|تحریر: ولید خان|

(مشرق وسطیٰ میں جاری بحران میں آج مزید شدت آ چکی ہے۔ سعودی عرب نے یمن میں یمنی وزارت دفاعی اور PLC (صدارتی لیڈرشپ کونسل) کے زیر کمانڈ اپنی حمایت یافتہ ملیشیاء کی مدد میں چند دن پہلے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر قبضہ صنعاء دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے لئے ایک عسکری آپریشن لانچ کیا ہے جس میں سعودی ائر فورس خاص طور پر سرگرم ہے۔ اس وقت الجوف، البیضاء اور تعز میں شدید لڑائی جاری ہے۔ دوسری طرف آج حوثیوں نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے سعودیہ عرب کےا یک عسکری اڈے اور کلیدی تیل ریفائنری اور ذخیرہ کرنے والے شہروں ابھا، خمیس مشیط، جزان اور نجران پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت حوثی مغربی ساحلی علاقوں میں الحدیدہ اور الموخہ کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ آبنائے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے۔ یاد رہے کہ حوثی جولائی 2026 ء سے اس آبنائے پر سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر ایران کی حمایت میں ناکہ بندی اور بمباری کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی کے بعد سعودی عرب کے پاس تیل رسد کے لئے یہ واحد راستہ رہ گیا ہے۔ یمنی جنگ 2015ء سے جاری ہے جب سعودی عرب نے عرب امارات کے ساتھ مل کر یمن پر حملہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے اثر و رسوخ کو روکا جائے۔ گیارہ سالہ جنگ میں 2022ء میں ایک کمزور اور ناپائیدار جنگ بندی ہوئی تھی جس کا شیرازہ ایران پر امریکی اسرائیلی مسلط کردہ جنگ میں بکھر چکا ہے۔ ایران جنگ کے دوران سعودی عرب اور عرب امارات میں بھی سرد جنگ چھڑ چکی ہے اور سابق حلیف اب حریف بن چکے ہیں۔ یہ مضمون ان واقعات سے چند ہفتوں پہلے مشرق وسطیٰ کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال، اس میں موجود انتشار، ایران جنگ اور امریکی سامراجی تباہی و بربادی کے حوالے سے لکھا گیا تھا۔ تند و تیز واقعات مارکسی نظریات کی سچائی اور عمومی تناظر کو سچ ثابت کر رہے ہیں۔)
28 فروری 2026ء کے دن امریکہ اور اسرائیل نے اپنی سامراجی روایات کے عین مطابق ایران پر جنگ کا آغاز کیا تھا۔ یہ حملہ 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد سے لیکر اب تک ایران کے خلاف دہائیوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ہے۔ ایران شائد اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار ملک ہے جس پر دہائیوں سے امریکی پابندیاں عائد ہیں جبکہ اسرائیل کئی سالوں سے ایرانی ریاست اور اس کے کلیدی افراد جیسے جرنیلوں، جوہری سائنس دانوں وغیرہ پر کامیاب قاتلانہ حملے کرتا رہا ہے۔
پچھلے سال 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ نے بھی جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اس بارہ روزہ جنگ کا مرکزی ہدف ایرانی جوہری اور عسکری تنصیبات تھیں لیکن ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ میں امریکہ کو گھسیٹنے کے برعکس فتح کے اعلانات کے ساتھ فوری طور پر معاملہ لپیٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس مرتبہ امریکہ اور اسرائیل نے کئی مہینوں کی تیاری، جس میں امریکی بحری بیڑوں کی خطے میں تعیناتی سے لے کر جنگی ہوائی جہازوں اور اسلحہ بارود کا ذخیرہ کرنا تک سب شامل تھا۔