لندن: احسان علی ایڈووکیٹ کی رہائی کے لیے پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ! ممبر پارلیمنٹ کی شرکت!

|رپورٹ: آر سی پی، برطانیہ|

یہ رپورٹ آر سی آئی کے برطانوی سیکشن کی ویب سائٹ communist.red پر شائع ہوئی جو کہ احسان علی کی رہائی کے لیے کیے گئے احتجاج کے حوالے سے ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

سابق شیڈو چانسلر جان میکڈونلڈ ایم پی سمیت 60 سیاسی و سماجی کارکنوں نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما احسان علی اور دیگر قید کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان (AAC) کے متعدد مرکزی رہنماؤں، جن میں چیئرمین اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نمایاں رہنما احسان علی بھی شامل ہیں، کی غیر منصفانہ گرفتاریوں کو اب 90 دن مکمل ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹروں اور ججوں کی جانب سے ان احسان علی کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال تسلیم کیے جانے کے باوجود، پاکستانی حکام انہیں اب بھی انتہائی نامناسب اور غیر انسانی حالات میں قید رکھے ہوئے ہیں۔

”احسان علی کو رہا کرو!“ کی مہم کے اگلے مرحلے کے طور پر لندن بھر کے کارکنوں نے انٹرنیشنل ڈے آف ایکشن میں بھرپور شرکت کی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی ریاست کو یہ واضح پیغام دینا تھا کہ ہم اپنے ساتھیوں کو خاموش کرانے، خوفزدہ کرنے اور سیاسی جبر کا نشانہ بنانے کی ہر کوشش کے خلاف کھڑے ہیں۔

احسان علی کی رہائی کے لیے کیے گئے پُرجوش مظاہرے میں آر سی پی کے کارکن شان ہوجز نے احتجاجی نعروں کی قیادت کی۔ شرکاء نے ”عوامی ایکشن کمیٹی پر ہاتھ نہ ڈالو!“، ”ہائی کمیشن شرم کرو، شرم کرو! یہ تمام جرائم تمہارے نام پر ہو رہے ہیں!“ اور ”احسان علی کو رہا کرو!“ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

برطانوی رکنِ پارلیمنٹ جان میکڈونلڈ، حال ہی میں منتخب ہونے والی ہیرو کونسلر پامیلا فٹزپیٹرک اور آر سی پی کی ترجمان فیونا لالی نے احتجاجی مراسلہ پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سفارت خانے کے عملے نے دروازوں کے پیچھے چھپتے ہوئے خط وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے میٹروپولیٹن پولیس کو طلب کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ ایک پُر امن احتجاج تھا، اس کے باوجود مسلح پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔

متوقع طور پر موسم بھی مظاہرین کے حق میں نہیں تھا اور بارش مسلسل جاری رہی۔ لیکن اگر ہائی کمشنر یہ سمجھ رہے تھے کہ چند بارش کی بوندیں کارکنوں کے حوصلے پست کر دیں گی، تو وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔

بارش کے باوجود مظاہرین ڈٹے رہے اور انہوں نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنا احتجاج بھرپور طریقے سے جاری رکھا۔

مشکل حالات کے باوجود مظاہرین کے حوصلے بلند رہے۔ وہ اس عزم کے ساتھ آئے تھے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کو اپنے نعروں کی گونج سے ہلا کر رکھ دیں گے۔ اپنی آواز کو بھرپور انداز میں بلند کریں گے، اور اسلام آباد میں بیٹھے جرنیلوں تک یہ پیغام پہنچائیں گے کہ احسان علی کے ساتھی پوری دنیا میں موجود ہیں جو ان کے لیے لڑنے کو تیار ہیں۔

ہم نے سفارت خانے کو واضح طور پر بتا دیا کہ ہم ان کی بزدلی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ جان میکڈونلڈ اور پامیلا فٹزپیٹرک نے عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) کے ساتھ یکجہتی میں شاندار تقاریر کیں۔

جان میکڈونلڈ، جنہوں نے اس ہفتے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد بھی پیش کی ہے جس پر بحث کی جائے گی اور جس کا مقصد AAC کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے، نے بجا طور پر کہا کہ: ”احسان کو پُر امن احتجاج کرنے کی وجہ سے قید کیا گیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے آج ہم احتجاج کر رہے ہیں!“

دونوں مقررین نے سخت غصے کے ساتھ اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستانی ریاست نے AAC کے رہنماؤں کے خلاف کس نوعیت کے اقدامات کیے ہیں اور انسانی حقوق و قانونی تحفظات کو کس قدر مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں احسان علی کی پہلے سے سنگین صحت کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

مقررین نے کہا کہ ریاستی رویہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اس بات کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ قید ساتھیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو دانستہ طور پر جاری رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ریاست ہمارے ساتھیوں کے ساتھ اس سلوک پر گویا اطمینان محسوس کر رہی ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

ایک کا دکھ، سب کا دکھ

آر سی پی کے مقررین نے اپنی پُر جوش اور ولولہ انگیز تقریروں میں ان تمام حقائق کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے اس بات کی شدید مذمت کی کہ ہمارے ساتھیوں کو مبینہ طور پر اس ”جرم“ کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے محنت کشوں اور غریب عوام کے لیے آٹے کی سبسڈی کے حق میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر جمع شرکاء نے بار بار ”شرم کرو!“ کے نعرے لگا کر اپنے غصے اور احتجاج کا اظہار کیا۔

”احسان علی کو رہا کرو!“ کی مہم کے منتظم جو اٹارڈ نے اس موقع پر نشاندہی کی کہ 7 جون کو پاکستان کی ناپسندیدہ حکومت کے لیے ایک مضحکہ خیز انتخاب منعقد کیا جائے گا، جبکہ عوام کی حقیقی قیادت جیلوں میں قید ہے۔

کامریڈ ایڈم اور بیلا نے گلگت بلتستان میں جاری جدوجہد کی تاریخ کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے اس خطے کی ٹوٹ پھوٹ کے عمل میں برطانوی سامراج کے منفی اور تباہ کن کردار کو واضح کیا اور بتایا کہ کس طرح اس نے نسلی تقسیم کو فروغ دیا، جس کے براہِ راست اثرات آج تک موجود ہیں۔

ان کے مطابق یہی تاریخی عوامل وہ بنیاد ہیں جنہوں نے اس خطے کے محنت کشوں اور غریب عوام کے لیے موجودہ سنگین اور ناگفتہ بہ حالات کو جنم دیا ہے۔

فیونا لالی نے برطانوی سامراج کے تاریخی کردار کو آج کے دور میں ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد میں برطانیہ کے کمیونسٹوں اور بائیں بازو کے کارکنوں کے اہم کردار سے جوڑا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستانی ریاست عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہے: کیونکہ اس کے نظریات اور عملی جدوجہد محنت کش طبقے اور غریب عوام کو متحد کرتی ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں ہمارے ساتھیوں کی جدوجہد دراصل وہی جدوجہد ہے جو ہم برطانیہ اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں یعنی ہر قسم کے استحصال اور جبر کے خاتمے کی جدوجہد۔

تقاریر کا اختتام آر سی پی کے پولیٹیکل سیکرٹری راب سوئل کے پُر جوش خطاب پر ہوا۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں محنت کشوں اور غریب عوام کے حقوق کے دفاع کی جدوجہد میں عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) کے کارکنوں کی جانب سے دی جانے والی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں نے خطے کے محنت کش طبقے اور پسے ہوئے طبقات کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے بے مثال جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ہم ان کے بنیادی حالاتِ زندگی میں بہتری کے لیے کی جانے والی پُر عزم جدوجہد سے مسلسل تحرک اور حوصلہ حاصل کرتے رہیں گے۔ یہ ویک آف ایکشن (Week of Action) تب تک ختم نہیں ہو گا جب تک احسان علی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام قید کارکنان کو رہا نہیں کیا جاتا، ہم بار بار سڑکوں پر آئیں گے۔

مثال کے طور پر، آج برمنگھم اور برڈفورڈ میں بھی اسی نوعیت کے احتجاج مختلف سفارت خانوں کے باہر جاری ہیں اور ہفتہ کے روز ایڈنبرا میں کارکن اسکاٹش پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کریں گے تاکہ اپنے ساتھیوں کی حالتِ زار کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے اور اس مہم کے لیے حمایت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اسی طرح برطانیہ بھر میں آر سی پی کی برانچیں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے اخبار کی فروخت پر ”سپر سیٹرڈے“ (Super Saturday) کی تیاری کر رہی ہیں، جس میں وہ اخبار فروخت کرنے ساتھ ساتھ اس مہم کے لیے لیفلیٹس تقسیم کریں گے اور اپنے ساتھیوں کی فوری رہائی کے حق میں دستخطی مہم بھی چلائیں گے۔

ہم اپنے تمام قارئین اور حامیوں سے اور ان تمام افراد سے بھی جو پاکستان کے محنت کشوں اور غریب عوام کے جمہوری حقوق پر ہونے والے اس سنگین حملے سے دکھی اور برہم ہیں، اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مہم میں شامل ہوں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔

ہماری سوشل میڈیا مہم کو شیئر کریں instagram.com؛ اپنے مقامی پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کریں؛ اپنی ٹریڈ یونین یا طلبہ یونین میں اس مہم کو اجاگر کریں؛ ہماری پٹیشن پر دستخط کریں اور اسے شیئر کریں change.org؛ اپنے ایم پی کو ای میل کریں تاکہ وہ احسان علی کی رہائی کے لیے Early Day Motion پر دستخط کریں؛ اور مزید معلومات کے لیے contact@pakistansolidarity.org سے رابطہ کریں۔

مزید اپڈیٹس اور مہم کے وسائل کے لیے ہماری ویب سائٹ pakistansolidarity.org دیکھیں۔