|تحریر: حلیمہ خلیل، طالبہ اسلامیہ لاء کالج پشاور|

میرا نام حلیمہ خلیل ہے، پشاور کے علاقے تہکال بالا سے میرا تعلق ہے اور اسلامیہ لاء کالج سے ایل ایل بی کر رہی ہوں۔ میرا تعلق ایک پڑھے لکھے مگر کنزرویٹو خاندان سے ہے۔ ہمارے گھر کمیونسٹ لٹریچر تو نہیں لیکن دیگر کئی کتابیں، اخبارات اور رسائل روزانہ کی بنیاد پر آتے تھے اور میں وہ پڑھتی رہتی تھی۔ ایک دن مجھے پرانی کتابوں میں کارل مارکس کی مختصر سی بائیو گرافی مل گئی اور یوں پانچویں جماعت میں، میں نے پہلی دفعہ کارل مارکس کا نام سنا، اس کے علاؤہ گھر سے لے کر سکول تک اور سکول سے لے کر آس پڑوس تک مجھے اس حوالے سے کبھی کوئی لٹریچر نہیں دِکھا۔
گھر میں بھی کمیونزم کا ذکر ناکام، ختم شدہ، اور اسلام دشمن جیسے الفاظ میں کیا جاتا تھا۔ کتابوں اور سوشل میڈیا تک محدود رسائی کے بدولت میں ایک دقیانوسی سوچ رکھنے والی شخصیت پرست انسان بن چکی تھی اور یونیورسٹی کے پہلے سال میں مجھے لگا کہ قوم پرستی ہی انسان اور دنیا کو درپیش مسائل کا حل ہے، اسی سوچ کی وجہ سے میں نے پشاور کے مقامی لوگوں کی طلبہ تنظیم (کے ایس او) کی رکنیت لے لی اور ایک سال اسکی نائب صدر رہی۔
اس سارے عرصے میں، میں ایک محب الوطن پاکستانی سے لے کر ایک کٹر قبیلہ پرست تک بنی، لیکن جس مقصد کے لیے میں اور میرے جیسے نوجوان طلبہ سیاست میں شامل ہوئے تھے یعنی عوامی خوشحالی اور ان کے حقوق کا حصول وہ مجھے ان نظریات میں کہیں نظر نہیں آیا۔ وہ عدل، خوشحالی اور ترقی مجھے صرف حکمران طبقے، اور اس طبقے کے پسندیدہ لوگوں میں نظر آئی جبکہ عوام ویسے ہی دگرگوں رہی۔ میں نے اپنے اردگرد افغان مہاجرین کو دیکھا، جنہیں اپنا قصور تک معلوم نہیں لیکن انکا وطن اور عزت کی زندگی دونوں ان سے چھن گئے۔
محنت کش، جو سارا سارا دن مشقت کرتے ہیں لیکن اپنی ہی بنائی ہوئی چیزیں نا کھا سکتے، نا پہن سکتے اور نا ہی ان میں رہ سکتے ہیں۔ مقامی سیاست سے لے کر قومی سطح تک ایک ہی نوعیت کے امیر لوگ اور ایک ہی رٹی رٹائی تقاریر۔ ہسپتالوں سے لے کر یونیورسٹیز تک وہی بوسیدہ انفراسٹرکچر اور سہولیات، جو جگہیں انسان کی صحتیابی، اسکی ذہنی نشوونما اور قابلیت کو نکھارنے کے لیے ہونی چاہئیں، وہی پیسہ بنانے کی مشینیں بن گئیں، اور وہ بھی ہر کسی کی پہنچ سے دور ہیں۔
خواتین سے لے کر چھوٹی بچیوں تک نہ کوئی گھر میں محفوظ ہے اور نہ باہر، عورتوں کے ہاتھوں میں نقلی آزادی کے پروانے تو تھما دیے، اب وہ کم اجرت پر گھر اور باہر دونوں جگہ ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہیں۔ جیسے کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے کہا جائے کہ جو چاہو وہی کرو۔
جس زمین پر ہم رہتے ہیں اور وہ ہمارا واحد مسکن ہے اس کائنات میں، کاروبار اور منافعوں کی دوڑ میں آج وہ اور اس پر بسنے والے تمام جانداروں کو معدومیت، اور مختلف سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ایک زندہ انسان ہونے کے ناطے یہ سارے سوال میرے ذہن میں گھومتے، لیکن نہ تو مجھے پیپلز پارٹی پر لکھی کتابوں یا بینظیر بھٹو کی’دختر مشرق‘ نے مطمئن کیا اور نہ ہی پر جوش نیشنلسٹ نعروں نے۔
اسی دوران چی گویرا کی ڈائری میں نے پڑھی اور میرے ایک دوست نے مجھے میکسم گورکی کا ناول ماں دیا، اور اسی طرح میں نے پھر فیسبک پر کمیونسٹ پارٹی کا نام سرچ کیا تو پارٹی کے پشاور ریجن کے کامریڈز کو فالو کر کے ان کے آرٹیکلز پڑھے اور ان سے ملنے کے لیے کہا، پہلی دفعہ ملنے پر میں نے پشاور ریجن کے کامریڈز سے بہت سارے سوالات کیے اور انہوں نے ہر سوال کا جواب بہت تفصیل اور دلیل پر مبنی دیا، کامریڈز نے مجھے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا ملکی اور بین الاقوامی تناظر اور لال سلام میگزین پڑھنے کے لیے دیے، جس کے بعد آج میں ایک سال سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی باقاعدہ ممبر ہوں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ریولوشنری کمیونسٹ انٹرنیشنل کے ماتحت پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے لیے سرگرم ہے، یہ پارٹی ڈرائنگ رومز میں دکھاوے کی بات چیت کے بجائے، نوجوانوں اور محنت کش طبقے کے ساتھ بیٹھ کر، سٹڈی سرکلز اور اپنے لٹریچر کے ذریعے ان میں سیاسی شعور بیدار کر رہی ہے اور انہیں ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے منظم کر رہی ہے۔
آر سی پی کسی بھی صنفی، قومی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی تفریق اور ریا کاری سے عاری جماعت ہے، جہاں سارے اراکین کے ساتھ برابری اور پارٹی ڈسپلن کا پابند رویہ رکھا جاتا ہے، اور ہر کامریڈ باقاعدگی سے پارٹی لٹریچر کا مطالعہ کرتا ہے اور پارٹی سرگرمیوں میں شرکت کرتا ہے۔ میری تمام محنت کشوں اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ آر سی پی میں شامل ہوکر اس جابرانہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور نسل انسانی کے روشن مستقبل کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