ایران امریکہ جنگ سے دنیا بھر میں خوراک کا بڑھتا بحران

|تحریر: جارج ریگبی، ترجمہ، عبدالحئی|

(نوٹ: یہ مضمون امریکہ اور ایران کے نام نہاد جنگ بندی کے معاہدے سے پہلے ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پہ شائع کیا گیا تھا جس کا اب ترجمہ کر کے یہاں لگایا جا رہا ہے۔)

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

امریکی اور اسرائیلی سامراج پوری دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خلیجی خطے میں 7 ہزار لوگوں کو قتل کیا اور کم از کم 46 ہزار لوگوں سے زیادہ لوگوں کو زخمی کیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی تباہی کے دہانے لا کھڑا کیا ہے اور اب آبنائے ہرمز کی طویل بندش ایک ایسے غذائی بحران کا خطرہ پیدا کر رہی ہے جس میں لاکھوں لوگ مر سکتے ہیں۔

مارچ میں اقوامِ متحدہ کے عالمی فوڈ پروگرام نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں 45 ملین سے زیادہ لوگ شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں پہلے ہی 318 ملین لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

آبنائے ہرمز

پوری دنیا آبنائے ہرمز پر انحصار کرنے لگی ہے، جو صرف چند درجن کلومیٹر چوڑی ایک تنگ گزرگاہ ہے۔ باہمی طور پر جڑی ہوئی عالمی معیشت میں یہ اہم اشیاء، خاص طور پر توانائی کی بڑی مقدار کے لیے ایک اہم راستہ بن چکی ہے۔ دنیا کی 20 فیصد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور 25 فیصد سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت ہر سال اسی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔

لیکن یہ صرف ایندھن کے لیے ہی اہم راستہ نہیں بلکہ ہر سال تقریباً 16 ملین ٹن کھاد، جو عالمی تجارت کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ ہے، وہ بھی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

تقریباً آدھی دنیا کی خوراک کی پیداوار نائٹروجن کھادوں پر منحصر ہے (جن میں یوریا سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کھاد ہے)۔ خلیجی ممالک ان اہم خام مال کی برآمد میں غالب حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے آدھے سلفر، ایک تہائی یوریا اور ایک چوتھائی امونیا (جو LNG سے حاصل ہوتا ہے) کی سپلائی اب منقطع ہو چکی ہے۔ قطر فرٹیلائزر کمپنی (QAFCO) اکیلے یوریا کی عالمی پیداوار کا 14 فیصد فراہم کر رہی تھی، مارچ میں جب LNG کی سہولیات پر بمباری ہوئی تھی جس کی مرمت میں اندازاً 3 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، تو اس کے پلانٹس کو مجبوراً بند کرنا پڑا۔ جس کی پیداوار ابھی تک بحال نہیں ہو سکی ہے۔

کھاد اور ایندھن دونوں کی سپلائی بند ہونے سے ایک مکمل بحران کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ یہ کرونا وبا اور یوکرین جنگ کے مشترکہ اثرات جنہوں نے 1973ء کے تیل بحران کے بعد خوراک کی قیمتوں میں سالانہ سب سے بڑا اضافہ پیدا کیا تھا، کے علاوہ ہے۔

اس کے اثرات پہلے ہی بہت دور تک پہنچ چکے ہیں۔ بھارت میں LNG کی کمی نے حکومت کو مجبور کیا ہے کہ کھاد بنانے والے پلانٹس کو اپنی پیداوار کافی حد تک کم کرنے کا حکم دے۔ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پانچ میں سے چار سرکاری کھاد کے پلانٹس مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ جب یہ دوبارہ چلنا شروع ہوں گے تو انہیں اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگیں گے۔

کھاد کے متبادل ذرائع روس اور چین کی صورت میں موجود ہیں، جو دو بڑے پیداواری ممالک ہیں۔ تاہم ان دونوں ممالک نے کھاد کی برآمدات پر اہم پابندیاں لگا دی ہیں اور اپنی ملکی ضروریات کو ترجیح دی ہے۔

ان تمام حالات کا نتیجہ یہ ہے کہ کم ہوتی ہوئی سپلائی پر شدید مقابلے کی وجہ سے ہر جگہ قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب تک عالمی منڈی میں کھاد کی قیمتوں میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

زراعت پر ایران جنگ کے اثرات

گزشتہ دہائی کے دوران کسان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور گرتی ہوئی فصلوں کی قیمتوں کے درمیان بری طرح دب گئے ہیں۔ اس امتزاج نے انہیں قرض میں دھکیل دیا ہے یا مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں گزشتہ دس سالوں میں 1 لاکھ 60 ہزار فارم بند ہو چکے ہیں۔ 2025ء میں صرف ایک سال کے دوران دیوالیہ ہونے کے واقعات میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یورپ بھر میں اسی صورتحال کے نتیجے میں کسانوں کی جانب سے احتجاج اور سڑکوں کی بندشیں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں وہ سبسڈی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لیکن ایران کی جنگ چھوٹے کسانوں کے لیے ایک ناممکن صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ ہم اس کے سیاسی اثرات پہلے ہی آئرلینڈ میں دیکھ چکے ہیں، جہاں زرعی گاڑیوں نے ڈبلن کے شہر کے مرکز کو تقریباً ایک ہفتے تک بند کر دیا تھا اور ان کے مالکان نے کہا کہ وہ ”گاڑیاں چلانے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے“۔

