|تحریر: ولید خان|

دو مرتبہ مؤخر کرنے کے بعد بالآخر IMFکا بنایا ہوا بجٹ منظوری کے لیے وفاقی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ بجٹ کی تاخیر مختلف افواہوں کی زد میں رہی جن میں ممکنہ 28 ویں ترمیم، گلگت بلتستان کے نام نہاد انتخابات میں اقتدار کی بندر بانٹ اور کشمیر کی عوامی تحریک کے شدید دباؤ میں عوام کے معاشی قتل عام کے لیے بجٹ پیش کرنے میں تذبذب سب شامل ہیں۔ بہرحال آئی ایم ایف کے تعینات کردہ وزیر خزانہ اورنگزیب نے 12 جون کو اپنی پارلیمانی تقریر میں نہایت ادب اور احترام سے IMF کو یقین دلایا کہ سامراجی مالیاتی ادارے کی عین خواہشات کے مطابق بجٹ پیش کیا گیا ہے اور حکمران طبقہ عوام کا خون مزید کشیدنے کے لیے کمر بستہ ہے۔
دوسری بڑی خوشی سرمایہ دار حکمران طبقے کی خواہشات کے مطابق ان کو دی گئی بڑی ٹیکس چھوٹ ہے اگرچہ کہ وہ پہلے بھی ملک کی ٹیکس آمدن میں کوئی خاص حصہ نہیں ڈالتے تھے۔ تیسری خوش خبری افواج اور بیوروکریسی کے لیے تھی جن کے لئے بڑی رقوم مختص کی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ عوامی وسائل کی اس بندر بانٹ میں سیاست دانوں نے بھی اپنا ایک ”معقول“ حصہ رکھا ہوا ہے۔ بس اس سارے بجٹ میں محنت کشوں، کسانوں، عام نوجوانوں و خواتین کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اور جو تھوڑا بہت ان کی ہڈیوں اور جیبوں میں رہ گیا ہے وہ بھی نچوڑنے کا نام بجٹ 2026-27ء ہے۔
بجٹ کا کل تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپیہ رکھا گیا ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ہے اور نئے مالی سال میں 4 فیصد کی شرح نمو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس میں سے 8 ہزار 54 ارب روپیہ قرضوں اور سود کی ادائیگی (6 ہزار 982 ارب داخلی قرضوں کی مد میں جس کی ادائیگی ملکی کمرشل بنکوں کو کی جائے گی) ہے جو بجٹ کا 42.91فیصد ہے۔ حکومتی اخراجات، گرانٹس، پینشنوں اور (زیادہ ترامرا کو دی جانے والی) سبسڈیوں کے لیے 6 ہزار 706 ارب روپیہ رکھا گیا ہے جو بجٹ کا 35.72 فیصد اور پچھلے سال کے مقابلے میں 15.5 فیصد اضافہ ہے۔ دفاعی اخراجات(جس میں فوجی پنشنیں اور کئی دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں) کے لیے 3 ہزار ارب روپیہ مختص کیا گیا ہے جو بجٹ کا 23 فیصد اور پچھلے سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد اضافہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ (PSDP) کی مد میں 1 ہزار ارب روپیہ رکھا گیا ہے جو کل بجٹ کا 5.33 فیصد ہے۔
نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کے تحت صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپیہ ٹرانسفر کیا جائے گا۔ یہ بجٹ کا 47.14 فیصد بنتا ہے۔ جہاں تک آمدن کا تعلق ہے تو ٹیکس ریونیو کی مد میں براہ راست ٹیکسوں (انکم ٹیکس، کیپیٹل گین ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس) سے 7 ہزار 613 ارب روپیہ، بالواسطہ ٹیکسوں (جنرل سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی) سے 7 ہزار 651 ارب روپیہ اور غیر ٹیکس ریونیو (اسٹیٹ بینک منافع جات، پیٹرولیم لیوی، سرکاری اداروں کے منافع جات، فیس اور جرمانے) سے 5 ہزار 336 ارب روپیہ وصول کیا جائے گا۔
سادہ الفاظ میں قرضوں اور سود کی ادائیگی (42.91 فیصد)، حکومتی اخراجات اور سبسڈی (35.72فیصد) اوردفاعی اخراجات (23 فیصد) ہی مجوزہ بجٹ کا 101.63 فیصد بن جاتا ہے! اگر دیگر اخراجات بھی شامل کر لیے جائیں تو بجٹ منظور ہونے سے پہلے ہی 5 ہزار 226 ارب روپیہ خسارے میں ہے۔ اس کے ساتھ غیر ملکی زر مبادلہ کو مدنظر رکھا جائے (کل22 ارب ڈالر: اسٹیٹ بنک کے پاس پڑا 17.22 ارب ڈالر جس کا بڑا حصہ غیر ملکی ڈیپازٹ سپورٹ قرضہ ہے، جبکہ 5.52 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں) تو یہ ایک دیوالیہ ملک کا دیوالیہ بجٹ ہے جس کا عوامی فلاح و بہبود یا سماجی ضروریات اور سہولیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بجٹ محض ایک اعلان ہے کہ اس مالی سال حکمران طبقہ اپنے سامراجی آقاوں اور اپنے منافعوں کے لیے عوام کو پچھلے سال سے زیادہ شدید استحصال، جبر، تشدد اور تباہی و بربادی کا نشانہ بنائے گا۔
