افغانستان پر طالبان کا پانچ سالہ قبضہ: اندرونی بحران، بیرونی طاقتیں اور اقتدار کا مستقبل

|تحریر: زلمی پاسون|

افغانستان پر طالبان کے قبضے کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے ہم طالبان کی تشکیل، ان کے پہلے قبضے اور پھر 2021ء میں سامراجی پشت پناہی کے ذریعے افغانستان پر ان کے دوبارہ قبضے کے بارے میں تفصیلی تحریریں متعدد بار شائع کر چکے ہیں۔ اس لیے یہاں ان تمام تفصیلات کو دہرانے کی بجائے صرف ایک بنیادی حقیقت کی نشاندہی ضروری ہے کہ افغانستان پر مسلط یہ ٹولہ اپنے آغاز سے لے کر آج تک کسی بھی مرحلے پر ایک آزاد قوت نہیں رہا اور نہ ہی موجودہ سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام کے اندر اس کے ایک آزادانہ کردار ادا کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

طالبان کی تاریخ کو دیکھا جائے تو ان کی تشکیل اور سیاسی و عسکری ارتقا ہمیشہ علاقائی اور عالمی سامراجی طاقتوں کے مفادات کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں جڑا رہا ہے۔ اسی لیے آج جو لوگ طالبان کو ایک مکمل طور پر آزاد اور خودمختار گروہ سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ ایک پراکسی اپنے سامراجی آقاؤں کو تبدیل تو کر سکتی ہے، مگر وہ مسلسل کسی نہ کسی سطح پر پراکسی ہی رہتی ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس کے رویوں، ترجیحات اور سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں ضرور آ سکتی ہیں، لیکن محض اقتدار کا حصول اسے آزاد قوت میں تبدیل نہیں کرتا، خصوصاً اس وقت جب اس کے پاس موجودہ سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام کے مقابلے میں کوئی متبادل سیاسی و معاشی پروگرام یا نظام موجود نہ ہو۔

یہی حقیقت آج افغانستان پر مسلط طالبان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ طالبان اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد ریاست کے خودمختار حکمران ہیں، لیکن ان کی معاشی، سیاسی اور سفارتی کمزوریوں نے انہیں سامراجی طاقتوں اور علاقائی ریاستوں کے ساتھ سمجھوتوں اور انحصار سے آزاد ہونے کا موقع نہیں دیا۔ درحقیقت وہ ایسے سامراجی شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں کہ چاہیں بھی تو ان سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتے۔ مزید یہ کہ اگر وہ کسی مرحلے پر اس انحصار سے نکلنے کی کوشش کریں بھی تو ان کے اپنے اندر موجود مختلف دھڑوں، مفادات اور تضادات اتنی شدت سے سامنے آ سکتے ہیں کہ یہ پورا ڈھانچہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔

تاہم یہاں ایک بنیادی اصولی بات واضح کرنا بھی نہایت ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے سامراجی کردار کی مخالفت کا مطلب افغانستان میں کسی بھی دوسری بیرونی طاقت کی مداخلت کی حمایت نہیں ہے۔ ہم نے افغانستان میں ہر قسم کی سامراجی اور بیرونی مداخلت کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ثور انقلاب کے دوران سوویت یونین کی مداخلت ہو، پیٹرو ڈالر جہاد کے ذریعے ہونے والی مداخلت ہو، یا بعد میں طالبان کے اقتدار اور نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے ذریعے ہونے والی سامراجی مداخلت۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی دوسرا خطہ، سامراجی طاقتوں کی مداخلت کا بنیادی مقصد محنت کش عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ اپنے سیاسی، معاشی اور تزویراتی مفادات کا حصول ہوتا ہے اور اسی لیے ہم ہر شکل میں ایسی مداخلت کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔

اس تناظر میں طالبان اور ان کے دیگر ہمنوا بھی افغانستان میں جاری اس پورے سامراجی جنگی عمل سے الگ کوئی مظہر نہیں بلکہ اس کا ناگزیر حصہ رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں انہوں نے مختلف سامراجی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کے مطابق ایک پراکسی قوت کا کردار ادا کیا۔ 2021ء میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اگرچہ ان کے تعلقات اور ترجیحات میں کچھ تبدیلیاں ضرور آئی ہیں، لیکن وہ اپنے تاریخی کردار، داخلی کمزوریوں اور سامراجی و علاقائی طاقتوں پر انحصار سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکے۔

اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ افغانستان آج بھی سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ طالبان نہ ماضی میں افغان محنت کش عوام کی آزادانہ مرضی اور جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے اور نہ 2021ء میں ان کی واپسی کو محض عوام کی آزادانہ سیاسی خواہش کا اظہار قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے اقتدار کی پوری تاریخ افغانستان کے اندرونی تضادات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی مداخلتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا افغانستان میں جاری تباہی، بربادی، غربت، سیاسی جبر اور سماجی بحران کی ذمہ داری جہاں دہائیوں سے جاری سامراجی مداخلتوں اور ان کی مسلط کردہ جنگوں پر عائد ہوتی ہے، وہیں طالبان اور ان کی موجودہ پالیسیوں کو بھی اس ذمہ داری سے کسی طور بری نہیں کیا جا سکتا۔

افغان عوام کی نجات نہ طالبان کے ذریعے ممکن ہے، نہ کسی دوسری سامراجی طاقت کی سرپرستی کے ذریعے۔ افغانستان کے بحران کا حقیقی حل افغان محنت کش عوام کی آزادانہ سیاسی جدوجہد، سامراجی مداخلت کے خاتمے اور ایک ایسے متبادل سیاسی و معاشی نظام کی تعمیر میں مضمر ہے جو افغانستان کے محنت کشوں اور محکوم طبقات کے مفادات کی نمائندگی کرے۔

افغانستان اور قبرستان میں امن

آج افغانستان کے حوالے سے طالبان، ان کے بیرونی نقادوں اور بعض ہمنواؤں کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں ”امن“ قائم ہے۔ لیکن پہلا سوال یہ ہے کہ افغانستان کے امن کو تباہ کس نے کیا تھا؟ اور دوسرا، جس امن کا اتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اس امن کی نوعیت کیا ہے؟ قبرستانوں میں بھی مکمل خاموشی، سناٹا اور بظاہر امن ہوتا ہے، جہاں ہزاروں لوگ دفن ہوتے ہیں۔ اگر امن سے مراد صرف بندوقوں کی خاموشی ہے تو افغانستان یقیناً پہلے سے زیادہ پُرامن دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر امن سے مراد انسانوں کا باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی گزارنا ہے تو افغانستان کی موجودہ صورتِ حال اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔

افغانستان کی موجودہ معاشی صورتِ حال اس ”امن“ کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ کئی دہائیوں کی جنگ، سامراجی مداخلت، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے، کمزور صنعتی بنیاد اور بیرونی امداد پر انحصار نے افغانستان کو ایک انتہائی کمزور معیشت میں تبدیل کر دیا ہے۔ افغانستان میں قابلِ اعتماد ریاستی معاشی اعداد و شمار اور مضبوط شماریاتی اداروں کی کمی کے باعث غربت، بے روزگاری اور دیگر معاشی اشاریوں کا مکمل اندازہ مشکل ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق 2025ء میں تقریباً 64 فیصد افغان آبادی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھی۔ ورلڈ بینک کے مطابق افغانستان بدستور درآمدات، بیرونی امداد اور ایک بڑی غیر رسمی معیشت پر انحصار کرتا ہے؛ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، سرمایہ کاری محدود ہے، بینکاری نظام شدید کمزوری کا شکار ہے اور نجی شعبہ توانائی، قرضوں اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع نے اس پہلے سے کمزور معیشت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ تقریباً ایک سال تک سرحدی تجارت اور آمدورفت میں رکاوٹ نے افغانستان کی زرعی پیداوار، خصوصاً ایسی اجناس کی تجارت اور برآمد کو شدید متاثر کیا جن کے لیے پاکستانی منڈی اور زمینی راستے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے اثرات پاکستان کی معیشت اور سرحدی علاقوں پر بھی پڑے ہیں، لیکن افغانستان کی نسبتاً کمزور اور بیرونی تجارت پر زیادہ منحصر معیشت کے لیے اس بندش کے اثرات کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں لوگوں کا روزگار زراعت اور سرحد پار تجارت سے وابستہ ہو، طویل سرحدی بندش محض تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست روزگار، آمدنی اور خوراک کے مسئلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہاں ان لوگوں کے مؤقف کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے جو طالبان سے نفرت کی بنیاد پر افغانستان کے سابقہ، نام نہاد امریکی حمایت یافتہ ”جمہوری دور“ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ طالبان کی مخالفت اپنی جگہ بالکل جائز ہو سکتی ہے، لیکن اس مخالفت کی بنیاد پر ماضی کی حقیقت کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی سرپرستی میں قائم سابقہ نظام نے بھی افغانستان میں کوئی مضبوط اور خود کفیل معاشی بنیاد تعمیر نہیں کی تھی۔ اربوں ڈالر کی بیرونی امداد، فوجی اخراجات اور مختلف منصوبوں کے نام پر آنے والی رقوم نے ایک ایسا مصنوعی معاشی ڈھانچہ ضرور پیدا کیا جو بیرونی ڈالروں کے بہاؤ کے ساتھ چلتا رہا، لیکن اس نے کوئی مضبوط صنعتی بنیاد، خود کفیل پیداواری معیشت یا وسیع پیمانے پر پائیدار روزگار پیدا نہیں کیا۔ بالآخر یہ معیشت بیرونی امداد اور ڈالروں کے بہاؤ پر اس قدر منحصر تھی کہ امریکی و اتحادی افواج کے انخلا اور امداد میں کمی کے ساتھ ہی اس کی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی۔

اس لیے طالبان سے پہلے کے دور کو محض ”جمہوریت اور خوشحالی“ کا سنہرا زمانہ بنا کر پیش کرنا تاریخی حقیقت سے فرار ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہاں کرپشن اور لوٹ مار موجود تھی؛ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ بیرونی سرمائے اور امداد پر منحصر ایک ایسا معاشی ماڈل تشکیل دیا گیا تھا جس میں عوام کی وسیع اکثریت کے لیے پائیدار معاشی بنیادیں تعمیر نہیں ہوئیں۔ چند لوگوں کے ہاتھوں میں ڈالر تو پہنچے، مگر وہ ڈالر ایک خود کفیل پیداواری نظام میں تبدیل نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ محض لوٹ مار کا ایک وسیلہ بن گیا۔

زراعت، جو افغانستان کی معیشت کا بنیادی سہارا ہے، وہ بھی شدید دباؤ میں ہے۔ خشک سالی، پانی کی قلت اور موسمیاتی بحران نے لاکھوں لوگوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے جانے والے لاکھوں افغان مہاجرین پہلے ہی کمزور لیبر مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں غربت اور بے روزگاری صرف معاشی اعداد نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی کا سوال بن چکی ہے۔ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکامی، جبری ہجرت اور انتہائی غربت کے ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جہاں خاندان اپنے بچوں تک کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس بحران کا ایک اہم پہلو طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں بھی ہیں۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی میں شرکت پر پابندیوں نے آبادی کے ایک بڑے حصے کو معاشی سرگرمی سے باہر کر دیا ہے، جس سے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے بلکہ افغانستان کی مجموعی پیداواری صلاحیت اور مستقبل کی معاشی ترقی بھی محدود ہوئی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اپنی نصف آبادی کو معاشی اور سماجی زندگی سے باہر رکھ کر ترقی نہیں کر سکتا۔

انقلابی کمیونسٹ نقطہ نظر سے افغانستان کے بحران کو محض طالبان کی غلط معاشی پالیسیوں تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہو گا۔ یہ بحران کئی دہائیوں پر محیط جنگ، سامراجی مداخلت، بیرونی امداد پر انحصار، کمزور صنعتی بنیاد، جاگیردارانہ و قبائلی سماجی ڈھانچوں اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں افغانستان کی تابع حیثیت کا مجموعی نتیجہ ہے۔ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان بنیادی مادی حالات کو تبدیل کرنے کے لیے نہ کوئی متبادل معاشی پروگرام پیش کیا اور نہ ہی ایسی سماجی و معاشی بنیاد قائم کی جو اس تاریخی بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکے۔

چنانچہ طالبان نے جنگ کے ایک مرحلے کو ضرور ختم کیا ہے، لیکن جنگ کے پیدا کردہ معاشی اور سماجی بحران کو ختم کرنے کی صلاحیت ان کے پاس نہیں ہے۔ ان کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر، پرانے منصوبوں کی تکمیل، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور بعض نئے منصوبوں کو اپنی ”کامیابی“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر چند تعمیراتی منصوبے نہ غربت کا خاتمہ کرتے ہیں، نہ روزگار پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی ایک تباہ حال معیشت کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔ جب عوام روٹی، روزگار، تعلیم، صحت اور مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو محض مذہبی حوالوں اور صبر کی تلقین سے ان مسائل کا حل نہیں نکلتا۔

لہٰذا افغانستان کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ وہاں گولیاں چل رہی ہیں یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ افغان عوام کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر لاکھوں انسان غربت، بے روزگاری، بھوک، ہجرت اور سماجی محرومی کا شکار ہوں تو محض بندوقوں کی خاموشی کو ”امن“ قرار دینا دراصل قبرستان کے سکوت کو زندگی کی علامت قرار دینے کے مترادف ہے۔ افغانستان کو قبرستان کا امن نہیں بلکہ ایسا حقیقی امن درکار ہے جو افغان محنت کش عوام کو روزگار، روٹی، تعلیم، صحت، آزادی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق فراہم کرے۔

سماجی بحران: خواتین، تعلیم، صحت، غربت اور بے روزگاری

طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان اس وقت ایک گہرے اور ہمہ گیر سماجی بحران سے گزر رہا ہے، جس کے اثرات خواتین سے لے کر تعلیم، صحت، روزگار، ثقافت اور مجموعی انسانی زندگی کے ہر شعبے تک پھیل چکے ہیں۔ اگرچہ طالبان کی جانب سے خواتین کو سماجی زندگی سے بے دخل کرنے کی پالیسیاں اس بحران کی ایک انتہائی نمایاں شکل ہیں، لیکن افغانستان کے موجودہ المیے کو صرف خواتین کے مسئلے تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ جیسا کہ ہم اس مضمون کے آغاز میں واضح کر چکے ہیں، طالبان کی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے افغانستان میں سامراجی مداخلت اور اس کے تاریخی کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان کی پالیسیاں ایک طرف خواتین کو سماجی، تعلیمی اور معاشی زندگی سے خارج کر رہی ہیں، تو دوسری طرف تعلیم، صحت، ثقافت اور دیگر سماجی شعبوں کی بنیادوں کو بھی مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔

بطور انقلابی کمیونسٹ ہم خواتین کو سماج کا محض ایک مظلوم طبقہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کی ایک بنیادی قوت سمجھتے ہیں۔ خواتین کی معاشی، سیاسی، تعلیمی اور سماجی آزادی کے بغیر نہ حقیقی انسانی آزادی ممکن ہے اور نہ ہی کسی انقلابی تبدیلی کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیاں محض ”خواتین کے حقوق“ کی خلاف ورزی نہیں بلکہ سماج کے ایک بڑے حصے کو شعوری اور عملی زندگی سے جبری طور پر خارج کرنے کی ایک رجعتی اور جابرانہ پالیسی ہے، جس کی ہم سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

تعلیم کی صورتِ حال اس وسیع تر سماجی بحران کی ایک واضح مثال ہے۔ بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت 21,257 مدارس موجود ہیں، جبکہ عصری علوم کے سکولوں کی تعداد تقریباً 18,000 ہے۔ طالبان حکومت کے مطابق، گزشتہ سال 2025ء میں مدارس میں 7.5 ملین سے زائد لڑکے اور 5 ملین سے زائد لڑکیاں زیرِ تعلیم تھیں۔ چھٹی جماعت سے اوپر لڑکیوں کی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیوں کے باعث مدارس میں طالبات اور خواتین اساتذہ کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کے مطابق سرکاری و نجی سکولوں اور عمومی تعلیم کے اداروں میں مجموعی طور پر 10 ملین سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق سکول جانے کی عمر کے نصف سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ یونیسکو کے مطابق 2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 2.5 ملین افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔ یہ محض دو تعلیمی اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ طالبان کے تحت تعلیمی ترجیحات کی سمت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف مذہبی مدارس کے پھیلاؤ کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب عصری تعلیم کا شعبہ پابندیوں، وسائل کی کمی اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیوں کے باعث سکڑتا جا رہا ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان کی نئی نسل کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم سے محروم کر کے ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو ملک کی مستقبل کی معاشی اور سماجی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو گا۔

خواتین کے خلاف طالبان کی پالیسیاں اس بحران کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور سماجی شرکت پر مسلسل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اس صورتِ حال کی ستم ظریفی یہ ہے کہ خواتین کو تعلیم اور باعزت روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے، مگر غربت کے ہاتھوں سڑکوں اور بازاروں میں بھیک مانگنے والی خواتین کو وہی ریاست روکنے سے قاصر ہے۔ گویا عورت کی آزادی ناقابلِ برداشت ہے، لیکن اس کی غربت قابلِ قبول ہے۔ ان پابندیوں کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ افغانستان کے مستقبل کو بھی متاثر کریں گے۔ لڑکیوں کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے مسلسل محروم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں خواتین اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسوں، قابلات (Midwife) اور دیگر پیشہ ور خواتین کی شدید قلت پیدا ہو گی۔ آج جو خواتین ان شعبوں میں موجود ہیں، ان کی جگہ لینے کے لیے نئی نسل کی تربیت ہی نہیں ہو سکے گی۔ یوں طالبان کی موجودہ تعلیمی پالیسی افغانستان کو مستقبل میں اپنی نصف آبادی کی صلاحیت سے محروم کرنے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔

صحت کا شعبہ بھی اسی بحران کی ایک اور سنگین شکل ہے۔ طبی سہولیات کی کمی، خواتین اور بچوں کی ابتر صحت، تربیت یافتہ طبی عملے کی قلت اور بیرونی امدادی سرگرمیوں میں کمی نے افغانستان کے صحت کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ خواتین کی تعلیم اور خصوصاً طبی شعبے میں ان کی شرکت پر پابندی اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے، کیونکہ خواتین مریضوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے خواتین ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر طبی کارکنوں کی موجودگی ناگزیر ہے۔ چنانچہ خواتین کی تعلیم پر پابندی بالآخر پورے معاشرے کے صحت کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔

غربت اور بنیادی ضروریات کا بحران اس پورے سماجی المیے کی بنیاد ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی مئی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 28 ملین افغان، یعنی آبادی کا 64 فیصد، اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق تقریباً 75 فیصد آبادی بنیادی ضروریات کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ خواتین کی سربراہی میں چلنے والے 88 فیصد گھرانے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ یہ اعداد و شمار طالبان کے دعوائے ”امن و استحکام“ کی سماجی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔

بے روزگاری کی درست شرح بتانے کے لیے افغانستان میں قابلِ اعتماد اور جامع سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، تاہم روزگار کے محدود مواقع، کمزور نجی شعبہ، بیرونی امداد میں کمی اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں پر پابندیوں نے لاکھوں خاندانوں کو شدید معاشی عدم تحفظ سے دوچار کر دیا ہے۔ خصوصاً وہ خواتین جو خاندان کی کفالت پر مجبور ہیں، ان کے لیے حالات کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ جب ایک طرف روزگار کے مواقع محدود ہوں اور دوسری طرف خواتین کو کام کرنے سے روکا جائے تو غربت محض معاشی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔

طالبان کی سماجی قدامت پسندی صرف خواتین اور تعلیم تک محدود نہیں۔ ثقافت، موسیقی، شاعری اور فنونِ لطیفہ پر اعلانیہ یا غیر اعلانیہ پابندیاں، فنکاروں اور شاعروں پر دباؤ اور اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنا معاشرے کے تخلیقی امکانات کو بھی محدود کر رہا ہے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ طالبان کے زیرِ اہتمام مشاعروں میں اگر کوئی شاعر طالبان کے خلاف شعر کہے تو اسے نہ صرف اسٹیج سے اتارا گیا بلکہ بعد ازاں قید و بند کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

طالبان کا ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ کا نظام بھی لوگوں کی نجی زندگی میں مسلسل مداخلت کا ذریعہ بن رہا ہے۔ یہ ایران کی گشتِ ارشاد (Gasht-e-Ershad) یا نام نہاد ”اخلاقی پولیس“ سے کسی حد تک مشابہت رکھتا ہے، جہاں ریاست لوگوں کے لباس، ظاہری حلیے، داڑھی، موبائل فون اور روزمرہ طرزِ زندگی تک میں مداخلت کرتی ہے۔ اس قسم کا جابرانہ سماجی نظم لوگوں کے اندر خوف کے ساتھ ساتھ غم و غصے کو بھی بڑھا رہا ہے۔

یہ تمام مظاہر مل کر واضح کرتے ہیں کہ افغانستان کا موجودہ بحران محض خواتین کے حقوق یا کسی ایک شعبے کا بحران نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی بحران ہے۔ طالبان ایک طرف مذہبی نظام کے نام پر اپنی حکمرانی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دوسری طرف تعلیم، صحت، روزگار، ثقافت اور انسانی آزادیوں کی بنیادی ضروریات کو محدود کر رہے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں کروڑوں انسان بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوں، عصری تعلیم سکڑ رہی ہو، خواتین معاشی اور سماجی زندگی سے خارج کی جا رہی ہوں اور صحت کا نظام بیرونی امداد کے سہارے قائم ہو، وہاں محض مذہبی نعروں، خیراتی امداد یا انتظامی پابندیوں سے مستقبل تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔

افغانستان کو صرف خاموشی، نظم و ضبط یا مذہبی جبر نہیں بلکہ ایسا سماجی و معاشی نظام درکار ہے جو تعلیم، صحت، روزگار، خواتین کی مکمل سماجی شرکت، ثقافتی آزادی اور بنیادی انسانی ضروریات کو حق کے طور پر تسلیم کرے۔ خواتین کو سماج سے خارج کر کے کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا؛ ان کی آزادی اور سماجی شرکت افغانستان کی حقیقی سماجی تبدیلی کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔ طالبان کی موجودہ صنفی جبر کی پالیسیاں اس تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی بجائے افغانستان کو مزید سماجی جمود، پسماندگی اور انسانی محرومی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

سیاسی بحران: سیاسی جماعتوں اور اختلافِ رائے پر پابندی

افغانستان کے سیاسی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے، بالخصوص پشتون افغان قوم پرست حلقوں میں، عموماً انتخابات، پارلیمان یا لویہ جرگہ (Grand Jirga) کی بحالی اور مختلف قومیتوں پر مشتمل ایک مشترکہ حکومت کی بات کی جاتی ہے۔ دوسری جانب طالبان کا مؤقف ہے کہ انتخابات کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کے بقول افغانستان میں ”اسلامی نظام“ قائم ہے اور شوریٰ کے ذریعے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ لیکن طالبان اور ان کے مخالفین، دونوں جانب سے جاری یہ بحث بنیادی طور پر انتہائی سطحی نوعیت کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ محض انتخابات کرانے، لویہ جرگہ بلانے یا ایک مشترکہ حکومت قائم کرنے سے کیا افغان عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ گزشتہ بیس برسوں کا تجربہ ہمارے سامنے ہے، جب افغانستان میں نام نہاد انتخابات، پارلیمان اور مختلف نمائندہ ادارے موجود تھے، لیکن اس پورے عرصے میں افغان عوام کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی مستقل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

اس سے بھی پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب ضروری ہے: سب سے پہلے افغانستان کو سامراجی یلغار اور اس کے سیاسی و معاشی تسلط سے آزاد کرانا ہو گا۔ اگر ہم طالبان سے محض مطالبات یا اپیلیں کرتے ہیں تو اس سے بالواسطہ طور پر یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ طالبان ایک آزادانہ سیاسی قوت ہیں جو افغانستان کے اندرونی سماج سے از خود جنم لے کر اقتدار میں آئی ہے، حالانکہ ہم طالبان کو ایک ایسی قوت سمجھتے ہیں جس کا کردار ابتدا ہی سے سامراجی مداخلت اور پراکسی سیاست کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ اس لیے سیاسی آزادی کا سوال بھی سامراجی تسلط کے سوال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

جو لوگ مشترکہ حکومت، گرینڈ جرگہ کی بحالی یا انتخابات کو افغانستان کے بحران کا حل سمجھتے ہیں، وہ دراصل عوامی جدوجہد اور عوام کی اجتماعی طاقت کے بنیادی کردار کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح افغانستان کو سامراجی یلغار اور تسلط سے آزاد کرانے کے لیے ایک وسیع عوامی جدوجہد کی تعمیر ہونی چاہیے، جو محض افغانستان کی موجودہ سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ڈیورنڈ لائن کے اُس پار پشتون سماج اور وہاں کی سیاسی جدوجہد سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے، جس پر ہم آگے تفصیل سے بات کریں گے۔

اصل مسئلہ صرف سیاسی اداروں کی شکل نہیں بلکہ یہ ہے کہ افغان عوام کو حقیقی سیاسی آزادی، آزادانہ تنظیم سازی، سیاسی جماعتیں بنانے، اختلافِ رائے کا اظہار کرنے اور اپنی اجتماعی طاقت کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ طالبان نے سیاسی جماعتوں اور انتخابی سیاست کو غیر اسلامی قرار دینے کے رجحان کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا کر اس بنیادی حق ہی سے افغان عوام کو محروم کر رکھا ہے۔ جب سیاسی جماعتیں بنانے، آزادانہ اظہار اور اختلافِ رائے کی گنجائش موجود نہ ہو تو انتخابات، لویہ جرگہ یا کسی مشترکہ حکومت کی محض تشکیل بھی عوامی جمہوری اختیار کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان میں ماضی میں بھی ایسی مضبوط عوامی بنیاد رکھنے والی سیاسی جماعتیں موجود نہیں تھیں جو وسیع پیمانے پر محنت کش عوام کی نمائندگی کرتی ہوں۔ بیشتر سیاسی قوتیں کسی نہ کسی شکل میں جہادی گروہوں، مذہبی دھڑوں، علاقائی مفادات یا بیرونی طاقتوں سے وابستہ رہی ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان نے ایک منظم سیاسی جماعت کے طور پر اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ضرور کی، لیکن انقلاب کے بعد یہ عمل بھی اپنی ابتدائی سیاسی سمت اور عوامی بنیاد کو برقرار نہ رکھ سکا۔

آج صورتِ حال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ سیاسی سرگرمی، اختلافِ رائے اور آزادانہ تنظیم سازی کو برداشت نہیں کیا جاتا؛ سیاسی وابستگی یا طالبان مخالف سرگرمی کی بنیاد پر گرفتاری، قید اور جلاوطنی کے واقعات مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ طالبان اپنے مخالفین ہی نہیں بلکہ اپنی صفوں میں اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو بھی برداشت نہیں کرتے۔ یہی رویہ صحافت اور میڈیا کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے، جہاں آزادانہ اظہار اور طالبان سے باہر کے سیاسی و سماجی نقطہ نظر کے لیے گنجائش انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔

اس صورتِ حال میں طالبان کی جانب سے ”کوئی مخالف نہیں“ یا ”ملک میں عوامی بغاوت نہیں“ کو اپنی مقبولیت کی دلیل بنانا محض خود فریبی ہے۔ جب سیاسی جماعتیں بنانے، احتجاج کرنے، آزادانہ اظہار اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہی موجود نہ ہو تو خاموشی کو عوامی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خاموش معاشرہ لازماً مطمئن معاشرہ نہیں ہوتا۔ افغانستان کے عوام کے بنیادی مسائل غربت، بے روزگاری، تعلیم، صحت، خواتین پر جبر اور معاشی محرومی بدستور موجود ہیں اور کئی صورتوں میں مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے محض جرگے، شوریٰ یا نمائشی سیاسی ڈھانچے کافی نہیں۔ افغان عوام کو سامراجی تسلط سے آزادی، حقیقی سیاسی آزادی، آزادانہ تنظیم سازی، اظہارِ رائے، اجتماعی جدوجہد اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق درکار ہے۔ یہی کسی حقیقی سیاسی حل کی بنیادی شرط ہے۔

