اداریہ: سامراج کی جڑ سرمایہ داری، راہِ نجات عالمی سوشلسٹ انقلاب!

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے وہاں امریکی سامراج کو ذلت آمیز اور اپنی تاریخ کی بدترین شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹرمپ اور ایرانی صدر پزیشکان نے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں اس کی تمام شرائط امریکی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ امریکی سامراج کی اس شکست کے آنے والے عرصے میں پوری دنیا کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کا زوال مزید شدت اختیار کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد خطے میں دیرپا امن کی بھی کوئی ضمانت نہیں بلکہ پورے خطے میں آنے والے عرصے میں نئی جنگوں اور خانہ جنگیوں کے امکان موجود ہیں۔ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی عرب ممالک کو بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی معیشت اس جنگ نے تباہ کر کے رکھ دی ہے اور اب وہ ایران کو اربوں ڈالر ادا کر کے اپنے اوپر حملے کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ جنگ سے پہلے یہ خطے میں ایک نئی سامراجی طاقت کے طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب سے لے کر کویت، بحرین اور قطر کو بھی تیل اور گیس کے صنعتی انفراسٹرکچر کی مد میں خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان کی بندرگاہوں پر آمد و رفت رک چکی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہوا ہے اور امریکی سامراج کی شکست درحقیقت اسرائیل کے لیے بڑے پیمانے پر مشکلات کا باعث بنی ہے اور اس کے اپنے داخلی تضادات پھٹ رہے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں سے فلسطین پر بدترین بربریت مسلط کرنے کے بعد یہ امریکی گماشتہ لبنان پر آگ اور خون مسلط کر رہا تھا۔ بلکہ معاہدہ ہونے کے بعد بھی یہ عمل جاری ہے اور یہ ابھی تک اس شکست کو تسلیم نہیں کر سکا۔ لیکن آنے والے عرصے میں اسرائیل کی ٹوٹ پھوٹ میں شدت آئے گی۔

گزشتہ تین سالوں سے فلسطین پر بدترین بربریت مسلط کرنے کے بعد یہ امریکی گماشتہ لبنان پر آگ اور خون مسلط کر رہا تھا۔

ایران خطے میں ایک نئی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جس کے اپنے سامراجی عزائم ہیں اور وہ آنے والے عرصے میں ان کے تحت اپنے اثر و رسوخ کو مزید بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ جنگ سے پہلے ایران پر براجمان ملا اشرافیہ اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی تھی اور پورے ملک میں اس کے خلاف نفرت انتہا تک پہنچ چکی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ ریاست چند دنوں کی مہمان ہے۔ دراصل امریکہ اور اسرائیل نے اسی کمزوری کو بھانپتے ہوئے ایران پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے الٹ نتائج برآمد ہوئے اور اب ایران کی حکومت بظاہر مستحکم نظر آ رہی ہے۔ لیکن یہ صورتحال بھی زیادہ لمبے عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی اور نئی صورتحال سماج میں موجود تضادات کو پہلے سے بھی زیادہ شدت سے ابھارنے کی طرف جائے گی اور زیادہ بڑی عوامی تحریکیں ابھریں گی۔ درحقیقت آنے والے عرصے میں خطے کے تمام ممالک کی حکومتوں کو عوامی بغاوتوں اور تحریکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس صورتحال میں عالمی سطح پر بھی امریکی سامراج کی گرفت کمزور ہوئی ہے اور اس کے تمام اتحادی اس سے کسی نہ کسی وجہ سے ناراض ہیں۔ دوسری جانب چین ایک نئی عالمی سامراجی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور پوری دنیامیں تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ پھیلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دفاعی صلاحیت میں بھی تیز ترین بڑھوتری کر رہا ہے اور ایک ایسی پوزیشن تک پہنچ چکا ہے جہاں براہ راست امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کا بھرپور مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں امریکی سامراج کے زوال کا تذکرہ اور اس کے اثرات پر گرما گرم بحث جاری ہے وہاں تین دہائیوں سے جاری یونی پولر دنیا کے خاتمے اور ملٹی پولر دنیا کے آغاز پر بھی مباحثے جاری ہیں۔ یعنی ایک ایسی دنیا جہاں امریکی سامراج اکلوتی سپر پاور نہیں بلکہ دنیا مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان تقسیم ہو رہی ہے۔ اس تمام صورتحال کے جہاں دنیا کی سیاست اور معیشت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہاں دنیا بھر کے مزدور بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس صورتحال کے اپنی زندگیوں پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے مزدوروں کا نمائندہ کہلوانے والے بہت سے دھوکے باز اسے مزدور طبقے کی ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس صورتحال سے مزدور طبقے کو عمومی طور پر فوائد حاصل ہوں گے۔ اس حوالے سے اس جھوٹ کا پردہ چاک کیا جانا ضروری ہے اور اس شمارے میں موجود مضامین اسی عمل کا جائزہ مزدور طبقے کے مفادات کے تحت لیتے ہیں۔

