سال اس کا بحیرہ جنوبی چین میں اسکاربورو شول (Scarborough Shoal) کے معاملے پر چین کے ساتھ کئی مرتبہ ٹکراؤ ہوا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت چینی قبضے میں ہے، لیکن فلپائن بھی اس پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ ان میں سے ایک جھڑپ دونوں جانب جنگی بحری جہازوں کے درمیان آمنے سامنے تعطل تک جا پہنچی ہے۔
ویتنام نے اپنی ”بیمبو ڈپلومیسی“ (Bamboo Diplomacy) کے تحت، جس میں تمام بڑی طاقتوں سے تقریباً یکساں فاصلہ رکھنے کی پالیسی شامل ہے، روسی اسلحے پر اپنے دیرینہ انحصار کو کم کرتے ہوئے اپنے اسلحے کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔ اب وہ انڈیا، اسرائیل اور چیک رپبلک سے بھی ہتھیار خرید رہا ہے۔ اس دوران، اس کے نئے انڈین برہموس میزائل (BrahMos missiles) واضح طور پر ویتنامی سمندری حدود میں چینی دراندازیوں کے خلاف نصب کیے جا رہے ہیں۔
اس کے بعد سنگاپور، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک ہیں، جو سب آبنائے ملاکا کے ساتھ واقع ہیں۔ یہ عالمی تجارت کی ایک اور اہم شریان ہے۔ دنیا کی 21 فیصد بحری تجارت اور 29 فیصد تیل کی تجارت صرف آبنائے ملاکا سے گزرتی ہے۔
جنگ کے بعد قائم ہونے والے ورلڈ آرڈر میں آبنائے ملاکا کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں رہی، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی اب آبنائے ملاکا کے ساتھ واقع ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ اپنے مفادات کے لیے اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔ اپریل میں انڈونیشیا کے وزیرِ خزانہ پربایا یودھی سادیوا (Purbaya Yudhi Sadewa) نے آبنائے ملاکا سے گزرنے پر انڈونیشیا کی جانب سے ٹول ٹیکس عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا، جس پر پورے خطے میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
پڑوسی ممالک کے شدید ردِعمل کے باعث انڈونیشیا کو جلد ہی اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ تاہم، انڈونیشیا مختلف ممالک سے ہتھیار خرید رہا ہے، جن میں فرانس، ترکی اور انڈیا شامل ہیں، جبکہ امریکہ اور جاپان سے بھی اسلحہ حاصل کر رہا ہے، بظاہر اس کا مقصد بحیرہ جنوبی چین میں اپنے مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
جو بھی آبنائے ملاکا کو کنٹرول کرتا ہے کاس کے ہاتھ میں ایک انتہائی قیمتی تزویراتی پتا آ جاتا ہے۔ اس لیے عسکریت پسندی کی جانب بڑھتا ہوا انڈونیشیا آبنائے ملاکا کے ساتھ واقع دوسرے ممالک، بشمول سنگاپور اور ملائیشیا، کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ سنگاپور پہلے ہی ASEAN میں سب سے زیادہ فوجی اخراجات کرنے والا ملک ہے۔ خصوصاً سنگاپور ماضی میں آبنائے ملاکا میں موجودہ صورتحال کا سب سے مضبوط محافظ رہا ہے، کیونکہ اس کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک اس راستے سے ہونے والی تجارت کے ایک اہم بندرگاہی مرکز کے طور پر اس کی حیثیت پر ہے۔
مزید برآں، بروکنگز ادارے کی محقق لِن کُوک (Lynn Kuok) نے نشاندہی کی ہے کہ ان آبناؤں کو حقیقتاً بند کرنا بھی ضروری نہیں کہ سنگین معاشی نقصان پیدا کرے؛ صرف خلل پیدا ہونے کا خطرہ ہی انشورنس پریمیم میں اضافے، بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرنے اور اجناس کی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