عوام کی حالت زار اور حکمرانوں کی عیاشیاں
موجودہ مخلوط نام نہاد جمہوری حکومت کو اقتدار میں آئے دو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں تمام سیاسی پارٹیاں وفاق یا صوبوں میں حکومت میں موجود ہیں اور کسی حوالہ سے اس عوام دشمن قاتل بجٹ سے بری الذمہ نہیں ہیں۔ بلکہ 2023ء میں IMF کے موجودہ مالیاتی پروگرام کی منظوری سے پہلے IMF کی ٹیم تمام سیاسی جماعتوں اور اہم ترین ریاستی اہلکاروں سے ملاقات کر کے ان سے حلف لے چکی تھی کہ حکومت کسی کی بھی ہو، اس پروگرام اور اس کے تحت پیش ہونے والے بجٹ کی لوٹ مار کو سب تحفظ فراہم کریں گے۔ IMF کا یہ بجٹ اس غلیظ حکمران اتحاد کا پانچواں اور موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے۔ آج ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ کس کا بجٹ ہے۔ اس وجہ سے پارلیمنٹ میں بیٹھے تمام بہروپیوں اور ٹھگوں کی دھواں دھار تقریروں اور قلابازیوں کے برعکس، عوام عمل کو دیکھتی ہے اور عمل سے ہی اپنی زندگی کی خوشگواری یا تلخی کو جانتی ہے۔
یہ حکومت پہلے ہی انتخابات میں ننگی دھاندلی اور فارم 47 کی بنیاد پر بدنام زمانہ ہونے کے ساتھ سماج میں کہیں حمایت نہیں رکھتی اور اب آنے والے دنوں میں اس بجٹ کے اثرات نے عوام کو مزید متنفر اور مشتعل کرنا ہے۔ تمام تر لفاظی کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ 2022ء سے اب تک مجموعی افراط زر تقریباً39 98. فیصد رہی ہے جس میں اشیائے خوردونوش اور توانائی میں 140-160 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ جنرل سیلز ٹیکس میں 1 فیصد اضافہ، پیٹرولیم لیوی میں 140 فیصد اضافہ، بجلی کی قیمتوں میں 95-115 فیصد اضافہ اور گیس کی قیمتوں میں 1100 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے! ٹیکسوں میں مجموعی طور پر 149 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شہری رہائشی کرایوں میں 35-45 فیصد اور کچھ علاقوں میں 65 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
اس سب کے مقابلے میں پچھلے پانچ سالوں میں کم از کم اجرت میں 62.80 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اب 40 ہزار 700 روپیہ ہے اگرچہ کہ معیشت کے کم ہی شعبہ جات میں یہ قانون کے مطابق ادا کی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اعلیٰ عدلیہ کے الاؤنس میں 218 فیصد اور رہائشی کرایوں میں 400 فیصد، اعلیٰ بیوروکریسی (BPS 17-22) کی تنخواہوں میں 92 فیصد، افواج کی تنخواہوں میں 92-107 فیصد اور ممبران وفاقی پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 246 فیصد، ممبران پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں 426 فیصد اضافہ ہوا۔ ان سب اضافوں میں ابھی الاؤنس وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ ایکسپورٹر سرمایہ داروں کے لیے کسٹم ڈیوٹیاں، سرچارج اور دیگر ٹیکس ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہیں انتہائی کم شرح (4.5 فیصد) پر قرضہ فراہم کیا جا رہا ہے اور اکثر اوقات قرضہ معاف کر دیا جاتا ہے یا اس کی معیاد مسلسل بڑھا دی جاتی ہے۔ 7500 درآمدات (خام یا نیم خام مال، دیگر کھپت مال) پر ٹیکس کم یا ختم کر دیا گیا ہے۔ بزنس کلاس سفر پرلاگو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بیرون ملک اور آن لائن خریداری پر کریڈٹ کارڈ استعمال پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تھوک کے کاروباریوں کو معمولی فکسڈ ٹیکس پر چھوٹ دے دی گئی ہے جبکہ آئی ٹی سیکٹر پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر رکھے گئے ہیں۔ یعنی سرمایہ دار طبقہ اور اس کے سیاسی ملازمین کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں ہے!
