|تحریر: پارس جان|

”جب عوام براہ ِراست انقلابی جدوجہد کے نئے اور غیر معمولی زرخیز تجربے سے مستفید ہونا شروع کرتے ہیں تو انقلابی آؤٹ لک یعنی انقلابی مارکسزم کے دفاع میں نظریاتی جدوجہد وقت کا بنیادی اور رہنما اصول بن جاتی ہے۔“ لینن (دو خطوط 1908ء)
سامراج کا سوال انقلابی کمیونسٹوں کے مارکسی مباحث میں ہمیشہ اہم ترین موضوعات کی فہرست میں شامل رہا ہے۔ سطحیت کا شکار بایاں بازو جو آج کل اس سوال کو لے کر بہت اچھل کود کر رہا ہے، زیادہ پرانی بات نہیں جب یہ انقلابی کمیونسٹوں پر ہر وقت اور ہر جگہ ’مجرد عالمی عوامل‘ کی جگالی کا الزام عائد کیا کرتا تھا۔ انقلابی کمیونسٹ بجا طور پر اپنے ہر سنجیدہ تجزیے کا آغاز ’عالمی تناظر‘ سے کرتے آئے ہیں اور ہر علاقائی و مقامی تضاد کو سرمایہ دارانہ نظام کی عالمی سامراجی کلیت کے جدلیاتی جزو کے طور پر ہی سمجھنے کی کوشش اس میتھڈ کا ہمیشہ لازمی حصہ رہی۔ اسی طرح اس میتھڈ کے تحت کسی بھی علاقائی و مقامی تحریک اور اس کی قیادت کے کردار کو بھی جہاں باہمی جدلیاتی تعلق میں پرکھا جاتا تھا وہیں عالمی مزدور تحریک کے ساتھ دو طرفہ اثرات کے میزان پر بھی تولا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال کی پیچیدگی نے جہاں روایتی اور ’آفیشل‘ بائیں بازو کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے وہیں انقلابی کمیونسٹوں کا اپنے نظریے، میتھڈ اور حکمتِ عملی پر اعتماد اور انحصار پہلے سے کہیں زیادہ ہوا ہے، کیونکہ آج جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہا ہے، جس نے حاوی دانش کو فرطِ حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے، انقلابی کمیونسٹ بہت پہلے سے اس کی پیشنگوئی اور تیاری کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انتشار، کچھ رجعت اور کچھ فاشزم کا نام دے رہے ہیں مگر یہ ایک قبل از انقلاب عبوری عہد کی وہ حرکیات ہیں جن میں تمام تاریخی تضادات بیک وقت پھٹ رہے ہیں اور مستقبل کی راہیں متعین کر رہے ہیں۔ وہ مستقبل جو طے شدہ نہیں ہے بلکہ اس کا دار و مدار عالمی و علاقائی سطح پر مزدور تحریک کی قیادت کی بصیرت اور ریاضت پر بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اس لیے انقلابی کمیونسٹوں کا فریضہ ہے کہ سامراج جیسے اہم سوال پر باریک بینی سے بحث کریں، اس کی ہم عصر تشریحات کا مارکسی مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں ٹھوس سیاسی مظاہر اور عوامل میں محنت کش طبقے کے نکتہ نظر سے بر وقت اور مؤثر مداخلت کو یقینی بنائیں۔
حالات نے ایسی سنسنی خیز کروٹ لی ہے کہ اب سامراج کا سوال معروضی طور پر ہر دوسرے سوال پر غالب آ گیا ہے۔ کیا دایاں اور کیا بایاں بازو ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس پر رائے زنی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ نوجوان، طلبہ، مزدور، گھریلو خواتین، یہاں تک کہ کسان اور دیہی بزرگ سب ان بحثوں میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ غرضیکہ وہ لوگ جن کو عام طور پر ’غیر سیاسی‘ یا ’معمولی‘ سمجھا جاتا تھا، وہ سیاسی معاملات کے بارے میں غور و خوض کرنے لگے ہیں جو بذاتِ خود ایک غیر معمولی پیش رفت ہے اور اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہم تاریخ کے استثنائی اور بے نظیر امکانات سے لبریز عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ سب کسی دانشور کے تبصروں یا کسی لیڈر کی شعلہ بیانی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ بڑے واقعات انسانوں کے شعور کو جھنجھوڑ کر انہیں بالکل نئے اور ناقابلِ شناخت انسانوں میں ڈھال رہے ہیں۔ اگرچہ اس صورتحال کی جڑیں گزشتہ چند دہائیوں میں پیوست ہیں تاہم اس عمل کو ٹرمپ کے حالیہ دورِ اقتدار سے ہی مہمیز ملی ہے۔ ٹرمپ بیک وقت اس تبدیل شدہ بین الاقوامی توازن کا نتیجہ بھی ہے اور وقتی وجہ بھی۔
عالمی معیشت میں امریکی سامراج کے مسلسل کم ہوتے ہوئے اثر و رسوخ نے بین الاقوامی تعلقات پر امریکہ کی سامراجی گرفت کو کمزور کر کے اس کے نسبتی زوال پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی تو اس کے ردِعمل میں تجارتی جنگ اور تحفظاتی پالیسیاں ناگزیر ہو گئیں اور جب ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی بھی متوقع کے برعکس نتائج کو جنم دینے لگی تو پھر عسکری برتری کے بے دریغ استعمال کے علاوہ کوئی راستہ بچا ہی نہیں۔ یوکرین اور روس کی جنگ ہفتوں میں ختم کرنے کے دعویدار اور علمبردار صدر کو اپنے پالتو درندے اسرائیل کے پاگل پن کے دباؤ میں ایران پر یہ حالیہ جنگ مسلط کرنا پڑی جس نے عالمی معیشت، سیاست اور سماجی معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

اس سے پہلے وینزویلا میں ننگی جارحیت کرتے ہوئے وہاں کے صدر اور اس کی بیوی کو اغوا اور وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی کامیابی کے خمار میں بدمست امریکی سامراج ایران پر چڑھ دوڑا۔ دنیا کے اربوں انسان جو نہ تو اس جنگ کے فریق ہیں اور نہ ہی ذمہ دار مگر جب رسد کے عالمی نظام میں پڑنے والے خلل کے باعث انہیں اس جنگ کی قیمت بے قابو ہوتی ہوئی مہنگائی اور غیر یقینی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے تو وہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ آخر کیوں؟ وہ نظام کے بارے میں سنجیدہ سوال پوچھ رہے ہیں اور جواب نہ ملنے کی صورت میں سٹیٹس کو سے ٹکرا جانے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔ سامراجی درندگی کے ان اقدامات کے ان کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات نے سامراج کی مدرسانہ بحث کو جامعات کے شعبہ سیاسیات سے نکال کر ان کے باورچی خانوں، کھلیانوں اور قہوہ خانوں تک پہنچا دیا ہے۔ ایسے میں اب لوگ ریاستی پراپیگنڈے سے بہلنے یا ٹلنے والے نہیں لیکن ان کو گمراہ کرنے کے لیے نظریاتی دیوالیہ پن کے شکار دانشور اس وقت ریاست اور سامراجیوں کا اہم اوزار بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں ان موقع پرستوں کا راستہ روکنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ آئیے انقلابی پوشاک میں سجے دھجے ان جعلسازوں کے جھوٹے نظریات اور ’بیانیوں‘ کا مرحلہ وار جائزہ لیتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجیت
لینن نے وضاحت کی تھی کہ ’سامراجیت سرمایہ داری کی آخری منزل‘ ہے یا سرمایہ داری کی ترقی یافتہ ترین شکل ہے۔ جبکہ ہم عصر بائیں بازو کے ہاں سامراجیت کی تشریح میں سب سے مشترک قدر یہی ہے کہ وہ شعوری یا لا شعوری طور پر سامراجیت کو سرمایہ دارانہ نظام سے کاٹ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی ایسی ’سامراج مخالف‘ جدوجہد کا راگ الاپا جاتا ہے جس میں سامراج کی معاشی بنیاد یعنی نجی ملکیت، سرمائے کے ارتکاز اور منافع خوری کا اخلاقی جواز نہ صرف برقرار رہے بلکہ اسے اس طرح تحفظ فراہم کیا جائے کہ وہ عین فطری اور لازمی لگنے لگے۔ ایسے جعلی جہد کاروں کے خیال میں ایسی سرمایہ داری آج بھی ممکن ہے جو اپنی سرشت میں ’غیر سامراجی‘ کردار کی حامل ہو۔ جس کا ناگزیر اور منطقی نتیجہ اس قیاس آرائی یا غلط فہمی کو جنم دیتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے سامراجیت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مزید توضیح مزید بھیانک نتائج کی طرف لے جاتی ہے یعنی سامراجیت گویا ہم عصر سرمایہ دارانہ نظام کا معمول یا لازمہ نہیں ہے بلکہ سرمایہ داری کا ایک انتظامی، سیاسی، گروہی، نسلی یا شخصی مسئلہ ہے جسے حل کر لیا جائے تو انسان دوست یا ترقی پسندانہ سرمایہ داری کی طرف واپس جایا جا سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ انقلابی کمیونسٹ اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ آج کے عہد میں بغیر سامراجی ہتھکنڈوں کے کوئی جدید اور ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ریاست ممکن ہے۔ یعنی سامراجیت کا خاتمہ آخری تجزیے میں عالمی سرمایہ داری کے خاتمے کا متقاضی ہے۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرمایہ داری جب تاریخ کے افق پر بطور نظام نمودار ہوئی تو اسی وقت وہ سامراجی کردار کی حامل تھی؟ ہرگز نہیں۔ ایسا مؤقف سراسر غیر تاریخی اپروچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے برعکس ابتدا میں انسانیت کو جاگیردارانہ نظام کی فرسودگی اور مطلق العنانیت سے نجات دلا کر ایک انقلاب برپا کر کے سرمایہ دارانہ نظام نے واقعی ترقی پسندانہ کردار ادا کیا۔ بہت سے لوگ جدید سامراجیت اور قبل از سرمایہ داری سلطنتوں (empires) کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ سرمایہ داری اجرتی مزدور کے استحصال سے حاصل کردہ قدر زائد پر نجی تصرف پر مبنی معاشی نظام کو کہتے ہیں جس کے لیے جاگیردارانہ معاشی رشتوں کا خاتمہ کرتے ہوئے جدید پرولتاریہ (اجرتی مزدور) کی بہتات درکار تھی اور ابھرتا ہوا سرمایہ دار طبقہ جاگیر داری سے ٹکرائے بغیر اسے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا قومی جمہوری انقلاب کی قیادت اس وقت سرمایہ داروں کی ’مجبوری‘ بھی تھی۔ دراصل جب سرمایہ دارانہ نظام نے قومی ریاست یا قومی منڈی کی حدود سے متجاوز پیداوار کرنا شروع کی تو اس پیداوار کے لیے منڈیوں کی اشد ضرورت نے سرمایہ دارانہ سامراجی تنازعات کو جنم دیا۔ جدید سیاسی لغت میں سامراجیت کو سرمایہ دارانہ نظام کی قبضہ گیریت سے تعبیر کیا جاتا ہے، لینن نے اسے طفیلی سرمایہ داری کا نام بھی دیا تھا۔ قبل از سرمایہ داری یا قبل از قومی ریاست جب سلطنتیں ہوا کرتی تھیں تو وسائل کی لوٹ مار کے لیے قبضے کیے جاتے تھے جبکہ سرمایہ دارانہ سامراجیت میں جہاں یہ عنصر بھی موجود ہوتا ہے تاہم وسائل کے ساتھ ساتھ منڈیوں اور تجارتی راستوں پر قبضے کا جوہری خاصہ اسے قدیم غلام دارانہ یا جاگیردارانہ سلطنت سے معیاری طور پر مختلف اور منفرد کردار سے بھی نوازتا ہے۔ ابتدائی مراحل میں منڈیوں پر قبضے کے لیے یا دیگر مسابقتی سامراجی قوتوں سے منڈیوں کو محفوظ بنانے کے لیے سلطنت کی طرز پر باقاعدہ فوجی قبضے کی ضرورت ہوتی تھی جس نے دنیا بھر میں بے شمار نوآبادیات کو جنم دیا لیکن مالیاتی سرمائے کے فیصلہ کن غلبے نے اس ضرورت کی تاریخی لازمیت کو متروک کر کے جدید یعنی ہم عصر سامراجیت (نیو کلونیل ازم) کی راہ ہموار کی جہاں باقاعدہ فوجی قبضے کے بغیر بھی پہلے سے کہیں زیادہ لوٹ مار اور جبر روا رکھا جا سکتا ہے۔ یوں ’قومی آزادی‘ کے لولی پاپ میں بدترین غلامی مسلط کر دی جاتی ہے۔
لینن نے اپنی یہ شہرہ آفاق تصنیف ’سامراج سرمایہ داری کی آخری منزل‘ پہلی عالمی جنگ کے دوران 1916ء میں تحریر کی تھی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سامراجیت کا آغاز اسی دور میں ہوا تھا۔ اس کے برعکس لینن نے سامراجیت کے سرمایہ دارانہ مرحلے کی تکمیل اور اس سے جنم لینے والے نئے تضادات کی طرف اشارہ کیا تھا جس میں اجارہ داریوں کی تشکیل، مالیاتی سرمائے کا غلبہ، سرمائے کی برآمد اور دنیا کی تقسیم جیسے عوامل کی وضاحت کی گئی تھی۔ سامراجیت کا آغاز تو اس سے بہت پہلے یورپی قومی ریاستوں کی شمالی افریقہ، انڈیا اور لاطینی امریکہ جیسے خطوں پر سامراجی چڑھائی سے ہو گیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہی مثال لے لیتے ہیں جو کہ خالصتاً سامراجی پراجیکٹ تھا۔ اسی طرح برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سے قبل یہاں ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی اور پرتگیزی سرمائے کا عمل دخل بھی شروع ہو چکا تھا۔ مختصر یہ کہ لینن سامراجیت کے تاریخی ارتقا کے نتیجے میں سرمایہ داری کی تکمیل (ساری دنیا کی سامراجی طاقتوں میں تقسیم) کی بات کر رہا تھا۔ یعنی عالمی سطح پر سرمایہ داری صرف سامراجی شکل میں ہی قائم رہ سکتی ہے۔ سامراجیت کے تاریخی مرحلے پر جسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، ساری دنیا سرمایہ دارانہ ورلڈ آرڈر کے زیرِ نگوں ہو گئی۔ مختصر یہ کہ چند مغربی ممالک کو چھوڑ کر باقی ماندہ ساری دنیا میں سرمایہ داری سرمایہ دارانہ انقلابات یا قومی صنعتی انقلابات کے ذریعے نہیں بلکہ سامراجی تسلط کے ذریعے ہی پہنچی یعنی ان مغربی سامراجی قوتوں کی مداخلت نے پسماندہ ممالک کے آزادانہ ارتقا میں مخل ہو کر اپنے مفادات کے تحت ان ریاستوں کے معاشی و سیاسی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کو نہ تو مسخ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔ اب ’غیر سامراجی‘ سرمایہ داری کی طرف واپسی کی خواہش اپنی سرشت میں ترقی پسندانہ نہیں بلکہ رجعتی اور یوٹوپیائی ہے۔ سامراجیت یعنی سرمایہ دارانہ عالمگیریت اور اجارہ داریوں کا دیو ہیکل حجم اس بات کا امکانی ثبوت بھی ہے کہ قومی ریاستیں تاریخی افادیت کھو چکی ہیں اور ذرائع پیداوار سماج کی اجتماعی ملکیت یعنی سوشلزم کے لیے پک کر تیار ہو چکے ہیں۔ اس تاریخی فریضے کی ادائیگی کے لیے محنت کش طبقے کو تیار کرنے کی بجائے سرمایہ داری کو ’انسان دوست‘ بنانے کی جدوجہد مارکسزم کے بنیادی فلسفے یعنی تاریخی مادیت سے انحراف اور محنت کش طبقے سے تاریخی غداری کے مترادف ہے۔
طبقاتی سوال
اگر اس فاش غلطی کی عمیق چھان بین کی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سامراج کی مذکورہ بالا تشریح دراصل طبقاتی سوال کے یکسر انکار اور محنت کش طبقے کے انقلابی پوٹینشل سے مکمل مایوسی کی پیداوار ہے۔ اس بیانیے کے دعویدار انقلابی کمیونسٹوں پر ہمیشہ یہ بہتان لگاتے رہے ہیں کہ یہ سرمایہ داری کے پیچیدہ تضادات کو مبالغہ آمیز حد تک سادہ بنا کر انہیں محض طبقاتی سوال تک محدود کر دیتے ہیں۔ اس بہتان کو طبقاتی تخفیف پسندی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ مزدور تحریک یا مارکسی تحریک میں ایسے الٹرالیفٹ عناصر موجود ہیں جو طبقاتی تخفیف پسندی جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہیں لیکن انقلابی کمیونسٹوں نے ہمیشہ ایسے رجحانات کو مسترد کیا ہے اور ہمیشہ ثقافتی، تاریخی اور نفسیاتی عوامل کو تناظر کی تخلیق میں ان کا جائز مقام بخشا ہے۔ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نظام سرمایہ دارانہ ہے تو بنیادی تضاد سرمائے اور محنت کا ہی ہو گا۔ لیکن اس بنیادی تضاد پر استوار کی گئی سرمایہ دارانہ ریاست، اس کے ادارے، اخلاقیات اور ثقافتی مظاہر کی باہمی جدلیاتی کلیت میں فعالیت سماج کی ارتقائی حرکیات کا تعین کرتی ہے۔
دوسری طرف انقلابی کمیونسٹوں پر طبقاتی تخفیف پسندی کا الزام لگانے والے یہ سیاسی مسخرے خود بے لگام ثقافتی اور موضوعی استصنام کا شکار ہیں۔ ان کے خیال میں سامراج کا وجود اس بات کا اعلان ہے کہ اب سرمایہ داری کا بنیادی یعنی طبقاتی تضاد غیر اہم ہو چکا ہے اور شناخت اور ثقافتی وجود سے متعلقہ دیگر سوالات اہم ہیں۔ یوں کسی بھی سماج کو اپنے سارے داخلی تضادات کو پسِ پشت ڈال کر پہلے محض سامراج مخالف جدوجہد کرنی چاہیے اور انقلابی جہد کاروں کو بھی سامراج مخالف جدوجہد کے لیے محنت کشوں کے طبقاتی مفادات پر سمجھوتہ کر لینا چاہیے۔ اگرچہ اس بیانیے کے پرچارک اپنے اس مؤقف کو اعلانیہ طور پر اور صاف صاف بیان نہیں کرتے بلکہ بڑی مہارت سے طبقاتی مفادات کو لفظی جگالی کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ ان کے تمام تر مضامین اور تقاریر میں خال خال ہی کہیں مزدور یا محنت کش طبقے کا لفظ یا ذکر ملتا ہے اور عموماً یہ پیٹی بورژوا توہمات اور تعصبات کی ہی نمائندگی کرتے ہیں۔ اب چونکہ یہ اپنے ان رجعتی اور عوام مخالف نظریات کو مصنوعی معروضیت، بے معنی اصطلاحات اور جھوٹے تاریخی حوالوں کی پرکشش پوشاک پہنا دیتے ہیں تو ان کے بند ِقبا کو چاک کر کے انہیں عریاں کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ مارکسزم ٹھوس مادی حقیقت کی معروضی تفہیم پر اکتفا کرنے کا درس دیتا ہے لیکن کیا یہ تفہیم مکمل طور پر ’غیر جانبدارانہ‘ عمل ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کے اثبات پر یقین رکھنے والے ہماری توجہ تبدیل شدہ حقائق (facts) پر مبذول کروانے میں لگے رہتے ہیں۔ ہم بجا طور پر ان حقائق کا ’احترام‘ کرتے ہیں اور متغیر معروضی صورتحال پر اپنی منشا اور خواہش مسلط کرنے کے خلاف ہیں تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ حقائق ہمیشہ خود کو قابلِ فہم مظہر کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ ہم سماجی کلیت کو اس کے قابلِ فہم اجزا میں منقسم کیے بغیر کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے۔ یوں ہمیں لامحدود حقائق میں سے تجزیے اور تفہیم کے لیے نمائندہ حقائق کا انتخاب کرنا پڑتا ہے اور یہ انتخاب ہمارے مخصوص نظریاتی اور طبقاتی پسِ منظر سے متعین ہوتا ہے۔ ہڑتال، تحریک، جنگ، خانہ جنگی، آزادی، معاشی بحران، حادثات یہ سب مظاہر مختلف طبقاتی مفادات کے زیرِ اثر مختلف تشریحات اور تعبیرات میں خود کو منعکس کرتے ہیں۔ مارکسزم ہر سماجی و سیاسی مظہر کو محنت کش طبقے کے نکتہ نظر سے سمجھنے اور بیان کرنے اور پھر محنت کش طبقے کے حق میں اس کی ممکنہ تبدیلی کی جدوجہد کرنے کا نظریہ ہے۔ مارکس وادیوں کے لیے دیگر تمام علوم کی طرح فلسفہ، معیشت اور سیاسیات کا مقصد اور محور ’انسان‘ ہے اور انسانیت کی طبقاتی بنتر وہ سب سے بڑی معروضی حقیقت ہے جس سے مارکسی تناظر کی تخلیق کی شروعات کی جاتی ہے۔ مجرد ’معروضیت‘ آخری تجزیے میں موضوعی عینیت ہی بن جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے دعویدار خود آخری تجریے میں ٹھوس مادی حقیقت پر اپنے مخصوص موضوعی تجزیے ٹھونستے ہوئے پائے جاتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان کے اپنے مخصوص نظریات اور بیانیے بھی دراصل ان کے ’اپنے‘ نہیں ہوتے کیونکہ محنت کش طبقے کے عمومی مفادات کے بنیادی مقصد سے کٹنے کا ناگزیر نتیجہ بورژوا نظریات اور پروپیگنڈے کا خام مال بن جانا ہی ہوتا ہے۔ یوں یہ اسی سامراج جس کے خلاف جدوجہد کا واویلا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں، اسی کی نظریاتی فوج کے سپاہی بن جاتے ہیں اور سپاہی سے سالار بننے کی کوشش میں ہمہ وقت ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔
کیا لینن کی سامراج کی تشریح متروک ہو چکی؟
لینن نے مارکسزم کے تین اجزائے ترکیبی نامی کتاب میں تنبیہ کی تھی کہ ”لوگ ہمیشہ دھوکوں اور خود فریبی کا شکار ہوتے آئے ہیں اور اس وقت تک ہمیشہ ہوتے رہیں گے جب تک وہ ہر اخلاقی، مذہبی اور سماجی معاملے، اعلامیے اور دعوے یا وعدے کے در پردہ ایک یا دوسرے طبقے کے طبقاتی مفادات کی تلاش اور تشخیص کے اہل نہیں بن جاتے۔“ ہم عصر بائیں بازو کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے رجعتی بیانیوں کو قابلِ قبول بنانے کے لیے ان پر لینن ازم کی مہر لگوانے پر مجبور ہیں۔ اب چونکہ وہ لینن کو اعلانیہ رد نہیں کر سکتے تو لینن کی غلط تشریح کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوں کسی دوست نے سندھ کے ایک پروفیسر بشارت عباسی صاحب کا ایک مضمون ’اکیسویں صدی میں لینن پر نظر ثانی‘ تنقید کے لیے ارسال کیا جس میں بڑی مہارت سے ’لینن کے دفاع میں لینن کا رد‘ کرنے کی جسارت کی گئی تھی۔ اس مضمون کی ابتدا میں ہی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لینن کا یہ کہنا کہ ’سامراجیت سرمایہ داری کی آخری منزل ہے‘ اس وقت تو درست تھا مگر اب نہیں اور آج بھی اسے ایک آفاقی سچائی سمجھنا خود لینن کے میتھڈ کے خلاف ہے۔ ہم میتھڈ کے سوال پر بعد میں بھی بات کریں گے البتہ اس دعوے اور لینن کے شاگرد ہونے کے ناطے مصنف کے اصل طبقاتی مقاصد کی تلاش اور تشخیص کرنا بہت ضروری ہے۔
مصنف نے اس دعوے کے حق میں پہلے تو اسی گھسی پٹی دلیل کا سہارا لیا ہے جس پر ساری مابعد جدید تنقید کی عمارت استوار ہے، یعنی لینن کے دور سے لے کر اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے، لہٰذا لینن کے اقوال کو نقل کرتے رہنے کی بجائے تبدیل شدہ صورتحال کے مطابق نئے مؤقف کو اپنانے کی ضرورت ہے، ان فلسفوں کا از سرِ نو جائزہ لینا ہو گا یا ڈی کنسٹرکٹ کرنا ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ بنیادی طور پر یہاں لینن کے میتھڈ کے بارے میں آدھا سچ بتایا جا رہا ہے کہ ’ٹھوس مادی صورتحال کا اس کی معروضیت میں تجزیہ کیا جائے‘ مگر اس مضمون کے مندرجات اور اخذ کردہ نتائج سے اس تجزیے کا بنیادی مقصد یعنی ’طبقاتی مفادات کی روشنی میں تشریح‘ کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا ہے بلکہ محنت کش طبقے کا ذکر تک کرنا گوارہ نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ لینن کے میتھڈ کے دلدادہ اس پروفیسر کو لینن کے اس اہم ترین تجزیے کے اس اعلانیہ استرداد کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ پھر وہ بار بار یہ تلقین بھی کرتے ہیں کہ لینن کے اقوال پر نہیں بلکہ اس کے میتھڈ پر قائم رہنا چاہیے لیکن لینن کو پڑھے یا اس سے فیض کشید کیے بغیر اس کے میتھڈ پر قائم و دائم رہنا یا بقول مصنف (آج کے عہد میں خود لینن بننا) کیونکر اور کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ درست ہے کہ لینن کے تجزیے اور اقوال آفاقی سچائیاں نہیں ہیں اور اگر لینن کے تجزیے کسی بھی وقت ٹھوس معروضی عوامل سے متصادم نظر آئیں گے تو خود لینن کی تعلیمات یہی ہیں کہ پھر ٹھوس حقائق کی روشنی میں انہیں رد کرنا ضروری ہو جائے گا۔ یعنی انقلابی کمیونسٹوں کا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ ’لینن کبھی غلط نہیں ہو سکتا‘ یہ عقیدہ پروری، مذہبیت یا شخصیت پرستی کے مترادف ہو گا، بلکہ اس کے برعکس ہمارا ماننا یہ ہے کہ لینن کسی بھی دوسرے انسان کی طرح غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے یا پھر اس کے تجزیے ایک خاص وقت میں جا کر اپنی افادیت کھو سکتے ہیں۔ لیکن کیا اس امکان کو تسلیم کر لینے کا آٹومیٹک مطلب یہ ہو گا کہ تمام یا چند مخصوص تجزیوں کو پہلے سے ہی غلط مان لیا جائے، ہرگز نہیں۔ بلکہ کسی بھی تجزیے یا تناظر کے زائد المیعاد ہو جانے کے دعویدار کا فرض ہے کہ وہ ٹھوس سائنسی تجزیے سے اس کا ثبوت بھی فراہم کرے۔ بدقسمتی سے مذکورہ بالا مضمون کوئی بھی تسلی بخش ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لینن کا سامراجیت پر مؤقف آج بھی اتنا ہی اہم، درست اور قابلِ تقلید ہے اور ہم اپنے اس دعوے کو دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔
جیسے مذکورہ مضمون میں لینن کے میتھڈ کو اس کی کلیت سے کاٹ کر بیان کیا گیا ہے، ویسے ہی لینن کے مؤقف کو بھی ادھورا یا غلط پیش کیا گیا ہے اور سارا زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ لینن کے بقول ’سامراجی قوتوں کے آپسی تضادات ہی سامراجی سرمایہ داری کا خاصہ یا بنیادی تضاد ہیں‘ اور پھر اسی کو جھٹلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب یا تو مصنف کو لینن کی سمجھ ہی نہیں آئی یا پھر وہ جان بوجھ کر لینن کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ اول تو یہ کہ لینن نے کبھی بھی اور کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ دنیا کی سامراجی قوتوں میں تقسیم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ سامراجی قوتوں کا آپسی تضاد ہی نظام کی روح ہے۔ بلکہ لینن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ سرمایہ داری سامراجیت کے مرحلے سے آگے نہیں جا سکتی اور اس بند گلی سے انسانیت کو صرف اور صرف سوشلزم کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے یعنی صرف محنت کش طبقہ ہی سامراجیت سے نجات دلا سکتا ہے۔ اب لینن کی اس شہرہ آفاق کتاب کے مرکزی خیال کو متروک ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ’سرمایہ داری سامراجیت کے مرحلے کو عبور کر کے آگے بڑھ چکی ہے‘ اور سوشلزم یا مزدور انقلاب کے بغیر سامراجیت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے‘۔ جب کہ اس کے برعکس مصنف نے خالصتاً اصطفائیت کا سہارا لیتے ہوئے اپنی صوابدید پر لینن کے مؤقف کا ایک جزو اور اس کی بھی غلط تعبیر کو لے کر اسی کو متروک اور کالعدم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو از خود اس مضمون کو انتہائی مضحکہ خیز بنا رہی ہے۔

چلیں پہلے اسی مؤقف یعنی ’سامراجی قوتوں کے باہمی اور آپسی تضادات کی لازمیت‘کو دیکھ لیتے ہیں۔ لینن دراصل یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ سرمایہ داری میں آزاد مقابلہ متروک ہو چکا ہے، ترقی پسند سرمایہ داری قصہ پارینہ بن چکی ہے اور اب سامراجی تضادات کے زیرِ اثر جنگیں اور انتشار نیا سماجی معمول ہو گا، ساتھ ہی وہ یہ بھی اصرار کرتا ہے کہ ان سامراجی اور قومی جنگوں کے محنت کش طبقے کے شعور پر پڑنے والے اثرات کے نتیجے میں ان جنگوں کو انقلابی خانہ جنگیوں (طبقاتی جنگوں) میں تبدیل کرتے ہوئے سامراجیت کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ وہ انقلابی امکانات سے مزین ایک امید پرور تناظر تخلیق کر رہا تھا اور آنے والے واقعات نے اس کے مؤقف کو سو فیصد درست ثابت کیا مگر بدقسمتی سے سوشلسٹ انقلابات کے ضائع ہو جانے کے باعث وہ تمام امکانات جن کی لینن نے نشاندہی کی تھی، اپنے الٹ میں تبدیل ہو گئے۔ لیکن ہمارے مصنف کے دیے گئے دلائل انتہائی طفلانہ ہیں۔ مثال کے طور پر وہ فرماتے ہیں کہ اکتوبر انقلاب کے بعد لینن کی سامراج کے داخلی یا باہمی تضادات کی تشریح متروک ہو گئی تھی کیونکہ اب بنیادی تضاد سامراجی قوتوں کا آپسی تضاد نہیں تھا بلکہ سامراجی ممالک اور سوشلسٹ ریاست کا تضاد تھا۔ پھر موصوف اسی غلط دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ اور انقلاب ِچین کے بعد امریکی سامراج کی قیادت میں سامراجی بلاک تشکیل پایا تو سامراجیوں نے سوشلسٹ بلاک کا راستہ روکنے کے لیے اپنے آپسی تضادات کو فراموش کر دیا یا وہ ماند پڑ گئے۔ اسی پیرائے میں موصوف سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھی سوشلسٹ بلاک کے خاتمے کو تسلیم کرنے کی بجائے آج بھی دنیا کو روس اور چین کی قیادت میں ایک سامراج مخالف سوشلسٹ بلاک اور سامراجی بلاک میں منقسم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام انقلابیوں کا تاریخی فریضہ یہ ہے کہ وہ روس اور چین کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے سامراج مخالف جدوجہد کو مہمیز دیں، یعنی طبقاتی جدوجہد کو اس نام نہاد سامراج مخالف بلاک کی تعمیر کی جدوجہد کی فوقیت پر قربان کر دیں اور موصوف اسے لینن کے میتھڈ کا مثبت اور تعمیری استعمال کہہ رہے ہیں۔