دوسری جانب، میانمار، تھائی لینڈ، لاؤس اور کمبوڈیا اب چین کے دائرہ اثر میں مضبوطی سے شامل ہو چکے ہیں۔ ان کے چین کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات اور بیلٹ اینڈ روڈ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے موجود ہیں، جبکہ امریکہ کافی عرصے سے ان ممالک پر اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔ اس کے باوجود، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ کے بعد، دونوں دوبارہ مسلح ہو رہے ہیں۔ میانمار پہلے ہی ہتھیاروں سے بھرا پڑا ہے، کیونکہ وہاں کی حکومت جاری خانہ جنگی میں کئی مسلح ملیشیا گروہوں کے خلاف مسلسل لڑ رہی ہے، جبکہ ASEAN میں شامل دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔
اس پوری صورتِ حال میں مشترک عنصر کسی ایک طاقت کے ساتھ مشترکہ صف بندی نہیں، بلکہ بڑھتا ہوا عدم تحفظ ہے، جس کا اظہار فوجی اخراجات میں اضافے کی صورت میں ہو رہا ہے۔ SIPRI کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا کے فوجی اخراجات 2025ء میں 67.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو ایک سال کے دوران 15 فیصد اور 2025ء تک کی پوری دہائی میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ اس اضافے میں انڈونیشیا (28 فیصد سے زیادہ، 15 ارب ڈالرکے ساتھ) اور ویتنام (27 فیصد سے زیادہ، 10.5 ارب ڈالر کے ساتھ) سب سے آگے رہے۔ امریکی بالادست طاقت کے زوال کا نتیجہ امن و استحکام نہیں، بلکہ ایک ایسا خطہ ہے جو ایک غیر یقینی مستقبل کے خلاف خود کو مسلح کر رہا ہے۔
عسکریت پسندی کی جانب بڑھتا ہوا سفر
امریکی سامراج کی کمزوری، جو بے شمار ہلاکتوں، تباہی اور انقلابات کو کچلنے کا ذمہ دار رہا ہے، جنوب مشرقی ایشیا کے عوام کے لیے بلاشبہ ایک خوش آئند حقیقت ہے۔ لیکن جب تک سرمایہ داری بطور نظام موجود رہے گی، اس کے بعد جو کچھ آئے گا وہ مختلف قوموں کے درمیان پُرامن اور ہم آہنگ بقائے باہمی کا ضامن نہیں ہو گا، بلکہ خطے کی مختلف طاقتوں اور ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں مزید شدید اضافہ ہو گا۔

یہ صورتِ حال واضح طور پر ان لوگوں کے دعوے کو غلط ثابت کرتی ہے جو ”کثیر قطبیت“ (Multipolarity) کو امریکہ کی بالادستی پر مبنی عالمی نظام کے مقابلے میں عالمی تعلقات کے لیے ایک بہتر متبادل قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی کمزوری کا محض یہ مطلب ہے کہ مزید ریاستیں جنگل کے قانون کے مطابق عمل کریں گی اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلیں گی۔ جنگ کا سایہ اب جنوب مشرقی ایشیا پر منڈلا رہا ہے۔
اس کا حل یہ نہیں کہ ان ممالک کے حکمران طبقات سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کسی ایک یا دوسری طاقت کے ساتھ صف بندی کریں، بلکہ یہ ہے کہ محنت کش طبقہ عالمی سطح پر سرمایہ داری کا تختہ الٹ دے۔ حکمران طبقات کی عسکریت پسندی کے ساتھ ساتھ، جنوب مشرقی ایشیا کے عوام، خصوصاً محنت کشوں اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی انقلابی صلاحیت بھی موجود ہے۔ گزشتہ سال انڈونیشیا میں شروع ہونے والا اور پھر دنیا بھر میں پھیلنے والا جین زی (Gen Z) انقلاب آنے والے واقعات کی محض ایک جھلک ہے۔

مئی میں سنگاپور میں ہونے والے شنگری لا ڈائیلاگ (Shangri-La Dialogue)، جس میں صرف جنوب مشرقی ایشیا کی ریاستوں ہی نے نہیں بلکہ امریکہ اور کئی یورپی ممالک نے بھی شرکت کی، میں ڈچ (Dutch) کی وزیرِ دفاع دِلان یشیلی گوز-زیگیریئس (Dilan Yesilgoz-Zegerius) نے دوٹوک الفاظ میں کہا: ”یا تو آپ مینیو کا حصہ ہیں یا میز پر آپ کی نشست ہے“۔ یہی سرمایہ دارانہ نظام کی آدم خور فطرت ہے۔
ان خون کے پیاسے حکمرانوں، سامراجیوں اور ان کے نظام کے مقابلے میں انقلابی کمیونسٹ چینی انقلابی مصنف لو شون (Lu Xun) کی تحریر کردہ ان سطروں کو پیش کرتے ہیں:
”انسانی گوشت کی ضیافت جاری ہے، اور بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ جاری رہے۔ ان آدم خوروں کا خاتمہ کرنا، اس ضیافت کو الٹ دینا، اور اس باورچی خانے کو تباہ کرنا آج کے نوجوانوں کا فریضہ ہے۔“