اس کے بعد اس زعم میں حملہ کیا کہ 3 جنوری کو وینزویلا میں ایک مختصر کامیاب عسکری آپریشن کی طرح یہاں بھی معاملہ چند دنوں میں نمٹ جائے گا۔ پہلے حملے میں آیت اللہ خامنہ ای، اس کی بہو اور پوتے سمیت تقریباً 48 چوٹی کے حکام قتل ہو گئے جن میں وزیر دفاع، پاسداران اسلام کمانڈر اور دفاعی کونسل سیکرٹری شامل تھے۔ امریکہ کی جانب سے وضع کردہ جنگی اہداف کے مطابق جنگ کا مقصد ملاں ریاست کا خاتمہ اور”عوامی بغاوت“ کا فروغ، جوہری اور میزائل پروگرام کا مکمل خاتمہ اور خطے میں ایرانی نواز جنگجو گروہوں کی معاونت کا خاتمہ تھا۔
لیکن ایران اس جنگ کی پچھلی چار دہائیوں سے تیاری کر رہا تھا اور پچھلی اعلیٰ قیادت کی موت کے بعد نئی زیادہ سخت گیر اور جنگجو قیادت اقتدار میں آ چکی تھی۔ آج جنگ کو ساتواں مہینہ چڑھ چکا ہے اور امریکہ تاریخی شکست سے دوچار ہے جبکہ اسرائیل پورے خطے بلکہ پوری دنیا میں شدید تنہائی کا شکار ہے۔ ایران نے زبرست سامراج مخالف عوامی مزاحمت کے بلبوتے پر امریکہ اور اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود سامراجی انفراسٹرکچر جس میں عسکری اڈے، تنصیبات، لاجسٹکس، ہوائی جہاز وغیرہ شامل ہیں؛ انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ پھر خلیجی ممالک کی تیل، گیس اور انفراسٹرکچر تنصیبات کو بھی نہیں بخشا گیا ہے جس سے عالمی سپلائی چین کو شدید دھچکا لگا ہے اور تیل کا ایک بیرل 71 ڈالر سے 90 ڈالر کا ہو چکا ہے جبکہ یہ ایک مرتبہ 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر بھی پہنچ چکا ہے۔

اس کے ساتھ آبنائے ہرمز پر ایران اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے جو اس کے لئے ایک ہزار ایٹم بموں سے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل، 25 فیصد LNG اور تقریباً 30 فیصد فرٹیلائزر (یوریا اور امونیا)گزرتا ہے۔ یعنی پوری دنیا سمیت تمام خلیجی ممالک اب ایران کے رحم و کرم پر ہیں۔ امریکہ سر توڑ کوششوں، چالبازیوں اور دھمکیوں کے باوجود یہ کنٹرول ختم نہیں کروا سکا ہے۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنے اتحادی یمنی حوثی جنگجووں کے ذریعے باب مندب کی ناکہ بندی کا موثر نظام بھی واضح کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے 12 فیصد عالمی تجارت اور 8-12 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
اس ساری جنگ کا دنیا میں امریکی ساکھ پر بہت تباہ کن اثر پڑا ہے اور خطے میں تزویراتی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز تر ہوا ہے۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ سردست اس مضمون کا مقصد خطے کی معاشی اور سیاسی صورتحال کے ساتھ عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات کا جائزہ لینا ہے تاکہ مستقبل کے خد و خال کو واضح کرتے ہوئے ان میں انقلابی امکانات کی نشاندہی کی جائے۔
موجودہ معاشی صورتحال