طالبان کے اندرونی و بیرونی محاذ

ایک بات واضح ہے کہ طالبان کوئی یکساں اور یکجان سیاسی قوت نہیں۔ اگر ان کے اندر کسی حد تک یکسانیت موجود ہے تو اس کی بنیادی وجہ اقتدار کو برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش ہے۔ مختلف دھڑے اس احساس کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں کہ موجودہ اقتدار ان کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے؛ لہٰذا جب تک ممکن ہو، اقتدار، وسائل اور دولت پر مشترکہ قبضہ برقرار رکھا جائے۔ یہی مشترکہ مفاد انہیں اپنے اندرونی اختلافات کو دبانے اور بیرونی محاذ پر نسبتاً متحد رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ تاہم اس ظاہری اتحاد کے اندر شدید سیاسی، مذہبی، فوجی، قبائلی اور علاقائی تضادات موجود ہیں۔

یہ اختلافات صرف وزارتوں، سیکیورٹی اداروں، اقتصادی وسائل، تقرریوں اور اقتدار کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ پالیسی سازی کے بنیادی سوالات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان داخلی پالیسی، خارجہ پالیسی اور خصوصاً خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم، تعلیم کے مجموعی نظام اور معاشرے پر مذہبی و سماجی پابندیوں کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ اسی طرح تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے ساتھ تعلقات اور اس کے حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی بھی طالبان کے اندر اختلاف کا ایک اہم موضوع ہے۔ تاہم ان تمام اختلافات کے باوجود اقتدار کو برقرار رکھنے کا مشترکہ مفاد اس وقت ان تضادات پر غالب ہے، جس کے باعث مختلف دھڑے کھلے تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اختلافات کو اندر ہی اندر دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس وقت طالبان کے اندر بنیادی طور پر قندھار، کابل اور حقانی نیٹ ورک تین اہم مراکزِ اقتدار کے طور پر نمایاں ہیں۔ ان کے درمیان وزارتوں، سیکیورٹی اداروں، اقتصادی وسائل، تقرریوں اور خارجہ پالیسی پر اثر و رسوخ کے حوالے سے کشمکش موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف داخلی اور خارجی پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات بھی ان مراکز کے درمیان طاقت کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ ان اختلافات کا کھلا عوامی اظہار بہت محدود ہے اور کسی بھی دھڑے کے پاس واضح عوامی حمایت موجود نہیں، لیکن یہ تضادات طالبان کے اندر موجود حقیقی کشمکش کی نشاندہی کرتے ہیں۔ طالبان کی قیادت فی الحال اقتدار کے مشترکہ مفاد کے تحت ان اختلافات کو برداشت اور دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ اتحاد کب تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ان تضادات کا فیصلہ کن اظہار محض طالبان کے اندرونی سمجھوتوں سے نہیں بلکہ عوامی مزاحمت کے ابھرنے کی صورت میں زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔ اگر افغانستان میں وسیع عوامی جدوجہد اور مزاحمت پیدا ہوتی ہے تو طالبان کے اندر موجود یہ تمام تضادات زیادہ شدت کے ساتھ سطح پر آ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ دھڑے جو آج اقتدار کے مشترکہ مفاد کی خاطر اپنے اختلافات کو دبا رہے ہیں، ممکن ہے مختلف راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں، جس کے نتیجے میں طالبان کا موجودہ سیاسی و انتظامی ڈھانچہ کمزور پڑ سکتا ہے اور عوام پر قائم ان کا تسلط بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب طالبان مخالف سابقہ حکومت کے وہ عناصر جو مختلف سامراجی ممالک سے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں مداخلت کی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں، ان کے عزائم بھی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ طالبان کی مخالفت کو کسی نئی سامراجی مداخلت کی حمایت کے ساتھ جوڑنا بنیادی طور پر غلط ہو گا۔ بطور انقلابی کمیونسٹ ہم افغانستان میں کسی بھی نئی سامراجی مداخلت کی شدید مذمت کریں گے، کیونکہ ماضی کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ ایسی مداخلتوں کا نتیجہ افغانستان کی مزید تباہی، بربادی اور عوامی زندگی کی مزید بربادی کی صورت میں نکلتا ہے، جبکہ اس کا خمیازہ بالآخر افغان محنت کش عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔

لہٰذا طالبان کے اندرونی تضادات کو سمجھنے کا مطلب کسی ایک دھڑے کو دوسرے کے مقابلے میں ترقی پسند یا عوام دوست قرار دینا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان تضادات کو افغان محنت کش عوام کی آزادانہ سیاسی جدوجہد کس طرح ایک وسیع عوامی مزاحمت میں تبدیل کرتی ہے۔ طالبان کے مختلف دھڑوں کے باہمی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان تضادات کا حقیقی سیاسی امکان اسی وقت پیدا ہو گا جب عوام خود میدان میں اتریں اور طالبان کے اقتدار کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی سامراجی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی جدوجہد کریں۔

طالبان کی خارجہ پالیسی: بقا کی تلاش

2021ء کے بعد طالبان کے لیے سب سے بڑا خارجی مسئلہ عالمی سطح پر کسی نہ کسی شکل میں سفارتی قبولیت حاصل کرنا رہا ہے۔ طالبان کا وزیر خارجہ بار ہا مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا حوالہ دیتا رہا ہے، لیکن اصل سوال محض سفارتی رابطوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی تعلقات اور سامراجی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش میں طالبان اپنی بقا کیسے یقینی بناتے ہیں۔ طالبان بظاہر ایک ”آزادانہ“ خارجہ پالیسی تشکیل دینے اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سرمایہ داری اور سامراجیت کے عہد میں ایک کمزور اور معاشی طور پر منحصر ریاست کے لیے مکمل طور پر آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہے۔ اسی لیے طالبان نے چین، روس، ایران اور بھارت سمیت مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تعلقات میں ہر ملک کے اپنے مخصوص معاشی، سیاسی اور تزویراتی مفادات ہیں، جبکہ طالبان کی بنیادی ضرورت اپنے اقتدار کے لیے زیادہ سے زیادہ سفارتی، معاشی اور سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہے۔

روس کے ساتھ طالبان کے تعلقات اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ روس نے طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے اور دونوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے کم از کم دو اہم پہلو ہیں: ایک طرف خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور دوسری جانب داعش خراسان کے خلاف طالبان کے ساتھ تعاون۔ یوں روس کے لیے طالبان کے ساتھ تعلق محض افغانستان تک محدود نہیں بلکہ خطے میں اپنی تزویراتی پوزیشن مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

چین کے ساتھ طالبان کے تعلقات بھی بنیادی طور پر محتاط مفادات پر قائم ہیں۔ چین نے اگرچہ ابھی تک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں اور افغانستان کے معدنی وسائل، سرمایہ کاری اور علاقائی تجارت میں اس کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ طالبان کی جانب سے چین کے لیے ایک اہم کشش یہ بھی ہے کہ وہ چین کے خلاف سرگرم مذہبی بنیاد پرست عناصر کے حوالے سے تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف چین افغانستان میں اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

بھارت کے ساتھ طالبان کے تعلقات میں بھی گزشتہ چند برسوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ طالبان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس نے طالبان کو پاکستان پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے متبادل علاقائی روابط تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت بھی اپنی سابقہ پالیسی سے پیچھے ہٹتے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے، کیونکہ وہ افغانستان میں پاکستانی اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ 1996ء میں طالبان کے پہلے اقتدار کے دوران بھارت کھل کر ان کا مخالف تھا، لیکن آج بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے اسے طالبان کے ساتھ عملی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس بدلتے ہوئے تعلق کو وسیع تر علاقائی اور امریکی تزویراتی مفادات سے الگ کر کے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔

خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی طالبان نے نسبتاً بہتر تعلقات قائم کیے ہیں، خصوصاً قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ۔ قطر نے طالبان کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی رابطوں کے حوالے سے طویل عرصے تک اہم سہولت فراہم کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی سفارتی اور معاشی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان تعلقات کو خطے میں امریکی سامراج کے وسیع تر مفادات سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہے، کیونکہ قطر اور متحدہ عرب امارات دونوں امریکی سامراج کے اہم علاقائی اتحادی ہیں۔

یوں طالبان کی موجودہ خارجہ پالیسی کو ”آزادانہ خارجہ پالیسی“ کی بجائے بقا کی ایک مسلسل کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ایک طرف مختلف سامراجی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کر کے اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ہر طاقت سے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی، سفارتی اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن یہی تضاد اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ طالبان جس ”خودمختاری“ کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ عالمی سرمایہ داری، علاقائی طاقتوں اور سامراجی مفادات کے باہمی جال سے آزاد نہیں ہے۔

پاکستان اور طالبان: سابقہ قربت سے مسلح تصادم تک

2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پاکستان میں ایک بڑی کامیابی اور اپنی طویل افغان پالیسی کی فتح کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن حالات نے بہت جلد اس کے برعکس رخ اختیار کیا۔ جیسا کہ ہم پہلے پراکسی کے کردار کے حوالے سے واضح کر چکے ہیں، جنگ کے دوران اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد کسی پراکسی کی پوزیشن اور مفادات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ طالبان کے ساتھ بھی یہی ہوا اور اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات میں بتدریج سرد مہری اور عدم اعتماد پیدا ہونے لگا۔

اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا مسئلہ سرفہرست ہے، جو خصوصاً 2022ء کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان مستقل تنازع بن گیا۔ طالبان آج بھی اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ تاہم ٹی ٹی پی پر تنقید کرتے ہوئے اس کے تاریخی پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہی مسلح قوت ہے جس کی تشکیل میں پاکستانی ریاست کے سیکیورٹی اداروں کا بنیادی کردار تھا اور جسے نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے مختلف مراحل میں استعمال کیا گیا۔ آج یہی قوت پاکستانی ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اس پورے تنازع میں دونوں جانب سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان پاکستان پر داعش اور دیگر مسلح مخالفین کی حمایت کے الزامات عائد کرتے ہیں، جبکہ پاکستان طالبان پر ٹی ٹی پی کے لیے محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے اور بلوچستان سے وابستہ مسلح گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات لگاتا ہے۔ ان دعوؤں کے باوجود ایک حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے بعض عناصر اور قیادت کی افغانستان میں موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے جانے والے حملوں پر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ان کا نشانہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے کس حد تک بنتے ہیں اور عام شہری آبادی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔ یہی تضاد اس سوال کو اہم بناتا ہے کہ پاکستانی ریاست کی ٹی ٹی پی کے خلاف پالیسی محض عسکری کاروائی ہے یا اس کے پیچھے وسیع تر ریاستی و تزویراتی مفادات بھی کار فرما ہیں۔

یہاں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے سوال پر عوامی نقطہ نظر ریاستی بیانیے سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ ان علاقوں میں موجود ایک مضبوط عوامی رائے ٹی ٹی پی سمیت مختلف مسلح گروہوں کے تاریخی تعلقات کو پاکستانی ریاست کی سابقہ پالیسیوں کے تناظر میں دیکھتی ہے اور اسے ریاستی پالیسی کے ماضی کے کردار سے جوڑتی ہے۔ اور آج بھی انہی مذہبی بنیاد پرست گروہوں کو ریاستی اداروں کی حمایت حاصل ہونے کی بات کرتے ہیں۔ اسی لیے ٹی ٹی پی کے موجودہ کردار کو سمجھنے کے لیے اسے صرف پاکستان میں موجود ایک آزاد مسلح تنظیم کے طور پر دیکھنا درست اور کافی نہیں، بلکہ اس کے تاریخی طور پر پاکستانی ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات اور بعد میں پیدا ہونے والے تضادات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات بھی اسی پیچیدہ تاریخی پس منظر کا حصہ ہیں۔ دونوں مذہبی بنیاد پرست قوتوں کی تشکیل میں پاکستانی ریاست کا اہم کردار رہا ہے، اگرچہ افغان طالبان کی تشکیل میں دیگر علاقائی اور سامراجی طاقتوں کے مفادات بھی شامل رہے ہیں۔ اس لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے مفادات میں تضادات پیدا ہوں۔ آج افغان طالبان اور پاکستانی ریاست کے درمیان موجود اختلافات کی بازگشت ٹی ٹی پی کے اندر بھی سنائی دیتی ہے۔ ٹی ٹی پی نہ مکمل طور پر افغان طالبان کے ساتھ کھڑی ہے اور نہ اسے پاکستانی ریاستی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل طور پر یکجا سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے اندر بھی مختلف دھڑے اور مفادات موجود ہیں، جو بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال کے مطابق اپنے تعلقات اور ترجیحات طے کرتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے مسئلے نے دونوں جانب کے تعلقات کو مسلسل خراب کیا ہے، جس کا اظہار سرحدی جھڑپوں، افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں، افغان محنت کش مہاجرین کی جبری بے دخلی اور تقریباً ایک سال سے جاری سرحدی تجارت کی بندش کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف دونوں ممالک کے محنت کش عوام کو متاثر کیا بلکہ افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت پر ان کے اثرات کہیں زیادہ شدید پڑے ہیں۔

تاہم طالبان اور پاکستان کے موجودہ تضادات کو محض دو مخالف قوتوں کی مستقل دشمنی سمجھنا بھی درست نہیں۔ ایک طرف طالبان پر آج بھی پاکستانی پراکسی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور طالبان اپنی اس سابقہ شناخت کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ موجودہ کشیدگی کو بطور ثبوت پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستانی ریاست اپنی پرانی افغان پالیسی سے فاصلہ ظاہر کرتے ہوئے عالمی سامراجی طاقتوں کے سامنے خود کو ایک نئے علاقائی کردار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس کے باوجود طالبان کے بااثر دھڑوں کے پاکستان کے ساتھ روابط مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور بعض اہم طالبان رہنما اب بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مکمل دشمنی میں تبدیل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔

یہ تضادات طالبان کی اندرونی دھڑے بندی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ مختلف طالبان دھڑے پاکستان کے ساتھ تعلقات، سرحدی تنازع، ٹی ٹی پی اور دیگر علاقائی معاملات پر ایک جیسا مؤقف نہیں رکھتے۔ اسی طرح پاکستان میں ٹی ٹی پی کے ہر بڑے حملے کے بعد افغانستان کے خلاف فوجی کاروائیوں کا ایک مقصد داخلی سطح پر فوج کے رینک اینڈ فائل کو یہ باور کرانا بھی ہوتا ہے کہ ریاست ٹی ٹی پی کے خلاف بھرپور کاروائی کر رہی ہے، جبکہ دوسرا مقصد خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کے دوران افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ہے۔