اب ان طفلانہ دلائل پر ہنسی نہ آنا تو ناممکن ہے۔ جس طرح کی اصطلاحات اور جملے بازی سے اس مضمون کا آغاز ہوتا ہے، اس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ شاید واقعی کوئی سنجیدہ بات کی جائے گی مگر ان مذکورہ بالا دلائل کے بعد ہر سنجیدہ قاری برجستہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا اور وہ بھی مرا ہوا۔ مصنف سے سادہ سا سوال تو یہ بنتا ہے کہ اگر لینن کی 1916ء میں لکھی گئی یہ تحریر ٹھیک بیس مہینے بعد یعنی اکتوبر انقلاب کی کامیابی کے بعد اپنی افادیت کھو چکی تھی یا بقول مصنف اب عالمی سطح پر تضاد کی نوعیت سامراج کے آپسی تضادات کی بجائے سامراج بمقابلہ سوشلسٹ ریاست ہو چکی تھی تو اتنی اہم اور سنجیدہ معروضی پیش رفت کو خود لینن، جس کے میتھڈ کو مصنف نے خود اپنی اس پھوہڑ پن پر مبنی تحریر میں کچھ وزن پیدا کرنے کے لیے بے حد سراہا ہے، یعنی وہ لینن جس کا تجزیہ بقول مصنف ’ہمیشہ ٹھوس صورتحال سے ہم آہنگ‘ ہوتا تھا، اسی لینن نے اتنی اہم معروضی پیش رفت سے صرف ِنظر کیسے کر لیا۔ مصنف کے دعوے کے برعکس لینن نے اس کتاب کی اہمیت اور افادیت پر اصرار کیا اور انقلاب کے تین سال بعد یعنی 1920ء میں نہ صرف سوویت یونین میں اس کتاب کو دوبارہ شائع کروایا بلکہ اس کے فرانسیسی اور جرمن تراجم کے ’مقدمے‘ بھی تحریر کیے۔ ہم اپنے قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ نہ صرف لینن کے یہ مقدمے بلکہ لینن کی وفات تک اس کی تمام تصانیف کا مطالعہ کریں اور اگر کسی ایک بھی تحریر میں لینن نے سامراج پر اپنے بنیادی تھیسز کے غیر اہم ہو جانے کی طرف اشارہ کیا ہے تو راقم کو بھی ضرور مطلع کریں۔
دراصل لینن جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے کہ نوآبادیاتی انقلابات ہی نہیں بلکہ یورپ اور جدید مغربی دنیا کے باشعور پرولتاریہ کی فتح کے حوالے سے بہت پر امید تھا اور وہ بخوبی آشنا تھا کہ روس جیسی پسماندہ ریاست میں نہ تو مغربی پرولتاریہ کی مدد کے بغیر مکمل سوشلزم تعمیر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سامراجیت کو فیصلہ کن شکست دی جا سکتی ہے۔ یعنی لینن کے بقول اکتوبر 1917ء میں روس میں سوشلزم آ نہیں گیا تھا بلکہ اس کی تعمیر کا محض آغاز ہوا تھا جسے عالمی سطح پر پھیلانے کے عمل میں ہی تعمیر ہونا تھا اور پھر کہیں جا کر سامراجیت کا حتمی خاتمہ بھی ممکن ہوتا۔ جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ سامراجیوں کی ترجیحات تبدیل ہو گئی تھیں اور ان کی اولین ترجیح سوشلزم کا راستہ روکنا ہی تھا، تو یہ بات اگرچہ درست ہے البتہ اس کا سامراجیت کے عمومی کردار میں تبدیلی یا سامراجی قوتوں کے آپسی تضادات کے خاتمے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ تو بورژوا طبقے اور اس کی ریاست کا تاریخی کردار رہا ہے کہ وہ محنت کش طبقے کی سیاسی اور تاریخی عمل میں ہر ممکنہ پیش رفت کا راستہ روکنے کے لیے اپنے آپسی تضادات کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ پیرس کمیون کی مثال ہی دیکھ لیجیے کہ فرانس جو پروشیا کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا مگر جب پیرس کے مزدوروں نے پیرس پر قبضہ کیا تو فرانسیسی حکمرانوں نے خود پروشیا کی فوج کو دعوت دی اور ان کے ساتھ مل کر کمیون کو خون میں ڈبو دیا۔ یاد رہے پیرس کمیون 1871ء میں برپا ہوا تھا جب بقول لینن سرمایہ داری اپنے آخری مرحلے یعنی سامراجیت میں ابھی داخل ہونا شروع ہی ہوئی تھی۔ تو یہ سامراجی بورژوازی کی وہ جوہری خاصیت ہے جو اسے اپنے آباؤ اجداد یعنی ابتدائی بورژوا نسل سے ورثے میں ملی ہے۔ پھر دوسری عالمی جنگ خود اس بات کا ثبوت تھی کہ سامراج کے آپسی تضادات نہ صرف ختم نہیں ہوئے تھے بلکہ پہلے سے بھی شدید ہو کر فسطائیت کے جنم کا باعث بنے تھے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد واقعی سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی تاریخ کا بلند اور طویل ترین عروج دیکھا جس نے جہاں ایک طرف نام نہاد فلاحی ریاست کو جنم دیا تو دوسری طرف امریکہ کی ناقابل ِتردید سامراجی اجارہ داری پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ مگر مذکورہ بالا مضمون کے مصنف کے دعوے کے برعکس امریکی سامراج کی قیادت میں مغربی سامراجی بلاک کی تشکیل سے سامراجی قوتوں کے باہمی تضادات ختم نہیں ہو گئے تھے بلکہ انقلاب ِچین کے بعد سوشلزم کا راستہ روکنے کی ضرورت پہلے سے بھی شدید ہو گئی تھی۔ اسی ضرورت نے سامراج کو نام نہاد فلاحی ریاست بنانے اور میکارتھر پلان جیسی منصوبہ بندیاں کرنے پر مجبور کیا تھا۔ مگر یہ تو جدلیات کی اے، بی اور سی ہے کہ کوئی بھی تضاد مقداری اور معیاری حوالے سے اور نوعیت اور شدت کے حوالے سے ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ عالمی معیشت کے اس بے نظیر عروج میں سامراجیوں کے آپسی تضادات ہی نہیں بلکہ وقتی طور پر طبقاتی تضاد کا ماند پڑ جانا بھی ناگزیر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مابعد جدیدیوں کی اکثریت نے تو ’پرولتاریہ ختم ہونے‘ کی بشارت بھی دے دی تھی جس کی گونج آج بھی جامعات اور پروفیسر صاحبان کے پروپیگنڈے سے سنائی دیتی رہتی ہے۔ مذکورہ بالا مضمون کے مصنف جو خود بھی پروفیسر ہیں، غیر اعلانیہ طور پر اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اس قبیل کے اجتماعی تناظر کے برعکس طبقاتی تضاد سمیت سرمایہ دارانہ نظام کے تمام تضادات معاشی بحران کے باعث پھر شدت سے ابھر رہے ہیں جن میں سامراجی تضادات سرِ فہرست ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام اور چین کی سرمایہ داری کی طرف واپسی کے بعد سے وہ مشترکہ مقصد منہدم ہو چکا تھا جو تمام سامراجیوں کے سوشلزم مخالف بلاک کی بنیاد تھا۔ مگر اس تاریخی فتح کے نشے میں بدمست مغربی سامراجیوں نے یورپی یونین کی تشکیل کے ذریعے یورپی قوتوں کے داخلی تضادات کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا جو لینن کے بقول سرمایہ دارانہ نظام میں ناممکن تھا مگر اب اس مصنوعی عروج کے اختتام کے بعد ان مغربی سامراجی قوتوں کے تضادات پھر شدت پکڑ رہے ہیں اور یورپی یونین کی بنیادیں بھی ڈانوا ڈول ہیں۔ مختصر یہ کہ مذکورہ بالا مضمون کے مصنف کا لینن کے سامراج پر مؤقف کی تردید ساحل پر بچے کے بنائے ہوئے ریت کے گھر کی مانند ہے جو اپنی تمام تر جمالیاتی تاثیر کے باوجود ہلکے سے ریلے میں ہی منہدم ہو جاتا ہے۔ دراصل لینن کا سامراج کا تجزیہ انقلابی کمیونسٹوں، محنت کشوں اور نوجوانوں کے لیے آج بھی مشعل ِراہ ہے اور ان دنوں ایک کے بعد دوسرے خطے میں مچی سیاسی ہلچل کو سمجھنے میں معاون ہے۔
لاہور کانفرنس اور اعلامیہ
سامراج کے خلاف جدوجہد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن اس جدوجہد کی اساس کیا ہونی چاہیے، اس سوال پر انقلابی کمیونسٹوں اور گلابی بائیں بازو میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ گلابی بائیں بازو کے اس سوال پر مؤقف کو جاننے کے لیے ہم حال ہی میں ان خواتین و حضرات کی طرف سے لاہور میں منعقد کی گئی عالمی سامراج مخالف کانفرنس کے اعلامیے کو دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا مضمون کے مصنف اس کانفرنس کے اہم نظریہ دانوں کی فہرست میں شامل تھے۔ مگر بالعموم گلابی بائیں بازو کے ان تمام قائدین جن کی بھاری اکثریت پروفیسر صاحبان پر مشتمل ہے، میں تمام کلیدی سوالوں پر خاطر خواہ یکسوئی نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ تمام سامراج مخالف جدوجہد میں محنت کش طبقے کے قائدانہ کردار کو یکسر خارج از امکان قرار دے چکے ہیں۔ اس کانفرنس میں امریکہ سمیت چند دیگر ممالک کے سوشل ڈیموکریٹس نے بھی بطور مندوب شرکت کی۔ یوں اس کانفرنس کا عمومی کردار سوشل ڈیموکریٹک یا اصلاح پسندانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے جہاں تمام کلیدی سوالات پر بورژوازی کی اصولی قیادت کو جائز، ضروری اور وقت کی اہم ترین ضرورت تسلیم کیا جاتا ہے۔ متفقہ طور پر منظور شدہ اعلامیہ اس کا واضح ثبوت ہے اور اگر لینن کی ہدایات کے مطابق اس اعلامیے کے پسِ پردہ طبقاتی مفادات کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعلامیہ علی الاعلان قومی بورژوازی کا علمبردار نظر آتا ہے۔
مثال کے طور پر اعلامیے کے تیسرے نکتے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’تاریخی تبدیلیوں کی تفہیم کو ایک ایسے کثیر قطبی (polycentric) ورلڈ آرڈر کی تشکیل کے لیے بروئے کار لانا ہمارا مقصد ہے جو با اختیار (sovereign) اکائیوں پر مشتمل ہو اور جس ورلڈ آرڈر میں پیدا کردہ معاشی قدرِ زائد ان مقامی خطوں، علاقوں اور اقوام یا لوگوں (peoples) کے پاس ہی رہے جو اسے پیدا کرتے ہیں‘۔ اس میں لفظ پیپلز مبہم ہے، یہاں صاف صاف مزدور طبقے کا لفظ استعمال کیا جا سکتا تھا مگر طبقاتی سوال کو جان بوجھ کر غیر واضح کرنے کے لیے لفظ پیپلز برتا گیا ہے۔ تھوڑی سی چھان پھٹک سے ہی یعنی جب اس نکتے کو کانفرنس میں ہونے والی تقاریر اور پورے اعلامیے کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں سامراجیوں کی مداخلت کے بغیر قومی بورژوازیوں کے اپنے اپنے محنت کش طبقے کی محنت کے بلا روک ٹوک استحصال کے حق کی وکالت کی جا رہی ہے۔ اول تو یہ جیسا کہ ہم پہلے وضاحت کر چکے ہیں کہ تاریخ کے پہیے کو پیچھے گھمانے یعنی سرمایہ دارانہ نظام کو واپس قبل از سامراجی دور میں لے جانے کے مترادف ہے جسے لینن اور اس کے شاگرد یعنی انقلابی کمیونسٹ ناممکن سمجھتے ہیں۔ یعنی جیسے کہا جاتا ہے کہ سمندر میں رہنا ہے تو مگر مچھ سے بیر نہیں رکھا جا سکتا، تو ایسے ہی اگر آج سرمایہ داری میں رہنا ہے تو سامراج سے انکار ناممکن ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ انقلابی کمیونسٹ سامراجی لوٹ مار کے حامی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سامراج کا زوال اور بحران جس کا بار بار مذکورہ بالا کانفرنس کے اعلامیے میں بھی ذکر کیا گیا ہے، آخری تجزیے میں سرمایہ دارانہ نظام کا ہی عالمی بحران ہے اور اسی لیے سامراج مخالف جدوجہد کو واقعی ترقی پسند یا انقلابی جوہر کی حامل ہونے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام مخالف جدوجہد بھی ہونا چاہیے۔ قومی بورژوازیاں آج کے عہد میں سامراج مخالف جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کرنا تو کجا سامراجی گماشتگی میں تاریخ کی غلیظ ترین بورژوازیاں ہیں اور سامراجی امداد کے بغیر بطور حکمران طبقہ خود کو قائم رکھنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔
اس لیے قومی بورژوازی کی محبت میں گرفتار اس گلابی بائیں بازو کے لیے بھی ہم وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ خود قومی بورژوازی کی طرح سامراج کا معذرت خواہ اور کاسہ لیس بن جانا ہی اس کا مقدر ہے۔ اس لیے یہ امریکی سامراج کے مقابلے میں کسی دوسرے سامراج یعنی چین اور روس کی کاسہ لیسی کو ہی واحد حل قرار دے رہے ہیں۔ چین اور روس کے سوال پر ہم آگے چل کر بات کریں گے تاہم یہاں یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ جب قومی بورژوازی کو قبلہ اور کعبہ مان لیا جاتا ہے تو پھر قومی ریاست کی دم چھلگی بھی واجب ہو جاتی ہے۔ مذکورہ اعلامیے کے نکتہ نمبر 9 میں واضح طور پر اس کا اعتراف موجود ہے، جہاں درج ہے کہ ’سامراج کے خلاف جدوجہد میں بطور ڈھال یا فصیل ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہے‘ آگے اس کی وضاحت میں یہ کہا گیا ہے کہ سامراج اپنے تسلط کو تقویت دینے کے لیے پسماندہ ریاستوں کو پامال کرنے کے درپے ہے، لہٰذا اگر یہ ریاستیں مضبوط اور مستحکم ہوں گی تو تبھی سامراج کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ دراصل گزشتہ کچھ عرصے سے اس گلابی بائیں بازو کا یہی مرکزی تھیسز ہے جس کے بقول بائیں بازو کو اپنی ریاستوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جہاں ایک طرف قومی بورژوازی کے سامنے اپنی وفاداری فروخت کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو پیش کرتے ہوئے بطور مشیر حکمران طبقے کی ٹیم میں شامل ہونے کی ایک باقاعدہ آفیشل درخواست ہے وہیں یہ تھیسز ریاست کے مارکسی نظریے کی سراسر خلاف ورزی ہے جس کے مطابق ریاستیں آخری تجزیے میں طبقاتی جبر کا آلہ ہی ہوتی ہیں اور ریاست کو مضبوط کرنے کا مطلب اسے محنت کش عوام پر مزید جبر کی دعوت اور ترغیب دینے کے مترادف ہے۔ انقلابی کمیونسٹ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری کا موجودہ بحران قومی ریاستوں کا بحران بھی ہے اور جب ترقی یافتہ بورژوا ریاستوں میں شدید خلفشار پایا جاتا ہے تو ایسے میں پسماندہ ریاستوں کو سرمایہ داری کے بحران کے عہد میں استحکام اور دوام بخشنا کسی یوٹوپیا سے کم نہیں۔ ان ریاستوں کو مضبوط کرنے کی بجائے محنت کش طبقے اور عوام کو ان ریاستوں کے جبر کے خلاف منظم کرتے ہوئے سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی مزدور ریاست قائم کی جا سکے جو واقعی سامراج مخالف جدوجہد کی اہل ہو اور پوری دنیا سے سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکے۔ گلابی بایاں بازو اسے یوٹوپیا قرار دیتا ہے، لیکن انقلابی کمیونسٹ برملا اعلان کرتے ہیں کہ ان پسماندہ ریاستوں کی بورژوازی اپنی سرشت میں سامراجیوں کی کاسہ لیس ہے اور ان سے سامراج مخالف جدوجہد کی قیادت کی امید رکھنے سے بڑا یوٹوپیا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔
یوں یہاں جس سامراج مخالف بلاک یا کیمپ کی تشکیل کا خواب دیکھا جا رہا ہے وہ آخری تجزیے میں ان پسماندہ بورژوا ریاستوں کا مغربی سامراج مخالف اتحاد ہے جس کی قیادت روس اور چین کے پاس ہو اور ان ریاستوں کے بائیں بازو کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی ان بورژوا ریاستوں کی بی ٹیم کا کردار ادا کرے اور اگر امریکہ یا دیگر مغربی سامراجی ممالک سے بائیں بازو کے کچھ لوگ اس پراسیس کا حصہ بنتے ہیں تو وہ اپنے اپنے حکمرانوں یعنی سامراجیوں کے خلاف اپنے اپنے ممالک میں رائے عامہ کی تشکیل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایران، چین، روس، پاکستان، برازیل وغیرہ جیسی ریاستیں آپس میں تجارتی اور عسکری نوعیت کے معاہدوں کے ذریعے مغربی سامراج کا راستہ روک سکتی ہیں۔ اس مبینہ کیمپ کے لوگوں نے ایران امریکہ جنگ میں اسی نظریے کے تحت ہی ایران کی حمایت کی تھی۔ جبکہ انقلابی کمیونسٹوں نے ایران کی ریاست نہیں بلکہ عوامی مزاحمت کے نکتہ نظر سے ایران کا ساتھ دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کیمپ اسٹوں میں سے بہت سے لوگ ایرانی ملاؤں کی تصاویر سوشل میڈٖیا پر لگا کر انہیں سراہتے یعنی (glorify) کرتے ہوئے پائے گئے، حالانکہ یہ ایک کھلا راز تھا کہ ان ملاؤں کے ہاتھ ہزاروں معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ یہ کیمپ اسٹ لوگ ایران میں ملاؤں کی رجعتی حکومت کو ہی ترقی پسندحکومت سمجھتے ہیں۔ ایرانی انقلاب کے وقت بھی کمیونسٹوں نے یہی غلطی کی تھی، اب جو لوگ تاریخ سے سیکھ نہیں سکتے، ان پر ترس کم اور غصہ زیادہ آتا ہے۔ دوسری طرف انقلابی کمیونسٹ ملاؤں کی رجعتی حکومت اور اس کے ایٹم بم بنانے کے حامی نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ وحشت جلد از جلد ختم ہونی چاہیے تاکہ ان وحشی ملاؤں سے کئی نسلوں پر کیے گئے ظلم و ستم کا انتقام لیا جا سکے، البتہ ہم اس انقلابی عمل میں امریکی سامراج کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ ایرانی عوام کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک انقلابی تحریک کے ذریعے ان حکمرانوں کا قلع قمع کرے۔ اس خبطی گلابی بائیں بازو کی توقع کے برعکس ایران میں یہ عمل شروع ہو چکا تھا، اس جنگ نے وقتی طور پر اس پراسیس کو تعطل کا شکار کر دیا ہے لیکن جنگ کے بعد اس پراسیس کے احیا کے قوی امکانات موجود ہیں۔
یہ کیمپ اسٹ لوگ جن کا دعویٰ ہے کہ انقلابی کمیونسٹ ذہنی طور پر 1917ء میں رہ رہے ہیں، دراصل یہ خود ابھی تک ذہنی طور پر سرد جنگ کے دور میں زندہ ہیں جہاں واضح طور پر دو بلاک موجود تھے۔ اس وقت واقعی سامراج کے خلاف سوویت بلاک کا کردار ترقی پسندانہ اس لیے تھا کیونکہ سوویت یونین میں مسخ شدہ ہی سہی لیکن مزدور ریاست موجود تھی اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت (ستر کی دہائی کے اوائل سے لے کر) خود ایک مسخ شدہ مزدور ریاست ہونے کے باوجود چین بتدریج امریکی سامراج کے کیمپ میں چلا گیا تھا۔ یہ اپنے تئیں ایک بہت بڑا المیہ تھا تاہم یہاں اس پر تفصیلی بات کرنے کی گنجائش نہیں۔ دو مختلف نظریات یا نظاموں کی بنیاد پر بلاکوں یا کیمپوں کی تشکیل بہرحال قدرے منطقی معلوم ہوتی ہے البتہ آج وہ کونسا متبادل نظام یا نظریہ ہے جس پر اس قسم کے بلاک کی تشکیل ممکن ہو سکے؟ یہ کیمپ اسٹ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آج بھی روس (اگرچہ اس پر اس کیمپ اسٹ کیمپ میں بھی اختلاف موجود ہے) اور بالخصوص چین (اس پر لگ بھگ سب متفق ہیں) میں سوشلزم ہی ہے، یعنی اکیسویں صدی کا سوشلزم ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ آئیے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
روس اور چین
اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ روس اور چین میں آج بھی مزدور ریاست یا منصوبہ بند معیشت ہی ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ سوویت یونین کا انہدام کوئی بڑا یا غیر معمولی واقعہ نہیں تھا۔ تو یہ سوال بھی سر اٹھائے گا کہ کیا سوویت یونین کے انہدام سے قبل اور بعد کے دور میں کوئی معیاری فرق نہیں؟ کوئی بے وقوف ہی اس سوال کا جواب اثبات میں دے سکتا ہے۔ ہر ذی شعور اور سیاسی طور پر متحرک شخص جانتا ہے کہ سوویت یونین کے انہدام سے پہلے اور بعد کی دنیا یکسر مختلف ہے۔ مزدور تحریک ہی نہیں بلکہ مین سٹریم سیاست، طبقاتی شعور، اخلاقیات، ادب اور فنون کو بھی سوویت یونین کے انہدام نے یکسر تبدیل کر دیا اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد کا دور بلاشبہ تاریخ کے بدترین اور تاریک ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ ظاہر ہے کہ کچھ تو معیاری تبدیلی آئی تھی اور وہ تبدیلی یہ تھی کہ ان سابقہ مزدور ریاستوں (مسخ شدہ) میں سرمایہ داری کی طرف واپسی کا عمل شروع ہوا۔ سوویت یونین میں تو یہ عمل ایک کریش کی شکل میں فوری طور پر ہی وقوع پذیر ہو گیا جبکہ چین میں ایک محفوظ اتار (safe landing) کو یقینی بنانے کے لیے اس عمل کوسست روی کے ساتھ شروع کیا گیا جو اس صدی کے ابتدائی سالوں میں پایہِ تکمیل کو پہنچا۔