بجٹ میں عوام کی صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر کے لیے معمولی بجٹ رکھا گیا ہے جس کی اکثریت تنخواہوں اور موجودہ انفرااسٹرکچر کو گرنے سے بچانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ موجودہ سہولیات میں بہتری کے لیے پیسے نہیں ہیں تو کسی نئے اسکول، ہسپتال، آبی نکاس وغیرہ کا بجٹ کہاں سے آئے گا۔ موجودہ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو بیچ کر ریاست ویسے ہی ان شعبوں سے جان چھڑاکر نجی شعبہ کی لوٹ مار کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔ ایک نام نہاد وزیراعظم اپنا گھر اسکیم موجود ہے جو ملک میں موجود عوام کے رہائشی بحران کو حل کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔
اسی طرح صوبوں کا ترقیاتی بجٹ بھی اگلے تین سالوں کے لیے منجمد کروا دیا گیا ہے کیونکہ تمام صوبوں نے ملا کر 1700 ارب روپیہ سالانہ2029 ء تک وفاق کو ”دفاعی اور دیگر اہم قومی اخراجات“ کے لیے واپس کرنے ہیں۔ یعنی صوبوں میں بھی اگر کوئی دو چار کام ہونے تھے وہ بھی ختم ہو گئے ہیں۔ تنخواہ دار ملازمین جن کی تنخواہ بینک میں آنے سے پہلے انکم ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، ان کے لیے بھی کوئی قابل ذکر ریلیف نہیں دیا گیا حالانکہ موجودہ مالی سال میں ان سے تقریباً 550 ارب روپے کا ٹیکس متوقع ہے۔
آج نوجوانوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکنات میں شامل ہو رہا ہے۔ اب متوسط طبقہ بھی بچوں کو یونیورسٹیوں میں پڑھانے کی اہلیت کھو رہا ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے مطابق پورے ملک میں 187 میڈیکل کالجز کی 743 سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ اسی طرح پورے ملک کی تمام انجنیئرنگ یونیورسٹیوں کی 15 ہزار سے زائد سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ خود حکومت کے مطابق 60 لاکھ نوجوان بیروزگار ہیں جبکہ 15-24 سال کی عمر میں بیروزگاری 12.6 فیصد اور یونیورسٹی فارغ التحصیل میں یہ شرح 15 فیصد ہے۔ اگرچہ کچھ معیشت دانوں کے مطابق مجموعی بیروزگاری کی شرح 50-60 فیصد تک ہے۔ نوجوانوں کی اس وجہ سے ڈگری میں دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ایک طرف گراں قدری نے متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے تو دوسری طرف نوجوان سمجھتے ہیں کہ چار پانچ سال اور لاکھوں روپیہ ڈبونے کے بعد ڈگری محض اخراجات کی ایک رسیدہے جس پر منڈی میں کہیں بھی روزگار دستیاب نہیں۔
حکومت پاکستان نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کہا کہ جو کم از کم 8 ہزار 500 روپیہ ماہانہ کمائی کر رہا ہے وہ غریب نہیں۔ اس کے باوجود ملک میں غربت کی شرح 29 فیصد ہے۔ کچھ اداروں نے اعداد و شمار پیش کیے ہیں کہ اگر ایک چار افراد کا خاندان کسی بڑے شہر میں رہتا ہے اور اپنی تمام ضروریات زندگی (صحت، تعلیم، رہائش، تفریح وغیرہ) کو احسن اور صحت مند انداز میں پورا کرتا ہے تو اس کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار روپے سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ درکار ہے۔ لہٰذا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پیمانے پر شرح غربت 90 فیصد سے زائد ہو جاتی ہے! ان حالات میں کم از کم تنخواہ عوام کی تضحیک ہے جس کا اطلاق کہیں موجود نہیں اور ہر جگہ اس سے کہیں کم تنخواہ دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف حکمران طبقے کی لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ خود وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند مہینوں قبل اعتراف کیا تھا کہ پچھلے دو تین سالوں میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ رقم بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے جو یقینا حقیقی رقم کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔

پھر کسانوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ شدید مہنگائی کے دور میں ان پٹ اشیاجیسے کھاد، بیج، سپرے، ڈیزل وغیرہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ حکومت کی سپورٹ پرائس اتنی کم ہے کہ کسان اپنی گندم بیچ کر منڈی سے دوبارہ واپس خریدنے کی اہلیت نہیں رکھتا! اس کے علاوہ نئی نجی کمپنیوں کے ذریعے گندم خریداری کا جو نظام بنایا گیا ہے وہ حکومت کے ساتھ ملی بھگت کر کے زبردستی کسانوں سے اس معمولی سپورٹ پرائس پر گندم اٹھاتا ہے۔ دیہات کے لیے کسی قسم کی کوئی اسکیم، سہولت یا بہتری کے لیے نا اعلان ہے نا کوئی فنڈ۔ حالانکہ یہ شعبہ ملکی GDP کا 23.4 فیصد ہے۔ پچھلے سال کے سیلابوں، مہنگائی اور دیگر مسائل کی وجہ سے اس سال 3.6 فیصد کم فصلیں کاشت کی گئی ہیں جن سے اگلے چند مہینوں میں اشیائے خورد و نوش کے حوالہ سے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سب سے اہم کہ وہی چار پانچ صنعتوں جیسے ٹیکسٹائل، کھاد، سیمنٹ، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس وغیرہ کو مکمل تحفظ اور لوٹ مار کی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ نئی صنعت کاری، نئے شعبوں کے اجرا وغیرہ کا کوئی ذکر یا منصوبہ نہیں۔ برآمدات کا تخمینہ 33 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جو پچیس کروڑ آبادی، 452 ارب ڈالر کی رسمی معیشت رکھنے والے ملک کے اس حکمران طبقہ پر ایک لعنت ہے جو پچھلے اسی سالوں میں اس سماج کو ترقی نہیں دے سکا۔ ریاست کے پسندیدہ شعبے پراپرٹی کو ٹیکسوں میں نمایاں کمی کر کے اس بجٹ میں بے تحاشہ نوازا گیا ہے کہ ایران جنگ بندی کے بعد اب دبئی سے پیسہ نکل کر پاکستان آئے گا، بیرون ملک پاکستانی پراپرٹی میں ایک مرتبہ پھر سرمایہ کاری کریں گے اور اندرون ملک سٹہ باز بھی کم ٹیکسوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی سالوں بعد ایک مرتبہ پھر اس شعبہ میں جان ڈال دیں۔
نوجوانوں کو بیروزگاری سے بچنے کے لیے فری لانسنگ میں دنیا بھر کے مزدوروں کے ساتھ مقابلہ بازی میں اپنا شدید استحصال کروانے یا بیرون ملک روزگار حاصل کر کے ملک میں زر مبادلہ بھیجنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ پاکستانی محنت کشوں کی بیرون ملک سے بھیجی گئی ترسیلات زر کا حجم 42 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور حکومتی تخمینوں میں کلیدی ترین کردار کا حامل ہے۔ اس لیے حکمران طبقہ بے حیائی سے بیرون ملک روزگار کی ترغیب دے رہا ہے اور سالانہ اوسطً 7-8 لاکھ نوجوان نوکریوں کے لیے ہجرت یا غیر قانونی سفری راستے اختیار کر رہے ہیں۔
مستقبل۔۔ جدوجہد!
