|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

بلوچستان میں چند روز کے دوران دیگر حملوں کے ساتھ دو بڑے مسلح حملوں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک جانب کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک (کلی ببری) میں مسلح حملہ آوروں نے مقامی آبادی کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسری جانب ضلع زیارت کے کچ منگی علاقے میں پولیس چوکی پر حملے میں سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جاں کی بازی ہار گئی۔ ان پے در پے لرزہ خیز واقعات نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ہنہ اوڑک (کلی ببری) واقعہ اور عوامی مزاحمت
کوئٹہ کے معروف سیاحتی علاقے ہنہ اوڑک کے نواحی گاؤں کلی ببری میں اتوار (5 جولائی 2026ء) کی رات مسلح حملہ آوروں، جنہیں مقامی ذرائع مبینہ طور پر کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک قرار دے رہے ہیں، نے مقامی آبادی پر حملہ کیا۔ مقامی غیور محنت کشوں نے انتہائی دلیری، جرات اور بہادری کے ساتھ حملہ آوروں کا راستہ روکا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

مگر مقامی عوام کے پاس اپنی حفاظت اور دفاع کے لیے اس مقدار میں اسلحہ اور وسائل موجود نہیں تھے جہاں وہ ان منظم دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کرتے۔ اس جھڑپ میں نقیب اللہ، اشرف خان، رفیق خان اور گلریز خان موقع پر شہید ہوئے، جبکہ شدید زخمی ہونے والے یونس خان بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ اس کے علاوہ 6 زخمی افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ پسپائی اختیار کرتے ہوئے حملہ آور کلی ببری سے 11 مقامی لوگوں کو اغوا کر کے قریبی پہاڑی سلسلے کی طرف لے گئے، جن میں سے صرف ایک فرد کی بازیابی ہو سکی ہے، البتہ باقی 10 افراد کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔
کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا
واقعے کے خلاف مقتولین کے لواحقین، سیاسی پارٹیوں اور مقامی شہریوں نے شہداء کی میتیں کوئٹہ کے سول ہسپتال کے سرد خانہ میں رکھوائی ہیں، جبکہ ائیرپورٹ روڈ (بی اے مال) کے سامنے جہاں آرمی کینٹ کا داخلی دروازہ موجود ہے، وہاں احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے جس کے باعث مرکزی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی ہے۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، نہ دھرنا ختم کیا جائے گا اور نہ ہی شہداء کی تدفین کی جائے گی۔ ان کے بنیادی مطالبات میں:
1۔ 10 مغوی شہریوں کی فوری اور محفوظ بازیابی۔
2۔ علاقے میں ایف سی کی بجائے پولیس کی مستقل چیک پوسٹوں کا قیام۔
3۔ حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کاروائی، ہنہ اوڑک و گرد و نواح میں مستقل امن و امان کی بحالی شامل ہے۔

زیارت میں پولیس چوکی پر حملہ اور 21 مغویوں کا قتل
دوسری جانب ضلع زیارت کے مانگی ڈیم کے علاقے میں قائم پولیس چوکی پر مسلح افراد نے رات گئے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار بے دردی سے قتل ہو گئے، جبکہ دو درجن کے قریب اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے پولیس چوکی کا محاصرہ کیا اور پھر خود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی۔ حملے کے بعد وہ 21 اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس واقعے کے بعد زیارت کراس پر پولیس اہلکاروں اور شہداء کے ورثاء کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے، ذمہ داروں کی گرفتاری اور مغوی اہلکاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مغویوں کے لواحقین کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں زندہ بازیاب کرایا جائے گا، جس کی بنیاد پر لواحقین نے دھرنا دینے سے گریز کیا۔