لینن نے ایک صدی قبل ہی وضاحت کر دی تھی کہ سامراج سرمایہ داری کی حتمی منزل ہے۔

اس صورتحال میں سامراج کے کردار اور اس کی بنیادوں کو درست طور پر سمجھنا کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ لینن نے ایک صدی قبل ہی وضاحت کر دی تھی کہ سامراج سرمایہ داری کی حتمی منزل ہے اور دنیا میں سامراجی طاقتوں کی مسلط کردہ جنگوں، تجارتی معاہدوں اور معاشی پالیسیوں کی بنیاد سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے۔ لینن نے اس عمل میں بینکوں اور اجارہ داریوں کے حاوی کردار کی بھی تفصیل سے وضاحت کی تھی اور لکھا تھا کہ بیسویں صدی کے آغاز کے بعدمالیاتی سرمایہ صنعتی سرمائے پر حاوی ہو چکا ہے اور پوری دنیا میں سامراجی طاقتیں انہی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے منافعوں کو تحفظ دینے کے لیے پالیسیاں ترتیب دیتی ہیں۔ اسی طرح لینن نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس نظام میں سامراجی طاقتوں کی کشمکش کی بنیاد میں سرمایہ دار طبقے کے منافعوں اور لوٹ مار کی ہوس ہی کارفرما ہوتی ہے۔

اسی لیے آج دنیا میں جاری جنگوں اور مختلف سامراجی طاقتوں کی باہمی کشمکش کو سمجھنے کے لیے اس کی بنیاد میں موجود اجارہ داریوں اور مالیاتی سرمائے کی حرکت کو سمجھنا ضروری ہے جس کے ساتھ تمام ممالک کے حکمرانوں کے مفادات جڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح سامراجی جنگوں میں مزدور طبقے کو کسی ایک یا دوسری سامراجی طاقت کی حمایت کرنے کی بجائے اپنی آزادانہ پوزیشن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور دنیا بھر کے مزدوروں کی حمایت سے تمام سامراجی طاقتوں اور بالخصوص اپنے ملک کے حکمران طبقے کے خلاف طبقاتی جنگ کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔

درحقیقت سامراجی طاقتوں کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے دنیا بھر سے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

درحقیقت سامراجی طاقتوں کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے دنیا بھر سے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے جو دنیا میں جاری تمام خونریزی، بھوک، بربادی اور ذلت کی جڑ ہے۔ اس خون آشام نظام کے خاتمے کا آغاز کسی بھی ملک میں ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے کیا جا سکتا ہے جس کے تحت ایک مزدور ریاست تشکیل دی جائے جو سرمایہ دار طبقے کی لوٹ مار کا خاتمہ کرے اور سامراج کے خلاف جدوجہد کا آغاز کرے۔ اس انقلاب کو فتح یاب کرنے کے لیے حکمران طبقے اور اس کی بنیاد میں موجود نجی ملکیت اور بینکوں کے نظام کو ختم کرنا ہو گا۔ تمام بینک، مالیاتی، تجارتی اور صنعتی ادارے عوام کے جمہوری کنٹرول میں لینے ہوں گے اور ہر شخص کو روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم مزدور ریاست کی جانب سے فراہم کیا جائے گا۔ سوشلسٹ انقلاب کا عالمی سطح پر پھیلاؤ اور ایک عالمی سوشلسٹ سماج کا قیام ہی دنیا سے سامراج اور سامراجی جنگوں کے حتمی خاتمے کی ضمانت بن سکتا ہے۔

سامراجی جنگوں کو ختم کرنے کے لیے ایک طبقاتی جنگ!
سرمایہ داری مردہ باد! عالمی سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہوجاؤ!