امریکی معیشت بدترین بحران کی زد میں

|تحریر: جو رسل، ترجمہ: ولید خان|

امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جاری کردہ بانڈز کی واپس خریداری دگنی کر رہا ہے۔ یہ بہت ہیجانی قدم ہے!

یہ اعلان سیکرٹری برائے خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کیا ہے۔ یہ قدم امریکی طویل مدت بانڈز (حکومتی قرضہ) کی بھاری فروخت کے بعد اٹھایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں 30 سالہ بانڈز پر منافع (شرح سود) 2007ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جب تقریباً دو دہائی قبل عالمی معاشی بحران کا بس آغاز ہوا چاہتا تھا۔

بانڈز پر منافع قیمتوں میں کمی کے ساتھ بڑھتا ہے۔ اور بانڈز کی قیمت اس وقت گر جاتی ہے جب سرمایہ کار وں کو حکومتی قرضہ خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

بحران کو بے قابو ہونے سے روکنے کے لیے بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ سرمایہ کاروں سے 30 سالہ بانڈز کی خریداری کی جائے گی کیونکہ اب وہ انہیں مزید رکھنا نہیں چاہتے۔ محکمہ خزانہ ایک مخصوص عرصے میں جتنی خریداری کر رہا ہے اس سے دگنی خریداری کی جائے گی یعنی دو ارب سے چار ارب ڈالر جس کے بعد کل خریداری 66 ارب ڈالر سالانہ ہو سکتی ہے۔

بیسنٹ 66 ارب ڈالر سالانہ کہاں سے لائے گا؟ اس کا منصوبہ ہے کہ زیادہ قلیل مدت بانڈز جاری کر کے طویل مدت بانڈز کی خریداری کی جائے۔ یعنی اپنے ہی کریڈٹ کارڈ سے پہلے قرضہ لو اور پھر ساہوکاروں سے قلیل مدت قرضہ اٹھا لو تاکہ اپنے کریڈٹ کارڈ کا قرضہ واپس کر سکو!

نئے مسائل کی بھرمار

ان اقدامات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ لیکن امریکی ملکی فنانس کے لیے مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر بانڈز کی مانگ اور رسد کے درمیان خلیج کو کم کر کے ان کی قیمتوں میں تیز تر گراوٹ کو روک لیا جائے لیکن اس عمل سے امریکی حکومت کے لیے مہنگے قرضوں کے حصول کا عمومی عمل ختم نہیں ہو گا۔

لوگ بانڈز کو سرمایہ کاری کے طور پر خریدتے ہیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں پیسے لگا کر سود کی بنیاد پر منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایک زمانے میں اس کام کے لیے طویل مدت حکومتی بانڈز بہت موزوں تھے۔ خاص طور پر امریکی حکومتی بانڈز۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی حکومت ہمیشہ اپنا قرضہ ادا کرتی آئی ہے۔ چاہے آپ کا بانڈ سود سمیت دو یا دس یا تیس سال میں قابل ادا ہے، امریکی حکومت کے مستقبل پر کوئی سوال نہیں ہوتا تھا۔

لیکن اب عالمی منڈی کے مطابق پرانا استحکام ختم ہو چکا ہے۔ سرمایہ دار اب طویل مدت امریکی بانڈز کو اچھی سرمایہ کاری نہیں سمجھتے کیونکہ کئی عناصر کا پرانتشار ادغام ہو رہا ہے۔

لیکن اب عالمی منڈی کے مطابق پرانا استحکام ختم ہو چکا ہے۔

سب سے پہلے اس وقت AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کمپنیوں کا ایک تاریخی اسٹاک بلبلہ تیار ہو چکا ہے۔ دیوہیکل ٹیکنالوجی کمپنیاں بے تحاشہ قرضہ لے رہی ہیں، حتیٰ کہ اپنے بانڈز بھی جاری کر رہی ہیں اور نجی سرمایہ کار کئی سو ارب ڈالر قرضے دے رہے ہیں۔ اسٹاک قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت حکومتی بانڈز سے زیادہ ان میں منافع خوری کے لیے سرمایہ کاری ہور ہی ہے۔

پھر، طویل مدت بانڈز افراط زر کی وجہ سے زیادہ پر خطر سرمایہ کاری بنتے جا رہے ہیں۔ کرنسی کی قدر گرنے کے ساتھ قرضوں کی قیمت بھی گر رہی ہے جو طویل مدت بانڈز پر منافعوں کو کم کر رہے ہیں۔