یہ بات درست ہے کہ 1846ء میں تیل کی صنعتی پیداوار کے بعد سرمایہ داری کی رگوں میں دوڑتا خون تیل ہے۔ زراعت اور اشیاء خورد و نوش کی پیداوار، ادویات اور کیمیا جات، میڈیکل سامان، پلاسٹک، توانائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، تعمیرات اور انفراسٹرکچر، ٹیکسٹائل اور فیشن، اشیائے صرف اور میک اپ، مینوفیکچرنگ اور بڑی صنعت وغیرہ؛ غرضیکہ جدید زندگی کا شائد ہی کوئی ایسا شعبہ ہے جو تیل پر منحصر نہیں ہے۔ 1908ء میں ایران میں تیل کی دریافت اور پھر اگلے چند سالوں میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک، خاص طور پر موجودہ سعودی عرب میں تیل کی دریافت نے اس خطے کو عالمی معیشت اور سیاست کا ایک کلیدی حصہ بنا دیا ہے۔ مثلاً BP (برٹش پیٹرولیم) کمپنی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تقریباً 836 ارب بیرل قابل کشید تیل موجود ہے۔ اس حوالے سے امریکی سامراج اور عالمی سرمایہ داری کے لئے اس خطے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس تیل نے ہی خلیجی ممالک کو تیل کی دولت سے مالا مال اور مشرق وسطیٰ کو سامراجی قوتوں کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے۔
2021ء میں IEA(انٹرنیشنل انرجی ایجنسی) کی ایک شہرہ آفاق تحقیق ”2050ء تک سفر۔۔ عالمی توانائی سیکٹر کا مستقبل“ میں پیش گوئی کی گئی کہ سال 2050ء تک الیکٹرک گاڑیوں، گرین انرجی اور دیگر محرکات کی بنیاد پر تیل کا توانائی کے شعبے میں حصہ 55 فیصد سے محض 4 فیصد حصہ رہ جائے گا جبکہ گرین انرجی کا حصہ 3.5 فیصد سے بڑھ کر 88 فیصد تک ہو جائے گا۔ جنگ سے پہلے عالمی معیشت میں سست روی، الیکٹرک گاڑیوں اور گرین انرجی میں بے تحاشہ اضافے نے تیل پیداکار ممالک کی تیل فروخت پر گہرا اثر ڈال رکھا تھا۔ مثلاً جنگ سے پہلے تیل کی فی بیرل قیمت 71 ڈالر تھی لیکن خلیج کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کو اپنے تمام اخراجات اور بجٹ کے لئے فی بیرل قیمت کم از کم 115 ڈالر فی بیرل درکار ہے۔ اور اب جنگ میں کیا صورتحال ہے؟ سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ سال کی دوسری سہ ماہی میں معیشت 4.8 فیصد سکڑ چکی ہے جبکہ تیل کے سیکٹر میں 24.7 فیصد گراوٹ واقع ہوئی ہے۔
اسی طرح امریکی تھنک ٹینک CFR (کونسل آن فارن ریلیشنز) کے مطابق خلیجی ممالک کے GDP (کل مجموعی پیداوار) میں اس سال3-14 فیصد گراوٹ متوقع ہے۔ آکسفورڈ اکنامکس کے مطابق اس سال خلیجی ممالک کی GDP بڑھوتری 4.4 فیصد متوقع تھی جو اب کم ہو کر 1.3-2.6 فیصد کر دی گئی ہے۔ UNDP (اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام) کے مطابق پورے خطے کو تقریباً 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان متوقع ہے۔ ایران پر شدید بمباری، صنعت اور انفراسٹرکچر کی وسیع تباہی سے تقریباً 270 ارب ڈالر کی معاشی تباہی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اور عالمی معیشت کی کیا صورتحال ہے؟ IMF اور ورلڈ بینک کے مطابق عالمی معیشت کی شرح نمو 2.9 فیصد سے سکڑ کر 2.5 فیصد ہو جائے گی۔ یوریا، امونیا اور سلفر کی سپلائی میں شدید مسائل اور پیداوار کی تباہی کی وجہ سے پوری دنیا میں قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔ پوری دنیا میں کسان کم فصلیں اگانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 4.5 کروڑ افراد اشیاء خورد و نوش کی خطرناک کمی کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ سب سے زیادہ اثر انڈیا، بنگلہ دیش، سوڈان، مصر اور کینیا پر پڑے گا۔
