بلوچستان میں بائیں بازو کی سیاست، چیلنجز اور امکانات

|تحریر: زلمی پاسون|

بلوچستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت خون آلود اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں دہائیوں سے جاری ریاستی جبر، معاشی استحصال، قومی محکومی اور سیاسی گھٹن نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔ یہاں کی مٹی گواہ ہے کہ کس طرح طاقت کے نشے میں چور حکمران طبقات نے ایک طرف بندوق، جبری گمشدگیوں اور فوجی آپریشنوں کے ذریعے ہر سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش کی، تو دوسری طرف مسلسل معاشی لوٹ مار، بے روزگاری، غربت اور پسماندگی نے عوام کی زندگی کو عذاب بنا دیا۔

بلوچستان کے مسئلے کو یہاں کے دلال اور مسلط کردہ حکمران دانستہ طور پر غیر سیاسی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ مسلسل یہ پراپیگنڈا دہراتے ہیں کہ یہاں کوئی قومی، سیاسی یا معاشی سوال موجود نہیں، بلکہ صرف چند ”سرپھرے“ نوجوان ایک لاحاصل جنگ میں مصروف ہیں جو معصوم عوام کو ورغلا رہے ہیں۔ اس بیانیے کے ذریعے وہ نہ صرف بلوچ عوام کی حقیقی محرومیوں اور تاریخی جبر پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ہر قسم کے سیاسی اختلاف، مزاحمت اور حقوق کی جدوجہد کو محض ”سکیورٹی مسئلہ“ قرار دے کر کچلنا چاہتے ہیں۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ محض انتظامی بدانتظامی یا چند مسلح گروہوں کی کاروائیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک قوم پر پچھلی آٹھ دہائیوں کے قریب مسلط کردہ قومی جبر کے خلاف، وسائل پر حقِ ملکیت، سیاسی خودمختاری اور انسانی وقار کی جدوجہد کا سوال ہے۔ آج بلوچستان کا نوجوان جب اپنے وسائل، روزگار، تعلیم، آزادیِ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے مذاکرات یا سیاسی حل کی بجائے ریاستی جبر، لاپتہ کیے جانے، فوجی آپریشنوں اور زندانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے حکمران طبقہ ہر قیمت پر چھپانا چاہتا ہے۔

انقلابی استاد لیون ٹراٹسکی نے نوجوانوں کے اسی تڑپتے ہوئے لہجے کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ”نوجوان معاشرے کے درخت کے ان بالائی پتوں کی طرح ہوتے ہیں، جو آنے والے طوفان کی پہلی ہوا کو سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں۔“ آج بلوچستان کا نوجوان اسی طوفان کی دستک سن چکا ہے۔ وہ سماج کا وہ بیدار حصہ ہے جو ریاستی ظلم کی ہر لہر کو اپنے سینے پر محسوس کر رہا ہے۔ جب ریاست مکالمے کی زبان بھول کر صرف گولی اور جبر کی زبان بولنے لگے، تو نوجوانوں میں پیدا ہونے والا غم و غصہ، بے چینی اور تڑپ ایک فطری ردِعمل بن جاتی ہے۔

”نوجوان معاشرے کے درخت کے ان بالائی پتوں کی طرح ہوتے ہیں، جو آنے والے طوفان کی پہلی ہوا کو سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں۔“

ریاستی پالیسیوں کا حال یہ ہے کہ بلوچستان کا شاید ہی کوئی گھر جبری گمشدگیوں کے زخم سے محفوظ ہو۔ ”اٹھا کر غائب کر دینے“ کے اس غیر انسانی سلسلے نے ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ فوجی آپریشنوں کے نام پر انسانی بستیوں کی پامالی، ویرانوں سے ملنے والی مسخ شدہ لاشیں اور ریاستی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ”فیک انکاؤنٹرز“ کا خونی کھیل اس جبر کو انتہا تک پہنچا چکا ہے۔ ان ٹھوس اور لرزہ خیز تجربات نے بلوچستان کے نوجوانوں پر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ موجودہ نظام ان کے لیے تحفظ، انصاف اور مستقبل کی ضمانت نہیں بلکہ خوف، محرومی اور مسلسل عدم تحفظ کی علامت بن چکا ہے۔

مگر اسی تاریکی کے اندر ایک نئی سیاسی آگ بھی جنم لے رہی ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کی ایک بڑی اکثریت اب محض جذباتی ردِعمل تک محدود ہونا نہیں چاہتا، بلکہ وہ اپنے اردگرد کے سماجی، معاشی اور سیاسی تضادات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ وہ خطہ، جو گیس، معدنیات، ساحلی پٹی اور بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، وہاں کے عوام بھوک، بے روزگاری، غربت اور پسماندگی کا شکار کیوں ہیں؟ کیوں وسائل کی دولت چند دلال حکمرانوں، سرمایہ داروں اور سامراجی مفادات کی نذر ہو جاتی ہے جبکہ مقامی آبادی بنیادی انسانی ضروریات سے بھی محروم رہتی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں بائیں بازو کی سیاست ایک سائنسی اور انقلابی متبادل کے طور پر ابھرتی ہے۔ یہ سیاست نوجوانوں کو یہ شعور دیتی ہے کہ قومی جبر، ریاستی دہشت اور طبقاتی لوٹ مار دراصل ایک ہی استحصالی نظام کے مختلف چہرے ہیں، اور ان کا مقابلہ محض انفرادی ردِعمل، بے سمت غصے یا منتشر مزاحمت سے نہیں بلکہ ایک منظم، نظریاتی اور متحد عوامی طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اسی تناظر میں بلوچستان کے بحران کو بھی کسی مقامی یا الگ تھلگ مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ درحقیقت عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اُس گہرے اور ہمہ گیر بحران کا حصہ ہے، جہاں سامراجی طاقتیں اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری دنیا میں جنگوں، قومی جبر، عسکریت اور بربریت کو ہوا دے رہی ہیں۔ لہٰذا بلوچستان کے سوال کو عالمی سرمایہ داری کے زوال، سامراجی کشمکش اور خطے میں جاری وسیع تر سیاسی و معاشی ہلچل سے الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔

عالمی تناظر: ڈوبتی ہوئی سرمایہ داری اور سامراجی بربریت

آج عالمی سرمایہ داری ایک ایسے تاریخی زوال کا شکار ہے جہاں اس کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے سوائے جنگوں، بھوک اور بربادی کے کچھ نہیں بچا۔ امریکی سامراج نے پوری دنیا کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رکھا ہے، بالخصوص لاطینی امریکہ کو وہ آج بھی اپنا ”بیک یارڈ“ سمجھتا ہے جہاں وہ اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومتیں لانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ کیوبا کی دہائیوں سے جاری معاشی ناکہ بندی ہو یا وینزویلا کے منتخب صدر کو اغوا کرنے کی حالیہ سامراجی چال، یہ سب اس نسبتاً زوال پذیر سامراج کی وحشت کی علامتیں ہیں۔ یوکرین سے لے کر فلسطین تک اور ایران پر مسلط کردہ سامراجی جنگ سے لے کر سوڈان، یمن اور مالی کی خانہ جنگیوں تک، یہ سب اس ڈوبتے ہوئے نظام کے شاخسانے ہیں۔ ایک طرف معاشی پابندیوں کے ذریعے ملکوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور ماحولیاتی تباہی کا ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے محنت کشوں کا سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔

3 اکتوبر 2025ء کو اٹلی کے محنت کشوں نے فلسطین میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے خلاف جو عظیم الشان سیاسی عام ہڑتال کی۔

لیکن اس بربریت کے خلاف دنیا بھر کا محنت کش طبقہ اب دیوار بن کر کھڑا ہو رہا ہے۔ حال ہی میں 3 اکتوبر 2025ء کو اٹلی کے محنت کشوں نے فلسطین میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے خلاف جو عظیم الشان سیاسی عام ہڑتال کی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کش طبقہ اب جغرافیائی حدود سے نکل کر ایک دوسرے کے درد کو محسوس کر رہا ہے۔ فرانس کی سڑکوں سے لے کر امریکہ کے کیمپسز تک استحصالی نظام کے خلاف ایک نئی لہر ابھر رہی ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش، کینیا، نیپال اور انڈونیشیا میں ہونے والی حالیہ عوامی شورشیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عوام اب لاشعوری طور پر سوشلزم اور ایک متبادل نظام کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔ یہ بغاوتیں بتاتی ہیں کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو محنت کش طبقہ تخت و تاج اچھالنے کی قوت رکھتا ہے۔

پاکستان یا بحرانستان:

عالمی بحران کے تسلسل میں اگر ہم پاکستان کو دیکھیں تو یہ ریاست آج ایک ”بحرانستان“ کی تصویر پیش کر رہی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ داری اپنے آغاز ہی سے بیساکھیوں پر رہی ہے لیکن آج یہ نظام مکمل طور پر بانجھ اور دیوالیہ ہو چکا ہے۔ حکمران طبقہ جو آپس میں دست و گریبان ہے، اس کے پاس معیشت چلانے کا کوئی نسخہ نہیں سوائے اس کے کہ آئی ایم ایف کے حکم پر عوام کی چمڑی ادھیڑ دی جائے۔ معاشی دیوالیہ پن کا بوجھ نجکاری، مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں محنت کش طبقے پر لادا جا رہا ہے اور ریاست اپنے دفاع کے لیے اب صرف ننگے جبر کا سہارا لے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مظلوم قومیتوں پر جاری تاریخی جبر میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ جبر محض بلوچستان تک محدود نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں ریاست اپنے گہرے ہوتے ہوئے معاشی و سیاسی بحران کا بوجھ عوام پر مسلط کرنے کے لیے کھلے آمرانہ طریقوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ہر مظلوم قومیت اور ابھرتی ہوئی عوامی مزاحمت کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پنجاب میں عوام کی ممکنہ تحریکوں کے پیش نظر وہاں پر ریاستی سکیورٹی اداروں کو مکمل طور پر کھلی چوٹ دی گئی ہے جس کا واضح اظہار کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے روزانہ کی بنیاد پر انکاؤنٹرز کے واقعات ہیں۔ پشتون خطے میں دہشت گردی کا جو نیا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، اس کا پورا ملبہ وہاں کے معصوم عوام پر گرایا جا رہا ہے۔ محنت کش عوام اس نام نہاد جنگ میں دونوں اطراف سے نشانہ بنتے ہوئے ان کی زندگیوں کو بیرونی مفادات کی بھٹی میں جھونک دیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں جمہوری اور بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرانے کے لیے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور ریاست وہاں کے عوام کو ان کے اپنے وسائل سے محروم رکھنے کے لیے ہر قسم کا غیر قانونی ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔ بالکل اسی طرح ”آزاد“ کشمیر میں پچھلے سال عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے براہِ راست فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی نوجوانوں نے شہادت پائی۔ سندھ میں صورتحال یہ ہے کہ وڈیرہ شاہی اور ریاستی گٹھ جوڑ نے معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ سندھی عوام پر سماجی جبر کے پہاڑ توڑ دیے ہیں، جہاں نچلے طبقے کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے اور وسائل پر قبضہ چند ہاتھوں میں سمٹ چکا ہے۔ ریاست کا یہ مجموعی بحران ظاہر کرتا ہے کہ اب یہاں اصلاحات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور یہ قومی جبر دراصل اسی سڑے ہوئے سرمایہ دارانہ ڈھانچے کی پیداوار ہے جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

سلگتا ہوا بلوچستان اور نوجوان نسل

آج کا بلوچستان احتجاج اور مزاحمت کا ایک ایسا استعارہ بن چکا ہے جہاں ہر گزرتا دن نوجوان نسل کے لیے نئے سوالات اور چیلنجز لے کر آتا ہے۔ بلوچستان میں جاری قومی جبر کے تاریخی پس منظر سے قطع نظر، اگر ہم موجودہ صورتحال کا عمومی جائزہ لیں تو بلوچ سماج اس وقت ایک عجیب ہیجان کی کیفیت میں ہے۔ عسکریت پسندی کا موجودہ فیز، جو اب کم و بیش دو دہائیوں کے طویل عرصے پر محیط ہو چکا ہے، بلوچ نوجوانوں کی نفسیات اور سیاسی فکر پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ کیا بلوچ نوجوان محض بندوق کے ذریعے جدوجہد کرنا چاہتا ہے؟ کیا اس کے پاس سیاسی اظہار کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں؟

اس سوال کا جواب ہمیں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی حالیہ عوامی تحریک میں ملتا ہے۔ اس تحریک نے ثابت کیا کہ جب بلوچ سماج کو سیاسی ہلچل کا موقع ملا، تو نوجوان نسل کی اکثریت نے پورے جوش و خروش کے ساتھ عوامی اور پرامن جدوجہد کے ذریعے اپنا اظہار کیا۔ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے والے یہ نوجوان اس بات کی گواہی تھے کہ بلوچ نوجوان عوامی جدوجہد کو نہ صرف اہم سمجھتا ہے بلکہ اسے دل سے قبول بھی کرتا ہے۔ لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اگر نوجوان عوامی جدوجہد پر یقین رکھتا ہے، تو پھر اس کا بڑا حصہ عسکریت پسندی کی جانب کیوں مائل ہو رہا ہے؟

اس تضاد کی سب سے بڑی وجہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر عوامی پلیٹ فارمز کی قیادت کی جانب سے ایک واضح، منظم اور انقلابی سیاسی پروگرام کی عدم موجودگی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سماج میں بڑی عوامی تحریکیں جنم لیتی ہیں، تو وہ اپنے ساتھ ایک متبادل نظریاتی پروگرام اور ٹھوس سیاسی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہیں۔ جب ایسی تحریکیں نوجوانوں کو واضح سیاسی سمت، طبقاتی لائحہ عمل اور انقلابی قیادت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں، تو اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کی سب سے متحرک اور قربانی دینے والی ہراول پرت مایوسی، بے سمتی اور ایڈونچرزم کی طرف دھکیل دی جاتی ہے، جہاں وہ بندوق اٹھانے کو واحد راستہ سمجھنے لگتی ہے، جبکہ دوسری جانب پوری عوامی تحریک عمومی طور پر پسپائی، انتشار اور سیاسی جمود کا شکار ہونے لگتی ہے۔ اسی سیاسی خلا کی وجہ سے نوجوانوں کی بے پناہ انقلابی توانائی ایک منظم عوامی قوت میں ڈھلنے کی بجائے منتشر راستوں پر بہہ جاتی ہے۔ حالانکہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ قومی جبر، ریاستی دہشت اور طبقاتی استحصال کا مستقل حل محض انفرادی مسلح ردِعمل میں نہیں بلکہ ایک ایسی منظم انقلابی تحریک میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں ریاست کا کردار نہایت خطرناک اور متضاد ہے۔ ریاست عوامی اور سیاسی جدوجہد کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے کیونکہ منظم عوامی طاقت نہ صرف جبر بلکہ وسائل کی لوٹ مار پر قائم پورے استحصالی نظام کو چیلنج کرتی ہے۔ اس کے برعکس، ایک مخصوص حد تک عسکریت پسندی ریاست کے لیے ”قابلِ قبول“ ہوتی ہے کیونکہ اس کی آڑ میں وہ سیاسی آوازوں کو کچلنے، فوجی آپریشنوں کو جواز دینے اور بلوچستان کے وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست ہمیشہ سیاسی میدان کو بنجر کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ عوامی سیاست کی جگہ خوف، انتشار اور عسکریت پسندی غالب رہے۔

ریاستی جبر میں روز افزوں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی استحصال کو بھی ایک مہلک اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بنیادی انفراسٹرکچر کی دانستہ عدم موجودگی، تعلیم و صحت کی سہولیات سے محرومی اور نوجوانوں کی ایک بہت بڑی کھیپ کو بے روزگاری کی دلدل میں دھکیل دینا ایسے عوامل ہیں جو نوجوانوں کو مایوسی کی انتہا پر پہنچا دیتے ہیں۔ جب ایک نوجوان کے پاس نہ روزگار ہو، نہ سیاسی اظہار کا راستہ اور نہ ہی کوئی معاشی مستقبل، تو ایسی صورت میں وہ ریاست کے اس منظم جبر کے خلاف ردِعمل کے طور پر عسکریت پسندی کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔ یوں، متبادل سیاسی پروگرام کی کمی اور ریاست کی ”پولیٹیکل انجنیئرنگ“ مل کر بلوچ نوجوان کو اس کٹھن راستے پر دھکیل رہے ہیں، حالانکہ اس کی پہلی ترجیح ہمیشہ سے ایک منظم عوامی اور شعوری جدوجہد ہی رہی ہے۔

کیا بندوق کے ذریعے آج کے عہد میں آزادی ممکن ہے؟

آزادی کی تڑپ ہر محکوم قوم کا فطری حق ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کے جدید تکنیکی اور سامراجی عہد میں محض بندوق کے زور پر حقیقی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے؟ مارکسی اساتذہ نے مسلح جدوجہد کے سوال کو کبھی بھی ایک مجرد یا مقدس شے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ہمیشہ سیاسی مقاصد کے تابع رکھا ہے۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کا موقف تھا کہ تشدد تاریخ کی دائی تو ہو سکتا ہے لیکن یہ خود کوئی نظریہ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اصل قوت محنت کش طبقے کی منظم سیاسی طاقت ہے، نہ کہ محض اسلحہ۔ ولادمیر لینن نے اس بحث کو مزید واضح کرتے ہوئے انفرادی دہشت گردی اور عوامی شمولیت سے کٹی ہوئی مسلح کاروائیوں کی سخت مخالفت کی۔ لینن اور لیون ٹراٹسکی کا ماننا تھا کہ بندوق صرف اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ ایک ملک گیر عوامی ابھار اور سیاسی پروگرام کا حصہ ہو۔ ٹراٹسکی کے بقول: ”انفرادی دہشت گردی عوامی تحریک کو مفلوج کر دیتی ہے کیونکہ یہ عوام کو تماشائی بنا دیتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جگہ کوئی اور (مسلح گروہ) لڑ رہا ہے۔“

آج کے عہد میں محض مسلح جدوجہد کی بنیاد پر کسی قوم کے لیے حقیقی آزادی حاصل کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام نے دنیا کو اس حد تک معاشی، سیاسی اور عسکری طور پر آپس میں جوڑ دیا ہے کہ کوئی بھی خطہ محض فوجی کامیابی کے ذریعے خود کو عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی تحریک طویل عسکری جدوجہد کے بعد ریاستی یا نوآبادیاتی اقتدار کو شکست دے کر ”سیاسی آزادی“ حاصل بھی کر لے، تب بھی وہ عالمی سرمایہ داری، سامراجی مالیاتی اداروں اور بڑی طاقتوں کے معاشی دباؤ کے شکنجے میں پھنسی رہتی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جن ممالک نے بندوق کے زور پر آزادی حاصل کی، ان کی موجودہ حالت اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ الجزائر، ویتنام اور کئی افریقی ممالک نے بے پناہ قربانیاں دے کر نو آبادیاتی تسلط کو تو ختم کیا، مگر معاشی طور پر وہ آج بھی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ویتنام، جس نے امریکی سامراج کو تاریخی شکست دی تھی، آج عالمی منڈی کے اندر سستی محنت کے ایک بڑے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں سرمایہ دارانہ استحصال نئی شکلوں میں جاری ہے۔

اسی طرح کرد تحریک ہو یا فلسطین کی دہائیوں پر محیط مزاحمت، اگر کوئی تحریک ایک واضح انقلابی سیاسی پروگرام اور عالمی محنت کش طبقے کے ساتھ طبقاتی یکجہتی سے محروم ہو، تو وہ بالآخر ایک سامراجی طاقت کی بجائے کسی دوسری سامراجی یا علاقائی قوت کے مفادات کا آلہ بننے کے خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اس لیے حقیقی آزادی محض جھنڈا، نقشہ یا حکمران بدلنے کا نام نہیں، بلکہ اس پورے معاشی و سیاسی ڈھانچے کے خاتمے کا نام ہے جو انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال پر قائم ہے۔

جہاں تک بلوچستان کی آزادی کا تعلق ہے، بطور انقلابی کمیونسٹ، ہم مظلوم قوموں کے حقِ خودارادیت بشمول آزادی کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ واضح کرنا ہو گا کہ ہم ”کون سی آزادی“ کی بات کر رہے ہیں؟ لینن نے اپنی تحریر ”حقِ خودارادیت“ میں واضح کیا تھا کہ کمیونسٹ ہر قسم کے قومی جبر کے خلاف ہیں، لیکن ان کا مقصد صرف نئی سرحدیں کھینچنا نہیں بلکہ مختلف قوموں کے محنت کشوں کو ایک رضاکارانہ فیڈریشن میں جوڑنا ہے تاکہ سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جا سکے۔

لینن کے نزدیک حقِ خودارادیت کا اصول محض ایک اخلاقی حمایت نہیں تھا، بلکہ وہ اس کی چند بنیادی شرائط اور سیاسی مقاصد بیان کرتا تھا۔

لینن کے نزدیک حقِ خودارادیت کا اصول محض ایک اخلاقی حمایت نہیں تھا، بلکہ وہ اس کی چند بنیادی شرائط اور سیاسی مقاصد بیان کرتا تھا۔ لینن کا واضح موقف تھا کہ ہم مظلوم قوموں کے حقِ خودارادیت بشمول علیحدگی (Secession) کی حمایت اس لیے کرتے ہیں تاکہ مختلف قوموں کے محنت کشوں کے درمیان موجود ”ریاستی جبر کی دیوار“ کو گرا کر ان کے اتحاد کی راہ ہموار کی جا سکے۔ وہ کہتا تھا کہ کسی قوم کو زبردستی ایک ریاست میں بند رکھنا اس قوم کے محنت کشوں کو اپنی ہی ریاست کے حکمران طبقے کی گود میں دھکیل دیتا ہے۔ لہٰذا، ایک انقلابی کمیونسٹ کے طور پر ہم بلوچستان کی آزادی کے حق کی حمایت درج ذیل سائنسی بنیادوں پر کرتے ہیں:

اول، یہ کہ جب تک ریاست کا ننگا جبر موجود ہے، بلوچ محنت کش اور نوجوان کبھی بھی مصنوعی وفاق کی کسی دوسری قوم کے محنت کشوں کو اپنا طبقہ وارانہ بھائی نہیں سمجھ سکیں گے، بلکہ وہ انہیں بھی غاصب کا حصہ تصور کریں گے۔ لینن کے مطابق، علیحدگی کا حق تسلیم کرنا دراصل رضاکارانہ اتحاد کی پہلی شرط ہے۔

دوم، مارکسی نقطہ نظر سے ہم ”کون سی آزادی“ کی حمایت کرتے ہیں؟ یہاں لینن کی شرط بالکل واضح تھی کہ ہماری حمایت قوم پرست اشرافیہ یا مقامی گماشتہ حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ ”محنت کش طبقے کی آزادی“ کے لیے ہے۔ اگر آزادی کا مطلب محض یہ ہے کہ استحصال کی باگ ڈور اسلام آباد کی بجائے بلوچستان کے کسی سردار یا نودولتیے سرمایہ دار کے ہاتھ میں چلی جائے، تو وہ مارکسیوں کے لیے ایک ناکافی اور دھوکہ دہی پر مبنی آزادی ہے۔

ہندوستان کی آزادی کے عظیم انقلابی بھگت سنگھ نے اس نکتے کو نہایت خوبصورتی سے سمجھا تھا۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کے دوران میں خبردار کیا تھا کہ ہماری لڑائی صرف ”گورے فرنگی“ کے خلاف نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اگر فرنگی چلا گیا اور اس کی جگہ ”کالے صاحب“ (مقامی گماشتہ حکمران) آ بیٹھے تو محنت کش طبقے کا استحصال ویسے ہی جاری رہے گا۔ بھگت سنگھ کے نزدیک آزادی کا مطلب نظام کی تبدیلی تھا، نہ کہ صرف حکمرانوں کے چہرے بدلنا۔ لہٰذا، بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کو بھی صرف ایک جغرافیائی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک طبقاتی جنگ کے طور پر دیکھنا ہو گا، جہاں دشمن صرف ریاست نہیں بلکہ وہ عالمی سرمایہ داری اور اس کے مقامی گماشتے بھی ہیں جو بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں برابر کے شریک ہیں۔

آج بلوچستان کے تناظر میں ایک درست انقلابی کمیونسٹ کا موقف یہ ہے، کہ ہم حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں، کہ حقیقی آزادی صرف اسی صورت میں پائیدار ہو گی جب اسے طبقاتی جدوجہد اور سوشلسٹ انقلاب کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ ہم ایسی آزادی کی بات کرتے ہیں جہاں بلوچستان کے معدنی وسائل، ساحل اور پہاڑ کسی سامراجی کمپنی یا مقامی گماشتے کی ملکیت نہ ہوں، بلکہ ان پر محنت کش عوام کا جمہوری کنٹرول ہو۔

ایک انقلابی کمیونسٹ کے لیے بلوچستان کا سوال صرف ایک قوم کا سوال نہیں، بلکہ اس خطے میں موجود سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل خاتمے کا سوال ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بلوچستان کی قومی آزادی کی تحریک کو پنجاب، سندھ، پشتونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان سمیت خطے اور عالمی محنت کش طبقے کی تحریکوں کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے، تاکہ ایک ایسی ”سوشلسٹ فیڈریشن“ کی بنیاد رکھی جا سکے جہاں کوئی قوم کسی دوسری قوم پر غالب نہ ہو اور جہاں معاشی بنیادیں ہی ایسی ہوں کہ قومی جبر کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے۔ یہی وہ درست انقلابی راستہ ہے جو بندوق کی انفرادی کاروائیوں کی بجائے عوامی طاقت اور سائنسی پروگرام کے ذریعے نجات کی ضمانت دیتا ہے اور حقیقی آزادی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔

سرمایہ داری کے موجودہ عہد میں نئی ریاستوں کی تعمیر کا سوال

بطور انقلابی کمیونسٹ، ہم یہ بات واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہیں کہ سرمایہ داری کا موجودہ عالمی بحران دراصل دو بنیادی عناصر کے گرد گھوم رہا ہے؛ ایک نجی ملکیت اور دوسرا قومی ریاست کا محدود ڈھانچہ۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پیداواری قوتیں (Productive Forces) کب سے ان دونوں رکاوٹوں کو چیلنج کر چکی ہیں۔ انسانی محنت، ٹیکنالوجی اور پیداوار کے جدید ذرائع اس قدر وسیع اور عالمی ہو چکے ہیں کہ اب وہ نجی ملکیت کے تنگ بندھنوں اور قومی ریاستوں کی مصنوعی سرحدوں میں سما نہیں سکتے۔ پیداواری قوتیں ان زنجیروں کو توڑ کر باہر نکلنے کے لیے بے تاب ہیں، کیونکہ موجودہ نظام ان کی مزید ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

آج کے عہد میں نئی قومی ریاستوں کے قیام کے امکانات نہ صرف معدوم ہو چکے ہیں، بلکہ عالمی منڈی کی موجودہ ترتیب میں کوئی بھی نئی چھوٹی ریاست اس معاشی بحران کو کم کرنے کی بجائے اسے مزید بڑھاوا دینے کا سبب بنے گی۔ جب پیداواری قوتیں خود کو عالمی پیمانے پر منظم کرنا چاہتی ہوں، تو نئی سرحدیں کھینچنا دراصل تاریخ کے پہیے کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔ چھوٹی ریاستوں کی معاشی غلامی انہیں آج کے دور میں ”جدید غلام“ کے طور پر برقرار رکھتی ہے، جس کی مثالیں ہم اوپر دے چکے ہیں کہ کس طرح سیاسی آزادی پانے والے ممالک معاشی طور پر آج بھی آئی ایم ایف اور عالمی سامراجی منڈی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔

جب پیداواری قوتیں خود کو عالمی پیمانے پر منظم کرنا چاہتی ہوں، تو نئی سرحدیں کھینچنا دراصل تاریخ کے پہیے کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔

بلوچستان کے پس منظر میں اگر ہم آزادی کے سوال کو دیکھیں، تو آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی خطے کے لیے محض بندوق کے زور پر آزادی حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے جب تک کہ اسے کسی نہ کسی سامراجی ملک کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ سامراجی طاقتیں کبھی بھی کسی مظلوم قوم کے حق کے لیے مداخلت نہیں کرتیں، بلکہ وہ صرف اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کے تحت مہرے ہٹاتی اور لگاتی ہیں۔ اگر بالفرض کسی سامراجی امداد سے جغرافیائی آزادی حاصل کر بھی لی جائے، تو وہ نئی ریاست اپنی پیدائش کے پہلے دن ہی سے اس سامراجی آقا کی مرہونِ منت ہو گی۔ یوں حقیقی آزادی کا سوال ہمیشہ تشنہ لب ہی رہے گا کیونکہ اقتدار کی منتقلی صرف ایک آقا سے دوسرے آقا کی طرف ہو گی۔

سامراجی طاقتیں مظلوم اقوام کی آزادی کے خوابوں کو اپنے عالمی مفادات کی شطرنج پر مہروں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور عبرت ناک مثال کرد قومی تحریک ہے۔ امریکی سامراج نے دہائیوں تک کردوں کو ایک آزاد ریاست کا لالچ دے کر انہیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کرد نوجوانوں نے ’داعش‘ جیسی تنظیموں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے بے پناہ قربانیاں دیں، لیکن جیسے ہی امریکہ کے مفادات پورے ہوئے، اس نے اسی کرد تحریک کو ترک سامراج اور دیگر علاقائی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ امریکہ نے کردوں کو ایک آزاد ریاست بنانے کے سبز باغ دکھائے اور جب اپنا کام نکل گیا تو انہیں ”پلیٹ میں سجا کر“ ان کے دشمنوں کے سامنے پیش کر دیا۔ آج کردستان کی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہی عسکریت پسند جو کبھی سامراجی بیساکھیوں پر بھروسہ کر رہے تھے، اب مایوسی کے عالم میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہیں۔ یہ تاریخی دھوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سامراجی امداد کبھی بھی نجات کا راستہ نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ تحریکوں کو کند کرنے اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے روکنے کا ایک ذریعہ ہے۔

بلوچستان کا المیہ یہ ہے کہ یہ پہلے ہی سے مختلف علاقائی اور عالمی سامراجی گِدھوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف چین کے معاشی مفادات ہیں، دوسری طرف امریکہ کی تزویراتی چالیں اور تیسری طرف علاقائی سامراجی ریاستوں کی مداخلت اور مفادات۔ محض جغرافیائی علیحدگی کی صورت میں یہ سامراجی قوتیں اس چھوٹے سے خطے کو نوچ کر کھا جائیں گی اور یہاں کے عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایک انقلابی کے لیے اصل سوال جغرافیہ کی تبدیلی نہیں بلکہ اس استحصالی نظام کی تبدیلی ہے جو سامراجیت کو جنم دیتا ہے۔ جب تک پیداواری قوتیں ان سامراجی گِدھوں اور نجی ملکیت کے چنگل میں ہیں، حقیقی آزادی کا خواب ایک سراب ہی رہے گا۔

بلوچستان کے تناظر میں یہ سبق نہایت اہم ہے کہ اگر کوئی سامراجی قوت یہاں مداخلت کی حامی بھرتی ہے، تو اس کا مقصد بلوچ عوام کی فلاح نہیں بلکہ اس خطے کی معدنیات اور اس کی جغرافیائی اہمیت کو اپنے حریفوں کے خلاف استعمال کرنا ہو گا۔ کردوں کی طرح، سامراجی گِدھ یہاں بھی اپنا مفاد بٹورنے کے بعد بلوچ تحریک کو کسی بھی سودے بازی میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ لہٰذا، جغرافیہ کی تبدیلی کے نام پر کسی سامراجی آقا پر بھروسہ کرنا دراصل ایک نئی اور زیادہ ہولناک غلامی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حقیقی آزادی کا سوال صرف تب ہی حل ہو سکتا ہے جب اسے کسی بیرونی طاقت کی بجائے محنت کشوں کی اپنی طبقاتی قوت اور ایک آزاد نظریاتی پروگرام پر استوار کیا جائے۔ حقیقی نجات صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب بلوچستان کی تحریک کو عالمی سرمایہ داری کے خلاف ایک وسیع تر طبقاتی جدوجہد کا حصہ بنایا جائے۔

پاکستان میں قومی سوال پر مابعد نوآبادیاتی موقف بمقابلہ انقلابی کمیونسٹ موقف:

پاکستان میں مظلوم قومیتوں کی جدوجہد اور قومی سوال پر ہونے والی بحث میں مابعد نوآبادیاتی (Post-colonial) نظریات کا ایک گہرا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔ یہ نظریات جہاں ایک طرف نوآبادیاتی نظام کے خلاف شدید غم و غصے اور مزاحمت پر ابھارتے ہیں، وہیں ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ ”تشدد“ اور ”ردِعمل“ کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس کے بعد کسی ٹھوس سیاسی و معاشی پروگرام سے مکمل طور پر عاری ہوتے ہیں۔ مابعد نوآبادیاتی فکر کے بڑے نام، جیسے فرانز فینن، جو الجزائر کی جنگِ آزادی کے دوران تشدد کو محکوم کی نفسیات کے لیے ”شفابخش“ قرار دیتا تھا، اس کا المیہ یہ تھا کہ اس کے پاس مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح نقشہ موجود نہیں تھا۔ سرد جنگ کے دوران جب دنیا سوویت یونین اور امریکی سامراج کے درمیان بٹی ہوئی تھی، ان نظریات نے کسی بھی طبقاتی یا نظریاتی سمت کے انتخاب کی بجائے ایک ایسا راستہ اپنایا جس کا کوئی واضح سیاسی انجام نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ الجزائر اور ویتنام جیسے ممالک جنہوں نے بندوق کے زور پر سامراجی آقاؤں کو نکالا، وہ ایک جامع متبادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں معاشی غلامی کا شکار ہو گئے۔

مابعد نوآبادیاتی نظریات قومی جبر کو سرمایہ داری اور سامراجیت کے معاشی ڈھانچے کی بجائے محض ثقافتی غلبے، بیانیے کی جنگ، نمائندگی اور شناخت کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی سماجی تقسیم میں ”طبقاتی تقسیم“ کو یا تو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اسے ثانوی حیثیت دے کر پوری قوم کو ایک یکساں اور ہم آہنگ اکائی (Homogeneous Entity) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ نظریات حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں، کیونکہ ایک ہی قوم کے اندر موجود ظالم سردار یا سرمایہ دار اور پسا ہوا محنت کش کبھی بھی ایک اکائی نہیں ہو سکتے۔

مزید برآں، ان نظریات کے زیرِ اثر دانشوروں کا ایک حصہ عوامی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو ”مراعات یافتہ“ یا ”تنخواہ دار طبقہ“ کہہ کر مسترد کر دیتا ہے، ان کا ماننا ہے کہ یہ طبقہ کبھی بغاوت نہیں کر سکے گا۔ یہ سوچ دراصل سیاسی جدوجہد کو درمیانہ طبقے کی مہم جوئی تک محدود کر دیتی ہے اور سرمایہ داری کے معاشی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ نظریات شعوری اور منظم سیاسی جدوجہد کی بجائے جذباتی ابھار پر اکساتے ہیں، جو نوجوانوں کو میدانِ عمل میں تو لاتے ہیں لیکن انہیں وہ نظریاتی و سیاسی بصیرت فراہم نہیں کرتے جس سے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔

آج اگر ہم پاکستان کے مجموعی سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں، تو مختلف خطوں میں جاری قومی جدوجہدوں کے اندر مابعد نوآبادیاتی نظریات ہی غالب نظر آتے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان ہو، پشتون خطہ ہو یا دیگر مظلوم قومیتوں کی تحریکیں، ان کے بیانیے میں طبقاتی سوال کی بجائے محض شناخت، ثقافتی استحصال اور ریاستی جبر کو ہی بنیاد بنایا جاتا ہے۔ جب قومی جدوجہد سے طبقاتی سوال کو خارج کر دیا جائے، تو وہ تحریک ناگزیر طور پر قوم پرست اشرافیہ یا جذباتی مہم جوئی کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے، جو بالآخر کسی سامراجی طاقت کے مفادات کا ایندھن بن جاتی ہے۔

پاکستان میں قومی سوالوں کے حوالے سے جاری اس ہیجان میں مابعد نوآبادیاتی نظریات کے مقابلے میں مارکسزم اور انقلابی کمیونسٹ نظریات کی بحث شامل کرنا اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ جب تک ہم قومی جبر کو اس کی اصل معاشی جڑوں (سرمایہ داری اور سامراجیت) کے ساتھ جوڑ کر نہیں سمجھیں گے اور جب تک قوم کے اندر موجود طبقاتی تضادات کو نمایاں نہیں کریں گے، تب تک ہم محض ”آقا“ بدلنے کی جنگ لڑتے رہیں گے، حقیقی آزادی کی نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان جذباتی اور مابعد نوآبادیاتی مفروضوں کا سائنسی بنیادوں پر تنقیدی جائزہ لیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو ایک ایسی سیاسی سمت دی جا سکے جو محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ سماجی و معاشی انقلاب کا راستہ ہموار کرے۔

انقلابی کمیونسٹ موقف

بطور انقلابی کمیونسٹ ہمارا موقف نہایت دو ٹوک اور واضح ہے؛ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستان کی جغرافیائی تشکیل برطانوی سامراج کی ان تزویراتی چالوں کا نتیجہ ہے جس نے تاریخی ارتقاء کے عمل کو روک کر مختلف اقوام کو ایک ایسی جبری ریاست میں مقید کر دیا جہاں ان کی مرضی اور فطری ترقی کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اس پس منظر میں، بلوچ قوم پر جاری قومی جبر محض ایک الزام نہیں بلکہ ایک مادی حقیقت ہے، جہاں ایک طرف وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار جاری ہے اور دوسری طرف اس معاشی قتلِ عام کے خلاف اٹھنے والی ہر سیاسی و عوامی آواز کو ریاستی طاقت کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ کامریڈ لینن نے درست کہا تھا کہ قومی سوال آخری تجزیے میں ”روٹی کا سوال“ ہے؛ یعنی جب بلوچ نوجوان اپنی محرومی، غربت اور وسائل کی غصب شدہ حاکمیت کے خلاف اٹھتے ہیں، تو دراصل وہ اس طبقاتی نظام کو چیلنج کر رہے ہوتے ہیں جس کا جواب ریاست اذیت رسانی اور جبر کی صورت میں دیتی ہے۔

ہمارا یہ پختہ نظریہ ہے کہ قومی سوال کو طبقاتی سوال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ بلوچ سماج کوئی ”یکساں اکائی“ نہیں ہے، بلکہ یہ واضح طور پر طبقات میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف بلوچ محنت کش، غریب کسان، انقلابی نوجوان اور دوہرے جبر کی شکار خواتین ہیں، جن کا مفاد نظام کی تبدیلی میں ہے، جبکہ دوسری طرف وہ سردار، سرمایہ دار، قبائلی اشرافیہ اور ریاستی دلال موجود ہیں جو اپنے مراعات یافتہ طبقے کے تحفظ کے لیے اسی استحصالی نظام کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ مقامی اشرافیہ اپنے طبقے کے دفاع میں ریاستی جبر کی سہولت کار بنی ہوئی ہے، اس لیے محض ”قومیت“ کی بنیاد پر ان کے ساتھ اتحاد محنت کشوں کے ساتھ دھوکہ دہی ہو گی۔

اس مادی صورتحال کا حل لیون ٹراٹسکی کے ”نظریہ مسلسل انقلاب“ میں پنہاں ہے۔ ٹراٹسکی نے واضح کیا تھا کہ پاکستان جیسے پسماندہ سرمایہ دارانہ سماجوں میں قومی آزادی، جمہوری حقوق اور پسماندگی کے خاتمے جیسے ”جمہوری فرائض“ کو اب یہ کمزور اور گماشتہ سرمایہ دار طبقہ کبھی بھی سر انجام نہیں دے سکتا۔ آج کے عہد میں یہ تاریخی فریضہ صرف اور صرف محنت کش طبقہ ہی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے مکمل کر سکتا ہے۔ بطور انقلابی کمیونسٹ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم بلوچ قومی سوال سمیت تمام مظلوم قومیتوں کی جدوجہد کو پاکستان کے مجموعی طبقاتی سوال اور محنت کش طبقے کی تحریک کے ساتھ جوڑیں۔ ہماری جدوجہد محض نئی سرحدیں کھینچنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کے لیے ہے جہاں تمام اقوام کو حقیقی معنوں میں سیاسی اور معاشی آزادی میسر ہو اور انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

بلوچستان میں بائیں بازوں کی سیاست کے چیلنجز

بلوچستان میں بائیں بازو کی سیاست کے سامنے موجود چیلنجز محض تنظیمی نہیں بلکہ گہرے نظریاتی اور معروضی نوعیت کے ہیں۔ ان چیلنجز کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:

نظریاتی بحران اور سٹالنزم کے اثرات

بائیں بازو کی سیاست کے لیے سب سے پہلا اور بڑا چیلنج ماضی میں مارکسزم کی وہ غلط تشریح ہے جو سٹالنزم کی شکل میں سامنے آئی۔ سٹالنسٹ بیوروکریسی نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں مارکسزم کے انقلابی جوہر کو مسخ کیا۔ ماضی میں سٹالنسٹوں اور قوم پرستوں کے درمیان نظریاتی سرحدیں اس قدر دھندلا گئی تھیں کہ ان میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے بائیں بازو کا اپنا طبقاتی تشخص مجروح ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے روایتی قوم پرست مارکسزم کی درست اور سائنسی تشریح کو اپنے سیاسی وجود کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں اور دانستہ طور پر اپنے کارکنوں کو حقیقی مارکسی نظریات سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی سیاسی اجارہ داری قائم رہے۔

عالمی مزدور تحریکوں کی تاریخ اور ’پنجاب کا سوال‘

عالمی سطح پر مزدور تحریکوں کی تاریخی پسپائیوں کے اثرات یہاں بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں اکثر یہ مایوس کن بیانیہ ابھارا جاتا ہے کہ پنجاب کا محنت کش طبقہ کبھی بیدار نہیں ہو گا کیونکہ اس کے مفادات ریاست کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک سطحی تجزیہ ہے، کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ریاست اور اس کے گماشتے خود پنجاب کے محنت کشوں کا بدترین معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ جب تک مظلوم قومیتوں کے نوجوان اس غلط فہمی سے باہر نہیں نکلیں گے کہ پنجاب کا مزدور ان کا دشمن ہے، تب تک ایک ملک گیر طبقاتی اتحاد کی تعمیر ناممکن رہے گی۔

ریاستی جبر اور سیاسی بیگانگی

موجودہ معروضی حالات میں ریاستی جبر ایک سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ طاقت کے بے جا استعمال، جبری گمشدگیوں اور سیاسی کارکنوں کی سرکوبی نے نوجوان نسل کے اندر ایک خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اس مستقل ڈر اور خوف کے ماحول نے نوجوانوں میں ”سیاسی بیگانگی“ (Political Alienation) کو فروغ دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ منظم سیاسی عمل کا حصہ بننے کی بجائے یا تو خاموشی اختیار کر رہے ہیں یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔

بندوق کا غلبہ

بلوچ سماج کے مخصوص تناظر میں ایک بڑا معروضی چیلنج ”بندوق“ کا غلبہ ہے۔ جب کسی معاشرے میں ہتھیاروں کی آواز سیاسی مکالمے پر حاوی ہو جائے، تو وہ شعوری اور منظم عوامی سیاست کے لیے گنجائش ختم کر دیتی ہے۔ بندوق کا غلبہ نوجوانوں کی توانائیوں کو شعوری سیاسی پروگرام سے ہٹا کر ایک ایسے راستے پر ڈال دیتا ہے جہاں متبادل نظریات کی بحث ثانوی ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ صورتحال بائیں بازو کے لیے ایک کٹھن چیلنج ہے کہ وہ ان حالات میں عوامی طاقت پر مبنی سیاست کی اہمیت کو کیسے اجاگر کرے۔

سیاسی و نظریاتی مکالمے کا فقدان

آخری اور اہم چیلنج سماج میں نظریاتی اور سیاسی مکالمے کی عدم موجودگی ہے۔ یہ خلا دراصل تمام پرانی اور روایتی سیاسی پارٹیوں کے فکری زوال کا نتیجہ ہے۔ سیاسی جماعتیں اب نظریات کی بنیاد پر کارکنوں کی تربیت کرنے کی بجائے محض نعرہ بازی اور جذباتی سیاست تک محدود ہو گئی ہیں۔ بحث و مباحثے کے کلچر کی اس موت نے سیاسی میدان کو بنجر کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نیا خون اور نئے سائنسی خیالات سیاسی عمل کا حصہ نہیں بن پا رہے۔

امکانات: بحران سے انقلاب تک کا راستہ

چیلنجز سے امکانات کا سفر

کسی بھی انقلابی تحریک کے لیے جو آج چیلنجز ہیں، درحقیقت کل اور آج وہی ہمارے لیے سب سے بڑے امکانات ثابت ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پرانے بت ٹوٹتے ہیں تو نئے اور سائنسی خیالات کے پنپنے کی جگہ بنتی ہے۔ بلوچستان اور پورے پاکستان میں موجودہ سیاسی تعطل دراصل ایک بڑے دھماکے سے پہلے کی خاموشی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ہم نے درست نظریاتی شناخت یعنی انقلابی کمیونزم کے پرچار کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہے۔ یہی وہ واحد شناخت ہے جو ہمیں بلوچ سماج کے ہر اول دستے، نوجوانوں اور محنت کشوں کو پورے ملک کے مظلوموں کے ساتھ ایک لڑی میں پرو کر ایک ناقابلِ شکست قوت میں بدل سکتی ہے۔

نوجوان نسل میں متبادل نظریات کی تلاش

نوجوان نسل کے اندر اس وقت متبادل نظریات اور ایک ٹھوس سیاسی پروگرام کی شدید پیاس موجود ہے۔ اگرچہ اس وقت ریاستی جبر کا پلڑا وزنی ہونے کی وجہ سے سطحی خاموشی نظر آتی ہے، لیکن یہ ایک عارضی کیفیت ہے۔ جیسے ہی عوامی جدوجہد کا پلڑا دوبارہ بھاری ہو گا، جو کہ معروضی حالات کے باعث ناگزیر ہے، تو پورا سماج اپنے تلخ تجربات کی روشنی میں متبادل نظریات کی طرف رجوع کرے گا۔ اس وقت صرف وہی قوت قیادت کر سکے گی جس کے پاس ایک واضح سائنسی اور حالات کے تقاضوں سے ہم اہنگ انقلابی پروگرام موجود ہو گا۔

قوم پرستی کا زوال اور نئے نظریاتی افق

ایک بڑا امکان قوم پرستی کے روایتی نظریات کی زوال پذیری اور فرسودگی میں چھپا ہے۔ قوم پرستی اب بلوچ نوجوانوں کے معاشی اور سیاسی سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہو چکی ہے۔ ہمیں انتہائی صبر اور دلیل کے ساتھ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہو گا کہ قوم پرستی کا یہ زوال دراصل ایک نئے انقلابی امکان کو جنم دے رہا ہے۔ جب پرانے ڈھانچے گرتے ہیں، تو مارکسی نظریات کی روشنی میں ایک نئی اور زیادہ طاقتور مزاحمت جنم لیتی ہے۔ موجودہ حالات نے سماج کی ایک بڑی پرت کو مایوسی اور بیگانگی کی طرف ضرور دھکیلا ہے، لیکن انقلابی مارکسزم کی ان تک رسائی انہیں دوبارہ حالتِ جدوجہد میں لا کھڑا کرے گی، کیونکہ یہ نظریہ صرف تنقید نہیں بلکہ حل بھی پیش کرتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا تاریخی بانجھ پن

عالمی اور ملکی صورتحال کا درست ادراک رکھنے والے انقلابی کمیونسٹ ہی ان نوجوانوں کو اس سرمایہ دارانہ نظام کے خصی پن اور اس کے تاریخی بانجھ پن سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ یہ وہ سچائی ہے جو اب تک روایتی سیاست دانوں نے عوام سے چھپائے رکھی ہے۔ سرمایہ داری کے عالمی زوال نے سامراجیت کا ننگا پن اور نام نہاد بین الاقوامی اداروں کی حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ ہو یا دیگر عالمی فورمز، ان کی بے حسی اور سامراجی گماشتگی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ یہ وہی حقیقت ہے جو انقلابی کمیونسٹ روزِ اول سے کہہ رہے تھے۔

سامراجی فریب کی بیخ کنی اور عوامی قوت

سامراجی اداروں کا بے نقاب ہونا ہمارے لیے ایک بہت بڑا امکان ہے، کیونکہ اب بلوچ نوجوان کسی بیرونی مسیحا کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی طبقاتی قوت پر بھروسہ کرنا سیکھ رہا ہے۔ یہ تمام امکانات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان سمیت اس پوری خطے کی مٹی اب ایک بڑے نظریاتی انقلاب کے لیے تیار ہو چکی ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان امکانات کو ایک منظم انقلابی پارٹی اور پروگرام کی شکل دے کر اس سڑے ہوئے نظام کے خاتمے کا ذریعہ بنیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کیوں ضروری ہے؟

قومی جبر، معاشی استحصال اور سرمایہ داری کے تمام تر جرائم کا خاتمہ براہِ راست سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔ تاریخ یہ سبق دے چکی ہے کہ سرمایہ داری کو محض اصلاحات یا احتجاج کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا، بلکہ اسے اکھاڑ پھینکنے کے لیے محنت کش طبقے کے ہاتھ میں ایک انقلابی اوزار یعنی انقلابی پارٹی کا ہونا لازمی ہے۔ سرمایہ داری کے مظالم پر محض غصہ ہونا کافی نہیں ہے، کیونکہ غصہ ایک خام طاقت تو ہو سکتی ہے مگر یہ اپنے طور پر نظام نہیں بدل سکتی۔ وقت کی ناگزیر ضرورت یہ ہے کہ اس عوامی غصے کو انقلابی نظریے اور تنظیمی ڈھانچے میں ڈھالا جائے۔ انقلابی پارٹی دراصل نسلِ انسانی کے تمام تاریخی تجربات کا نچوڑ ہے، اس لیے ہم گزشتہ چند دہائیوں کی جدوجہد سے یہی سبق نکالتے ہیں کہ نوجوانوں کو محض جذباتی قربانی سے آگے بڑھ کر سائنسی سوشلزم کے نظریات کو اپنانا ہو گا۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی ہی وہ واحد قوت ہے جس کے پاس ایسے نظریات موجود ہیں جو قومی سوال پر واضح طبقاتی موقف رکھتے ہیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی ہی وہ واحد قوت ہے جس کے پاس ایسے نظریات موجود ہیں جو قومی سوال پر واضح طبقاتی موقف رکھتے ہیں۔ یہ پارٹی قومی تحریک کو مزدور تحریک سے جوڑنے، عالمی انقلاب کا تناظر فراہم کرنے اور سوشلسٹ انقلاب کی مکمل حکمت عملی پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم بلوچستان سمیت پاکستان بھر کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ کی قربانیاں ضائع نہیں ہونی چاہئیں۔ بندوق وقتی طور پر ریاستی جبر کے خلاف ایک جذباتی ردِعمل تو ہو سکتی ہے، لیکن سماج کو جڑ سے بدلنے والی اصل قوت صرف اور صرف منظم محنت کش طبقہ ہی ہے۔ مستقبل کی ضمانت انقلابی کمیونسٹ نظریاتی جدوجہد، طبقاتی یکجہتی اور عالمی سوشلسٹ انقلاب میں پوشیدہ ہے۔

بلوچستان کا سوال صرف بلوچستان کا سوال نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے پاکستان سمیت پوری دنیا کے محنت کش طبقے کا سوال بننا چاہیے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو قوم پرستی کے تنگ اور محدود دائروں سے نکال کر انقلابی کمیونسٹ نظریات کی بنیاد پر عالمی محنت کش طبقے سے جوڑیں گے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عالمی محنت کش طبقے کی یکجہتی آج بھی ممکن ہے، لیکن روایتی قوم پرست نظریات اس وسیع اتحاد کی بجائے اقوامِ متحدہ اور نام نہاد عالمی برادری جیسے سامراجی اداروں کی طرف دیکھتے ہیں جو خود اس جبر کے سہولت کار ہیں۔ قومی سوال آخری تجزیے میں روٹی کا سوال ہے اور وہ روٹی چھیننے والے یہی سرمایہ دار اور ان کا نظام ہے۔ اگر سرمایہ داری کا خاتمہ کر دیا جائے تو سرمایہ دار طبقہ خود بخود ختم ہو جائے گا اور یوں قومی سوال سمیت تمام انسانی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کے لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر وقت کا سب سے اہم فریضہ ہے۔