مگر اگلے ہی دن، یعنی 8 جولائی کو ان 21 مغویوں کی لاشیں ایک ویرانے سے ملیں۔ حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ ان ہلاک شدگان سکیورٹی اہلکاروں کی پولیس لائن میں نمازِ جنازہ پڑھانے کے ساتھ ہی ان کی تدفین کر دی جائے، مگر لواحقین کے شدید احتجاج کے بعد ان کی لاشوں کو سول ہسپتال کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ زیارت میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں اور مقامی نوجوانوں نے جو دھرنا دیا تھا، اسے اب کوئٹہ میں جاری دھرنے میں ضم کرنے کے لیے تمام لوگ کوئٹہ پہنچ چکے ہیں اور اس وقت کوئٹہ کا احتجاجی دھرنا ایک بڑے سیاسی مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر ریاستی سکیورٹی بیانیے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دو دہائیوں سے جاری فوجی آپریشنوں، بھاری دفاعی بجٹ اور سکیورٹی اداروں کی وسیع موجودگی کے باوجود عام شہری آج بھی غیر محفوظ ہیں۔ ہنہ اوڑک اور زیارت کے حالیہ خونی واقعات اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہیں کہ عوام ایک طرف دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، تو دوسری طرف ریاستی ادارے ان کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کے خلاف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جاری احتجاجی دھرنا ایک اہم موڑ بن چکا ہے، جس میں بلوچ، پشتون، ہزارہ اور دیگر برادریوں کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ یہ بین القومی اتحاد اور مثالی یکجہتی جہاں ایک طرف عوامی تحریک کو طاقت بخش رہی ہے، وہاں دوسری جانب اپنے سیاسی و انتظامی اثرات کی وجہ سے ریاست کے لیے شدید دباؤ اور دردِ سر کا باعث بنی ہوئی ہے۔
فوجی آپریشنز کا تسلسل اور نااہلی کی داستان
ریاست اور حکمران طبقے کے پاس اس بحران کا واحد حل بار بار فوجی آپریشنز کی شکل میں موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکومتی حکام کی جانب سے ایک مرتبہ پھر عسکری کاروائیوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ تاہم، پچھلے بیس سالوں سے سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ان فوجی آپریشنز کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ ان پالیسیوں نے دہشت گردی کی جڑیں ختم کرنے کی بجائے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، معاشی بربادی اور سماجی انتشار کو جنم دیا، جبکہ بنیادی مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔
چنانچہ مقتدر حلقوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ عسکری راستہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ طاقت کا یہ وحشیانہ استعمال مقامی آبادیوں میں مزید بیگانگی اور غصے کو جنم دیتا ہے۔ تاریخی تجربات گواہ ہیں کہ جب تک ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے گا، امن کا قیام ممکن نہیں ہو گا بلکہ پورا خطہ مزید تباہی اور بدامنی کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔
روایتی سیاست کا دیوالیہ پن
دوسری طرف، عوام اس بربریت کے خلاف مزاحمت تو کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کے پاس کوئی واضح، منظم اور انقلابی پروگرام موجود نہیں ہے۔ بلوچستان کی روایتی سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے اس ناسور کے خلاف کوئی سنجیدہ لائحہ عمل پیش کرنے میں مکمل ناکام رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی سیاست موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اور ریاستی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے محض مراعات اور سطحی حل تلاش کرنے تک محدود ہے، جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اس مسئلے کا کوئی مستقل حل ممکن ہی نہیں۔
چنانچہ عوام کے پاس دھرنوں، احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ ان کے پاس منظم دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ تو اسلحہ ہے اور نہ ہی وسائل۔ اس کی واضح مثال ہنہ اوڑک کا واقعہ ہے، جہاں مقامی غیور محنت کشوں نے اپنی دلیری سے دہشت گردوں کا مقابلہ تو کیا، لیکن وسائل کی شدید کمی کے باعث انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
کوئٹہ کے دو دھرنے اور عوام کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور
کوئٹہ میں اس وقت ایک حساس صورتحال درپیش ہے جہاں دو مختلف دھرنے جاری ہیں۔ ایک طرف ہنہ اوڑک کا عوامی دھرنا ہے جس کا آج پانچواں دن ہے، تو دوسری طرف گزشتہ رات زیارت میں لقمہ اجل بننے والے اکیس افراد کی لاشوں کے ساتھ کوئلہ پاٹک کے مقام پر دھرنا دیا جا رہا ہے جس کا آج پہلا دن ہے۔ ان دونوں دھرنوں کے درمیان چند قدم کا فاصلہ ہونے کے باعث اگرچہ فی الوقت ان کا انضمام نہیں ہو سکا، لیکن مشترکہ دکھ اور یکساں صورتحال کی وجہ سے آنے والے وقت میں ان کے آپس میں ضم ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔جبکہ دہشتگردوں کی جانب سے ہنہ اوڑک میں جاری احتجاجی دھرنے کے منتظمین کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر دونوں دھرنے آپس میں ضم ہوئے تو اغواء شدہ 10 افراد کو قتل کر دیا جائے گا۔
عوامی شعور کی حرکیات یہ بتاتی ہیں کہ اس بار سیاسی جماعتوں اور عوامی دھرنوں کے درمیان ایک واضح دوری نظر آ رہی ہے۔ یہ دوری عوام کے اس شعور کا نتیجہ ہے جو انہوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے حاصل کیا ہے۔ چند سال قبل زیارت کراس پر ہونے والے دھرنے کے تمام اختیارات ایک نام نہاد پشتون نواب اور روایتی سیاسی جماعتوں کو سونپے گئے تھے، جن کے بارے میں آج تک یہ شکوک و شبہات قائم ہیں کہ دھرنے کا سودا کیا گیا، کیونکہ لواحقین کو انصاف نہیں مل سکا۔ اسی طرح، گزشتہ سال معصوم بچے مصور کاکڑ کے اغوا کے خلاف ہونے والے دھرنے میں بھی روایتی سیاسی پارٹیوں کے کردار کو شدید شک کی نظر سے دیکھا گیا۔ اس عوامی شعور اور دوری کا ادراک اب خود سیاسی پارٹیاں بھی کر چکی ہیں کہ ان کے اور عوام کے درمیان کتنی گہری خلیج حائل ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی اے مال کے سامنے جاری احتجاجی دھرنے کے چوتھے دن مختلف سیاسی پارٹیوں کے چند ایسے رہنماؤں نے شرکت کی جن کا بنیادی مقصد ماحول کو نارملائز کرتے ہوئے معاملے کو کمپرومائز کی طرف لے جانا تھا۔ ان رہنماؤں نے اسٹیج سے لمبی چوڑی تقاریر تو کیں، مگر ان کے پاس موجودہ مسائل کے حل کا کوئی معقول ٹوٹکا نہیں تھا بلکہ وہ محض ماضی کے قصے اور چند گھسی پٹی روایتی دلیلیں دہرا رہے تھے۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر، موجودہ دھرنا کمیٹیوں میں یہ احساس گہرا ہو چکا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں کو صرف ایک ممد و معاون کی حد تک ساتھ رکھا جائے، نہ کہ انہیں دھرنے کے فیصلوں اور مستقبل کے تمام تر اختیارات سونپ دیے جائیں۔ یہ عوامی بیداری لواحقین کے حقوق کے تحفظ اور تحریک کو سودے بازی سے بچانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا مؤقف اور روایتی حدود
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا مؤقف اس معاملے پر بالکل دو ٹوک ہے۔ ہم ریاست کے ان ناکام اور عوام دشمن فوجی آپریشنز کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جن کا خمیازہ ہمیشہ یہاں کے غریب محنت کشوں اور عام شہریوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ کوئٹہ کے دھرنوں اور جلسوں میں روایتی قبائلی جرگوں اور بین القومی اتحاد کی باتیں تو مسلسل کی جاتی ہیں، لیکن یہ روایتی طریقہ کار موجودہ گہرے بحران کا حل فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ سرمایہ دارانہ دائرہ کار میں سیاست کرنے والی پارٹیاں، خواہ وہ قوم پرست ہوں یا مذہبی، اس بحران پر واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنانے سے کتراتی ہیں۔
اسی طرح، پشتون تحفظ موومنٹ نے اگرچہ دہشت گردی اور نام نہاد وار آن ٹیرر کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک کے طور پر ابھر کر عوامی غصے کو زبان دی، لیکن متبادل سماجی و معاشی پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی قوم پرستی کے نظریاتی حصار میں قید ہے۔ اس تبدیلی کی نظریاتی حد بندی کی وجہ سے ان کی جدوجہد چند جذباتی نعروں، تقریروں اور احتجاجی جلسوں سے آگے کسی جامع اور انقلابی لائحہ عمل میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ دہشت گردی کی جڑیں خود اس سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں اور جب تک ہم مسئلے کی اصل جڑ یعنی غربت، بیروزگاری، قومی جبر اور حکمران طبقات کے تزویراتی مفادات پر وار نہیں کریں گے، تب تک عسکری یا انتظامی اقدامات کے ذریعے امن کا قیام محض ایک دیوانے کا خواب رہے گا۔