جنگ سے پہلے خطے کی معیشت عالمی سرمایہ داری کے نامیاتی بحران اور تجارتی جنگوں کے نتیجے میں سست روی کا شکار تھی جبکہ افراط زر بھی بڑھ رہا تھا۔ IMF کے مطابق پہلے سے تباہ حال ایران میں اس سال افراط زر 68.9 فیصد متوقع ہے۔ SCI (سنٹر برائے شماریات ایران) کے مطابق نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 23.4 فیصد رہے گی۔ یہ جنگ کے دوران صنعتوں کی تباہی کے نتیجے میں 10 لاکھ نوکریاں ختم ہونے کے علاوہ ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جنگ کی وجہ سے افراط زر 4.4 فیصد اور کچھ اشیاء کے معاملے میں 5.4 فیصد تک متوقع ہے جبکہ ILO (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے مطابق نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 26.2 فیصد رہے گی۔ اگر ان سب اعداد و شمار کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو برسر روزگار محنت کشوں کی قوت خرید مزید برباد ہو گی اور 17 کروڑ نوجوانوں (15-30 سال) کا بپھرا ہوا لاوا مزید غم و غصہ کا شکار ہو کر کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
سیاسی اور سماجی اثرات
بورژوا معیشت دانوں کے برعکس مارکس وادیوں کا مقصد اعداد و شمار اور سرمایہ داری کی موجودہ صحت سے عوامی شعور پر ان اثرات کا تعین کرنا ہے جو حتمی طور پر انقلابی تحرک کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر مشرق وسطیٰ پہلے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھاجو پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی اور فرانسیسی سامراج کی بندر بانٹ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہاں جدید ریاستوں کی تشکیل کسی بورژوا انقلاب کے برعکس برطانوی، فرانسیسی اور امریکی سامراج کی نقشے پر کھینچی گئی سیدھی لکیروں کا نتیجہ ہے جس میں وفادار قبائلی اشرافیہ کو بادشاہ بنا کر باقی آبادی پر مسلط کر دیا گیا۔ اس لئے ایک قومی تشخص کے ابھرنے کا عمل وقوع پذیر نہ ہو سکا۔1950-60 ء کی دہائیوں میں بعث پارٹیوں کے تحت ابھرنے والی عرب قوم پرستی کا اثرو رسوخ کبھی بھی خلیجی ممالک میں قابل ذکر نہیں رہا۔ ان ممالک کے عرب آج بھی اپنی شناخت سب سے پہلے اپنے قبائل کی بنیاد پر ہی کرتے ہیں جس کے بعد علاقہ اور سب سے آخر میں کوئی ملک آتا ہے۔ خلیجی ممالک کی ریاستوں کا ڈھانچہ بھی انہی بنیادوں پر استوار ہے کہ ریاستی ادارے اور ان اداروں میں مختلف شعبے قبائلی بنیادوں پر بانٹے گئے ہیں تاکہ طاقت اور اقتدار میں حکمران قبیلے کے ساتھ اتحادی قبائل کا بھی حصہ ہو۔ مثلاً نام نہاد قومی فوج میں یونٹوں، رجمنٹس وغیرہ کی قبائلی بنیادوں پر تشکیل، شہروں کی گورنرشپ، معیشت کے مختلف شعبہ جات وغیرہ کی بندر بانٹ۔ لیکن اس سب کی بنیاد میں ایک ہی چیز ہے۔۔ تیل۔