اب ہم چند ایسے دلائل پر غور کریں گے جو یہ کیمپ اسٹ اپنی اس موقع پرستی کے لیے گھڑتے چلے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ان پروفیسر صاحبان کا اصرار یہ ہے کہ مغربی سامراجی قوتوں نے صدیوں تک اپنی نوآبادیات کی لوٹ مار کی ہے جبکہ چین تو طویل عرصے تک خود ایک محکوم اور مغلوب ملک رہا اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اسے اس سامراجی غلامی سے نجات ملی، لہٰذا چین کو مغربی سامراج کی طرح ہی ایک سامراجی ملک کی کیٹیگری میں رکھنا دونوں کے یکسر متضاد ماضی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گا۔ برسبیلِ تذکرہ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہی لینن کی پوزیشن بھی تھی کہ سامراج کا مقابلہ صرف مزدور ریاست کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مذکورہ بالا دلیل بھی انتہائی مضحکہ خیز اور خود ان پروفیسر صاحبان کی تاریخی علم و عمل سے ناواقفیت کی عکاس ہے۔ تاریخی عمل کبھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتا۔ لینن کے بقول ’کبھی کبھی دہائیاں بیت جاتی ہیں اور کچھ نہیں ہوتا اور پھر کبھی کبھار مہینوں میں دہائیوں کا سفر طے ہو جاتا ہے‘۔ خود تاریخ کے سب سے بڑے سامراج یعنی امریکہ کی ہی مثال لے لیجیے۔ جہاں 1850ء کی دہائی تک غلاموں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں، ابراہام لنکن کی قیادت میں ہونے والے جمہوری انقلاب کے بعد آئندہ نصف صدی میں امریکہ مالیاتی سرمائے کے ارتکاز میں دنیا کی قیادت کر رہا تھا۔ جرمنی کی مثال بھی غلط نہیں جو برطانوی اور فرانسیسی سامراجی طاقتوں سے بہت بعد میں اس دوڑ میں شامل ہوا لیکن نصف صدی میں ہی اتنا طاقتور ہو چکا تھا کہ پہلے سے منڈیوں پر براجمان سامراجی اتحاد کو پہلی عالمی جنگ کے ذریعے اس کی پیش رفت کو روکنا پڑا۔ اسرائیل دنیا کے مظلوم ترین لوگوں کی نمائندہ ریاست کے طور پرمسلط کیا گیا تھا اور ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری کہ یہ ظالم ترین سامراجوں میں سے ایک ہے۔ اسے مشترکہ اور ناہموار ترقی کے قانون کی رو سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا پہلے ایک سوشلسٹ انقلاب (1949ء) اور پھر نوے کی دہائی میں جمہوری ردِ انقلاب کے بعد چین کے عالمی معیشت میں سامراجی غلبے کے امکانات کو ’مختصر دورانیے کی تاریخ‘ کی دلیل پر رد کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔
یاد رہے کہ اس تحریر کا مقصد چین کو سرمایہ دار ملک یا سامراجی قوت ثابت کرنا نہیں۔ یہ ہم پہلے ہی کئی بار کر چکے ہیں اور اس موضوع پر ہماری ویب سائٹ پر بے شمار مواد پہلے ہی موجود ہے، یہاں صرف ان دلائل کو زیرِ بحث لایا جا رہا ہے جو حال ہی میں کیمپ اسٹ بلاک کی طرف سے دھڑلے سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر لاہور کانفرنس میں ایک پروفیسر صاحب کی تقریر کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر نظر سے گزرا جس میں موصوف روس کے ایک سامراج ہونے کے مؤقف کو اس بنیاد پر رد کرتے ہوئے پائے گئے کہ روس سرمایہ برآمد نہیں کرتا بلکہ خام مال برآمد کرتا ہے۔ جبکہ وہی پروفیسر صاحب خود بھی لینن کے سامراج پر تھیسز کی وکالت بھی کرتے ہیں، حالانکہ لینن نے تو 1916ء کے زار کے روس کو بھی دنیا کی پانچ بڑی سامراجی قوتوں میں شمار کیا تھا، جو ظاہر ہے کہ سرمایہ درآمد کرنے والا ملک ہی تھا۔ اصل میں کسی بھی یونیورسل کا اپنے ہر پارٹیکولر سے تعلق میکانکی نہیں جدلیاتی ہوتا ہے۔ لینن نے سامراج کی عمومی ارتقائی خصوصیات کی بنا پر اس کی ایک تعریف وضع کی تھی، اب ہر سامراج کا سو فیصد اس تجرید کا عکس ہونا یا ہوبہو ہونا ممکن ہی نہیں۔ اب کونسی سرمایہ دارانہ ریاست سامراج کی شکل اختیار کر چکی ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سامراج کے اس عمومی یونیورسل سے اس ملک کی نسبت کو عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات میں اس کے کردار کی نوعیت اور عمومی سمت سے متعین کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو روس نہ صرف ایک سامراجی طاقت ہے بلکہ اس وقت یورپ کی سب سے بڑی عسکری قوت بن کر بھی ابھرا ہے۔ اسی طرح چین کی ریاستی اجارہ داریوں (SOE’s) اور معیشت میں منصوبہ بندی کے کچھ عنصر کی بنیاد پر اس کے سرمایہ دار ملک ہونے کے امکان کو رد کرنا بھی انتہائی میکانکی طرزِ عمل ہے۔ یعنی تاریخی طور پر ارتقا پذیر افسر شاہی کے زیرِ اثر چین اور روس کی مخصوص سیاسی اشکال کی بنیاد پر اس کے معاشی کردار میں وقوع پذیر معیاری تغیر کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نہ صرف چین بلکہ روس میں بھی اپنی مراعات کے تسلسل اور عالمی سامراجی کشمکش میں اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے افسر شاہی کسی نہ کسی سطح پر کلیدی نوعیت کے شعبوں پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔ جس کے باعث ان ریاستوں کا کردار بوناپارٹسٹ طرز کا ہے جبکہ ان کی معیشت ریاستی سرمایہ داری کی طرز پر آگے بڑھ رہی ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ دنیا کی مصروف ترین سٹاک ایکسچینجوں میں سے چند ایک کی موجودگی، مالیاتی سٹے بازی، دنیا کے ارب پتیوں کی قابلِ ذکر تعداد، وسیع تر ہوتی طبقاتی خلیج، بیروزگاری اور سرمائے کی بڑے پیمانے کی برآمد کے باوجود محض افسر شاہانہ کنٹرول اور منصوبہ بندی کے کچھ عناصر کی بنیاد پر کسی ملک کو سوشلسٹ قرار دینا سیاسی جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بحرانوں اور جنگوں کے ادوار میں کلاسیکی سامراجی ریاستوں میں بھی فیصلہ سازی اور معیشت میں ریاستی عمل دخل کئی گنا بڑھ جاتا ہے، لیکن اس سے ان معیشتوں کا عمومی سرمایہ دارانہ کردار ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اسی کردار کے تحفظ کے لیے ہی ریاست کو حرکت میں لایا جاتا ہے، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ریاست کس طبقے کی نمائندہ ہے۔
جنگ کے تذکرے سے یاد آیا کہ ایک اور دلیل جو چین کے سوشلسٹ ملک ہونے کے حق میں دی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ چین نے آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی۔ یہ بڑا دلچسپ معاملہ ہے کیونکہ یہاں بھی اپنے اس غلط مؤقف کے لیے لینن کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، یعنی سامراجی ملک وہی ہو گا جو جنگیں لڑے گا۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ معاشی و سیاسی مظہر کی مبالغہ آمیز تسہیل (oversimplification) ہے۔ یہ درست ہے کہ لینن کے بقول سامراج کے مرحلے پر سرمایہ دارانہ نظام کو جنگوں کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جب تک کوئی ملک جنگ میں حصہ نہ لے وہ سامراجی ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ پہلے کوئی بھی ریاست جنگ کرے گی پھر سامراجی بنے گی، اس کے الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ دلیل دینے والے عین اس وقت اپنے ہی جال میں پھنس جاتے ہیں جب یہ چین کی اس تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ اور چین کا تقابل 1980ء سے شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ اس سے قبل ماؤ کے انقلاب کے بعد بھی چین کو بہت سی جنگوں میں براہِ راست حصہ لینا پڑا تھا جن میں کوریا جنگ، تبت پر قبضہ اور 1962ء کی بھارت کے ساتھ جنگیں شامل ہیں۔ تو اس دلیل کی رو سے کیا 1980ء سے قبل چین محض اس لیے ایک سامراجی ملک قرار پائے گا کیونکہ اس نے جنگیں لڑیں۔ یہ نری حماقت ہے۔ 1990ء سے قبل چین اور روس میں سرمایہ داری ہی نہیں تھی، لہٰذا سامراجیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ رواں صدی کے آغاز میں ہی چین میں سرمایہ داری کی طرف لانگ مارچ اپنے منطقی انجام کو پہنچا ہے اور ان دو دہائیوں میں چین نے تیزی سے وہ معاشی امپائر کھڑی کر لی ہے جو ناگزیر طور پر آگے چل کر عسکری تنازعات کا موجب بنے گی۔ ابھی تک چین کی طرف سے براہِ راست جنگ نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ چین سامراجی ملک نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ابھی چین کے سامراجی عزائم بغیر براہِ راست جنگ کے ہی حاصل ہو رہے ہیں، البتہ چین حالیہ ایران جنگ میں ایران کی اور گزشتہ برس پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی بھرپور پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ دنیا میں جاری ہر چھوٹے بڑے تنازعے میں چین کی کسی نہ کسی سطح کی مداخلت ضرور ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ چین داخلی سکیورٹی پر خرچ کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور کسی بھی لینن اسٹ کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ریاستیں داخلی سکیورٹی پر طبقاتی جبر کی نیت سے ہی خرچ کرتی ہیں۔ دوسری طرف چین اپنے عسکری بجٹ میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین 336 ارب ڈالر سالانہ دفاع پر خرچ کر رہا ہے۔ گزشتہ برس دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا اور رواں برس سات فیصد کا اضافہ شدید معاشی دباؤ کے باوجود کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بجٹ کا سب سے بڑا حصہ نیول فلیٹ پر خرچ کیا جا رہا ہے، جس سے چین کے عزائم کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ دورہ ِچین کے موقع پر شی جن پنگ کی طرف سے تائیوان کے مسئلے پر جس طرح امریکہ کو شٹ اپ کال دی گئی ہے، اس سے چین کے مستقبل کی طرف ایک اشارہ ملتا ہے۔ ان بھوسہ بھرے کیمپ اسٹ دماغوں کے اندازوں کے برعکس امریکی اور چینی صدور کی یہ ملاقات آخری تجزیے میں دنیا کی از سرِ نو تقسیم کی ناگزیریت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ لینن نے بھی سامراج کو کوئی جامد سیاسی مظہر قرار نہیں دیا تھا بلکہ اس نے وضاحت کی تھی کہ عالمی معیشت میں ہونے والی طاقت کے توازن کی تبدیلیوں کے باعث دنیا میں نئے سے نئے سامراجی تضادات ابھرتے رہیں گے۔ چین نے امریکہ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ تبدیل شدہ معروضی معاشی حقائق کو تسلیم کر لینا ہی دونوں بڑی سامراجی قوتوں کے مفاد میں ہے اور ایک ہی نظام کی نمائندہ قوتیں ہونے کی وجہ سے اور عالمی معیشت میں محنت کی تقسیم کے موجودہ معیار کے باعث جہاں دونوں قوتوں میں تضادات ابھر رہے ہیں، وہیں باہمی انحصار بھی بڑھ رہا ہے، لہٰذا ایک ایسا بین الاقوامی توازن وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے جو ’حصہ بقدرِ جثہ‘ کے اصول پر قائم ہو۔ پیوٹن کا چین کا حالیہ دورہ بھی اسی سوچ کا عکاس ہے۔ غرضیکہ اس کیمپ اسٹ بائیں بازو کی ذہنی حالت پر محض ترس ہی کھایا جا سکتا ہے۔