مختصراً، طالبان اور پاکستان کے موجودہ تضادات بنیادی طور پر نظریاتی یا اصولی نوعیت کے نہیں بلکہ ریاستی مفادات، سلامتی، اثر و رسوخ اور علاقائی طاقت کے توازن سے متعلق عارضی تضادات ہیں۔ چنانچہ کسی بھی مرحلے پر، خصوصاً کسی بڑی عوامی مزاحمت کے ابھرنے کی صورت میں، دونوں قوتیں اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر دوبارہ قریب آ سکتی ہیں۔ حالیہ مکہ معاہدے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی و تزویراتی تعاون کے تناظر میں یہ بھی بعید نہیں کہ سعودی عرب اور ترکی مستقبل میں پاکستان اور طالبان کے درمیان موجود تنازعات کو کم کرنے یا دونوں کو دوبارہ قریب لانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کریں۔ دوسری جانب، ان باہمی اختلافات سے پیدا ہونے والے خلا کو بھارت اور دیگر سامراجی طاقتیں افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔

شمالی افغانستان اور نئی مسلح مزاحمت کی لہر

حالیہ عرصے میں شمالی افغانستان، بالخصوص بدخشاں، میں طالبان کے خلاف نئی مسلح مزاحمت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، ہوم لینڈ گارڈز اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ جیسے مختلف گروہ شامل ہیں، جن میں سابق افغان فوج اور سیکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد نمایاں ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز زیادہ تر بدخشاں رہا ہے، جبکہ بغلان، کابل، پروان، پنجشیر، کاپیسا اور تخار میں بھی وقتاً فوقتاً کاروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

ان کاروائیوں کے حوالے سے طالبان کی جانب سے پاکستان پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ داعش اور افغانستان کے شمال میں جاری محدود پیمانے کی مسلح کاروائیوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ تاہم 2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد شمالی اتحاد کی سابق قیادت اور اس سے وابستہ متعدد اہم سیاسی و عسکری عناصر کا اسلام آباد منتقل ہونا، جبکہ سابق افغان فوج کے متعدد اہلکاروں اور سپاہیوں کی پاکستان آمد، بالخصوص بلوچستان کے پشتون اضلاع میں ان کی موجودگی، اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے افغانستان کے حوالے سے سیاسی و تزویراتی کردار، شمالی اتحاد سے وابستہ مختلف پریشر گروپس کے ساتھ روابط اور افغانستان کے اندر اپنے مفادات کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرنے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

بدخشاں کی جغرافیائی حیثیت اس صورتِ حال کو مزید اہم بناتی ہے۔ یہ صوبہ تاجکستان، چین اور پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کے قریب واقع ہے اور خطے کی بڑی طاقتوں کے مفادات کے سنگم پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی افغانستان میں کسی بھی سیاسی یا عسکری تبدیلی کو محض ایک مقامی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کے ساتھ علاقائی طاقتوں کے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔

اس صورتِ حال میں طالبان کے اپنے اندر موجود اختلافات بھی اہم ہیں۔ بدخشاں کے ضلع نُسَی سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر جمعہ خان فاتح اور طالبان قیادت کے درمیان اختلافات، مذاکرات اور تعیناتیوں کا معاملہ اسی داخلی کشمکش کی ایک مثال ہے۔ ان اختلافات میں مقامی اقتدار، اقتصادی وسائل اور خصوصاً سونے کی کانوں پر کنٹرول جیسے مفادات بھی شامل ہیں، جبکہ طالبان کی جانب سے ان پر منشیات کی ترسیل جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی افغانستان کا مسئلہ صرف طالبان اور ان کے مسلح مخالفین کے درمیان کشمکش تک محدود نہیں بلکہ خود طالبان کے اندر موجود علاقائی، اقتصادی اور سیاسی مفادات بھی اس میں شامل ہیں۔

تاہم ان تمام مسلح گروہوں کے بارے میں ایک بنیادی سیاسی احتیاط ضروری ہے۔ طالبان کی مخالفت کرنے والی ہر قوت لازماً عوامی یا انقلابی متبادل نہیں ہوتی۔ سابق افغان ریاست کے فوجی افسران، پرانے حکمران دھڑے اور بیرونی طاقتوں سے وابستہ گروہ بھی طالبان کے خلاف سرگرم ہیں، لیکن ان کا پروگرام اور طبقاتی کردار الگ سے پرکھنا ہو گا۔ اسی طرح کسی علاقائی یا عالمی طاقت کی سرپرستی میں ہونے والی کسی بھی مسلح سرگرمی کو محض طالبان مخالف ہونے کی بنیاد پر عوامی مزاحمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہم کسی ایسی سامراجی مداخلت یا بیرونی سرپرستی کی حمایت نہیں کر سکتے جو افغانستان کو ایک مرتبہ پھر علاقائی اور عالمی طاقتوں کی جنگ کا میدان بنا دے۔

اس کے باوجود شمالی افغانستان میں موجود بے چینی کو محض بیرونی سازش قرار دینا بھی درست نہیں۔ طالبان نے طاقت کے ذریعے اپنی عمل داری قائم کی ہے اور غیر پشتون اکثریتی علاقوں میں سیاسی شمولیت، مقامی خود اختیاری اور قومی و علاقائی نمائندگی کے سوالات کو حل کرنے کی بجائے عسکری قوت پر انحصار کیا ہے۔ یہی داخلی تضادات اور محرومیاں مستقبل میں عوامی سطح پر مزاحمت کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ لیکن حقیقی تبدیلی کی قوت نہ سابقہ رجیم کی واپسی میں ہے، نہ کسی علاقائی ریاست کی سرپرستی میں اور نہ کسی نئی سامراجی مداخلت میں؛ یہ قوت افغانستان کے محنت کش عوام کی آزادانہ، منظم اور طبقاتی جدوجہد میں مضمر ہے۔

افغان محنت کش عوام اور طالبان

اس وقت افغانستان میں کسی بھی سیاسی رجحان کو حقیقی عوامی حمایت حاصل نہیں، خواہ وہ طالبان ہوں، سابقہ نام نہاد وار لارڈز ہوں یا ان کی بچی کھچی سیاسی جماعتیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات نے افغان محنت کش عوام کے سامنے ان تمام قوتوں کے حقیقی کردار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بالخصوص اگست 2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے وقت یہ تمام نام نہاد سیاسی قوتیں دم دبا کر بھاگ گئیں اور افغان عوام کو ایک مرتبہ پھر سامراجی سرپرستی میں قائم ایک نئے اقتدار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

گزشتہ پانچ برسوں سے افغان محنت کش عوام کی خاموشی کو طالبان کی حمایت یا ان کے خوف سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ یہ خاموشی بنیادی طور پر گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری جنگ، سامراجی مداخلت اور مسلسل تباہی کے بعد امن کے ایک وقفے کی خواہش کا اظہار ہے۔ لیکن یہ خاموشی مستقل نہیں رہ سکتی۔ معاشی بدحالی، غربت، بے روزگاری، سیاسی جبر، تعلیم اور صحت کے بحران سمیت وہ تمام بنیادی مسائل جن پر ہم پہلے تفصیل سے بات کر چکے ہیں، بالآخر عوام کو اپنے اوپر مسلط حکمرانوں کے خلاف مزاحمت پر مجبور کریں گے۔