امریکی معیشت پچھلے پانچ سالوں سے مسلسل بلند افراط زر کا شکار ہے۔ اگرچہ یہ فیڈرل ریزرو، محکمہ خزانہ اور وائٹ ہاؤس کی اولین ترجیح ہے کہ افراط زر کو کسی طرح قابو کیا جائے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مہم کا ایک کلیدی وعدہ تھا۔ لیکن وہ ابھی تک اسے قابو نہیں کر سکے ہیں۔

اس کے برعکس ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہے جس نے تیل اور کھاد کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ کر دیا ہے۔ اشیاء خورد و نوش اور باقی سب کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھیں گی۔ یہ ٹرمپ حکومت کی خود ساختہ غلطی ہے جس سے حکومت کو قرضہ دینے والوں کے اعتماد میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔

پھر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ میں موجودہ سیاسی نظام صورتحال پر تیزی سے اپنا کنٹرول کھو رہا ہے۔ ریاستی قرضہ تو یقینا بے قابو ہے۔

اس ہفتہ کل ریاستی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس میں صرف پچھلے سال میں 3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا اور حکومتی اخراجات کا 15 فیصد اس مسلسل بڑھتے ہوئے دیوہیکل بلیک ہول میں جھونکا جا رہا ہے۔ یہ فلاح و بہبود یا عسکری اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔

ایران جنگ جیسی پالیسیاں اور اب محکمہ خزانہ کا یہ تاریخی قدم اعتماد کو مزید مجروح کریں گے۔

اس ہفتہ فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ:

”کچھ افراد کا خیال ہے کہ بیسنٹ کی بانڈ مارکیٹ میں براہ راست مداخلت کر کے قرضہ جات کی لاگت پر اثر انداز ہونے کی کوشش خود قرضہ جات کی فروخت کو تیز کر سکتی ہے جس سے منافع میں مزید اضافہ ہو گا۔“

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ نتائج کے حوالہ سے فکر مند ہے تو اس کا کہنا تھا کہ ”نہیں، کیونکہ ہماری باقی معیشت ٹھیک ہے“۔ اس کی جانب سے فیڈرل ریزرو میں مقرر کردہ نیا شخص کیفن وارش بھی افراط زر پر اتنا سنجیدہ نہیں ہے جتنا سرمایہ داروں کو امید تھی۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ”بظاہر شرح سود میں اضافے پر لیت و لعل، اس کے ساتھ پانچ سالوں سے فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد ہدف سے زیادہ افراط زر اور اس میں مسلسل اضافہ؛ ان سب کا اچھا اثر نہیں پڑا ہے“۔

اس حکومت کی لاپرواہ اور الزام تراش روش اور معاشی حقائق سے خوش فہم انکار نے بانڈز رکھنے والوں کے اعتماد کو بہت زیادہ ٹھیس پہنچائی ہے۔

ناقابل حل بحران

لیکن اس بحران کی وجہ صرف ٹرمپ کی نااہلی نہیں ہے۔

ٹرمپ نے قرضہ جات میں اپنے کسی بھی پیش رو صدر سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ لیکن ٹرمپ سے پہلے یہ ریکارڈ اوبامہ کے سر تھا جس نے 2007-08ء میں مالیاتی بحران کے بعد بینکوں کے زیادہ تر ریاستی امدادی پیکجز کی نگرانی کی تھی۔ 2016ء میں اوبامہ کی دوسری حکومت کے اختتام اور ٹرمپ کی پہلی حکومت کے آغاز پر کل امریکی ریاستی قرضہ لگ بھگ 20 ٹریلین ڈالر تھا۔ ایک دہائی میں یہ دگنا ہو چکا ہے۔ اس ایک دہائی میں اس میں سب سے زیادہ اضافہ کرنے والا صدر جو بائیڈن تھا۔

نکتہ واضح ہے۔ جو بھی برسراقتدار ہو گا، ڈیموکریٹس یا ریپبلیکنز اور ان کے جو بھی نظریات یا انتخابی وعدے ہوں، وہ قلیل مدت حل تلاش کرنے پر مجبور ہو گا جس کی ایک ہی شکل ممکن ہے یعنی کمر توڑ قرضہ تاکہ امریکی سرمایہ داری کا گہرا اور ناقابل حل بحران کسی طرح مؤخر ہو سکے۔

امریکی حکومت مزید قرضے اٹھائے بغیر خرچے جاری نہیں رکھ سکتی اور مزید قرضے صرف بلند شرح سود پر ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ موت کا کنواں ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔

سماجی فلاح و بہبود میں دیوہیکل کٹوتیاں ناگزیر ہیں لیکن امریکیوں کی اب بس ہو چکی ہے۔ موجودہ ”بانڈ مارکیٹ کی بغاوت“ مستقبل میں امریکی محنت کش طبقے کی بغاوت کے سامنے ایک معمولی واقعہ ثابت ہو گی۔