اس وقت پوری دنیا میں تمام ریاستیں اور حکومتیں انتہائی خوفناک کٹوتیوں بھرے سخت گیر بجٹ عوام پر مسلط کر رہی ہیں جن میں سماجی سہولیات کا تیزی سے خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ اجرتوں میں نام نہاد قسم کا اضافہ حقیقی اجرت اور قوت خرید میں اضافہ نہیں کر رہا بلکہ ان میں کمی ہو رہی ہے۔ اس کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام کا عالمی بحران ہے جو اس وقت زائد پیداوار کے بحران، کساد بازاری کے ابتدائی خد و خال، عالمی چپقلشوں اور جنگوں، سپلائی چینز کی ٹوٹ پھوٹ، تحفظاتی محصولات کی لڑائیوں اور امریکہ اور چین کی سامراجی کشمکش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی معیشت کل عالمی معیشت کا 0.32-0.35 فیصد حصہ ہے۔ پاکستانی عوام سیاسی، معاشی، سماجی اور سب سے بڑھ کر بانجھ سرمایہ دار طبقے کی کمزوریوں میں پچھلی آٹھ دہائیوں سے تباہ و برباد ہو رہی ہے۔ پوری دنیا میں انڈونیشیا سے لے کر مڈغاسکر، یورپ اور نیپال تک نوجوان اور محنت کش بغاوتیں کر رہے ہیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی بلوچستان میں آل گورنمنٹ ایمپلائز کی تحریک، پنجاب میں عام سرکاری ملازمین، خیبر پختونخواہ میں اساتذہ اور دیگر ملازمین، سندھ میں عام صوبائی ملازمین وغیرہ کی تحریکیں جاری ہیں۔ پھر کشمیر کی دیوہیکل عوامی تحریک نے اس ریاست کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں کیونکہ ان کے مطالبات عوامی سہولیات جیسے بجلی، آٹے، صحت اور تعلیم سے بڑھ کر سیاسی مطالبات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ آج اگر حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں 74 روپیہ فی لیٹر کی قابل ذکر کمی کی ہے تو اس کی بنیادی وجہ کشمیری تحریک کا خوف ہے کہ ان حالات میں اور اس بجٹ سے پاکستان میں عوامی تحریک برپا نہ ہو جائے ورنہ اس ریاست کی تاریخ ہے کہ مہنگائی سینکڑوں روپوں میں ہوتی ہے اور کمی آنے پائیوں میں۔
پچھلے پانچ سالوں میں اس ریاست نے ٹیکسوں کی مد میں عوام کی جیب سے 50 ٹریلین روپیہ لوٹا کھسوٹا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں ترقیاتی بجٹ کی مد میں وفاق اور صوبوں نے تقریباً 18 ٹریلین روپیہ مختص کیا ہے۔ اتنے پیسوں میں شائد پورے پاکستان کو دو تین مرتبہ زمین برابر کر کے نئے سرے سے جدید بنیادوں پر مکمل طور پر تعمیر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن آج عوام کی غربت، افلاس اور تباہی و بربادی عیاں ہے جو پاکستان کے حکمران طبقے کی لوٹ اور کرپشن کی معمولی سی جھلک پیش کرتی ہے۔
محنت کش طبقہ دولت پیدا کرتا رہے گا اور سرمایہ دار طبقہ یہ دولت لوٹ کھسوٹ کر عالمی سامراجی مالکان کی اور اپنی جیبیں بھرتا رہے گا کیونکہ نجی ملکیت کی موجودگی میں یہی ممکن ہے۔ محنت کش طبقے کو یہ واضح ہو چکا ہے کہ حکمران طبقہ اب مکمل طور پر بیگانہ ہو چکا ہے اور سماج کو بہتر کرنے کی اہلیت کھو چکا ہے۔ محنت کش طبقے کے پاس اب جدوجہد اور سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف طبقاتی جنگ لڑتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرتے ہوئے معیشت کے تمام کلیدی سیکٹروں کو قبضے میں لیتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر معیشت کو منظم کیا جائے گااورپھر ہی عوام کے لیے ترقی اور خوش حال زندگی ممکن ہے۔