عرب شاہوں کا قبائل یا عوام کے ساتھ ایک سماجی معاہدہ تھا کہ تمام ضروریات و سہولیات زندگی کو مفت یا کم از کم انتہائی سستا فراہم کیا جائے گا تاکہ ایک طرف اقتدار قائم رہے اور دوسری جانب عوام انتظام ریاست میں حصہ داری نہ مانگے۔ اس پرتعیش زندگی کے ساتھ 1970ء کی دہائی سے خارجی محنت کشوں کی درآمد کا ایک سلسلہ مسلسل جاری تھا تاکہ معیشت اور سماج کا روزمرہ انتظام ممکن ہو۔ تمام بیان بازیوں اور لفاظیوں کے باوجود آج اگر کوئی سطحی اصلاحات ہو بھی رہی ہیں تو ان کی بنیاد تیل کی صنعت ہے، سروسز سیکٹر کی بنیاد تیل کی صنعت ہے، بجٹ کی بنیاد تیل کی صنعت ہے، عالمی اثر و رسوخ کی بنیاد تیل کی صنعت ہے۔ اور اسی لئے عالمی اور علاقائی ”امن و امان“ اور عالمی سرمایہ داری کو تیل کی بلاروک ٹوک تیل کی فراہمی کے لئے امریکی سامراج دوسری عالمی جنگ کے بعد سے بالعموم اور 1991 ء کی عراق جنگ کے بعد سے بالخصوص خطے کی سیکورٹی گارنٹی دیتا آیا ہے۔
لیکن وقت اور زمانہ بدل چکا ہے۔ سرمایہ داری کے عمومی اور امریکی سامراج کے خصوصی بحران اور چین اور روس جیسی نئی سامراجی طاقتوں کے ابھار نے امریکی زوال کو تیز کر دیا ہے۔ اب امریکہ کے پاس وہ معاشی اور سیاسی سکت نہیں ہے کہ پوری دنیا کی تھانیداری کر سکے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یوکرین جنگ ہے جس میں ساڑھے چار سال امریکہ،یورپ اور نیٹو پورا زور لگا کر بھی روس کو شکست نہیں دے سکے۔ تجارتی جنگ میں امریکہ چین کو مات نہیں دے سکا اور اب ایران جنگ میں دنیا کی دو سب سے جدید اور خونخوار عسکری مشینیں ایران کو زیر نہیں کر سکیں۔ تمام اعلان کردہ جنگی اہداف دھرے رہ گئے ہیں بلکہ مغربی اور خلیجی ذرائع کے مطابق خطے میں عسکری اڈوں کی تباہی کے بعد امریکہ ان اڈوں سے مغرب کی جانب اردن اور اسرائیل منتقل ہونے کا سوچ رہا ہے۔ خلیجی ممالک کو بھی یہ ادراک ہو رہا ہے کہ ٹریلین ڈالروں کی سرمایہ کاری، امریکی سامراج کے لامتناہی عیاش خرچوں اور جدید ہتھیاروں کے انباروں نے بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے ان کا کوئی تحفظ نہیں کیا تو پھر ان اڈوں کا کیا فائدہ ہے بلکہ یہ الٹا مصیبت کا ذریعہ اور آسان نشانہ بن چکے ہیں۔ خطے میں ایرانی اتحادی ملیشیاء اور جنگجو آج بھی لبنان، غزہ، عراق اور یمن میں قائم ہیں۔
’ابراہام معاہدہ‘ جس کا مقصد اسرائیلی سائے میں خلیج کا سیکورٹی نظام چلانا اور فلسطینی سوال کو پس پشت ڈالنا تھا، وہ اب تار تار ہو چکا ہے۔ اس لئے ہمیں پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ؛ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی دفاعی معاہدہ؛ سعودی عرب کی سربراہی میں بحری اتحادی فورس کی تشکیل جیسی کوششیں نظر آ رہی ہیں جن کے ذریعے امریکی طاقت کے زوال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کو بھرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف انڈیا، عرب امارات اور اسرائیل اتحادی بن چکے ہیں اور یہ پورا خطہ واضح طور پر دو متحارب گروہوں میں بٹ چکا ہے جبکہ اس ساری صورتحال میں ایک فوجی طور پر انتہائی پر اعتماد ایران کے ابھار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لیکن نئے اتحادوں کی تشکیل پر مبنی یہ انتہائی ناپائیدار، غیر یقینی اور سطحی کوششیں ہیں۔ کوئی ایک ملک یا تمام ممالک مل کر بھی اتنا دم نہیں رکھتے کہ وہ امریکہ کی چھوڑی ہوئی جگہ لے سکیں۔ ان میں چین اور روس بھی شامل ہیں۔ پھر امریکہ کمزور ہوا ہے، خطے سے نکلا نہیں ہے اور نا ہی مستقبل قریب میں ایسا ہو گا۔