امریکی فارم بیورو فیڈریشن کے ایک سروے کے مطابق امریکہ کے 70 فیصد کسان اس موسم میں اپنی ضرورت کی پوری کھاد برداشت نہیں کر سکتے۔ الینوائس (Illinois) کے ایک کسان نے فنانشل ٹائمز کو بتایا، ”یہ خزاں خوفناک ہونے والا ہے، لوگ کم کھاد استعمال کریں گے اور پیداوار کم ہو جائے گی۔“

دنیا بھر کے کسان ایک بہت مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، وہ کھاد اور توانائی کے لیے خرچ مکمل کریں اور نقصان اٹھائیں یا بغیر کھاد کے کاشت کریں، جس سے پیداوار کم ہو گی اور زمین کو نقصان بھی پہنچے گا یا پھر بالکل کاشت ہی نہ کریں۔ جو بھی فیصلہ وہ کریں گے، اس کا فصل کی کٹائی کے وقت عالمی خوراک کی فراہمی پر شدید اثر پڑے گا۔

بہت سے کسان یہی آخری راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا جو 7.5 کروڑ لوگوں کے لیے خوراک برآمد کرتا ہے، ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ گندم کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والی زمین میں 20 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جو تقریباً بیلجیم کے برابر رقبہ ہے۔

اور یہ تو صرف امیر سرمایہ دار ممالک کی صورتحال ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (Food and Agriculture Organisation) کے مطابق سب صحارا افریقہ میں کھاد کی دستیابی میں صرف 10 فیصد کمی بھی مکئی، چاول اور گندم کی پیداوار میں 25 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

کھاد کی مسلسل قلت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس سال مٹی میں غذائی اجزاء دوبارہ شامل نہ کیے جا سکے تو خراب فصلوں کے اثرات 2027ء تک جاری رہ سکتے ہیں۔

اس سب کے علاوہ، سائنسدانوں نے کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ شدید ایل نینو (El Nino) موسمی واقعے کی پیش گوئی کی ہے، جو انتہائی گرمی اور شدید سیلاب لے کر آئے گا۔ 2024ء کے آخری ایل نینو نے جنوبی افریقہ کی آدھی فصل تباہ کر دی تھی۔

اسی دوران، زرعی کاروبار کی بڑی اجارہ دار کمپنیاں بھاری منافع کما رہی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی امونیا پیدا کرنے والی کمپنی CF Industries کے سی ای او نے فخر سے کہا ہے کہ ”یہ بحران طویل مدتی شیئر ہولڈرز کے لیے نمایاں قدر پیدا کرے گا“۔

جنگ کی قیمت محنت کش طبقہ ادا کرے گا

اس تباہی کے مکمل اثرات اس سال کی فصل کی کٹائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کا محنت کش طبقہ پہلے ہی اس کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے مطابق 2026ء میں خوراک کی قیمتوں میں 3.4 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو 2023ء سے اب تک 30 فیصد اضافے سے اوپر ہو گا۔ گائے کے گوشت کی قیمت کے 2025ء میں بننے والی ریکارڈ کی سطح سے بھی اوپر جانے کی توقع ہے، کیونکہ مکئی کی خوراک کی کمی بڑھ رہی ہے۔

برطانیہ، جو اپنی خوراک کا تقریباً آدھا حصہ درآمد کرتا ہے، میں گروسری کی قیمتیں پانچ سال پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہونے کی طرف جا رہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت کو صرف قیمتوں میں اضافے ہی نہیں بلکہ سال کے آخر تک چکن اور سور کے گوشت جیسے بنیادی پروٹین کی قلت کا بھی سامنا کرنے کی توقع ہے۔

جب کہ پہلے ہی 16 فیصد گھرانے خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہیں، 30 لاکھ لوگ پیسے بچانے کے لیے کھانا چھوڑ رہے ہیں اور فوڈ بینک کا استعمال پہلے ہی ریکارڈ سطح پر ہے، یہ صورتحال مزید لاکھوں لوگوں کو شدید مشکلات کی طرف دھکیل دے گی۔

حکومت اس وقت ہنگامی اجلاس کر رہی ہے اور اندازہ لگا رہی ہے کہ یہ نیا بحران گرمیوں کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاجوں کا سبب بن سکتا ہے۔