عالمی شعور اور طبقاتی یکجہتی
آج کل اس کیمپ اسٹ گلابی بائیں بازو کی سب سے مرغوب اصطلاحات عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) اور عالمی شمال (گلوبل نارتھ) ہیں۔ عالمی شمال میں امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، اٹلی اور کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک کو گنا جاتا ہے اور باقی ماندہ غریب دنیا کو گلوبل ساؤتھ کا نام دیا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں عالمی جنوب اور شمال کے مسائل اور ان کے حل یکسر مختلف ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ مختلف ثقافتوں اور تاریخی پسِ منظر کا ہونا کسی بھی قسم کے اجتماعی مفاد یا قدری اشتراک کو ناممکن بنا دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا اب گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کا ریاستی سطح پر بنایا گیا بلاک ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ یہ دراصل وہی پرانی پوسٹ کولونئیل منطق ہے جو دعویٰ تو یہ کرتی ہے کہ جدید فلسفوں کے تخلیق کردہ مہا بیانیے (mega narratives) آج کی پیچیدہ معروضی حقیقت میں غیر مؤثر ہو چکے ہیں لیکن خود اپنے مخصوص مابعدالطبیعاتی میتھڈ کے باعث اس منطق کے ماننے والے بہت زیادہ مضحکہ خیز مہا بیانیوں کا پرچار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ گلوبل نارتھ اور ساؤتھ بھی آخری تجزیے میں انتہائی بے معنی اور غیر مؤثر مہا بیانیے ہی ہیں۔
جدلیاتی میتھڈ میں اشیا اور عوامل کے نمود کی بنیاد داخلی تضادات کو سمجھا جاتا ہے جبکہ سہل پسند ذہن تضادات کو اشیا اور عوامل کے باہر ہی دیکھ پاتا ہے۔ جیسا کہ گلوبل نارتھ اور گلوبل ساؤتھ کے مابین تضادات، گویا کہ ساؤتھ اور نارتھ کے اپنے اپنے اندرونی تضادات کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اگر ثقافتی اور تاریخی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جائے تو تب بھی جنوب میں بے شمار الگ الگ ثقافتیں ہیں اور یہی صورتحال شمال کی بھی ہے۔ تاریخی طور پر عالمی جنوب کے لوگوں نے جتنی جنگیں آپس میں لڑی ہیں وہ عالمی شمال سے ان پر مسلط کی گئی جنگوں سے زیادہ ہی ہو ں گی۔ اور پھر جدید سرمایہ دارانہ نظام میں جس طرح محنت کی عالمی تقسیم معرضِ وجود میں آئی ہے اور عالمی معیشت میں جس طرح رسد کا نظام ترتیب پا چکا ہے، اس کے بعد اس طرح کی اصطلاحات انتہائی لغو اور بے حیثیت ہی لگتی ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کی وہی بورژوازی جس کا دکھ ہمارے ان کیمپ اسٹ خواتین و حضرات کو کھائے جا رہا ہے، ان کی سرمایہ کاری اور جائیدادوں کا بڑا اہم حصہ شمال میں لگا ہوا ہے۔ امبانی خاندان کی مثال لے لیں جس نے امریکہ اور برطانیہ کے انرجی سیکٹر، ہوٹلز اور ریٹیلز سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ اسی طرح لکشمی مِتل نے مغرب میں سٹیل اور معدنیات کے شعبوں میں بے پناہ پیسہ لگایا ہوا ہے۔ عرب کے شیوخ کا سارا پیسہ مغربی بینکوں میں پڑا ہے، یہی حال ان ممالک کے تمام سرمایہ داروں کا ہے، جس کی بنا پر جہاں ان ممالک کے حکمرانوں کے تضادات ہیں وہیں شمال اور جنوب سے بالاتر ان کے بہت سے مشترکہ مفادات بھی ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل حقیقت یہ ہے کہ جنوب کے لاکھوں کروڑوں محنت کش گلوبل نارتھ میں کام کر کے ترسیلاتِ زر واپس ان ممالک کو بھیجتے ہیں جن پر ان ممالک کی معیشتوں کی گروتھ کا دار و مدار ہوتا ہے۔ اور اس عمل میں ان لاکھوں کروڑوں محنت کشوں کے ہی نہیں بلکہ شمال کے ان محنت کشوں کے شعور پر بھی بے پناہ اثرات مرتب ہوئے ہیں جو ان کے ساتھ پیداواری عمل یا خدمات کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے ایک نئے عالمی شعور کی بنیادیں استوار ہوئی ہیں، یہی اس بین الاقوامیت کی معاشی بنیاد ہے جس پر مارکسزم کی نظریاتی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ ہم نے حال ہی میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی میں گلوبل ساؤتھ سے زیادہ بڑی تحریک گلوبل نارتھ میں دیکھی، جو اس بات کا اظہار ہے کہ نارتھ کے محنت کش عوام اور نوجوانوں کی بھاری اکثریت اپنے حکمران طبقے کے مظالم کو جواز فراہم کرنے کی بجائے ساؤتھ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔ یہ طبقاتی یکجہتی اور عالمی شعور کی ترویج کی بہترین مثال ہے۔ دوسری طرف عالمی معیشت کا بحران بھی محض ساؤتھ کی معیشتوں کو برباد نہیں کر رہا بلکہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک بھی تاریخ کے بدترین زوال کے عہد سے گزر رہے ہیں اور پسماندہ ممالک کے حکمران طبقے کی طرح ترقی یافتہ سامراجی ممالک کا حکمران طبقہ بھی بحران کا سارا بوجھ وہاں کے محنت کشوں پر ڈال رہا ہے، جس کے باعث جہاں جنوب میں جین زی انقلابات ہو رہے ہیں، وہیں شمال کے محنت کش اپنے حکمران طبقے کے خلاف متحد اور منظم ہو رہے ہیں۔ اٹلی اور سپین کے بعد امریکہ کی ریاست مینیاپلس کی عام ہڑتال اس پراسیس میں اہم سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں شمال اور جنوب کے محنت کشوں کی جدوجہد میں مشترکہ مفاد بھی کار فرما ہے اور دنیا بھر کے انقلابیوں کا فریضہ یہ ہے کہ جین زی انقلابات کے ہر اول دستوں کو ترقی یافتہ ممالک کے محنت کشوں کی عام ہڑتالوں اور ان کے تاریخی مقاصد سے روشناس کراتے ہوئے اس سفاک سامراجی نظام کے خلاف بین الاقوامی تحریک کو منظم کرے۔
علاقائی سامراجیت، سوشل شاونزم اور طبقاتی جنگ
دوسری طرف یہ کیمپ اسٹ خواتین و حضرات محنت کش عوام کی ان تاریخی تحریکوں کو آپس میں جوڑنے کی بجائے ان پسماندہ ممالک کے حکمران طبقات جن کے خلاف یہ تحریکیں نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں، انہیں آپس میں جوڑ کر ایک لایعنی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں امریکی سامراج کے اس نسبتی زوال کے بطن سے جو نام نہاد کثیر قطبی عالمی توازن جنم لے گا، وہ امن اور استحکام کی ضمانت بنے گا۔ دراصل عالمی معیشت اور مختلف خطوں میں اپنی نامیاتی کمزوری کے باعث امریکہ جو خلا چھوڑ رہا ہے، اس پر عالمی و علاقائی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی انتشار اور تنازعات کے نئے اور طویل سلسلے کو جنم دے گی۔
یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ امریکہ کا زوال قطعی نہیں بلکہ نسبتی ہے اور وہ آج بھی ایک طاقتور سامراجی قوت ہے۔ حالیہ ایران جنگ نے امریکی سامراج کے عالمی تشخص کو غیر معمولی نقصان ضرور پہنچایا ہے تاہم امریکہ اتنی آسانی سے اپنے اثر و رسوخ سے دستبردار نہیں ہو گا۔ اس لیے ایران جنگ کے بعد مزید جنگوں کے امکانات ابھریں گے۔ چین چونکہ ابھی تک عالمی تھانیدار کی حیثیت سے امریکہ کی جگہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، لہٰذا وہ مختلف جنگی فریقین کی پشت پناہی تک ہی خود کو محدود رکھنے کی کوشش کرے گا لیکن کسی مرحلے پر جا کر اس کی توقع کے برعکس صورتحال قابو سے باہر بھی ہو سکتی ہے۔ البتہ جو لوگ موجودہ صورتحال کی تاریخ سے مثالیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور بنے بنائے فارمولے مسلط کرتے ہیں وہ اس صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ اس صورتحال کو اگر کثیر قطبی دنیا کی بجائے علاقائی سامراجیت کے ظہور سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یعنی امریکہ عالمی معاملات پر ماضی کی طرح اپنی گرفت کو برقرار نہیں رکھ پائے گا، دوسری طرف چین اس خلا کو مکمل طور پر پُر نہیں کر پائے گا تو ظاہر ہے کہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے علاقائی ریاستوں کا کردار اپنے تاریخی طور پر معینہ حدود سے متجاوز ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہم پہلے ہی روس، ترکی، ایران، بھارت، پاکستان، متحدہ عرب امارات جیسی ریاستوں کی علاقائی معاملات میں مسلسل بڑھتی ہوئی دلچسپی کو واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماضی کے دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں۔ آئے روز نئے سے نئے اتحاد بن رہے ہیں لیکن ان سے عالمی اور علاقائی امن کو در پیش خطرات کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ شمالی افریقہ اور بحیرہِ احمر کے اطراف بننے والی نئی سے نئی پراکسیاں ہمیں دعوتِ فکر دے رہی ہیں۔ خود اسرائیل اور پاکستان امریکی سامراج کے نسبتی زوال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن کوئی بھی شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا ان سابقہ نو آبادیاتی ممالک یا پسماندہ ممالک کے لیے علاقائی سامراج کی اصطلاح استعمال کرنا جائز ہے؟