اور جب تک خطے میں امریکی سامراج موجود ہے، اس کی چوکی اسرائیل اور اس سے جڑا مسئلہ فلسطین موجود ہے، خطہ کبھی پرامن نہیں ہو سکتا۔ ماضی میں اس خطے میں جس طرح سرمایہ کاری ہوتی تھی جیسے پراپرٹی، سروس سیکٹر، اسٹاک مارکیٹ وغیرہ اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ عدم استحکام اور مسلسل جنگ یہاں کا خاصہ بن چکے ہیں۔ گاہے بگاہے یہاں میزائل اور ڈرون چلتے رہیں گے، ہتھیاروں کی دوڑ تیز تر ہو گی، پراکسی جنگیں ہو ں گی، جنگ کا دائرہ کار عسکری اہداف سے سماجی انفراسٹرکچرز جیسے ڈیسالینیشن پلانٹس، بجلی گھر، گودام، ڈیٹا سنٹر، صنعتی پیداوار، تیل اور گیس تنصیبات کی جانب بڑھتا جائے گا۔ ایران میں قیشم جزیرہ، بحرین میں پلانٹ، کویت میں سوبیا پلانٹ اور امارات میں ڈیسالینیشن پلانٹس پر حملہ مستقبل کی نوید ہے۔ شام اور لبنان پہلے ہی خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ خطہ انسانی زندگی کے لئے ہی ناکارہ ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی عوام محض خاموش تماشائی نہیں ہے۔ اس نے دیکھا ہے کہ اسرائیل تین سال غزہ میں ننگی نسل کشی کرتا رہا ہے جس پر کسی عرب ریاست اور اس کے حکمرانوں نے اف تک کرنا گوارا نہیں کیا، انگلی اٹھانا تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لئے پورے خطے میں میزائل چلے ہیں، دفاع کے لئے جنگی جہاز اڑے ہیں لیکن غزہ میں بے یار و مددگار فلسطینی عوام کی مدد کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا ہے۔ کل جب یہی عرب بادشاہتیں بڑھتے عالمی معاشی بحران، سست ہوتی معیشت اور دیوہیکل عسکری اخراجات کے گھن چکر میں جبری کٹوتیاں، نئے ٹیکس اور دیگر سخت گیر اقدامات اٹھائیں گے تو ناگزیر طور پر انہیں عوامی مزاہمت کا سامنا ہو گا جسے کچلنے کے لئے یہ ڈنڈوں اور آنسو گیس شیل سے لے کر گولی تک سب چلائیں گے۔

لیکن کس سیاسی اتھارٹی کی بنیاد پر؟ عوام تو سوال کرے گی کہ اسرائیل سے تو لڑ نہیں سکتے، معیار زندگی مستحکم رکھ نہیں سکتے تو بادشاہ کیوں بنے بیٹھے ہو؟ بس ہم پر گولی ہی چلا سکتے ہو؟ کسی سیاسی اور سماجی پارٹی کی عدم موجودگی میں بادشاہت کے ساتھ براہ راست تصادم ناگزیر ہے۔ اس سے پہلے ہم عرب بہار میں یہ دیکھ چکے ہیں کہ کیسے مراکش، تیونس اور مصر کی عوام نے براہ راست ریاست سے ٹکر لی اور حکومتوں کا خاتمہ کر دیا۔ پھر اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ ان بادشاہتوں کی وفادار نا عوام ہے اور نا ہی خارجی محنت کش جو ہولناک جبر کا شکار ہیں۔ الغرض ان تمام محرکات کی موجودگی میں نہ صرف عدم استحکام، انتشار، تصادم اور مزید جنگیں جنم لیں گی بلکہ پورے خطے میں انقلابی تبدیلی کی جانب بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ مزید برآں یہ سلسلہ صرف عرب ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایران کی شدید عوام دشمن ملا اشرافیہ بھی زیادہ عرصے تک امریکہ کیخلاف ملنے والی حالیہ جنگی کامیابیوں کو اقتدار پر براجمان رہنے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کر سکے گی اور کچھ ہی مدت میں وہاں بھی ملا حکمرانوں کیخلاف عوامی جدوجہد کا دھارا وہیں سے دوبارہ شروع ہو گا جہاں سے حالیہ سامراجی جنگ کے نتیجے میں وہ کٹ گیا تھا۔
مستقبل کا ایک ہی راستہ۔۔ سوشلسٹ انقلاب!
