کیف کے کامریڈوں کے نام ایک خط

”عزیز کامریڈو!
آپ نے لکھا ہے کہ آپ اپنی دلچسپی کی کتب کا دسواں حصہ بھی نہیں پڑھ پا رہے اور یہ سوال کیا ہے کہ اپنے وقت کو کس طرح مؤثر انداز میں ترتیب دیا جائے۔ یہ یقیناً ایک بہت ہی مشکل سوال ہے، کیونکہ بالآخر ہر شخص کو اپنے مخصوص ضروریات اور دلچسپیوں کے مطابق ہی اس کا جواب تلاش کرنا پڑتا ہے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص سائنسی، سیاسی یا کسی بھی دوسرے شعبے کی نئی اشاعتوں سے کس حد تک خود کو باخبر رکھ سکتا ہے، اس کا انحصار صرف وقت کی مناسب تقسیم پر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کی سابقہ علمی تربیت پر بھی ہوتا ہے۔
جہاں تک آپ کے خاص طور پر ”پارٹی کے نوجوانوں“ سے متعلق سوال کا تعلق ہے، ان کے لیے میری نصیحت صرف اتنی ہے کہ وہ جلد بازی سے کام نہ لیں، خود کو بیک وقت بہت سے موضوعات میں الجھانے سے گریز کریں، ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر چھلانگ نہ لگائیں، اور جب تک پہلی کتاب کو پوری توجہ سے پڑھ کر اس پر غور و فکر کرنے کے بعد اس پر عبور نہ حاصل کر لیں، دوسری کتاب کی طرف نہ بڑھیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں خود بھی نوجوانوں کی صف میں شامل تھا تو مجھے بھی یہی محسوس ہوتا تھا کہ وقت کبھی بھی کافی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ جیل میں، جہاں میرے پاس مطالعے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوتا تھا، تب بھی یہی محسوس ہوتا تھا کہ دن میں اتنا وقت نہیں ہوتا کہ مطلوبہ مطالعہ مکمل کیا جا سکے۔ نظریاتی میدان میں بھی (ابتدائی علم کا مرحلہ)، بالکل اقتصادی میدان کے ابتدائی ارتکاز (Primitive Accumulation) کے مرحلے کی طرح، سب سے زیادہ کٹھن اور صبر آزما ہوتا ہے۔ لیکن جب علم کے بنیادی عناصر، اور خصوصاً نظریاتی طریقہء کار (Method) پر مضبوط گرفت حاصل ہو جائے، اور وہ انسان کی فکری صلاحیت کا لازمی حصہ بن جائیں، تو پھر نہ صرف اپنے مانوس شعبے بلکہ اس سے متصل اور نسبتاً غیر مانوس علمی میدانوں کی نئی تحریروں کو سمجھنا بھی کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بالآخر، طریقہء کار ایک آفاقی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک وقت میں ایک کتاب کو اچھی طرح پڑھا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ علم کو تھوڑا تھوڑا حاصل کر کے اس پر مکمل عبور حاصل کیا جائے۔ صرف اسی صورت میں آپ کی فکری سمجھ بوجھ قدرتی انداز میں وسعت اختیار کرے گی۔ آپ کی سوچ میں بتدریج اعتماد پیدا ہوگا اور وہ زیادہ مؤثر بنتی جائے گی۔ جب یہ ابتدائی بنیادیں مضبوط ہو جائیں گی تو اپنے وقت کی معقول منصوبہ بندی کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں رہے گا، اور پھر ایک علمی مشغلے سے دوسرے کی طرف منتقل ہونا بھی (کسی بوجھ کے بجائے) ایک خوشگوار تجربہ محسوس ہوگا۔
انقلابی جذبات کے ساتھ،
لیون ٹراٹسکی
29 مئی 1923“
(پراودا، 31 مئی 1923ء۔ لیون ٹراٹسکی کی تصانیف ”روزمرہ زندگی کے مسائل“ سے)