یہ واقعی ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ وہ کیمپ اسٹ ذہنیت جو آج تک روس اور چین کو سامراجی ممالک تسلیم کرنے سے انکاری ہے، وہ بھلا تیسری دنیا کی ان پسماندہ ریاستوں کے سامراجی کردار کے بیانیے کو کیسے قبول کر سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ ممالک سرمایہ برآمد نہیں کرتے اور نہ ہی یہ عالمی سطح پر کوئی کلیدی کردار ادا کرنے کے اہل ہیں، لہٰذا یہ عالمی سامراجی نظام کے محض مہرے ہی کہے جا سکتے ہیں، البتہ ان کے حکمران طبقات ہمیشہ خطے کے وسائل پر رالیں ٹپکاتے رہے ہیں، ماضی میں مغربی سامراج کی براہِ راست یا بالواسطہ غلامی کے ذریعے یہ حکمران محض دلال کا کردار ادا کر کے اپنا حصہ یا کمیشن لے کر اسی پر اکتفا کرنے پر مجبور تھے، مگر اب مذکورہ بالا خلا میں یہ خطے کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے نئی سے نئی صف بندیوں میں مصروف ہیں۔ یہ جہاں آزادانہ طور پر کوئی ترقی پسندانہ کردار ادا کرنے کی اہلیت سے عاری ہیں، وہیں عالمی طاقتوں کے لیے پراکسیوں کا کردار نبھاتے نبھاتے اب یہ خود اپنی پراکسیاں بھی بنا رہے ہیں۔ جہاں ان ریاستوں کو جدید معنوں میں ’سامراج‘ نہیں کہا جا سکتا، وہیں ان کے سامراجی عزائم سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب ان کے مخصوص نو آموز ریاستی مفادات کسی خاص نہج پر کسی بڑی سامراجی طاقت سے متصادم ہو جائیں تو یہ یا تو وقتی طور پر پسپائی اختیار کرتے ہیں یا کسی اور بڑی قوت کی بیساکھی کے ذریعے در پردہ اپنے ایجنڈے پر کار فرما رہتے ہیں۔ یوں یہ بیک وقت سامراجی گماشتگی اور دوسری طرف سامراجی جبر دونوں طرح کے تاریخی کردار نبھاتی ہوئی ریاستیں عالمی منظر نامے کو دھندلا دیتی ہیں، اس لیے آج کے عہد میں ان کا کوئی مستقل اور پائیدار بلاک تشکیل پانا بعید از قیاس ہے۔ البتہ وقتی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہیں گے اور کچھ ممالک تو پہلے ہی بیک وقت دو یا دو سے زائد متضاد مفادات کے نمائندہ اتحادوں کا حصہ بن چکے ہیں اور یوں یہ صورتحال آئے روز مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ دراصل سوویت یونین کے انہدام کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کو ملنے والے مصنوعی ابھار اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کی تاخیر زدگی نے بین الاقوامی تعلقات کو کبھی نہ دیکھے گئے عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ اب اسے کثیر قطبی دنیا کہہ کر دل کو بہلایا تو جا سکتا ہے مگر سرمایہ دارانہ بنیادوں پر دیر پا استحکام کا حصول ناممکن ہے۔
کیمپ اسٹ ذہن چونکہ میکانکی طرزِ فکر کے تحت جنوب اور شمال کو جامد اور معینہ کردار سے نوازتا ہے، لہٰذا وہ ان حقائق کو مسترد کر کے ان پر اپنے مخصوص توہمات کا اطلاق کرتا رہتا ہے۔ شمال ظالم ہے، جنوب مظلوم ہے۔ شمال سامراجی ہے تو پھر جنوب میں سامراج کا تصور ہی محال ہے۔ اس طرزِ فکر کا منطقی نتیجہ ان کیمپ اسٹوں کو سوشل شاونزم کی اندھی کھائی میں دھکیل دیتا ہے اور یہ دوسری انٹرنیشنل کی قیادت کی طرح اپنے اپنے ممالک کے حکمران طبقے کے دم چھلا بن جاتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ اور پاک افغان جنگ کے دنوں میں پاکستان کے اس گلابی بائیں بازو کی اکثریت پاکستانی شاونزم میں گردن تک دھنس گئی تھی۔ ’مودی ہندوتوا فسطائیت کا علمبردار ہے، لہٰذا پاکستانی ریاست کا ساتھ دینا ضروری ہے‘، ’پاکستانی فوج چین کی اتحادی ہے، لہٰذا ترقی پسندانہ کام کر رہی ہے‘، ’بھارت اقلیتوں پر جبر کر رہا ہے، لہٰذا مضبوط پاکستان خطے میں توازن کے لیے ضروری ہے‘، وغیرہ وغیرہ۔ مطلب اپنی اس تاریخی غداری اور موقع پرستی کے لیے ہر طرح کا جواز پیش کیا گیا۔ مگر قارئین خود بھی دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کا یہ گلابی بایاں بازو جو ایک وقت میں طبقاتی سوال کے رد کے لیے مظلوم اقوام اور انسانی حقوق کے سوال کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا کرتا تھا، اب رفتہ رفتہ طبقاتی کے ساتھ ساتھ قومی سوال سے بھی انکاری ہو گیا ہے۔ اب ان کی طرف سے بلوچستان اور وزیرستان میں قومی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مذمت تک نہیں کی جاتی۔ یہ ان کے اس سوشل شاونزم کا منطقی نتیجہ ہے کہ انہیں بھارت میں تو اقلیتوں پر جبر نظر آتا ہے اور وہاں کشمیر جیسے قومی سوال تو نظر آتے ہیں لیکن پاکستانی انتظام و انصرام میں گلگت اور نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں جاری تحریکوں سے یہ مکمل طور پر لا تعلق رہتے ہیں۔ انقلابی کمیونسٹ افغانستان، بلوچستان، کشمیر اور گلگت میں پاکستانی ریاست کے کردار کو علاقائی سامراجیت سے تعبیر کرتے ہیں مگر گلابی بائیں بازو کے خیال میں اگر پاکستانی ریاست اس خطے میں چینی مفادات کے لیے وہی کردار ادا کرتی ہے جو اس نے ماضی میں امریکہ کے لیے ادا کیا تھا تو اس کا ہر اقدام ترقی اور سلامتی کی طرف ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہزاروں معصوم فلسطینیوں کے قاتل درندہ صفت سامراجی بھیڑیے ٹرمپ کے لیے امن کے نوبل انعام کا مطالبہ کرنے والے حکمران طبقے سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مغربی سامراج سے فیصلہ کن لاتعلقی اختیار کر کے چین کے مبینہ طور پر مستقل کیمپ میں آ جائے گا، محض خام خیالی ہی کہی جا سکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خود چین بھی اس طرح کا کوئی بلاک بنانے سے زیادہ امریکی سامراج کے ساتھ اپنی شرائط پر کوئی سامراجی معاہدہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ دراصل موجودہ عالمی صورتحال کا جو ایک اور انتہائی اہم پہلو جسے یہ گلابی بایاں بازو یکسر نظر انداز کر رہا ہے وہ عالمی سطح پر مزدور تحریک کا نیا جنم ہے۔ اس بائیں بازو نے منظم مزدور تحریک کا تصور ہی زائل کر دیا ہے۔ ان کے خیال میں مارکس اور لینن کا ’پرولتاریہ‘ اب قصہ پارینہ بن چکا، لہٰذا اب اگر کوئی بین الاقوامیت ممکن ہے تو وہ صرف ریاستی سطح پر ہی تشکیل پا سکتی ہے۔ لیکن حکمران طبقہ خود ان بائیں بازو کے احمقوں سے کہیں زیادہ شاطر ہوتا ہے۔ امریکہ اور چین سمیت دنیا بھر کے حکمران سمجھ رہے ہیں کہ اٹلی، سپین اور امریکہ میں عام ہڑتالوں کا کیا مطلب ہے۔ چین سے بھی وقتاً فوقتاً مزدوروں کی ہڑتالوں کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی ریڈیکلائزیشن انہیں انقلابی اور متبادل نظریات کی تلاش پر مائل کر رہی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب برطانیہ میں زارا سلطانہ اور جیریمی کاربن کی طرف سے یور پارٹی (your party) کے اعلان کے کچھ دنوں کے اندر ہی اس کی ممبرشپ آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور ابھی چند روز قبل بھارت میں ایک مقدمے میں چیف جسٹس کی طرف سے جین زی کے لیے ادا کیے گئے کاکروچ جیسے نا زیبا الفاظ کے ردِعمل میں ایک سوشل میڈیا کارکن کی طرف سے بنائے گئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر صرف تین دنوں میں تیس لاکھ سے زائد لوگ اس کی رکنیت لے چکے ہیں۔ ایک گلوبل نارتھ کے طاقتور ترین ممالک میں سے ایک ہے اور دوسرا ساؤتھ کاغریب ملک ہے، مگر تبدیلی کے لیے ’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘۔ تبدیلی کا یہی جنون شمال، جنوب ہر جگہ شدت پکڑ رہا ہے۔ سوشلزم اور کمیونزم کے نظریات جنہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ان کا نیا جنم ہو رہا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ آئندہ ہفتے یا اگلے برس ہی سرمایہ داری کا خاتمہ ہونے والا ہے، البتہ یہ بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ہم سیاسی زلزلوں کے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ سامراجی تنازعات کے اس عہد میں محض قومی ہی نہیں طبقاتی جنگیں بھی ناگزیر ہیں۔ ایسے میں بلاک ازم محنت کش طبقے کے شعور کو کند کرنے کے اوزار کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہمیں پرولتاری بین الاقوامیت کی جتنی آج ضرورت ہے، ماضی میں شاید ہی کبھی رہی ہو۔
’دنیا بھر کے محنت کشو، متحد ہو جاؤ!‘