آج محنت کش عوام اور نوجوانوں میں ایک عالمی شعور جنم لے رہا ہے۔ اس شعور کی بنیاد پوری دنیا میں پھیلی مہنگائی،غربت،بیروزگاری، غزہ میں تین سالہ نسل کش جنگ اور ایپسٹین سکینڈل جیسے عوامل ہیں۔ ایک احساس، ایک سوچ واضح ہو رہی ہے کہ پوری دنیا کا سرمایہ دار حکمران طبقہ ایک ہے، اس کی غلیظ عیاشیاں ایک ہیں، اس کی منافع خوری اور انسانی خون کی پیاس ایک ہے۔ اسی شعور کی بنیاد پر پچھلے سال 197 ممالک اور علاقہ جات میں 1 لاکھ 73 ہزار 800 احتجاج، تحریکیں اور تصادم ہوئے۔ کوئی ملک، کوئی خطہ اور کوئی براعظم ایسا نہیں ہے جو نوجوانوں اور عوامی تحریکوں کی لپیٹ میں نا ہو۔
کئی ممالک جیسے نیپال، پیرو، مڈگاسکر، سربیا، بلغاریہ، فرانس، رومانیہ اور جنوبی کوریا میں یہ سرکشیاں انقلابات کی شکل اختیار کر گئے جنہوں نے حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا یا ان کے تختے الٹ دئے۔ اسپین اور اٹلی جیسے یورپی ممالک میں فلسطین یکجہتی کے طبقاتی سیاسی سوال پر لاکھوں عوام سڑکوں پر آگئے۔ آج کی نسل جین زی سوشل میڈیا سے منسلک ہے اور پوری دنیا میں رونما ہونے والے انقلابات اور تحریکوں کو لائیو اپنے موبائل فونز پر دیکھتی ہے، ان سے ہمت و حوصلہ پکڑتی ہے، سیکھتی ہے اور تقویت حاصل کرتی ہے۔ چند ہفتوں پہلے دہلی میں جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاجوں اور دھرنوں کو عالمی حمایت ملی۔
اسی طرح آج پاکستان زیر تسلط کشمیر میں جاری عوامی انقلاب کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کا بھی یہی مستقبل ہے۔ یہاں کے نوجوان بھی دن رات اپنے موبائل فون پر پوری دنیا کے حالات سے براہ راست واقف ہیں۔ اگر آج وہ سڑکوں پر نہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ سوچ سمجھ سے عاری ہیں اور ان کا شعور جامد و ساکت ہے۔ مشرق وسطیٰ کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی اپنے حکمران طبقات کے خلاف متحد انقلابی تحریک، چاہے وہ شہری ہیں یا خارجی، سامراجی جنگوں اور تباہی و بربادی کے خلاف واحد ضمانت ہیں۔
ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ مشرق وسطیٰ کی شاندار انقلابی روایات ہیں۔ایران، مصر، شام، یمن، لبنان، فلسطینی حریت تحریک، کردوں کی تحریک وغیرہ انقلابی تحریکوں کی درخشاں داستانیں ہیں۔ مستقبل ایک مرتبہ پھر کروٹ لے گا، مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں کی نئی نسل انقلابی جھنڈوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر تحریکیں برپا کرے گی اور پوری دنیا میں ان کے طبقاتی بہن بھائی ان کا استقبال کریں گے۔