ایران پر امریکی جارحیت کا دوبارہ آغاز اور ٹرمپ کا پاگل پن

|تحریر: بین کری، ترجمہ: عبدالحئی|

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو بظاہر ختم کرنے والے MOU (Memorandum of Understanding) کے معاہدے پر دستخط کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس بار امریکی سامراج پوری دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے یہاں کلک کریں

یہ معاہدہ پہلے ہی دن سے ٹوٹنے کے دہانے پر ڈگمگاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ نیتن یاہو نے لبنان میں اشتعال انگیزیوں کے ذریعے اس معاہدے کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آخرکار خود ٹرمپ نے ہی اسے ختم کر دیا۔

حالیہ کشیدگی میں اضافہ 7 جولائی کو شروع ہوا تھا۔ مبینہ طور پر ایرانی ڈرونز نے آبنائے ہرمز سے ایرانی راستے کی بجائے عمانی راستے سے گزرنے والے تین جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایرانیوں کا مؤقف ہے کہ عمانی راستے سے گزرنے والوں کو بھی آمدورفت کے لیے ایران کی اجازت لینا ضروری ہے۔

امریکیوں نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا اور ایرانی تیل پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی بحری جہازوں پر بھی بمباری کی۔ ایرانیوں نے اس کے جواب میں بحرین، کویت اور قطر میں امریکی اڈوں اور ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں امریکیوں نے پورے ایران میں مختلف اہداف پر حملے کیے جن میں آئی آر جی سی، بیلسٹک میزائل اور انفراسٹرکچر شامل ہے، اور اشتعال انگیزی کے طور پر مشہد (Mashad) کے پل کو بھی اسی دن نشانہ بنایا گیا جب اس شہر میں علی خامنہ ای کی باقیات کو سپردِ خاک کیا جا رہا تھا۔

ٹرمپ نے ایرانیوں کو ”گھٹیا“ اور ”بیمار لوگ“ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کا پاگل پن

امریکہ نے MOUپر اس لیے اتفاق کیا کیونکہ وہ فوجی یا معاشی دباؤ کے ذریعے جنگ جیتنے میں ناکام رہا۔ درحقیقت یہ ایرانی مطالبات کے سامنے مکمل پسپائی تھی۔ یہ سب سے بہتر نتیجہ تھا جس کی امریکہ امید کر سکتا تھا اور یہی واحد راستہ تھا جس کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکتا تھا۔

امریکہ اس جنگ کو جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کے فضائی دفاعی میزائل اور حملہ آور میزائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ غصہ دکھا سکتا ہے، چند مزید آئی آر جی سی کمانڈروں کو قتل کر سکتا ہے اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے، پوری عالمی معیشت آہستہ آہستہ لازمی طور پر تباہی کے کنارے کی طرف بڑھنے لگتی ہے اور امریکہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

شکست کھانے کے بعد امریکیوں کی جنگ دوبارہ شروع کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور اب دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کا پاگل پن غالب آ چکا ہے۔

لیکن جیسا کہ ہم کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں، امریکی حکمران طبقہ دہائیوں سے بے لگام عالمی بالادستی کا عادی رہا ہے۔ کیا وہ اب جھکنے والے ہیں اور شکست کو قبول کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول، خلیجِ فارس پر ایرانی غلبہ، اور باقی سب کچھ خاموشی سے مان لیں گے؟ بالکل نہیں۔

ایران میں اندرونی تقسیم: سخت گیر عناصر کو علم ہے

MOUپر دستخط کے فوراً بعد ایرانی نظام کے اندر کھلی تقسیم سامنے آ گئی ہے۔ معاہدے کی شرائط کو ٹی وی پر بیان کرتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد قالیباف کو اچانک نشریاتی ادارے کی طرف سے روک دیا گیا۔

سخت گیر عناصر کھلے عام اس معاہدے کو غداری قرار دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس معاہدے کے بارے میں شکوک رکھتا ہے۔ سخت گیروں کی جانب سے مخالفت کی شدت اور اس کا کھلا اظہار قابلِ توجہ بھی ہے اور کافی حد تک قابلِ فہم بھی۔

MOUمیں شامل امریکی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے ایران نے جو قیمت ادا کی وہ غیر معمولی طور پر بہت زیادہ تھی۔ تین ہزار چھ سو سے زائد ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں اور چار ہزار سے زیادہ لبنانی مارے گئے ہیں۔ املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 270 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

یہ تباہ کن ہے۔ حالانکہ ادا کی گئی قیمت بہت بھاری تھی، لیکن ایران دنیا کی سب سے بڑے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جنگ کے اختتام تک خود ٹرمپ بھی یہ تسلیم کر رہا تھا کہ تیل کے ذخائر ایک ماہ کے اندر ختم ہو جائیں گے۔ کچھ دعوے امریکی اسٹریٹجک ذخائر کو 1983ء کے بعد کم ترین سطح پر بتاتے ہیں۔

ایرانی سخت گیروں کی منطق یہ ہے: ہم جانتے ہیں کہ امریکی کون ہیں۔ وہ نیک نیتی سے مذاکرات نہیں کرتے۔ وہ مذاکرات کو ایک عارضی چال کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے بعد وہ دوبارہ دھونس اور دباؤ پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کافی طاقت استعمال کریں تو جیتنا ان کا مقدر ہے۔ ان پر ہرگز اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