افغانستان کے عوامی سوال کو صرف افغانستان کی جغرافیائی حدود تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ بطور انقلابی کمیونسٹ ہم اس لبرل تصور کو مسترد کرتے ہیں کہ افغانستان کی تبدیلی صرف افغانستان کے اندرونی عوامل سے طے ہو گی۔ ایران اور پاکستان سمیت خطے کے کسی بھی ملک میں اگر ایک بڑی عوامی تحریک ابھرتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست افغانستان تک پہنچیں گے اور افغان محنت کش عوام کے اندر بھی حکمران طبقے کے خلاف جدوجہد کو تقویت ملے گی۔ اسی طرح افغانستان میں ابھرنے والی کسی عوامی مزاحمت کے اثرات بھی پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

اس وقت افغانستان میں جاری مسلح مزاحمتوں کو بھی وسیع عوامی بغاوت کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔ ان میں سے بیشتر کی قیادت سابقہ سیاسی اشرافیہ، سابق فوجی کمانڈروں یا انہی قوتوں سے وابستہ عناصر کے ہاتھ میں ہے جو اگست 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے وقت عوام کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ افغان محنت کش عوام اپنا ماضی نہیں بھولے؛ وہ طالبان کے کردار سے بھی واقف ہیں اور سابقہ سامراجی سرپرستی میں قائم حکومت، جنگی سرداروں اور سیاسی اشرافیہ کے کردار سے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مسلح گروہوں کو محض طالبان مخالف ہونے کی بنیاد پر عوامی متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان اور ایران سے جبری طور پر بے دخل کیے جانے والے افغان محنت کشوں کا تجربہ بھی مستقبل کے لیے اہم ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ طالبان کے مذہبی جبر اور سماجی پابندیوں کو ایک نئے تجربے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال خصوصاً نوجوانوں میں غصے اور بے چینی کو بڑھا سکتی ہے، جسے مختلف مذہبی بنیاد پرست یا نام نہاد آزادی کی قوتیں اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محض طالبان مخالف ہونا کسی سیاسی قوت کو عوامی یا انقلابی متبادل نہیں بنا دیتا۔

طالبان کے اقتدار کا مستقبل: استحکام، داخلی ٹوٹ پھوٹ یا نیا بحران؟

طالبان کے اقتدار کے مستقبل کے بارے میں دو متضاد تصورات عام ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ طالبان ایرانی مذہبی اشرافیہ کی طرح طویل عرصے تک اپنے اقتدار کو مضبوط کر سکتے ہیں، جبکہ دوسرا ہر سال ان کے اقتدار کے خاتمے کو یقینی قرار دیتا ہے۔ بطور انقلابی کمیونسٹ ہم نہ ان دونوں قیاس آرائیوں کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی کسی مخصوص تاریخ کی پیش گوئی کو سائنسی تجزیہ سمجھتے ہیں۔

طالبان کا اقتدار بظاہر مستحکم ضرور دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر گہرے تضادات موجود ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، قندھار، کابل اور حقانی نیٹ ورک سمیت مختلف مراکزِ اقتدار کے درمیان مفادات کی کشمکش موجود ہے۔ فی الحال ان دھڑوں کو جو چیز متحد رکھتی ہے وہ بنیادی طور پر اقتدار اور وسائل پر قبضے کا مشترکہ مفاد ہے۔ لیکن یہ تضادات وقتاً فوقتاً خود طالبان کی صفوں میں بھی اظہار پاتے ہیں اور مستقبل میں کسی عوامی مزاحمت کے ابھرنے کی صورت میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

دوسری بنیادی حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری اور سامراجیت افغانستان کے بنیادی معاشی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ طالبان کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں افغانستان کو تقریباً 11 ارب ڈالر کی بیرونی امداد موصول ہوئی، جس میں امریکی سامراج کا حصہ بھی نمایاں رہا۔ لیکن اتنی بڑی بیرونی امداد کے باوجود افغان محنت کش عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں۔ جب موجودہ معاشی نظام عوام کو روزگار، خوراک، تعلیم، صحت اور باعزت زندگی فراہم کرنے سے قاصر ہو تو حکمران طبقے کے پاس عوام کو خاموش رکھنے کے لیے بالآخر جبر ہی کا سہارا رہ جاتا ہے۔

اس کے باوجود یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ مغربی یا علاقائی سامراجی طاقتیں اس وقت طالبان حکومت کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ ایران، بھارت، پاکستان، چین اور روس سمیت خطے کی بڑی طاقتوں کے لیے طالبان کے ساتھ موجودہ تعلقات، تمام تضادات کے باوجود، ایک مخصوص حد تک قابلِ قبول ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ طالبان کا فوری اور قابلِ عمل متبادل ان طاقتوں کے سامنے موجود نہیں۔ چنانچہ وہ طالبان کو گرانے کی بجائے ان کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات قائم رکھنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

مختصراً، افغان محنت کش عوام اور ان پر مسلط حکمران ٹولہ دونوں ایک ایسے آتش فشاں پر بیٹھے ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ لیکن انقلابی متبادل کے بغیر یہ دھماکہ عوام کے لیے ایک نئے بحران، خانہ جنگی یا کسی نئی سامراجی مداخلت کا راستہ بھی کھول سکتا ہے۔

اسی لیے انقلابی کمیونسٹوں کے لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ طالبان کا خاتمہ کب اور کیسے ہو گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر طالبان کے خلاف ایک حقیقی عوامی مزاحمت ابھرتی ہے تو اس کی قیادت کے لیے افغانستان میں کون سا انقلابی متبادل موجود ہو گا؟ اسی طرح اگر پاکستان یا خطے کے کسی دوسرے ملک میں عوامی تحریک ابھرتی ہے تو اس تحریک کے پاس بھی ایک واضح انقلابی قیادت اور پروگرام کا ہونا ناگزیر ہو گا۔

خصوصاً پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود مصنوعی سرحد، جس کے دونوں جانب ایک ہی سماج، خاندانوں، زبانوں اور تاریخی تعلقات میں جڑے ہوئے لوگ آباد ہیں، کسی بھی بڑی عوامی تحریک کے اثرات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے افغانستان کا مستقبل پاکستان اور پورے خطے کی طبقاتی جدوجہد سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

آخر کار سوال صرف طالبان کے زوال کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ طالبان کے بعد افغانستان میں اقتدار کا متبادل کون سا طبقہ اور کون سی سیاسی قوت پیش کرے گی۔ یہ سوال نہ صرف انقلابی کمیونسٹوں بلکہ پورے افغان اور علاقائی محنت کش طبقے کے سامنے موجود ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔ اس کا جواب دیے بغیر افغانستان یا خطے کے محنت کش عوام کے لیے کسی خوش آئند مستقبل کا تصور ممکن نہیں۔ اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ محض موجودہ حکمرانوں کی مخالفت تک محدود رہنے کی بجائے ایک حقیقی انقلابی متبادل کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی جائے۔ سرمایہ داری کو ختم کرنے کے لیے سرمایہ داری کے خلاف ایک واضح نظریاتی، سیاسی اور طبقاتی پروگرام درکار ہے اور وہ پروگرام انقلابی کمیونزم فراہم کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر انقلابی کمیونسٹ قوتیں ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

آئیں، اس انقلابی متبادل کی تعمیر میں ہمارا ساتھ دیں۔

سامراجیت مردہ باد!
سرمایہ داری مردہ باد!
سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!