جن ممالک میں یہ صورتحال سب سے زیادہ شدید ہے، وہاں حالات اور بھی زیادہ خراب ہیں۔ وہاں یہ بحران اس وجہ سے مزید بڑھ رہا ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام، جو دنیا بھر میں تقریباً 150 ملین بھوکے لوگوں کی مدد کرتا تھا، حال ہی میں ٹرمپ کی جانب سے اس کے بجٹ میں بڑی کٹوتیوں کا سامنا کر چکا ہے۔ اس کے ڈائریکٹر نے ان کٹوتیوں کو لاکھوں لوگوں کے لیے موت کا پروانہ قرار دیا ہے۔ اسی دوران، پینٹاگون نے ایران کے خلاف صرف نو ہفتوں کی جنگ میں 25 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

سال بہ سال خوراک کی مہنگائی ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصوں میں پہلے ہی تیزی سے بڑھ چکی ہے، بھارت میں 4 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، بنگلہ دیش میں 9 فیصد، ایتھوپیا میں 13 فیصد اور نائجیریا میں 16 فیصد۔

ان ممالک میں جہاں لوگ اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، وہاں قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کا اندازہ ہے کہ صرف نائجیریا میں 2026ء کے دوران 4.1 ملین لوگ شدید بھوک کا شکار ہوں گے۔

اسی دوران سوڈان میں جو پہلے ہی دو سال سے قحط کا شکار ہے اور جہاں پانچ میں سے دو بالغ افراد خوراک کے انتہائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، یہ تنبیہ دی گئی ہے کہ مجموعی خوراک کی پیداوار کم از کم 40 فیصد تک گر سکتی ہے۔

تاہم سب سے بدترین صورتحال ابھی باقی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام انسانیت کے لیے ناسور بن چکا ہے

مہنگائی، خوراک کی کمی، قحط؛ ایک حقیقی تباہی افق پر نظر آ رہی ہے۔ عالمی سپلائی چینز کی باہمی وابستگی اس بات کو ناگزیر بنا دیتی ہے کہ یہ بحران دنیا کے ہر کونے میں محسوس کیا جائے گا۔

ہمیں بالکل واضح ہونا چاہیے کہ یہ مکمل طور پر قابلِ بغاوت ہے۔ یہ سامراجی جنگ، ماحولیاتی تبدیلی، ایک ایسے معاشی نظام کا نتیجہ ہے جو انسانی ضرورت کی بجائے منافع پر مرکوز ہے، یعنی سرمایہ داری پر۔

اس بحران کو حل کرنے کے وسائل پہلے ہی موجود ہیں۔ ہم خوراک کی وافر مقدار پیدا کرتے ہیں امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق دنیا میں اوسطاً ہر فرد کے لیے روزانہ 2750 کیلوریز خوراک پیدا ہوتی ہے، جو کافی زیادہ ہے حتیٰ کہ صنعتی ضیاع کو بھی شامل کر لیا جائے۔ یہ ایک انتہائی وسیع اور پیچیدہ محنت کی تقسیم کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، جس میں سپلائی چینز پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔

اس بنیاد پر، انسان دوست ادارے بین الاقوامی قانون اور عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کریں تاکہ سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو تحفظ دیا جا سکے۔ لیکن سرمایہ داری یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، پورا نظام اپنی جڑوں تک سڑ چکا ہے۔

ایک طرف یہ وسیع خوراک کی پیداوار نجی ملکیت میں ہے اور منافع کے مفاد میں چلائی جاتی ہے۔ حکمران طبقہ یعنی ارب پتی، مالیاتی اشرافیہ اور سرمایہ دار اس بات پر آمادہ ہیں کہ لاکھوں لوگ مر جائیں، بشرطیکہ ان کی دولت بڑھتی رہے۔ وہ عوامی اخراجات میں کٹوتیاں کرتے ہیں اور محنت کش طبقے کو اس حد تک مجبور کرتے ہیں کہ حتیٰ کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ سرمایہ دار ملک میں بھی چار میں سے ایک بالغ شخص اپنے لیے خوراک حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

دوسری طرف مختلف ممالک کے حکمران طبقات اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایک ساتھ نہیں آ سکتے، اگرچہ وہ ایسا چاہتے بھی ہوں، کیونکہ سرمایہ داری انہیں ایک دوسرے کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں دھکیل دیتی ہے۔ انفرادی قومی ریاستوں کے متصادم مفادات وقتاً فوقتاً قیمتوں کے جھٹکوں اور سپلائی کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

اس موجودہ نظام کو ختم کرنے کے لیے، جس میں ہر سال تقریباً نو ملین لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں، عالمی خوراک کی پیداوار کو منافع کی بجائے ضرورت کے مطابق منظم کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کے کنٹرول کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں سے چھین کر دنیا بھر کے محنت کش طبقے کے ہاتھوں میں دیا جائے۔ جب سرمایہ دار طبقے کی طاقت ختم ہو جائے گی تو قوموں کے درمیان جنگیں بھی ختم ہو جائیں گی اور زمین کے وسیع وسائل کو منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جا سکے گا۔

لاکھوں لوگوں کو موت اور بھوک سے بچانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنا ہو گا۔ یہ کوئی مجرد نعرہ نہیں ہے، یہ پوری انسانیت کے سامنے ایک فوری اور اہم ترین کام ہے۔