انقلابی لائحہ عمل اور عوامی دفاعی کمیٹیوں کا قیام
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نزدیک دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت ایک فوری اور سنگین مسئلہ ہے۔ جو لوگ آج بھی ریاستی اداروں کے ذریعے دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک شدید مغالطے کا شکار ہیں اور یہ سوچنا محض ایک دیوانے کا خواب ہے، کیونکہ گزشتہ ایک طویل عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ جن بڑے ریاستی اداروں کا اصل کام دہشت گردی کے خلاف لڑنا تھا، وہ تو فرنٹ لائن پر نظر نہیں آ رہے، بلکہ پولیس اور دیگر مقامی سکیورٹی ادارے ہی زیادہ تر بھاری جانی نقصانات اٹھا کر ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس ریاستی نااہلی اور منافقت کو بھانپتے ہوئے عوام نے نہ صرف بلوچستان بلکہ خیبر پختونخوا کے اندر بھی اب دہشت گردی کے خلاف جرات مندانہ طریقے سے، مختلف بنیادوں پر خود لڑنا سیکھ لیا ہے اور سیکھ رہے ہیں۔
اس متبادل مزاحمت کا واحد سائنسی اور عملی طریقہ کار جمہوری طور پر منتخب عوامی دفاعی کمیٹیوں کا قیام ہے۔ یہ کمیٹیاں محلوں، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور کارخانوں کی سطح پر محنت کشوں اور مقامی لوگوں کی شرکت سے تشکیل دی جائیں۔ یہ کمیٹیاں کسی ریاستی بیساکھی کے بغیر، عوام کی براہ راست جمہوری نگرانی میں اپنے علاقوں کی ناکہ بندی، پہرے داری اور سراغ رسانی کا ایک خود کار نظام وضع کر کے اپنے جان و مال کا تحفظ کر سکتی ہیں اور دہشت گرد عناصر کا خود دلیری سے مقابلہ کر کے انہیں مار بھگا سکتی ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو طبقاتی بنیادوں پر منظم کرنا ہی واحد راستہ ہے، جس کے لیے ہم پاکستان بھر کے محنت کش طبقے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔ یہی وہ واحد بنیاد ہے جو بلوچستان کی تمام اقوام کو حقیقی معنوں میں متحد کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں جہاں بھی عوامی تحریکیں چل رہی ہیں، بالخصوص اگر ہم اس وقت کشمیر کی عوامی تحریک کی بات کرتے ہیں، تو وہاں کے غیور محنت کش عوام کے ساتھ یہاں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جائے اور وہاں سے بھی یکجہتی کی اپیل کی جائے تاکہ ان کے ساتھ ایک مضبوط اور باہمی اتحاد قائم کیا جا سکے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے مظلوم محنت کشوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو طبقاتی بنیادوں پر یکجا کرنا ہو گا۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ، جو کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں سمیت خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں آج بھی بڑی حمایت رکھتی ہیں، ان کو بھی طبقاتی بنیادوں پر اپیل کرنی ہو گی اور اس کے علاوہ ان کے پاس بھی کوئی دوسرا راہِ نجات نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو ان تمام تر مظالم کو شکست دے سکتی ہے۔ ان تمام تر جاری تحریکوں، جیسے بلوچ یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ، کشمیر کی عوامی تحریک، گلگت بلتستان کی جدوجہد اور سندھ و پنجاب میں ممکنہ عوامی تحریکوں کی جڑت محض طبقاتی بنیادوں پر ہی منظم ہو سکتی ہے اور یہی طبقاتی اتحاد دہشت گردی اور دیگر تمام جڑواں مسائل کا مستقل خاتمہ کر سکتا ہے۔
گو کہ مختلف خطوں کے ان محنت کشوں اور عوامی تحریکوں کو آپس میں جوڑنا اور یہ طبقاتی اتحاد بنانا موجودہ معروضی حالات میں ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے، مگر طویل المدتی بنیادوں پر یہی ایک ممکن، متبادل اور پائیدار حل ہے۔ اس سائنسی پروگرام کے علاوہ اب جو بھی دوسرا راستہ یا مصالحتی نسخہ بتایا جا رہا ہے، وہ متبادل پیش کرنے کی بجائے محض لوگوں کے غصے اور تپتے ہوئے جذبات کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی، قومی جبر اور ریاستی بحران کا مستقل اور حتمی حل صرف سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ایک سوشلسٹ سماج کے قیام میں مضمر ہے، جہاں وسائل پر محنت کش عوام کا جمہوری کنٹرول ہو اور انسانوں کو بربریت کی بجائے امن، ترقی اور برابری پر مبنی زندگی میسر آ سکے۔