|تحریر: پارس جان|

مورخہ دس جون سے تا دمِ تحریر راولاکوٹ کے اطراف میں عوام کی کثیر تعداد پانچ یا چھ مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری رکھے ہوئے ہے جن میں انتہائی محتاط اندازے کے مطابق بھی ایک لاکھ سے زیادہ لوگ کسی نہ کسی شکل میں سرگرم عمل ہیں۔ 7 جون کے قتل عام کے بعد سے راولاکوٹ شہر پر غیر ریاستی سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے جنہوں نے شہر میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے اور شہر کو چاروں طرف سے احتجاجی دھرنوں نے محصور کیا ہوا ہے۔ حکمران طبقے اور اس کی ریاست کی طرف سے ان دھرنوں اور ان کی قیادت کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف حسبِ روایت شدید غلیظ اور اشتعال انگیز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس میں بکاؤ اور دلال الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ہمیشہ کی طرح پیش پیش ہے۔ اس تحریک پر بیرونی فنڈنگ کی پیداوار اور اس کی قیادت پر را کے ایجنٹ اور پاکستان کے غدار ہونے اور دہشت گردی کے الزامات لگانے سے بھی جب اس بوالہوس حکمران طبقے اور اس کی ریاست کا پیٹ نہیں بھرا تو اب مختلف اکابرینِ تحریک کی نجی آڈیوز بھی نشر کی جا رہی ہیں، بہت سے اہم لیڈروں کو گرفتار کر کے بندوق کی نوک پر ان سے تحریک سے لاتعلقی کے اعلانات پر مبنی ویڈیوز بنوائی جا رہی ہیں اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ان کے قومی تشخص تک کو مسترد کیا جانے لگا ہے۔ حکمران طبقے کا پٹا گلے میں ڈال کر ہر ذی شعور شخص پر بھونکنے والے بوٹ چاٹ صحافی ابصار عالم ہی نہیں بلکہ نون لیگ کے سنیئر ترین سیاستدان اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی برملا یہ اعلان کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ راولاکوٹ اور میرپور کے لوگ تو کشمیری ہیں ہی نہیں کیونکہ یہ کشمیری زبان بول ہی نہیں سکتے وغیرہ وغیرہ۔ یاد رہے کہ بھارتی حکمران طبقہ اور دانشور تو کئی دہائیوں سے یہی بکواس کرتے چلے آ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو لے کر دنیا بھر میں بھارتی ایمبیسیوں کے باہر احتجاج کرنے والے تو زیادہ تر میرپوری ہیں اور ان کا کشمیر کاز سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ کشمیر پر مسلط ان دونوں ریاستوں کے حکمرانوں کی یہ فکری ہم آہنگی محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ خالصتاً استعماری سوچ اور قومی جبر کی زبان ہے جس کے ذریعے ان دونوں ریاستوں کا حکمران طبقہ محض کشمیری عوام پر ہی اپنا تسلط برقرار نہیں رکھتا بلکہ اس کی آڑ میں خود اپنے اپنے محنت کش طبقے پر بدترین معاشی و سماجی بربریت اور سیاسی وحشت روا رکھے ہوئے ہے۔ اب کوئی بھی سیانا کوا آ کر یہ چلانا شروع کر دے گا کہ خواجہ آصف کی سوچ سارے حکمران طبقے کی سوچ کیسے ہو گئی جبکہ دیگر بہت سے سیاسی اکابرین تو اس کی مذمت کرتے ہوئے پائے گئے ہیں تو ان معذرت خواہان کو ہم محض اتنا جواب دیں گے کہ حکمران طبقے کے ایک حصے کے یہ نام نہاد ’نرم‘ لب و لہجے کشمیریوں کے حق میں نہیں ہیں بلکہ تحریک کے زور سے ریاست کے اندر پڑنے والی ان دراڑوں کی غمازی کرتے ہیں جو جبر کی شکل تبدیل کرنے کی ضرورت کے سوال کو جنم دیتی ہیں۔ حکمران طبقے کا اصل مشترکہ مقصد کشمیر پر تسلط کو برقرار رکھنا ہے جس پر ان بھیڑیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے اختلاف صرف اس بات پر ابھرتا ہے کہ اس تسلط کو ’محفوظ‘ اور دیرپا بنانے کا ’مثبت اور تعمیری‘ طریقہ کیا ہونا چاہیے۔ 78 سالوں سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا پرچار کرنے والے ڈھونگی عین اس وقت اپنی خون آشام فطرت دکھانے پر اتر آئے ہیں جب پاکستانی زیر انتظام کشمیریوں نے واقعی اپنے اس حق کے استعمال کا محض آغاز ہی کیا ہے۔ حالیہ تحریک نے پاکستان کے غلیظ حکمران طبقے کی استبدادی فطرت اور منافقت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
تحریک کا کردار
کشمیری عوام کی یہ حالیہ تحریک ریاستی پراپیگنڈے کے برعکس ایک حقیقی عوامی اور انقلابی تحریک ہے جو سماج کے رگ و ریشے میں سرائیت کر چکی ہے۔ اس تحریک کا جنم کسی بیرونی فنڈنگ سے نہیں بلکہ دہائیوں سے مسلسل گرتے ہوئے معیار زندگی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات زندگی کے فقدان اور عوام پر تواتر سے کیے جانے والے معاشی حملوں سے منسلک سماجی بے چینی اور بدلتے ہوئے شعور سے ہوا۔ البتہ اگر اس تحریک میں کوئی بیرونی عنصر کارفرما ہے تو وہ عہدِ حاضر میں شعور کی عالمگیریت کا پہلو ہے اور وہ شکتی ہے جو کشمیر کی عوام کے اجتماعی شعور نے وقتاً فوقتاً سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش سمیت دنیا اور خطے کی مختلف فقید المثال عوامی تحریکوں سے کشید کی ہے۔

لیکن بنیادی تضادات کشمیر کے اپنے سماج میں اس حد تک مجتمع ہو چکے تھے کہ ان کا کسی تحریک میں سماجی دھماکے سے پھٹ پڑنا ناگزیر ہو چکا تھا۔ عہد کے بدلتے کردار نے تو محض عمل انگیز کا کام ہی کیا ہے۔ بہت سے لوگ اس شاندار تحریک کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، کشمیر کے قوم پرست ہی نہیں بلکہ خطے بھر کے سارے پوسٹ کولونیئل دانشور اسے ایک قومی یا ’قومی عوامی تحریک‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بعض طبقاتی تخفیف پسند ہمیشہ کی طرح اسے ’خالص‘ طبقاتی جنگ سمجھ رہے ہیں، دونوں اپنے اپنے مخصوص میکانکی طرزِ فکر کے باعث تحریک کے کردار کا درست تعین کرنے سے قاصر ہیں۔ کشمیر میں قومی جبر ایک ایسی ٹھوس حقیقت ہے جس سے کوئی اندھا ہی انکار کر سکتا ہے لیکن اس قومی جبر کی عمومیت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ یہ تحریک اپنی بنیاد اور آغاز سے ہی قومی آزادی کی تحریک تھی، عقلِ سلیم کی چابک دستی ہے جو سائنسی استدلال سے کوسوں دور ہے۔ کٹر قوم پرست ہمیشہ روزمرہ کے ٹھوس معاشی سوالات کے صندوق پر مجرد آزادی کی ضرورت کا تالا لگا کر صندوق کو لے کر فرار ہونے کے چکر میں ہوتے ہیں لیکن پھر ان کو سمجھ نہیں آتی کہ فرار ہو کر جانا کہاں ہے۔ اپنے مخصوص رومانوی رویوں کے زیر اثر وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ آزادی کے عظیم مقصد کو آٹے، بجلی اور روزگار جیسے کثیف اور دنیوی تقاضوں سے آلودہ نہیں کرنا چاہیے۔ کشمیر میں بھی ماضی میں ایسا ہی ہوتا آیا تھا، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے یہ کٹر قوم پرست سماج کی نہ دکھائی دینے والی چھوٹی سی اقلیت بن کر رہ گئے تھے جو کوئی بھی قابلِ ذکر عوامی تحریک چلانے کی اہلیت سے عاری تھی۔ مگر ان کے سماجی اثر و رسوخ سے کوسوں دور اور الگ بنیادی ضروریات کے سوال پر عوام کی یہ مزاحمت پھوٹ پڑی تو کچھ سنجیدہ قوم پرست رجحانات نے اپنے سابقہ رویوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے ان عوامی مطالبات پر لبیک کہا اور وہ تحریک کی صفوں میں سرگرم کردار ادا کرتے کرتے پھر اپنا سماجی تشخص و سیاسی انفرادیت اجاگر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دوسری طرف وہ طبقاتی تخفیف پسند جو روزمرہ کے ٹھوس معاشی مطالبات پر جنم لینے والی عوامی مزاحمت کے ریلے میں بہہ کر قومی سوال سے ہی انکار کرنے لگے تھے، وہ بھی غلطی پر تھے کیونکہ تاریخی طور پر حل طلب سوالات کو ادھورا چھوڑ کر کوئی بھی اہم سنگ میل عبور نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک کے فیصلہ کن مرحلے پر ریاست پاکستان کا استعماری چہرہ ننگا ہونا ناگزیر تھا اور اب یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج کشمیریوں پر کشمیری حکمران طبقے کی ریاستی مشینری ہی نہیں بلکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز براہِ راست گولیاں برسا رہی ہیں جو کشمیر پر نوآبادیاتی قبضے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1947ء سے کشمیر کی متنازعہ عالمی حیثیت کے باعث پاکستان کے کشمیر پر قومی جبر نے اپنا چہرہ انسانی ہمدردی، مذہبی بھائی چارے اور ’پاکستانیت‘ کے نقاب سے ڈھانپا ہوا تھا، آج مختلف علاقائی و عالمی محرکات کے زیرِ اثر یہ نقاب تار تار ہو چکا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ ظالم، آمر اور استعمار کی ’انسانی ہمدردی‘ اور ’مذہبی یگانگت‘ ایک ڈھکوسلے سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مختصر یہ کہ کشمیر کا سلگتا ہوا قومی سوال آج بھی حل طلب ہے مگر کشمیر کے عوام میں بے پناہ طبقاتی شعور بھی اجاگر ہوا ہے جس کے دباؤ میں نامور قوم پرست رہنما بھی اس مزاحمتی تحریک کو علی الاعلان طبقاتی جنگ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کشمیر میں چونکہ مزدور طبقہ یا پرولتاریہ ہے ہی نہیں اور اس تحریک کی قیادت تو دکانداروں اور درمیانے طبقے کے پاس ہے لہٰذا اس تحریک کو طبقاتی جنگ نہیں کہنا چاہیے بلکہ عوامی تحریک ہی کہنا چاہیے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، وہ کشمیر کے سمندر پار اور خطے کے دیگر علاقوں کے محنت کشوں کی اس تحریک میں براہِ راست یا بلواسطہ شمولیت اور کشمیر میں معاشی ڈھانچے کی حدود و قیود میں تقسیم ِ محنت کے عمومی کردار کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ درست ہے کہ درمیانے طبقے کا بھی تحریک میں اہم کردار ہے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں تاجر اور وکلا پیش پیش ہیں مگر تحریک کی اصل قوت محرکہ قیادت نہیں ہے بلکہ مفلوک الحال کشمیری غریب محنت کش عوام ہی ہیں۔
چلیں ہم اس بحث کو اس مضمون میں زیادہ طول نہیں دیتے ان ناقدین کو محض اتنی صلاح ضرور دیتے ہیں کہ وہ اگر تحریک کی صفوں میں موجود عوام کی طبقاتی بنتر کو نہیں سمجھ پا رہے تو کم از کم یہی دیکھ لیں کہ تحریک کن قوتوں اور طبقات کے خلاف صف آرا ہے۔ ’اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے‘ کا مطالبہ سر فہرست ہونے سے کیا مراد ہے۔ کشمیری قومی بورژوازی مکمل طور پر تحریک کے نہ صرف خلاف کھڑی ہے بلکہ اس کی بقا خطرے میں ہے اور وہ اپنی بقا کے لیے پاکستانی ریاست پر اکتفا کیے ہوئے ہے۔ حالیہ دھرنوں میں ہونے والی تقاریر میں چِلا چِلا کر بتایا جا رہا ہے کہ یہ تحریک پاکستان کی ریاست یا عوام کے خلاف نہیں ہے بلکہ اپنی حکمران اشرافیہ سے اپنے آئینی و معاشی حقوق چھیننے کے لیے ہے۔ ایسے میں جب ریاست خود اس تحریک پر پاکستان مخالفت کا لیبل لگا رہی ہے ایسے میں اس تحریک کو خالصتاً قومی آزادی کی تحریک بنا کر پیش کرنا خود ریاستی بیانیے کو تقویت دینا ہی ہے۔ دراصل 53 وزراء اور بھاری بھرکم افسر شاہی اور ان کے اللے تللے اس تحریک کا پہلا اور مرکزی ہدف ہیں لیکن پاکستان کی طرف سے کشمیر کے حکمران طبقے اور سرمایہ دارانہ نظام کے دفاع میں متوقع براہِ راست مداخلت نے تحریک کے خد و خال پر انمٹ نقوش ثبت کیے ہیں۔ یوں یہ تحریک صرف کشمیر کے حکمران طبقے کی مخالفت تک محدود نہیں رہتی بلکہ خطے بھر سے سرمایہ دارانہ جبر کے خاتمے کی تحریک کا نکتہ آغاز یا اہم سنگِ میل بن کر ابھرتی ہے اور خطے ہی نہیں دنیا بھر کے محنت کش عوام پر اس تحریک کی حمایت اور یکجہتی فرض ہو جاتی ہے۔

یوں یہ نہ تو محض قومی تحریک اور نہ ہی مجرد طبقاتی تحریک ہے دراصل یہ ایک تیسری دنیا کے پسماندہ علاقے کی جیتی جاگتی انقلابی تحریک ہے جس میں تاریخ کے تمام حل طلب تضادات منعکس ہو رہے ہیں اور نئی سماجی و سیاسی تشکیلات کی تاریخی لازمیت کی نشان دہی کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال
یہ تحریک گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور یہاں اس کا عمومی تجزیہ کرنا مقصود نہیں ہے اس کے لیے ہماری ویب سائٹ پر تفصیلی مضامین موجود ہیں، البتہ تحریک کے حالیہ مرحلے پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ گزشتہ برس ہونے والے لانگ مارچ کے بعد ہونے والے سہ فریقی (حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) معاہدے میں دستخط شدہ 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر 90 دنوں میں عملدرآمد ہونا تھا مگر حکومت حسبِ دستور ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔ ان مطالبات پر عملدرآمد کے لیے بہت سے مذاکراتی دور ہوئے، کمیٹیاں تشکیل دی گئیں مگر سب بے سود رہا۔ حکومت جھوٹ بول رہی ہے کہ ان 38 میں سے 36 مطالبوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے یا شروع کر دیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے محکمہ صحت کی اصلاحات پر رتی برابر پیش رفت نہیں ہوئی اور میرپور ایئر پورٹ کی فزیبیلیٹی رپورٹ بھی دفتری ٹامک ٹوئیوں کی نذر ہو گئی۔ غرضیکہ حکومت اور ریاست شدید بد عہدی کے مرتکب ہوئے۔ اس ضمن میں حکومت کے دستخط شدہ معاہدے پر عملدرآمد کروانا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا آئینی، جمہوری، سیاسی و اخلاقی حق ہے اور اس حق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کو 30 مئی تک کی مہلت دی گئی تھی اور بصورت دیگر 9 جون کو مظفر آباد کی طرف احتجاجی لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ 30 مئی کو ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی ہٹ دھرمی کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی لہٰذا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس لانگ مارچ کی آپشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ مگر لانگ مارچ سے قبل ہی 5 جون کو ریاست نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا، کئی قائدین کے سروں کی قیمت مقرر کر دی اور تحریک کے مرکزی قائد عمر نذیر کشمیری پر قاتلانہ حملہ کر کے اپنے ناپاک ارادے ظاہر کر دیے۔ اس حملے میں عمر نذیر کشمیری تو اتفاقاً بچ نکلے مگر ان کے قریبی ساتھی اور تحریک کے سرگرم کارکن شاہ زیب حبیب جان کی بازی ہار گئے۔ اور ستم ظریفی دیکھیے کہ انصاف کی فراہمی تو کجا مقتول اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ہی دہشت گردی کے مقدمات دائر کر دیے گئے۔ مقتول کے لواحقین اور سیاسی رفقا نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کر دیا اور وہ مقتول کے پوسٹ مارٹم، قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج جیسے جائز اور ضروری اقدامات کے مطالبات کر رہے تھے مگر 7 جون کی شام کو پاکستان سے منگوائی گئی ایف سی، پی سی، رینجرز اور پولیس پر مبنی غیر ریاستی سکیورٹی فورسز نے دھرنے کے شرکا پر حملہ کر کے سیدھی فائرنگ کے ذریعے درجنوں نہتے سیاسی کارکنوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا۔ اس بہیمانہ ریاستی جبر سے دھرنا تو منتشر ہو گیا تاہم تحریک کی چنگاری اور شدت سے بھڑکنے لگی اور 9 جون کو شروع ہونے والے لانگ مارچ میں پلندری، کوٹلی اور دیگر علاقوں کے قافلوں پر مزید ریاستی جبر اور فائرنگ کے باوجود توقع سے بھی زیادہ لوگ شریک ہوئے اور ہر قسم کے نامساعد حالات کو شکست دے کر راولاکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور تب سے لے کر اب تک وہ پرامن دھرنوں میں راولاکوٹ کے اطراف میں موجود ہیں، کئی بار ان دھرنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ان پر چڑھائی کی کوشش کی گئی مگر مظاہرین نے مزید جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تاحال دھرنے نہ صرف جاری و ساری ہیں بلکہ ان کی توانائی اور سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔
مہاجرین کی نشستیں
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب سے زیادہ متنازعہ نکتہ بظاہر کشمیر کی اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص کی گئی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ ہے۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ یہ نشستیں کشمیر میں عوام کی خواہشات کے برعکس حکومت سازی کے لیے درکار سیاسی انجینئرنگ کا اہم اوزار ہیں جس کے آگے عوامی رائے بے بس نظر آتی ہے اور ان نشستوں کے بلبوتے پر حاصل کردہ فنڈز اور نوکریوں اور دیگر مراعات کا بوجھ کشمیر کے خزانے پر طفیلی کردار کا حامل ہے جس سے کشمیر کے عوام کا معاشی قتلِ عام مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔ اگر بغور دیکھا اور پرکھا جائے تو یہ کوئی انقلابی یا سوشلسٹ مطالبہ نہیں ہے بلکہ عین جمہوری مطالبہ ہے اور اس مطالبے کو نہ مان کر حکمران طبقہ خود اپنی کٹھ پتلی جمہوریت کا مذاق اڑا رہا ہے۔ کشمیر اور پاکستان کا حکمران طبقہ جوابی دلیل یہ پیش کر رہا ہے کہ ان نشستوں کے خاتمے سے جموں اور وادی پر پاکستانی ریاست کے بین الاقوامی سطح پر لیے گئے مؤقف کی نفی ہو گی اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا، لہٰذا بھارت کو فائدہ ہو گا اور اسی بنیاد پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے بھارتی ایجنٹ ہونے کے دعوے کو تقویت ملتی ہے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اور کشمیر کا امن برباد کر دینا چاہتے ہیں۔ مزید برآں وہ اسے ایک آئینی مسئلہ قرار دیتے ہیں جسے کشمیری پارلیمان میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مسئلے پر حکمران طبقے میں یکسوئی کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ وزیراعظم ”آزاد“ کشمیر فیصل راٹھور سمیت دیگر کئی پاکستانی و کشمیری سیاسی زعما تسلیم کر چکے ہیں کہ ان 12 نشستوں کے خاتمے کا کشمیر کاز پر کوئی براہِ راست اثر نہیں پڑے گا اور یہ مطالبہ عین جائز ہے البتہ اس کو پارلیمانی طریقے سے ہی حل ہونا چاہیے تاہم پھر وہ بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی تائید اور ریاستی آپریشن کی ضرورت پر اصرار کرتے ہوئے ہی پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف رانا ثناء اللہ، امیر مقام جیسے بہت سے نون لیگی رہنما جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ان 12 نشستوں سے متعلق کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے حق میں نہیں ہیں اور انہیں دہشت گردوں کی طرح قرار واقعی سزا کا مستحق سمجھتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ برس 4 اکتوبر کو انہی نون لیگی زعما نے ان مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کو عملی جامہ پہنانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اگر یہ کمیٹی لیڈران دہشت گرد تھے تو ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کرنے والوں کو کیا کہا جانا چاہیے۔ یہ بیانیہ خود اپنے ہی منہ پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اصل معاملہ ان 12 نشستوں کا بھی نہیں ہے درحقیقت حکمران طبقے کو کشمیر کے غیور عوام کی طرف سے گزشتہ تین برسوں میں اپنی سیاسی جدوجہد کے دم پر جیتی گئیں حاصلات ہضم نہیں ہو رہی ہیں، یہ اس وقت سے اپنے ناخن چبا رہے تھے جب عوام نے لڑ کر ان سے آٹے اور بجلی پر سبسڈی جیتی تھی، یہ عوام کو سبق سکھانے کے موقعے کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ یہ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے سفاک درندہ صفت حکمران جانتے ہیں کہ اگر یہ روش چل پڑی تو کشمیر کے سر سبز پہاڑوں سے بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں تک ہی نہیں بلکہ کراچی کی صنعتوں تک اسے وبا کی طرح پھیلنے سے روکنا مشکل ہی نہیں محال ہو جائے گا۔ اس لیے یہ انسانوں کا خون پینے والے بھیڑیے تحریک کو خون میں ڈبو کر صرف کشمیر کے نہیں خطے بھر کے عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ریاست سے اگر بھیک میں کچھ مل جائے تو اسی پر قناعت کرو اگر مزاحمت کا سوچا بھی تو انجام یہی ہو گا۔
گزشتہ برس بھارت سے نام نہاد جنگی فتح اور امریکی سامراج کی اپنی تاریخی زوال پذیری کے باعث مبالغہ آمیز ’شفقت‘ نے ان حکمرانوں کو باؤلا کر دیا ہے اور یہ عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر اپنی دولت اور مراعات میں غیر معمولی اضافے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ اسی لیے پرامن مظاہرین کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے اپنے سبھی پالتو دانشوروں، صحافیوں اور سیاستدانوں کے پٹے کھول دیے گئے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ کشمیری مفت خور ہیں، یہ کوئی کام نہیں کرتے اور ان کو آٹا اور بجلی پاکستان دیتا ہے لیکن یہ نمک حرام ہیں لہٰذا انہیں سبق سکھانا ضروری ہو چکا ہے، کبھی تارکین وطن کشمیری محنت کشوں کی کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر NFC ایوارڈ کے تحت معینہ رقوم اور اگر کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی پر جائز رائلٹی کو مدنظر رکھا جائے تو آٹے اور بجلی کی سبسڈی ادا کر کے بھی پاکستانی ریاست پر کشمیر کے سینکڑوں ارب روپے واجب الادا بنتے ہیں۔ اور یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی سالوں سے ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہے اور سالانہ ترسیلات زر کا 10 فیصد کے لگ بھگ کشمیری تارکینِ وطن محنت کشوں کی بھیجی گئی رقوم پر مشتمل ہے۔ مگر اس سب کے باوجود ریاست کے وظیفہ خوار دانشور انتہائی ڈھٹائی سے کشمیریوں پر نمک حرامی کا لیبل چسپاں کر رہے ہیں۔ مزید برآں یہ بکواس کی جا رہی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو آزادی گھر بیٹھے مل گئی تھی اور ہزاروں پاکستانی فوجی سپاہی کشمیر کے لیے جانیں گنوا چکے ہیں اور پھر بھی کشمیر میں پاکستان مخالف نعرے لگنا ان کی غداری اور بے وفائی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہم انقلابی کمیونسٹ پیشہ ورانہ فوج کے وجود کے ہی خلاف ہیں البتہ برسبیل تذکرہ اور برمحل یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستانی فوج میں بھی چالیس ہزار کے لگ بھگ کشمیری نوجوان آج بھی موجود ہیں اور سینکڑوں کشمیری نوجوان افغانستان سے لے کر بلوچستان تک پاکستانی ریاست کی عسکری مہم جوئیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت کے مابین وقتاً فوقتاً ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں شہید اور بے گھر ہونے والے معصوم کشمیری شہریوں کی قربانیاں کس کھاتے میں ڈالی جائیں گی۔ مزید برآں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی تحریک پاکستان سے بھی زیادہ پرانی ہے لہٰذا کشمیر پر پاکستان کا احسان نہیں بلکہ استعماری مفاد مسلط ہے اور کشمیری چونکہ اسے پہچان چکے ہیں لہٰذا انہیں دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔
آئینی راستہ
جو لوگ اس حالیہ ڈیڈ لاک کا آئینی اور عدالتی حل تلاش کرنے کی کوشش پر اصرار کر رہے ہیں، ان سے ہم استفسار کریں گے کہ دنیا بھر کے آئین، قوانین اور عدالتی معمول کی رو سے معاہدوں کی عزت کی جاتی ہے اور فریقین کو معاہدوں پر عمل کرنے کا پابند بنانا عدالتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اگر متاثرہ فریق اپنے اس حق پر عملدرآمد کے لیے کوئی بھی اقدام اٹھاتا ہے تو اس کے ہر اقدام کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر میں غیر آئینی اقدام کا مرتکب کونسا فریق ہوا ہے۔ کشمیر میں جب ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں تو یہ دلیل دینا کہ یہ تو آئینی مسئلہ تھا اور اسے تو ایسے یا پھر ویسے حل ہونا تھا، خود غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ اب معاہدے کی رو سے آئینی طور پر یہ حکمران طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے پر ہر صورت عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ دراصل معاہدہ شکنی یہ ثابت کر رہی ہے کہ حکومت اور ریاست خود غیر آئینی ہیں اور ان کی حاکمیت کا کوئی اخلاقی جواز بچتا ہی نہیں۔
اسی طرح کچھ سادہ لوح خواتین و حضرات یہ طفلانہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کشمیری عوام کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے تو انہیں الیکشن میں جانا چاہیے تھا اور وہ بھاری اکثریت حاصل کے کر آئین میں بآسانی ترمیم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر سکتے تھے۔ یہ خواتین و حضرات تحریک کی روح سے ہی ناواقف ہیں اور یہ دیکھ نہیں پا رہے کہ تحریک پارلیمانی نظام سے شدید مایوسی اور عوامی بیزاری سے جنمی ہے اور تحریک نے اپنے اوائل میں ہی سارے پارلیمانی ڈھانچے، روایتی پارٹیوں اور قیادتوں کو مسترد کر دیا تھا۔ کشمیری عوام کشمیر ہی نہیں پاکستان میں بھی ان کٹھ پتلی اسمبلیوں اور ان میں بیٹھنے والی فارم 47 سے بنی جعلی حکومتوں کے کردار کو مکمل طور پر سمجھ چکے ہیں لہٰذا قیادت پارلیمانی ڈھانچے میں اصلاحات کے بغیر انتخابات میں جانے کے لیے آمادہ نہیں ہو سکی۔ اگرچہ تحریک کی صفوں میں انتخابات کے سوال پر اضطراب اور اختلاف بھی پایا جاتا ہے تاہم حکومت کی ہٹ دھرمی نے حالیہ صورتحال کو جنم دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ اس فرسودہ سیاسی ڈھانچے کی کسی صورت وکالت نہیں کرتے اور عوام کے شعور میں اس انقلابی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آئین، ترامیم، ادارے، ڈھانچے اور انتخابات وغیرہ سب سماج میں موجود زندہ طاقتوں کے مابین طبقاتی توازن کا عکس ہوتے ہیں۔ حکمران طبقہ اپنی ریاستی مشینری کے دم پر انہیں جب چاہے تروڑ مروڑ سکتا ہے، اسی لیے جب عوام باشعور ہوتے ہیں اور تحریک میں طاقت کا توازن بدلتا ہے تو وہ بھی اس ڈھانچے کی اپنے حق میں تروڑ مروڑ کی اجتماعی خواہش کو اپنے مطالبات اور اقدامات کے ذریعے پیش کرتے ہیں، لہٰذا تحریک کے مطالبات اور اقدامات کو تحریری مسودوں اور آئینی ڈھانچے کی حدود قیود میں نہیں بلکہ طبقاتی توازن کے درست ادراک کے ذریعے ہی پرکھا اور تحریک کی کامیابی کے تقاضوں کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا انقلابی کمیونسٹ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے بصورت دیگر تحریک اپنے دفاع کے حق میں جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس سے ہونے والے ہر نقصان کی ذمہ داری پاکستانی ریاست اور کشمیر کی حکومت پر عائد ہو گی۔
دوہرا اقتدار اور قیادت کا تذبذب
کشمیر میں اس وقت عملاً ایک دوہرے اقتدار کی کیفیت موجود ہے۔ دراصل یہ کیفیت طویل عرصے سے شد و مد سے جاری ہے۔ اس کا اعتراف فیصل راٹھور سمیت حکمران طبقے کے بہت سے نمائندگان مختلف ٹی وی ٹاک شوز یا انٹرویوز کے دوران خود بھی کر چکے ہیں۔ سہ فریقی معاہدہ خود اس بات کا اعتراف تھا کہ اب کشمیر میں مروجہ سیاسی ڈھانچے کے متوازی ایک ایسی قوت ابھر چکی ہے جسے فیصلہ سازی کے عمل میں نظر انداز کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ دوہرا اقتدار کسی بھی انقلاب کی لازمی عبوری منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ثبوت ہے کہ کشمیر ایک انقلابی عمل سے گزر رہا ہے۔ لیکن اس دوہرے اقتدار کا جوہر ہی اس کا عدم استحکام یا ناپائیداری ہوتا ہے۔ گویا یہ کیفیت غیر معینہ مدت تک قائم نہیں رہ سکتی۔ یعنی بیک وقت دونوں طبقے فیصلہ سازی میں سانجھے دار اس لیے بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ دونوں کے مفادات روزمرہ کے معمولات میں بھی ایک دوسرے سے ٹکراؤ کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ ایک طبقاتی سماج میں دو متحارب طبقات میں سے ایک ہی طبقہ حاکمیت پر براجمان رہ سکتا ہے۔ یوں جلد یا بدیر یا تو تحریک حکمران طبقے کو شکست فاش دے کر نئے سماج کی بِناء ڈالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور پرانی ریاستی مشینری کے ملبے پر ایک نئے طبقاتی توازن کی نمائندہ سماجی عمارت کی از سرِ نو تعمیر کا آغاز کیا جاتا ہے یا پھر حکمران طبقہ اپنی منتشر ریاستی طاقت کو مجتمع کر کے پوری قوت سے تحریک پر حملہ آور ہو کر تحریک کو خون میں ڈبو دیتا ہے اور جبر اور انتقام کے طویل دور کا آغاز کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سانپ کو یا تو چھیڑو مت اور اگر چھیڑو تو پھر چھوڑو مت۔
اس تاریخی لازمے کا درست ادراک رکھنے والی بالشویک قیادت کی عدم موجودگی صورتحال کو بہت پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کشمیر میں بھی ہمیں یہی سب کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کشمیر کی تحریک اپنے مخصوص تاریخی و ثقافتی پس منظر کے باعث خطے کی دیگر تحریکوں سے قدرے مختلف اور منظم ہے مگر اس کے تمام انفرادی پہلوؤں کے باوجود یہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عالمی پیمانے پر جاری جدوجہد کا ایک زمانی و مکانی تسلسل بھی ہے۔ یوں اسے کلیدی نوعیت کے یا فیصلہ کن ارتقائی ادوار میں تاریخی مادیت کے عمومی قوانین سے کسی قسم کا استثنا حاصل نہیں ہے۔ بدقسمتی سے کشمیر کی اس تحریک کی قیادت اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھی اور گزشتہ دو لانگ مارچوں کے تجربے کی روشنی میں وہ اتنے بڑے پیمانے کے ریاستی جبر کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ ایک نیا مرحلہ تھا جہاں مارچ کے ذریعے مزید کچھ حاصلات جیت کر تحریک پر اپنی قائدانہ گرفت مزید مضبوط کی جا سکتی تھی مگر دوسری طرف ریاست کے نزدیک ایک فیصلہ کن کاروائی کا وقت آن پہنچا تھا تاکہ دوہرے اقتدار کی اس زائد المعیاد کیفیت سے چھٹکارا حاصل کر کے سرمایہ دارانہ نظم و ضبط کو بحال کیا جا سکے اور اشرافیہ اور اس کی آئندہ نسلیں بلا روک ٹوک اپنی پرتعیش مراعات سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اس لیے اس نے راولاکوٹ کو خون سے غسل دے کر کشمیر کے طول و عرض میں یہ پیغام دیا کہ خبردار اس بار ریاست عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ریاستی پالیسی سازوں کا خیال یہ تھا کہ تحریک خوفزدہ ہو جائے گی اور لانگ مارچ کو آغاز سے قبل ہی شکست ہو جائے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ راولا کوٹ کی اس اندوہناک رات کے بعد خود تحریک کی قیادت بھی متذبذب ہو گئی تھی لیکن عوامی لاوا تو پھٹنے کے لیے بے چین تھا۔ ہونا تو یہ چاہییے تھا کہ 5 جون کو تحریک کے ایک مرکزی قائد پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں اسی دن لانگ مارچ کا آغاز کر دیا جاتا تو شاید ریاست راولاکوٹ میں خون بہانے کی جرات ہی نہ کر پاتی مگر قیادت نے ایک معیاری طور پر یکسر مختلف اور تبدیل شدہ کیفیت میں بھی پہلے سے طے شدہ منصوبے کو جاری رکھنا ہی مناسب سمجھا۔ لیکن جب اس یکسر مختلف صورتحال میں بھی عوام لانگ مارچ کے طے شدہ دن پر باہر نکل آئے تو اس دن ریاست کی بنیادوں میں لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ راولاکوٹ میں سیدھی گولیاں چلنے اور درجنوں لاشیں گرنے کے بعد بھی عوام کا لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے نکل آنا تحریک کی اخلاقی و سیاسی برتری کا اعلان تھا اور یہ قیادت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس برتری کو تحریک کی فیصلہ کن فتح سے سرفراز کرتی۔ لوگوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ موت کے خوف کو شکست دے چکے ہیں اور ریاست آخری تجزیے میں اسی خوف کی معروضی و موضوعی تجسیم کا نام ہوتی ہے۔ جب لوگوں کا یہ فاتحانہ جلوس چاروں اور سے راولاکوٹ کی طرف بڑھ رہا تھا تو اس کے ہر ہر قدم پر ریاست اور حکمران طبقے کی سانسیں ہچکولے کھا رہی تھیں۔ ریاست اگرچہ جبر کے لیے آمادہ دکھائی دیتی تھی مگر حکمت عملی کے ساتھ راولاکوٹ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی جرات مندانہ پیشرفت کے آگے ریاست کے چند ہزار ہرکارے کتنی دیر تک ٹک سکتے تھے۔ مگر قیادت کے تذبذب کے باعث یہ تاریخی موقع ضائع کر دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ اس میں مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ موجود تھا اور عوام کی اجتماعی امنگوں کے برعکس قیادت نے یہ خطرہ مول نہیں لیا۔ لیکن اس حد تک تحمل اور تذبذب کا اظہار کرنے والی قیادت بھی ریاست کے نزدیک دہشت گرد ہی قرار پائی ہے اور آئے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کے گھروں سے اسلحہ اور نقشے برآمد کیے جا رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ’ناگزیر تشدد‘ سے اجتناب کرنے والا تذبذب پر مبنی طرزِ عمل مزید اور بے لگام تشدد کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جارج واشنگٹن کے الفاظ میں ”بعض اوقات حملہ آور ہونا ہی بہترین اور واحد قابلِ عمل دفاعی حکمتِ عملی ہوا کرتی ہے“۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس کے برعکس حکمت عملی کا انتخاب کیا ہے، اس کے اپنے مضمرات ہیں اور اب یہ صورتحال ایک نئے اور پرپیچ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
خواتین کا کردار
دوہرے اقتدار کی کیفیت ابھی تک برقرار ہے مگر ریاست خوراک، ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی نقل و حمل اور ضروری فنڈز کی ترسیل کی بندش یعنی معاشی محاصرے کے ذریعے دھرنوں کا گھیراؤ کر رہی ہے۔ یہ تحریک پر مشکل ترین وقت ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس مشکل ترین وقت میں خواتین اور بچوں کی پرجوش، سرگرم اور باوقار شمولیت نے تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ دھرنے کے شرکا کا گرتا ہوا مورال پھر بحال ہوا ہے اور ایک دفعہ پھر وہ انجام کی پرواہ کیے بغیر اپنے انقلابی مورچوں پر ڈٹ گئے۔ تحریک کی قیادت میں موجود قدامت پسند عناصر نے ایک وقت میں ’مذہبی روایات‘ کی آڑ میں خواتین کو واپس گھروں میں بھیجنے کی کوشش کی تھی مگر معروضی تقاضوں اور خواتین کے جوش و خروش نے اسے اپنے اس رجعتی فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں خواتین آئے روز گھروں سے نکل کر دھرنوں میں شامل ہوتی ہیں اور شام ہوتے ہی پھر اپنے گھروں کو لوٹ جاتی ہیں۔ خواتین اور نوعمر لڑکیوں اور یہاں تک کے بچوں کی تقاریر اور نعرے بازی ریاست اور حکمران طبقے کو اتنی شدت سے للکارتے ہیں کہ ان کا حواس باختہ ہو جانا یقینی ہو جاتا ہے۔
یہاں خواتین کے اس انقلابی جوش و خروش کا ایک پہلو جس پر غور کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ریاست کی منصوبہ بندی کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ریاست کا منصوبہ یہ تھا کہ دھرنوں کی معاشی ناکہ بندی کر کے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کو دہشت گرد ثابت کرتے ہوئے دھرنوں کو منتشر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیے جائیں گے۔ ایک وقت میں تو ان آپریشنز کا ٹائم فریم بھی جاری کر دیا گیا تھا۔ لیکن پھر جب خواتین کی سرگرم شمولیت اور معصوم بچوں اور بچیوں کی دھرنے کے شرکا کو کھانا کھلاتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو ریاست کو فوری آپریشن کی پالیسی سے پیچھے ہٹنا پڑ گیا۔ لیکن اس سے ریاست کی بوکھلاہٹ میں اصافہ ہوا ہے اور وہ ’خواتین کو سبق سکھانے‘ کے متبادل طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

شاید اسی بوکھلاہٹ میں ہی ریاست نے بلوچستان یکجہتی کمیٹی کی خاتون قائد کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے تاکہ کشمیر کی خواتین کو بھی ایک واضح پیغام دیا جائے کہ ریاست کسی صورت اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور خواتین کے خلاف بھی ننگے جبر کی آپشن پر سوچا جا سکتا ہے۔ مگر دراصل ریاست کی یہ بوکھلاہٹ پر مبنی وحشت اس کی طاقت نہیں کمزوری اور خجالت کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور غیور کشمیری خواتین نے طبقاتی توازن کا پلڑا ایک دفعہ پھر تحریک کے حق میں کر دیا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے میں بھی پھوٹ میں شدت آئی ہے اور میڈیا سے لے کر پارلیمان تک آپریشن کی بجائے بات چیت کے آپشن پر اصرار میں اضافہ ہوا ہے۔
ثالثی اور عالمی برادری
تحریک کی قیادت تمام تر مثبت امکانات کے باوجود دفاعی حکمتِ عملی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں قیادت کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کو خط لکھ کر ثالثی کی دعوت دی گئی۔ قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے عناصر ریاست سے عارضی طور پر نالاں تو ہو سکتے ہیں مگر ان کا ریاست سے کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے۔ اسی لیے سب سے پہلے خود فضل الرحمان نے بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے محرم الحرام کے احترام میں دھرنے ختم کرتے ہوئے خیر سگالی کے عملی مظاہرے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں خود فضل الرحمان کے اپنے ہینڈلرز کو بھی اندازہ ہوا کہ حکومت کا مطالبہ دوہرا کر بطور ثالث فضل الرحمان کی حیثیت ہی متنازعہ ہو گئی ہے۔ گویا مولانا کی طرف سے ثالثی کا یہ ناٹک تادم تحریر جاری و ساری ہے۔ اسی طرح وکلا و صحافی برادری کی طرف سے بھی ثالثی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جماعت اسلامی سے حال ہی میں مستعفی ہونے والے سابقہ سینیٹر مشتاق احمد بھی راولاکوٹ کا ایک دورہ کر چکے ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں مزید لوگ بھی اسی طرح آتے اور جاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ثالثی ممکن ہے بھی یا نہیں؟ ہم انقلابی کمیونسٹ سمجھتے ہیں کہ دوہرے اقتدار کی اس کیفیت میں ثالثی کی نوعیت یکسر تبدیل ہو جاتی ہے۔ کیا دونوں فریقین میں سے کوئی ایک فیصلہ کن پسپائی اختیار کر سکتا ہے؟ بہت مشکل ہے اور ایسا کوئی انتظام جس کے تحت یہ دوہرا اقتدار بھی برقرار رہے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل بھی نکل آئے بعید از قیاس ہے۔ تحریک کی قیادت ثالثی کے اس دورانیے میں حاصل کیے گئے اضافی وقت کو عالمی برادری اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سارا زور سمندر پار کشمیریوں کے کردار پر لگایا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیں تاکہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کروائیں۔

یہ کوشش کافی حد تک بچگانہ لگتی ہے، مسئلہ کشمیر پر پہلے ہی اقوام متحدہ کی بے شمار قراردادیں موجود ہیں لیکن کیا بھارت نے کبھی آج تک ان قراردادوں کو سنجیدہ لیا؟ بالکل نہیں۔ یاد رہے کہ بھارت تاریخی طور پر سامراجی کیمپ کا باقاعدہ حصہ بھی نہیں تھا۔ پاکستان تو آج کل ویسے ہی امریکی سامراج کی ’آنکھ کا تارہ‘ بنا ہوا ہے اور دوسری طرف خود مسئلہ کشمیر میں فریق ہونے اور خطے میں بھارت کے خلاف پاکستان کے اہم اتحادی ہونے کے باعث چین کی بھی ہمدردیاں ریاست پاکستان کے ساتھ ہیں، ایسے میں عالمی برادری سے مبالغہ آمیز توقعات وابستہ کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سمندر پار کشمیریوں کو پاکستانی ایمبیسیوں کے باہر احتجاج نہیں کرنا چاہیے، ضرور کرنا چاہیے، ہر دستیاب فورم استعمال کرنا چاہیے مگر ان تمام عوامل کو اس طبقاتی جنگ میں دشمن پر دباؤ بڑھانے کے لیے تو استعمال کیا جا سکتا ہے اور کرنا بھی چاہیے لیکن اس کے ذریعے پیچیدہ تاریخی سوالات کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ غزہ میں بھی جنگ بندی نام نہاد عالمی برادری کے دباؤ پر نہیں ہوئی تھی بلکہ عالمی مزدور تحریک بالخصوص اٹلی اور سپین کی ٹریڈ یونینوں کی عام ہڑتالوں نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انقلابی کمیونسٹ کشمیر کے مسئلے پر بھی نام نہاد عالمی برادری سے زیادہ بین الاقوامی محنت کش طبقے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے عوام کی اس فقید المثال جدوجہد سے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ اس سلسلے میں انقلابی کمیونسٹ عملی اقدامات میں بھی پیش پیش ہیں۔
آگے کیا ہو گا؟
یہ درست ہے کہ 14 جون کے بعد سے ریاست نے راولاکوٹ میں جاری دھرنوں پر براہ راست حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک کے خلاف ریاستی آپریشن تعطل کا شکار ہے۔ نیلم سے لے کر ہجیرہ تک جہاں جہاں بھی ریاست کو موقع مل رہا ہے وہ گرفتاریاں اور انتقامی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ چادر اور چار دیواری کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہے، خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے، سرگرم کارکنان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں اور لوٹ مار میں شدت لائی جا رہی ہے، لاک ڈاؤن کو زبردستی ختم کروانے کی کوششیں جاری ہیں، لوگوں کو گرفتار کر کے ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کے بیانات لیے جا رہے ہیں، یہ سب ریاستی آپریشن نہیں تو اور کیا ہے۔ ریاست ہر صورت اور ہر قیمت پر اپنی رٹ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی، نون لیگ اور مسلم کانفرنس جیسی ریاست نواز پارٹیوں کی سماجی حمایت بھی ریاستی رٹ کی طرح ہوا میں معلق ہے۔ ان کے اکابرین کو شادیوں اور جنازوں سے بھی دھکے مار کر نکالنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، ایسے میں ریاست اگر انتخابات کروانے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو ان انتخابات کی کیا حیثیت ہو گی، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔
پاکستان میں مزدور تحریک اور بائیں بازو کی کمزوری کے علاوہ اس وقت کوئی ایسا عنصر نہیں ہے جس نے تحریک کو ملک بھر میں پھیلنے سے معروضی طور پر روک کر رکھا ہو۔ کراچی سے لے کر پشاور تک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کے تمام مطالبات کے لیے بھرپور سماجی حمایت موجود ہے، یہ سب لوگ خود بھی ان سے ملتے جلتے مسائل کا ہی شکار ہیں، لیکن بدقسمتی سے کوئی ایسی انقلابی قوت موجود نہیں جو کشمیر کی عوامی تحریک سے بڑے پیمانے پر یکجہتی حاصل کرتے ہوئے حکمران طبقے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکے۔ بلوچستان، گلگت اور پختونخوا کی عوامی تحریکیں پسپائی کا شکار ہیں، پنجاب اور سندھ میں سرکاری ملازمین میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے یا آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف تھوڑی بہت ہلچل موجود ہے، لیکن ملک گیر عوامی تحریک کی فی الوقت عدم موجودگی ریاستی پالیسی سازوں کو کشمیر میں تحریک کو کچلنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ اس لیے تحریک پر بدترین جبر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تحریک کی قیادت بھی بجا طور پر یہ سمجھ رہی ہے کہ ان کے پاس واپسی کا آپشن مسدود ہو چکا ہے۔ اگر وہ مولانا فضل الرحمان یا کسی بھی نئے ثالث کے دباؤ میں یہاں سے پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کی جان اور آزادی کی ضمانت کون دے گا؟ جو حکومت پہلے ہی ایک معاہدے سے بد عہدی کی مرتکب ہوئی ہو اور جس ریاست کی تاریخ مظلوم اقوام سے وعدہ خلافیوں سے عبارت ہو، اس پر بھروسہ کر کے دھرنے ختم کرنا اسی شاخ کو کاٹنے کے جیسا ہے جس نے آپ کو سہارا دیا ہوا ہو۔ اسی لیے بامقصد مذاکرات سے قبل 5 جون سے پہلے کی صورتحال کی بحالی یعنی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کالعدم ہونے کے نوٹیفیکیشن کی واپسی، مقدمات کے خاتمے اور سر پر لگائی گئی قیمتوں کے فیصلوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل درست ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں حکومت اس پر راضی ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ ریاست تحریک کو تھکا کر، اس کی رسد کو مکمل طور پر کاٹ کر اسے اندر سے کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ایسے میں دونوں طرف سے ناقابل واپسی صورتحال جنم لے چکی ہے۔ یعنی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت جس تصادم کو روکنا چاہ رہی ہے، وہ بہت تیزی سے ان کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر کمیٹی کی قیادت اس تصادم سے صرفِ نظر کرتی ہے اور ریاست کی انتقامی کاروائیاں نہ کرنے کی یقین دہانیوں کے جھانسے میں آ کر پیچھے ہٹتی ہے تو اسے اپنے کلیدی مطالبات سے بھی پیچھے ہٹنا ہو گا جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سیاسی موت ہو گی۔ لیکن تحریک میں موجود عوام کا جوش و خروش مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے قیادت زیادہ دیر تک اس عوامی سمندر کی موجوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے گی۔
اگر تحریک کے دباؤ میں قیادت لانگ مارچ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو صورتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی۔ جونہی یہ عوام کا جم غفیر راولاکوٹ میں داخل ہو گا اور شہر کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے گا تو تحریک کے نئے اور فیصلہ کن مرحلے کا آغاز ہو جائے گا۔ اس مرحلے میں پھر دو اہم امکانات سر اٹھائیں گے۔ پہلا انقلاب اور دوسرا رد انقلاب۔ البتہ بغیر فیصلہ کن لڑائی کے دوسرا امکان ہی واحد امکان رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ قیادت یا اس کے متبادل کے طور پر ابھرنے والی اور کوئی اور حادثاتی قیادت یہ لڑائی لڑنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو پھر کشمیر کی یہ حکومت جو اپنا اخلاقی جواز پہلے ہی کھو چکی ہے، اس کا اقتدار میں رہنا ناممکن ہو جائے گا۔ ایسے میں اس قیادت کو اپنی انقلابی حکومت کے قیام کی طرف بڑھنا پر سکتا ہے جس سے یہ موجودہ قیادت خود خوفزدہ ہے۔ ایسے میں متذبذب قیادت خود پھر پاکستانی ریاست کے کسی دھڑے کی زیرِ سرپرستی ایک ’قومی حکومت‘ کا نعرہ بلند کر سکتی ہے۔ انقلابی کمیونسٹ ایک انقلابی حکومت اور ”تمام اقتدار جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو دو“ اور سوشلسٹ جمہوریہ کی تشکیلکا نعرہ پیش کریں گے۔ یہ بظاہر ایک خواب کے جیسا لگتا ہے مگر جب کشمیر کی عوام کی اس کرشماتی اور معجزاتی تحریک کو دیکھیں تو پھر اسے ایک امکان کے طور پر رد کرنا نری بزدلی اور بد دیانتی ہو گی۔ عوام اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتی ہیں۔ لوگوں نے اپنی جان، مال، جائیدادیں پر چیز داؤ پر لگا دی ہے، دوسرے معنوں میں ملکیتی رشتوں کے غیر اہم ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اور عوام نے طبقاتی سماج کے خاتمے اور غیر طبقاتی سوشلسٹ معاشرے کے قیام کی طرف سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ اب اس تحریک کا انجام اس تحریک کی قیادت اور خطے بھر کے محنت کشوں کی شعوری مداخلت اور یکجہتی پر منحصر ہے۔
یہ درست ہے کہ اگر کشمیری عوام کامیاب ہوتے ہیں تو اس صورت میں پاکستان اور بھارت دونوں طرف سے انقلاب کے خلاف فوج کشی کے امکانات ہوں گے۔ مگر اس صورت میں جب کشمیر کی عوامی حکومت پاکستان اور بھارت کے محنت کش عوام سے یکجہتی کی اپیل کرے گی تو صورت حال ڈرامائی طور پر تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دھرنوں کے سٹیج سے بار بار پاکستان کے محنت کش عوام سے یکجہتی کی اپیل کی جا رہی ہے جس سے فوری طور پر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو پا رہے لیکن فتح مند عوام کی طرف سے نئی انقلابی حکومت کے دفاع میں کی گئی یکجہتی کی اپیل معیاری طور پر بالکل مختلف نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔ اس سے پاکستان بھر میں حاوی مایوسی اور خوف کی فضا ٹوٹے گی اور لوگوں کا عوامی مزاحمت پر یقین مستحکم ہو گا اور ایک نئی سیاسی بیداری کی لہر کا آغاز ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ عوام کشمیر کا معاشی محاصرہ توڑنے کے لیے اپنی حکومت اور ریاست سے ٹکرا جائیں اور یہ ایک ملک گیر انقلاب کا نکتہ آغاز ثابت ہو۔
دوسری طرف اگر تحریک کو خون میں ڈبو دیا جاتا ہے یا تحریک کی قیادت فیصلہ کن لڑائی سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتی ہے تو وقتی طور پر تو شاید جاں خلاصی ہو جائے مگر یہ خطہ پھر ایک طویل عرصے کے لیے عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ لوگ وقتی شکست کے باوجود اپنی اپنی گنجائش کے مطابق مزاحمت جاری رکھیں گے اور ریاست سماج کا مکمل کنٹرول شاید کبھی حاصل نہ کر سکے۔ ایک طویل عرصے سے بھارتی مقبوضہ کشمیر جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے جہاں جھڑپیں، کرفیو اور تصادم نیا معمول بن جائے۔ یہ فورسز جو کشمیر گئی ہیں شاید کبھی واپس نہ آئیں بلکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تحریک کی قیادت میں سرگرم افراد کو چن چن کر نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ مگر حکمران کچھ بھی کر لیں اب وہ تبدیلی کی خواہش کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گلا نہیں گھونٹ سکیں گے۔ کشمیر کے بچے بچے جوشیلی تقاریر کر رہے ہیں اور انقلابی نعرے لگا رہے ہیں، جب یہ بچے جوان ہوں گے تو یہ ایک ایسی نسل ہو گی جس کا تجربہ اس ریاست کو کبھی ہوا ہی نہیں اور جو اپنے ساتھ بلوچستان، پختونخوا، سندھ اور پنجاب میں جوان ہونے والی نسل کو بھی جھنجوڑ کر رکھ دے گی۔ یوں بے شمار انقلابی و رد انقلابی امکانات سے مزین یہ عہد چونکا دینے اور ششدر کر دینے والے واقعات سے لبریز ہو گا۔ کامیابی ہو یا ناکامی کشمیر کی عوام کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔
ریاستی جبر مردہ باد!
کشمیر کے غیور عوام کی تاریخ ساز جدوجہد زندہ باد!
فتح کی سمت متحد، بڑھے چلو بڑھے چلو!
دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!