|انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

1۔ کشمیری عوام کی تحریک گزشتہ تین سال کے دوران نشوونما کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اس قدر طاقتور ہوتی گئی کہ کمیٹی کشمیر کے معاشرے میں حکومتی ڈھانچے کے متوازی طاقت کا ایک محور بنتی چلی گئی۔ گزشتہ طویل عرصے سے کشمیر میں طاقت کے یہ دو مراکز (جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت و ریاست) بیک وقت موجود تھے جن کے درمیان حتمی لڑائی ناگزیر ہو چکی تھی۔ 5 جون سے شروع ہونے والی ریاستی جارحیت نے اس فیصلہ کن لڑائی کا آغاز کر دیا تھا اور یہ لڑائی تیزی سے حتمی مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کا ادراک کرتے ہوئے اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جدوجہد کے اگلے مرحلے کے پروگرام اور لائحہ عمل کو درست بنیادوں پر مرتب کیا جا سکتا ہے۔ دوہری طاقت کے درمیان یہ لڑائی ہی تحریک کو اس کے گزشتہ مراحل سے منفرد و ممتاز کرتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک جانب کمیٹی اور تحریک جبکہ دوسری جانب حکمران طبقات اور ریاست، دونوں ہی اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں جس کا لازمی نتیجہ ایک کی فتح اور دوسرے کی شکست کی صورت میں برآمد ہو گا۔ اگر اس مرحلے پر ان دو متحارب طاقتوں کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی مصالحت ممکن ہو بھی جاتی ہے تو اس کے معنی محض یہ ہوں گے کہ یہ فیصلہ کن لڑائی چند ماہ کے لیے موخر ہو جائے گی اور جلد ہی یہ دوبارہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ ابھرے گی اور ایک بار پھر کمیٹی اور تحریک کے سامنے شاید اس سے کئی گنا زیادہ قربانیوں کے ذریعے اس لڑائی کو آخری فتح تک لڑنے کا ناگزیر سوال کھڑا ہو جائے گا۔
2۔ عوامی تحریک کے تین سالہ دور میں کشمیر کے محنت کش عوام ہی حقیقی قوت محرکہ رہے اور ہر مرحلے پر عوام نے اپنی اجتماعی طاقت اور انقلابی ولولے اور جوش کی بنیاد پر ریاستی جارحیت کو ہر مرحلے پر شکست دی۔ عوامی ایکشن کمیٹیوں میں منظم محنت کش عوام تحریک کو قوت محرکہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو ہڑتالوں اور لاک ڈاؤن کے تقاضوں کے مطابق چلاتے اور بند کرتے رہے اور اس عمل کے ذریعے عوام نے بار ہا اور بالخصوص گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران یہ ثابت کر دکھایا کہ اس سماج کو چلانے والی اصل طاقت یہی عوام ہیں جو نہ صرف کمیٹی کی کال پر پورے سماج کو مکمل بند کر دیتے ہیں بلکہ حکمرانوں کی وحشیانہ پابندیوں کے باوجود اپنے اجتماعی تعاون باہمی کے ذریعے ا س میں زندگی کی روانی کو بھی جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ محنت کش عوام نے اپنی کمیٹیوں کے ذریعے اس سماج کے نظم و نسق کو تحریک کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ یہی کمیٹیاں مستقبل کے سماج کو عوام کے اجتماعی مفاد اور بہتری کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی ڈھانچوں کا کردار ادا کریں گی۔
3۔ اس تمام تر صورتحال کے پیش نظر جب تحریک کے لیے لانگ مارچ کی صورت میں آگے بڑھنا ناگزیر ہوتا جا رہا اور لانگ مارچ میں ممکنہ طور پر ریاست کے مسلح جتھوں کے خلاف پہلے سے زیادہ خوفناک لڑائی کے حقیقی خدشات موجود ہیں تو ایسے میں تحریک کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ جتنی بڑی لڑائی اور قربانی ہو گی اتنے ہی بڑے مقاصد کو اپنا نصب العین بنایا جائے۔ نصف درجن سے زیادہ جانوں کی قربانی دے کر گزشتہ برس جس چارٹر آف ڈیمانڈ کو تسلیم کرایا گیا تھا اس پر عملدرآمد کے لیے حالیہ ایک ماہ کے دوران مزید کئی درجن جانوں کی قربانی دے کر ایک بار پھر اسی تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کے ایک ممکنہ طور پر جھوٹے معاہدے پر اکتفا کرنا بے پناہ عوامی طاقت اور حمایت کے برخلاف فیصلہ ہو گا۔ اس لیے کمیٹی کو کشمیری عوام کی نوے فیصد سے زائد عوام کی مکمل حمایت و تائیدکی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے جراتمندانہ پروگرام مرتب کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
4۔ کشمیر میں اشرافیہ کے حکومتی ڈھانچے کو عوام نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اس کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر پاکستان سے منگوائی گئی مسلح فورسز کے جبر کو بھی عوام نے شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک یا دوسری صورت میں راولاکوٹ کا حصار توڑتے ہوئے جب مارچ آگے کی جانب بڑھے گا تو طاقت کا تمام تر توازن تحریک اور کمیٹی کے حق میں ہو جائے گا جس کے بعد تمام تر اختیار اور طاقت حکمرانوں کے ہاتھوں سے نکل کر کمیٹی کے پاس آ جائے گی، اگرچہ ابھی بھی طاقت کا محور کمیٹی اور تحریک ہی ہے۔ کمیٹی کو اس کے بعد اس طاقت اور اختیار، جو وہ پہلے ہی حاصل کر چکی ہو گی، اس کا محض اعلان کرنا ہو گا۔ کمیٹی کی جانب سے اعلان یہ ہو گا کہ کشمیری عوام کی نوے فیصد کی حمایت سے حقیقی جمہوریت کے عین مطابق عوامی انقلابی حکومت قائم کرتے ہوئے تمام وسائل کو اجتماعی ملکیت میں لیا جا رہا ہے اور حکمرانوں اور اشرافیہ کی تمام مراعات کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام کی یہ انقلابی حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی سمیت تعلیم، علاج و دیگر تمام بنیادی سہولیات مفت فراہم کرے گی۔ اس کے لیے کمیٹیوں کو ہر ضلع میں تمام انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے سیاسی اقتدار کے لیے بھی مرکزی عوامی ڈھانچے کا اعلان کرنا ہو گا جو کمیٹیوں کی شکل میں پہلے ہی موجود ہے۔
اس کے ساتھ ہی انقلابی حکومت پاکستان کے محنت کشوں سے یہ اپیل کرے گی کہ ہماری یہ جدوجہد صرف کشمیری عوام کے حقوق کے لیے نہیں ہے بلکہ ہم پاکستان کے محنت کشوں اور غریب عوام کے لیے بھی ان حقوق کے حصول کی لڑائی کو اپنی لڑائی سمجھتے ہوئے یہ اپیل کرتے ہیں کہ آپ کی ہماری لڑائی ایک ہی ہے، آپ بھی پاکستان بھر میں اس نظام کی نا انصافیوں کے خاتمے کی جدوجہد میں آگے بڑھیں ہم آپ کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے فتح حاصل کریں گے۔

5۔ موجودہ حکومت کے خاتمے اور اشرافیہ پر ہی مشتمل عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ عوام کی لازوال جدوجہد کے بعد دوبارہ اسی حکمران طبقے کے کسی دوسرے گروہ کی غلامی اختیار کرنے کا مطالبہ ہے۔ اس لیے کمیٹی کو اب بغیر کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کے خطے کے عوام کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے لیے عوامی انقلابی حکومت کے قیام کا اعلان کرنا ہو گا۔ کشمیر میں عوامی انقلابی حکومت کا قیام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی مفت فراہمی کا اعلان پاکستان سمیت خطے بھر کے محنت کشوں کے لیے روشنی کا ایسا مینار ثابت ہو سکتا ہے جس سے پورے خطے میں انقلابی تحریکوں کے شعلے بھڑک اٹھیں اور اس پورے خطے کے محنت کش کشمیری عوام کی پیروی کرتے ہوئے اس ظالمانہ نظام کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کی جانب ایک انقلابی سفر کا آغاز کر دیں۔ یوں کشمیر میں عوام کی فتح برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن کی طرف ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
فتح کی سمت متحد بڑھے چلو، بڑھے چلو!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!
انقلابی جذبات کے ساتھ،
بتاریخ 13-07-2026