فی الحال ان کا مجبوری میں سمجھوتہ کرنا قدامت پسندوں (Neocons) اور اسرائیل کے لیے خون کے گھونٹ پینے کے مترادف ہے۔ جیسے ہی وہ اپنے تیل کے ذخائر دوبارہ بھر لیں گے اور شاید اپنے اسلحہ کے ذخیرے بھی بحال کر لیں گے، وہ دوبارہ مزید حملہ کرنے کے لیے واپس آئیں گے۔

حل صرف یہ ہو سکتا ہے: انہیں موقع نہ دیا جائے۔ انہیں سانس لینے کی مہلت نہ دی جائے تاکہ وہ اپنے تیل کے ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔ انہیں مکمل طور پر کچل دیا جائے۔ امریکی معیشت کو واقعی نقصان پہنچایا جائے۔ اسے سیاسی طور پر ناممکن بنا دیا جائے کہ آنے والی کئی دہائیوں تک کوئی بھی حکومت ایران کو دھمکی دے سکے۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دراصل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سخت گیر اپنے تجزیے میں درست تھے، جب اس نے ایک انٹرویو میں کہا: ”میرا خیال ہے کہ صدر اس MoU معاہدے کو اس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ عالمی تیل کی معیشت کو دوبارہ بحال کیا جائے، کچھ ذخائر دوبارہ بھرے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ حالات کہاں جاتے ہیں“، اور یہ بھی کہا کہ امریکہ اب ”اپنی کامیابیوں کو محفوظ کر سکتا ہے“ اور پھر ”اگر صدر کو لگے کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے تو اس پر مزید اقدامات کر سکتا ہے۔”

جنگ کا ایک نیا خوفناک مرحلہ

سخت گیر درست ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق صرف امریکی معیشت کو کمزور کر کے ہی فتح یقینی بنائی جا سکتی ہے، اور یہی دھڑا اب غالب آنے کا امکان رکھتا ہے۔

اب بہت سے عوامل ایک ساتھ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ لیکن حالات کی منطق یہ بتاتی ہے کہ جنگ کا اگلا مرحلہ پچھلے سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔ جس بڑے خطرے سے عالمی معیشت پچھلی بار بمشکل بچی تھی، اس بار یہ نہیں بچ سکتی۔ اس کے نتائج دنیا کے کروڑوں غریب لوگوں کے لیے ناقابلِ بیان حد تک تکلیف اور مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔

امریکی صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔ ایک نہایت سنگین بحران اور ایرانیوں کی سخت مزاحمت کے سامنے ٹرمپ ہر قسم کی خطرناک شدت پسندی کی طرف جا سکتا ہے۔ حقیقی طور پر آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کے دشوار گزار ساحلی علاقے کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا جائے۔

اگر ٹرمپ اس حکمتِ عملی پر داؤ لگاتا ہے تو امریکی فوج کو بہت بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جو معاشی اثرات سامنے آ رہے ہیں، وہ مل کر امریکہ کے اندرونی حالات اور عوامی رائے پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

امریکی سامراج کو صرف محنت کش طبقہ ہی شکست دے سکتا ہے!

امریکی سامراج کا تکبر پہلے ہی ایران اور لبنان میں ہزاروں جانیں نگل چکا ہے۔ اب یہ مزید لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ کچھ لوگ براہِ راست اور نہایت بے رحمانہ طریقے سے مارے جائیں گے، جیسے میناب (Minab) میں معصوم بچوں کو قتل کیا گیا۔ اس سے کہیں زیادہ لوگ اب اس جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی انتشار کے باعث بھوک، بیماری اور غربت کے ذریعے موت کے خطرے میں ہیں۔

یہاں تک کہ ایرانی بھی سمجھتے ہیں کہ وہ امریکی جنگی مشین کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتے، جو ہر ماہ بڑی تعداد میں مہلک ہتھیار تیار کرتی ہے۔ بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک مرحلے پر یہ معاملہ سیاسی طور پر ناقابل حل بن سکتا ہے۔

یعنی یہ کہ ایک مرحلے پر امریکی عوام اور خاص طور پر محنت کش طبقہ، اس جنگ کو روکنے کے لیے مداخلت کر سکتے ہیں۔ درحقیقت محنت کش طبقہ اور خصوصاً امریکی محنت کش طبقہ، ہی وہ واحد قوت ہے جو امریکی سامراج کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

امریکی سامراج زوال کا شکار ہے اور یہ جنگ اس کا ثبوت ہے۔ لیکن ایک زخمی اور بھوکا درندہ بھی خطرناک ہوتا ہے بلکہ اکثر سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ امریکی سامراج کے گمراہ رہنما اس زوال کو تسلیم کرنے کی بجائے پوری دنیا کو بربریت کی طرف دھکیلنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

ہم یہ صورتحال وینزویلا، کیوبا، ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں دیکھ سکتے ہیں اور کل یہی کیفیت پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے۔ اگر انسانیت کو زندہ رہنا ہے تو امریکی سامراج کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا بھی خاتمہ کرنا ضروری ہے۔